
خطبات
561 episodes — Page 7 of 12

Ep 259حُرمت والے مہینے میں انسانی جان ومال کے احترام کی اہمیت میں اضافہ اور اس کے عملی تقاضے | 2023-07-21
حُرمت والے مہینے میں انسانی جان ومال کے احترامکی اہمیت میں اضافہ اور اس کے عملی تقاضےخُطبۂ جمعۃ المبارک:حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 2؍ محرم الحرام 1445ھ / 21؍ جولائی 2023ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ، راولپنڈی کیمپس خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی:1۔ وَ مَنْ یُّعَظِّمْ حُرُمٰتِ اللّٰهِ فَهُوَ خَیْرٌ لَّهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ۔ (22 – الحج: 30)اردو ترجمہ: ”اور جو کوئی بڑائی رکھے اللہ کی حرمتوں کی، سو وہ بہتر ہے اس کے لیے اپنے رب کے پاس“۔2۔ وَ مَنْ یُّعَظِّمْ شَعَآئِرَ اللّٰهِ فَاِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوْبِ۔ (22 – الحج: 32)ارود ترجمہ: ”اور جو کوئی ادب رکھے اللہ کے نام لگی چیزوں کا، سو وہ دل کی پرہیزگاری کی بات ہے“۔۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇✔️ انسانی زندگی میں قرآن حکیم کی رہنمائی اور انسانوں کی غفلت کا عالَم✔️ انسانی زندگی میں وہم وگمان کے مقابلے میں ٹھوس علمی حقائق کی اہمیت✔️ خطبے کی مرکزی آیت کا ترجمہ و تشریح اور تفسیری خلاصہ✔️ کائناتی عناصر اور مخلوقات میں منتخبات کی حرمت و اہمیت✔️ سال میں بارہ مہینوں کے عالمی و آفاقی نظام کی حکمتیں اور اہمیت✔️ حُرمت کے مہینوں کا بنیادی فلسفہ، ان کی تعداد اور احکامات کی نوعیت✔️ حُرُمات کی توہین مسلمانوں کے زوال اور استحصالی نظام کے غلبے کا شاخسانہ ہے✔️ محرم الحرام میں جھگڑے اور فسادات استعماری نظام کی دین ہیں✔️ محرم میں اہلِ بیت اور اصحابِ رسول کے نعرے بلند کرنے کے بجائے اُن کا مشن زیادہ اہمیت کا حامل ہے✔️ ہجری سال کے آغاز کا پسِ منظر، حکمتیں اور دیگر کیلنڈرز پر فوقیت✔️ عیسوی کیلنڈر میں جھول اور اس پر ہجری کیلنڈر کی ترجیح کی وجہ✔️ ماہ و سال کے دنوں میں فرق کی وجہ سے مالی بدعنوانیوں کی راہ✔️ اسلامی کیلنڈر‘ اسلام کے نظامِ عدل کی بجا آوری سے ہم آہنگ ہےپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

Ep 258پہاڑوں کی بناوٹ میں صنعتِ الٰہی کا کرداراور انسانی زندگی میں پُریقین عملی مہارت کی دینی اہمیت | 2023-07-14
*پہاڑوں کی بناوٹ میں صنعتِ الٰہی کا کرداراور انسانی زندگی میں**پُریقین عملی مہارت کی دینی اہمیت**خُطبۂ جمعۃ المبارک:*حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری*بتاریخ:* 25؍ ذو الحجہ 1444ھ / 14؍ جولائی 2023ء*بمقام:* جامع مسجد قبا، لاری اڈہ، مانسہرہ *خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی و حدیثِ نبوی ﷺ :**آیاتِ قرآنی:**1۔* وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ یَنْسِفُهَا رَبِّیْ نَسْفًاۙ، فَیَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًاۙ، لَّا تَرٰى فِیْهَا عِوَجًا وَّ لَاۤ اَمْتًاؕ۔ (20 – طٰہٰ: 105 تا 107)*ترجمہ:* ”اور تجھ سے پوچھتے ہیں پہاڑوں کا حال، سو تُو کہہ ان کو: بکھیر دے گا میرا رب اُڑا کر، پھر کر چھوڑے گا زمین کو صاف میدان، نہ دیکھے گا تُو اس میں موڑ اور نہ ٹِیلا“۔*2۔* وَ تَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَّ هِیَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابؕ صُنْعَ اللّٰهِ الَّذِیْۤ اَتْقَنَ كُلَّ شَیْءٍؕ اِنَّهٗ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَفْعَلُوْنَ۔ (27 – النمل: 88)*ترجمہ:* ”اور تُو دیکھے پہاڑوں کو، سمجھے کہ وہ جَم رہے ہیں، اور وہ چلیں گے جیسے چلے بادل، کاری گری اللہ کی جس نے سادھا ہے ہر چیز کو، اس کو خبر ہے جو کچھ تم کرتے ہو“۔*احادیثِ نبوی ﷺ :*”إنَّ اللهَ تعالٰى يُحِبُّ إذا عَمِلَ أحدُكمْ عَملًا أنْ يُتقِنَهُ“۔ (المعجم الأوسط للطبراني حدیث: 909، و شعب الإيمان للبيهقي، حدیث: 5081)ترجمہ: ”بے شک اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے کہ جب تم میں سے کوئی آدمی عمل کرے تو وہ اسے مضبوطی، (پختگی اور عمدگی) کے ساتھ سرانجام دے۔“و في روایة: قال النبی ﷺ : ”رَحِمَ اللهُ عَبْدًا عِمَلَ عَمْلاً فَيُتْقِنَه“۔ترجمہ: ”اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ: نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:”اللہ تعالیٰ اُس شخص پر رحم فرمائے، جو عمل کرے تو وہ اسے مضبوطی کے ساتھ سرانجام دے۔“*۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔* 👇2:10 کائنات کی حقیقت، اس کی وسعت اور اس میں انسان کی ذمہ داریاں6:19 استعماری نظامِ ظلم کے زیرِ اثر دینی علوم سیکھنے سے اعراض کے رویے کو فروغ ملا7:57 موجودہ دور میں آخرت کا یقین اور عقیدہ کمزور ہونے کی وجوہات10:01 علمی اور شعوری طریقے سے آخرت کے عقیدے کا فہم ضروری ہے16:25 قیامت کے دن مختلف مراحل سے گزرتے پہاڑوں کی چھ مختلف حالتیں18:24 ہر شعبۂ علم کے بنیادی سٹرکچر کو سمجھنا کیوں ضروری ہے؟34:38 اپنے شعبے میں مہارت اور دلچسپی اللہ تعالیٰ کی محبت کا ذریعہ ہے38:05 اپنی روح کے ساتھ عبادات کے اثرات اور دکھاوے کے اعمال کے نتائج52:35 ریاستِ مدینہ میں آں حضرت ﷺ کے چند تجارتی اقدامات55:41 مسلمانوں میں مہارتوں اور یقین نہ ہونے کے بُرے نتائج59:43 ایک مسلمان کے لیے عبادات اور اعمال میں یقین اور مہارت پیدا کرنے کی عصری اہمیت1:05:19 عقیدۂ آخرت پر ایمان کے ذریعے اعمال میں مہارت اور یقین پیدا ہوتا ہےپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

Ep 257عبادات کی اجتماعی حکمت اور قیامِ عدل کی نبوی سیاست | 2023-07-07
عبادات کی اجتماعی حکمتاور قیامِ عدل کی نبوی سیاستخُطبۂ جمعۃ المبارک:حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 18؍ ذو الحجہ 1444ھ / 7؍ جولائی 2023ءبمقام: محمدی مسجد کشروٹ، گلگتخطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی:1۔ وَ نُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَآءٌ وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ۔ (17- الاسراء: 82)ترجمہ: ”اور ہم اتارتے ہیں قرآن میں سے جس سے روگ دفع ہوں اور رحمت ایمان والوں کے واسطے“۔2۔ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ كُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ۔ (9- التوبہ: 119)ترجمہ: ”اے ایمان والو ! ڈرتے رہو اللہ سے اور رہوساتھ سچوں کے“۔3۔ وَ اصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ وَ لَا تَعْدُ عَیْنٰكَ عَنْهُمْۚ تُرِیْدُ زِیْنَةَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَاۚ وَ لَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَهٗ عَنْ ذِكْرِنَا وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ وَ كَانَ اَمْرُهٗ فُرُطًا۔ (18 – الکہف: 28)ترجمہ: ”اور روکے رکھ اپنے آپ کو ان کے ساتھ جو پکارتے ہیں اپنے رب کو صبح اور شام، طالب ہیں اس کے منہ کے، اور نہ دوڑیں تیری آنکھیں ان کو چھوڑ کر تلاش میں رونق زندگانی دنیا کی، اور نہ کہا مان اس کا جس کا دل غافل کیا ہم نے اپنی یاد سے، اور پیچھے پڑا ہوا ہے اپنی خوشی کے، اور اس کا کام ہے حد پر نہ رہنا“۔۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇✔️ نماز با جماعت سے اجتماعیت، ڈسپلن اور نظم و ضبط قائم ہوتا ہے✔️ نمازِ جمعتہ المبارک کی امامت حکمرانِ وقت کے ذمے ہے کہ وہ پڑھائے✔️ نمازِ جمعتہ المبارک میں خلیفۂ وقت حضرت عمر فاروقؓ سے سوال✔️ حج اور جمعہ کا اجتماع‘ اسلام کی شان و شوکت کو ظاہر کرتا ہے✔️ آپ ﷺ کی بعثت کا مقصد دینِ اسلام کے نظام کا غلبہ ہے✔️ اسلام کے نظام میں بلاامتیاز رنگ و نسل و جغرافیہ عدل مقصودِ اصلی ہے✔️ قرآن حکیم میں حضرت داؤد علیہ السلام کو عدل قائم کرنے کا حکم✔️ خطبہ جمعتہ المبارک میں آیتِ عدل شامل کرنے کی حکمت✔️ انبیا علیہم السلام وعلمائے ربانیّین کی سیاست کا محور عدل کا قیام✔️ آج مسلمانوں کی کمزوری ان کے نظامِ عدل کا قائم نہ ہونا ہے✔️ دنیا میں موجود کسی حکومت کے دستور کی توہین گھناؤنا جرم ہے تو قران حکیم کی توہین کس طرح اظہارِ رائے کی آزادی ہے؟پیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.orghttps://web.facebook.com/rahimiainstitute

Ep 256شعائر اللّٰہ کی عظمت اور رُوحِ قربانی | 2023-06-30
*شعائر اللّٰہ کی عظمت اور رُوحِ قربانی**خُطبۂ جمعۃ المبارک:*حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری*بتاریخ:* 11؍ ذو الحجہ 1444ھ / 30؍ جون 2023ء*بمقام:* ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور*خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی و حدیثِ نبوی ﷺ :**آیتِ قرآنی:*لَنْ یَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَ لَا دِمَآؤُهَا وَ لٰكِنْ یَّنَالُهُ التَّقْوٰى مِنْكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُحْسِنِیْنَ۔ (22 – الحج: 37)ترجمہ: ”اللہ کو نہیں پہنچتا ان کا گوشت اور نہ ان کا لہو، لیکن اس کو پہنچتا ہے تمھارے دل کا ادب، اسی طرح ان کو بس میں کردیا تمھارے کہ اللہ کی بڑائی پڑھو اس بات پر کہ تم کو راہ سجھائی، اور بشارت سنا دے نیکی والوں کو“۔*حدیثِ نبوی ﷺ :*”إِنَّ اللّٰهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى صُوَرِكُمْ، وَأَمْوَالِكُمْ، وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ، وَأَعْمَالِكُمْ“۔ (الصّحیح لمسلم، حدیث: 6543)ترجمہ: ”اللہ تعالیٰ تمھاری صورتوں اور تمھارے اموال کی طرف نہیں دیکھتا، لیکن وہ تمھارے دلوں اور اعمال کی طرف دیکھتا ہے“۔*۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔* 👇✔️ 0:00 آغاز خطاب✔️ 1:15 قربانی کرنا‘ شعائر اللہ میں سے ہے اور اس کے اہم مقاصد ہیں✔️ 2:26 مکہ کے مشرکین نے تحریکِ حنیفیّت میں تشبیہ اور شرک پیدا کرنے کی کوشش کی✔️ 4:28 آپ ﷺ کے مقاصدِ بعثت میں ملتِ حنیفیہ کے بنیادی اَساسی اُصولوں کو بحال کرنا تھا✔️ 5:33 شعائر اللہ کی تعریف، تعداد اور اِن علامات کا بنیادی فلسفہ اور ان کی نشان دہی✔️ 14:43 مغربی نظاموں کا شعائر اللہ کی دشمنی اور توہین کا طرزِ عمل، انسانی فطرت اور عقل سے انحراف پر استوار ہے✔️ 18:57 ماہِ ذوالحجہ کے پانچ ایام میں تکبیراتِ تشریق کا فلسفہ اور اُس کی اہمیت✔️ 24:36 قربانی کا جانور ذبح کرنے میں انسان کی روحِ حیوانی کی قربانی کا بنیادی فلسفہ✔️ 28:32 مشرکینِ مکہ کا شعائر اللہ میں زبانی اور عملی تحریف کرنے کا ایک باریک فرق✔️ 31:08 معاشروں میں صالح اور فاسد سیاسی اور مذہبی قیادتوں کی پہچان کا بنیادی اُصول✔️ 34:07 عرب معاشرے کی بت پرستی کے پسِ منظر میں عیار انسانوں کے استحصالی حربے✔️ 36:43 قربانی کے عمل اور حسنِ خلق، دلوں کے ادب اور تقوے کے درمیان قابلِ توجہ تعلق✔️ 41:27 امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کا انسانی اعمال، افعال، اَخلاق اور اِحساسات کا نفسیاتی تجزیہ✔️ 48:08 کسی بھی شعبے میں مہارت کے پیچھے صلاحیت، تجربہ اور سکِلز کارفرما ہوتی ہیں✔️ 50:38 خوش حال معاشرے کی ایک بڑی خوبی مالی حرض و لالچ سے استغنا✔️ 54:46 عادل اور ذمہ دار حکومت کی نشانی کہ وہاں لوگ خوش حال ہوتے ہیں✔️ 57:49 کسی بھی تربیتی نظام میں نتائج کے لیے وقتِ مقررہ کی بنیادی اہمیت ہوتی ہے✔️ 1:03:58 قربانی کے نصاب اور وجوب کا استدلال اور اس کی اہمیت کا بیان✔️ 1:07:59 قربانی میں رسم پرست اور نام نہاد جدت پسند طبقوں کے نظریات کا تجزیہپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

Ep 255خطبہ عید / قربانی کا فلسفہ اس کی اہمیت اور نظام / مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
*قربانی کا فلسفہ**اس کی اہمیت اور نظام**خُطبۂ عید الاضحٰی*حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری*بتاریخ:* 10؍ ذو الحجہ 1444ھ / 29؍ جون 2023ء*بمقام:* ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

Ep 254قرآن حکیم میں خیرِ اُمّت (انبیا علیہم السلام) کی جماعت کا تعارف اور انسانیت دشمن جماعت سے آگہی | 2023-06-16
*قرآن حکیم میں خیرِ اُمّت (انبیا علیہم السلام) کی جماعت کا تعارف**اور انسانیت دشمن جماعت سے آگہی**خطبہ جمعۃ المبارک:*حضرت مولانا مفتی عبد المتین نعمانی *بتاریخ:* 26 ذوقعدہ 1444ھ / 16 جون 2023ء *بمقام:* ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور

Ep 253مقاصدِ حج اور معاشرتی اضطراب کے اسباب | 2023-06-23
مقاصدِ حجاور معاشرتی اضطراب کے اسبابخُطبۂ جمعۃ المبارک:حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 4؍ ذو الحجہ 1444ھ / 23؍ جون 2023ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورخطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی و حدیثِ نبوی ﷺ:1۔ ”وَ اَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ یَاْتُوْكَ رِجَالًا وَّ عَلٰى كُلِّ ضَامِرٍ یَّاْتِیْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍۙ“۔ (22 – الحج: 27)ترجمہ: ”اور پکار دے لوگوں میں حج کے واسطے، کہ آئیں تیری طرف پیروں چل کر، اور سوار ہو کر دُبلے دُبلے اونٹوں پر، چلے آئیں دور راہوں سے“۔2۔ ”وَ اِذْ جَعَلْنَا الْبَیْتَ مَثَابَةً لِّلنَّاسِ وَ اَمْنًا ؕ وَ اتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّى ؕ“۔ (2 – البقرہ: 125)ترجمہ: ”اور جب مقرر کیا ہم نے خانہ کعبہ کو اجتماع کی جگہ لوگوں کے واسطے اور جگہ امن کی، اور بناؤ ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ کو نماز کی جگہ“۔حدیثِ نبوی ﷺ :”أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ فَرَضَ اللّٰهُ عَلَيْكُمُ الْحَجَّ فَحُجُّوا“۔ (صحیح مسلم، حدیث: 3257)ترجمہ: ”لوگو ! تُم پر حجّ فرض کیا گیا ہے، لہٰذا حجّ کرو“۔۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ مکہ معظمہ شعائر اللہ کا مرکز ہے اور اس کی تاریخی اور دینی اہمیت حج کے لغوی معنی و مفہوم اور اس کی دینی اہمیت اور عظمت فریضۂ حج کی ادائیگی اور قبولیت میں رزقِ حلال اور محنت کے مال کی اہمیت امن کی اہمیت اور ناگزیریت قرآن حکیم کی نظر میں اور اس کے تقاضے لوگوں کو بے گھر کرنے کا جرم اور سوچنے والے ذہنوں کے ترکِ وطن (Brain drain) کی عصری شکلیں پاکستان سے بیرونِ ملک نوجوانوں کے فرار کے سماجی و معاشی اسباب یونان جاتی کشتی کے سانحے کے تناظر میں معاشرتی المیہ اور جرم کی مرتکب قوتوں کا تجزیہ انسانی سمگلنگ کے کاروبار کا بھیانک چہرہ اور اپنے وطن کی اہمیت کا احساس انسانی سمگلنگ کے پیچھے مافیاز اور گینگز کو بے نقاب کرنے کی ضرورت معاشرے میں خوف وہراس کا ماحول برطانوی استعماری دور کی یادگار ہے مقاصدِ حج کے تناظر میں موجودہ معاشرتی اضطراب کا جائزہ میدانِ عرفات کی جدید سہولتیں اور مقاصدِ حج میں جسمانی مشقت کا مقصد قوم...

Ep 252معاشی ترقی کے دینی اُصول کی روشنی میں معیشت کے بنیادی دائرہ ہائے کار میں سامراجی حکمتِ عملی کے تباہ کن نتائج کا جائزہ | 2023-06-16
*دینِ حق اور نفسانی خواہشات کے درمیان امتیاز کی فطری صلاحیت**اور اس کی شعوری تربیت کا قرآنی ضابطۂ ہدایت**خُطبۂ جمعۃ المبارک:*حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری*بتاریخ:* 19؍ ذو قعدہ 1444ھ / 9؍ جون 2023ء*بمقام:* ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور*خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی :*وَ لَوِ اتَّبَعَ الْحَقُّ اَهْوَآءَهُمْ لَفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهِنَّ، بَلْ اَتَیْنٰهُمْ بِذِكْرِهِمْ فَهُمْ عَنْ ذِكْرِهِمْ مُّعْرِضُوْنَؕ۔ (23 – المؤمنون: 71)ترجمہ: ”اور اگر سچا ربّ چلے ان کی خوشی پر تو خراب ہوجائیں آسمان اور زمین اور جو کوئی ان میں ہے، کوئی نہیں، ہم نے پہنچائی ہے ان کو ان کی نصیحت، سو وہ اپنی نصیحت کو دھیان نہیں کرتے“۔*۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔* 👇✔️ کائنات کی معتدل تخلیق اور احترامِ انسانیت کے الٰہی ضابطے✔️ ہر تخلیق کے ارتقا اور نشو و نما کا فطری ضابطہ اور اس کے عملی تقاضے✔️ دینِ اسلام حق و اعتدال کے متوازن ابدی اصولوں پر مشتمل نظامِ فکر و عمل ہے✔️ حق و اعتدال کی تعریف، حقیقی مفہوم اور عملی تقاضے✔️ خطبے کی مرکزی آیت کے تناظر میں سورۃ مؤمنوں کے مضامین کا خلاصہ اور پسِ منظر✔️ حق کے منکروں اور خواہشات کے اسیروں کے ذہنی اور عملی رویوں کا محاکمہ✔️ حکمران طبقے کا قوم کے جملہ طبقات کی رائے کو اپنے تابع بنانے کا عمل‘ قرآن کی نظر میں✔️ حق ہمیشہ ایک ہوتا ہے اور وہ اٹل ہوتا ہے، جب کہ خواہشات مفادات کے تابع ہوتی ہیں✔️ حق و باطل کے حوالے سے دھوکہ نہ کھانے والی جماعت کا رویہ✔️ تہذیب اور ترقی کے اُصول دنیا بھر کی اقوام نے اسلام سے سیکھے✔️ حوضِ کوثر پر دنیا میں فساد برپا کرنے والوں کے پریشان کن احوال✔️ تلبیس بالباطل کے دور میں اہلِ حق کی جماعت کا شعوری کردار✔️ خواہشات کے تابع قانون سازی کرنا یہودیوں کا طرزِ عمل رہا ہے✔️ آج عالمی دنیا خواہشات کے تابع نظام کے شکنجے میں جکڑی ہوئی ہے

Ep 246خطاب/ افتتاح صحیح بخاری شریف /علمِ حدیث کی ضرورت و اہمیت اور ولی اللّٰہی جماعت کی خدمات/ مفتی عبدالمتین نعمانی
علمِ حدیث کی ضرورت و اہمیت اور ولی اللّٰہی جماعت کی خدماتخطاب:حضرت مولانا مفتی عبدالمتین نعمانیبرموقع: تقریبِ افتتاحِ بخاری شریفبتاریخ: 16؍ شوال المکرّم 1444ھ / 7؍ مئی 2023ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

Ep 251د دینِ حق اور نفسانی خواہشات کے درمیان امتیاز کی فطری صلاحیت اور اس کی شعوری تربیت کا قرآنی ضابطۂ ہدایت | 2023-06-09

Ep 25002-06-2023 | اجتماعی مفاد کے صحت بخش ضابطوں سے انحراف کے سبب قومی زوال کے تعیُّن کا دینی اُصول اور تاریخی تناظر میں اس کا اطلاقی جائزہ
اجتماعی مفاد کے صحت بخش ضابطوں سے انحراف کے سببقومی زوال کے تعیُّن کا دینی اُصولاور تاریخی تناظر میں اس کا اطلاقی جائزہخُطبۂ جمعۃ المبارک:حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 12؍ ذو قعدہ 1444ھ / 2؍ جون 2023ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورخطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی و حدیثِ نبوی ﷺ :آیاتِ قرآنی:"كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَۙ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْؕ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ شَدِیْدُ الْعِقَابِ، ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ لَمْ یَكُ مُغَیِّرًا نِّعْمَةً اَنْعَمَهَا عَلٰى قَوْمٍ حَتّٰى یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ"۔ (8 – الانفال: 52-53)ترجمہ: ”جیسے فرعون والوں کا دستور اور جو اُن سے پہلے تھے، کہ مُنکِر ہوئے اللّٰه کی باتوں سے، سو پکڑا اُن کو اللّٰه نے ان کے گناہوں پر، بے شک اللّٰه زور آور ہے، سخت عذاب کرنے والا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اللہ ہرگز بدلنے والا نہیں اس نعمت کو جو دی تھی اس نے کسی قوم کو، جب تک وہی نہ بدل ڈالیں اپنے جیوں (نفسوں) کی بات، اور یہ کہ اللّٰه سننے والا جاننے والا ہے“۔حدیثِ نبوی ﷺ:”نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ: الصِّحَّةُ، وَالْفَرَاغُ“۔ (الجامع الصحیح للبُخاری، حدیث: 6412)اردو ترجمہ: نبی کریم ﷺ فرمایا: ”دو نعمتیں ایسی ہیں کہ اکثر لوگ ان کی قدر نہیں کرتے:(1) صحت (2) اور فراغت“۔۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇✔️ سورۃ الانفال کی روشنی میں فاسد معاشرے میں سیاسی مزاحمت کے اصول✔️ سیاست کا بنیادی مفہوم، مقاصد اور اس کے عملی تقاضے✔️ کائنات کا عالمگیر نظام اور ظالم طبقے کے کردار کے نتائج✔️ کسی قوم پر سے نعمتوں کے زوال کے اسباب و وجوہات✔️ درست قانون کی عمل داری بھی ایک نعمتِ خدا وندی ہے✔️ ’’حکومت‘‘ کا بنیادی معنی ظالم کو روکنا ہے✔️ ہندوستان کے مسلم دور کی ترقی اور اپنے خطے کی قومی تاریخ کے مطالعے کی اہمیت✔️ مکہ کی ریاست اور قریش کی قومی تاریخ کو سمجھنے کی ضرورت و اہمیت✔️ ذہنی و جسمانی صحت کی نعمت اور انسانی زندگی میں اس کی اہمیت✔️ معاشی خوش شحالی کی بنیاد پر انسانی زندگی میں فراغ کی اہمیت✔️ خوش حال، عقل مند اور صاحبِ حکمت انسان قابل رشک ہے✔️ ریاستِ مکہ کے زوال کے سیاسی، معاشی اور سماجی اَسباب✔️ ریاستِ مدینہ کے قیام، اِحیاء و اِرتقاء کے اجتماعی اسباب✔️ امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی نظر میں سلطنتِ دہلی کے زوال کے اسباب✔️ پاکستان میں قانون شکنی کی تاریخ اور قومی مفاد کی قانون سازی سے پہلو تہی اور غفلت کے نتائج✔️ دارالندوہ میں آں حضرت ﷺ کے خلاف منصوبہ بندی اور سازش✔️ پاکستان میں پارٹیاں بنانے اور بگاڑنے کا کھیل اور اس کے اثرات و نتائج✔️ برعظیم میں لوگوں کو اپنے حق میں استعمال کرنے اور پھر ذلیل کرنے کی سامراجی تاریخ✔️ مفاد پرستی کی بنیاد پر آئین شکنی، قانون فراموشی اور ضابطوں کو توڑنے کے جرم سے توبہ کی ضرورتپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

Ep 245درس افتتاح صحیح بخاری شریف/ شیخ الحدیث مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
درس افتتاحِ صحیح بخاری شریفخطاب:حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبرموقع: تقریبِ افتتاحِ بخاری شریفبتاریخ: 16؍ شوال المکرّم 1444ھ / 7؍ مئی 2023ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورمکمل درس سُننے کے لیے درجِ ذیل لنک پر کلک کیجیے 👇بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ چینل کو سبسکرائب کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔منجانب: رحیمیہ میڈیاپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

Ep 24926-05-2023 |اجتماعی ترقی کے دینی اُصولوں کی روشنی میں زوال پذیر معاشرتی رویّوں کا جائزہ
*اجتماعی ترقی کے دینی اُصولوں کی روشنی میں**زوال پذیر معاشرتی رویّوں کا جائزہ**خُطبۂ جمعۃ المبارک:*حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری*بتاریخ:* 5؍ ذی قعدہ 1444ھ / 26؍ مئی 2023ء*بمقام:* ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور*خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی و حدیثِ نبوی ﷺ :**آیاتِ قرآنی:*یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ كَآفَّةً١۪ وَّ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ۔ فَاِنْ زَلَلْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْكُمُ الْبَیِّنٰتُ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۔ (2 – البقرۃ: 208-209)ترجمہ: ”اے ایمان والو ! داخل ہوجاؤ اسلام میں پورے، اور مت چلو شیطان کے قدموں پر، بے شک وہ تمہارا صریح دشمن ہے۔ پھر اگر تم پھسلنے لگو بعد اس کے کہ پہنچ چکے تم کو صاف حکم، تو جان رکھو کہ بے شک اللہ زبردست ہے حکمت والا“۔*حدیثِ نبوی:*”ثَلَاثٌ مَنْ جَمَعَهُنَّ، فَقَدْ جَمَعَ الْإِيمَانَ: الْإِنْصَافُ مِنْ نَفْسِكَ، وَبَذْلُ السَّلَامِ لِلْعَالَمِ وَالْإِنْفَاقُ مِنَ الْإِقْتَارِ“۔ (صحیح بُخاری، حدیث: 28)ترجمہ: ”جس نے تین چیزوں کو جمع کر لیا، اس نے سارا ایمان حاصل کر لیا: 1۔ اپنے نفس سے انصاف کرنا، 2۔ سلام کو عالم میں پھیلانا، 3۔ اور تنگ دستی کے باوجود اللہ کی راہ میں خرچ کرنا“۔*۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔* دینِ اسلام کے افکار کو مکمل اور اجتماعی طور پر سمجھنے اور قبول کرنے کی اہمیت قرانی اصطلاح ’’کَآفَّۃً‘‘ کا معنی و مفہوم اور عملی تقاضے دینِ اسلام میں جمعہ کے دن کی اہمیت، فضائل و احکام تاریخِ اسلام کے تناظر میں اختلافِ رائے رکھنے والوں کے نظریاتی رویوں کا تجزیہ خاندانی اُمور پر قرآنی رہنمائی سے قومی مسائل کا حل سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات کو حل کرنے کے قرآنی اُصول کسی بھی انتہا پسند نظام کے لیے دینِ اسلام کے نام کے استعمال کی حوصلہ شکنی از بس ضروری ہے معاشرے کا اَمن اور خوش حالی سماجی معاہدے کا لازمی تقاضا ہے سوسائٹی کی ترقی کے چار اجتماعی اصول؛ آزادی، عدل، امن اور معاشی خوش حالی نفاق کی علامات: امانت میں خیانت، جھوٹ بولنا، معاہدہ شکنی، وعدہ خلافی اور گالم گلوچ کرنا نوآبادیاتی دور اور مابعد نوآبادیاتی دور کے پاکستانی نظام کی اصل روح نفاق کے مندرجہ بالا رویے ہیں عذاب یافتہ اقوام کی خصلتوں کی بنیاد پر آج ہمارے معاشرے بھی عذاب میں گرفتار ہیںمکمل خطبہ سننے کے لیے درجِ ذیل لنک پر کلک کیجیے بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ چینل کو سبسکرائب کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل () آئیکون کو دبادیں۔*منجانب: رحیمیہ میڈیا*

Ep 24819-05-2023 |خبروں کی جانچ پرکھ کے دینی اصول کی روشنی میں نو آبادیاتی دور و ما بعد دور کے نظامِ ظلم کا تجزیہ
خبروں کی جانچ پرکھ کے دینی اصول کی روشنی میںنو آبادیاتی دور و ما بعد دور کے نظامِ ظلم کا تجزیہخُطبۂ جمعۃ المبارک:حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 28؍ شوال المکرّم 1444ھ / 19؍ مئی 2023ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورخطبے کی رہنما آیتِ قرآنی و حدیثِ نبوی ﷺ :آیتِ قرآنی:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ جَآءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوْۤا اَنْ تُصِیْبُوْا قَوْمًۢا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰى مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِیْنَ (49 – حجرات: 6)ترجمہ: ”اے ایمان والو ! اگر آئے تمہارے پاس کوئی گناہ گار خبر لے کر، تو تحقیق کرلو، کہیں جا نہ پڑو کسی قوم پر نادانی سے، پھر کل کو اپنے کئے پر پچھتانے لگو“۔حدیثِ نبوی ﷺ :”التَّبَيُّنُ مِنَ اللّهِ ، وَالعَجَلَةُ مِنَ الشَّيطانِ“۔ (تفسير الطبري : ج 13 الجزء 26 ص 126)ترجمہ: ” استقامت اور تصدیق خدا کی طرف سے ہے اور جلد بازی شیطان کی طرف سے ہے“۔۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇✔️ تربیت اور اصولِ تربیت پر قرآن حکیم کے جامع رہنما اُصول✔️ خبر کی سچائی، صداقت اور معیار کی پرکھ کا قرآنی اُصول✔️ خطبے کی مرکزی آیتِ مبارکہ کا شانِ نزول اور مختصر تفسیری خلاصہ✔️ بخل اور سخاوت کے نتائج اور افراد کی کرداری خصوصیات پر اس کے اثرات✔️ طے کردہ آئین اور دستور سے متصادم کردار کی قباحت اور منفی اثرات و نتائج✔️ ظلم کے نظاموں کے خلاف سیاسی جدوجہد اور استقامت کی تاریخ✔️ عالمی سامراجی بربریت اور سرمایہ دارانہ نظام کے دجل و فریب کی انسانیت کش تاریخ✔️ انڈیا ایکٹ 1935ء میں نمائشی اور بندوبستی جمہوریت کے ذریعے نوآبادیاتی نظام کا تحفظ✔️ برطانوی سامراج سے حصولِ آزادی کی تحریک کے دوران پنجاب میں مجلسِ اَحرار کو کالعدم کرنے اور کچلنے کا منصوبہ✔️ سکھوں اور مسلمانوں کو لڑانے کے لیے انگریزوں اور ان کے نظام کی شاطرانہ چال✔️ 1936ء کے الیکشن میں من پسند نتائج اور پنجاب کے کٹھ پتلی وزیرِ اعظم کے پیچھے انگریز گورنر کا کردار✔️ دوسو سالہ برطانوی عہد کی سیاسی تاریخ کے مطالعے کی اہمیت✔️ آج کی ملکی سیاست میں لڑاؤ اور حکومت کرو کی استعماری پالیسی کا تسلسلمکمل خطبہ سننے کے لیے درجِ ذیل لنک پر کلک کیجیے 👇بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ چینل کو سبسکرائب کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔منجانب: رحیمیہ میڈیا

Ep 24705-05-2023 |ریاستی اداروں (مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ) کے لیے دینی فکر و نظریے کی رہنمائی کی ناگزیریت
*ریاستی اداروں (مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ)**کے لیے دینی فکر و نظریے کی رہنمائی کی ناگزیریت**خُطبۂ جمعۃ المبارک:*حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری*بتاریخ:* 14؍ شوال المکرّم 1444ھ / 5؍ مئی 2023ء*بمقام:* ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور*خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی و حدیثِ نبوی ﷺ:**آیتِ قرآنی:*وَ الَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ،وَ اَمْرُهُمْ شُوْرٰى بَیْنَهُمْ، وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَۚ۔ (42 – الشورٰی: 38)ترجمہ: ”اور جنہوں نے کہ حکم مانا اپنے رب کا، اور قائم کیا نماز کو، اور کام کرتے ہیں مشورے سے آپس کے، اور ہمارا دیا کچھ خرچ کرتے ہیں“۔*حدیثِ نبوی ﷺ :*”إِذَا كَانَ أُمَرَاؤُكُمْ خِيَارَكُمْ وَأَغْنِيَاؤُكُمْ سُمَحَاءَكُمْ وَأُمُورُكُمْ شُورَى بَيْنَكُمْ فَظَهْرُ الْأَرْضِ خَيْرٌ لَكُمْ مِنْ بَطْنِهَا، وَإِذَا كَانَ أُمَرَاؤُكُمْ شِرَارَكُمْ وَأَغْنِيَاؤُكُمْ بُخَلَاءَكُمْ وَأُمُورُكُمْ إِلَى نِسَائِكُمْ فَبَطْنُ الْأَرْضِ خَيْرٌ لَكُمْ مِنْ ظَهْرِهَا“۔ (الجامع للترمذی، حدیث: 2266)ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:”جب تمہارے حکمران تمہارے اچھے لوگ ہوں، اور تمہارے مال دار لوگ تمہارے سخی لوگ ہوں،اور تمہارے کام باہمی مشورے سے ہوں، تو زمین کی پیٹھ تمہارے لیے اس کے پیٹ سے بہتر ہے۔اور جب تمہارے حکمراں تمہارے بُرے لوگ ہوں، اور تمہارے مال دار تمہارے بخیل لوگ ہوں، اور تمہارے کام عورتوں کے ہاتھ میں چلے جائیں، تو زمین کا پیٹ تمہارے لیے اس کی پِیٹھ سے بہتر ہے“۔*۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔* صالح انسانی سماج میں مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ کا بنیادی کردار انسانی معاشروں کے نظم ونسق کے لیے متوازن دستور‘ ایک ناگزیر تقاضا قرآن حکیم کی نظر میں مشرکین کے شرک کی اصل نوعیت ایک مؤمن کے لیے شرک و کفر سے بچنے کا قرآنی لائحۂ عمل سماج کی ترقی کے لیے تینوں اداروں کا مَلَکوتی آئین کے تقاضوں سے ہم آہنگ کام کرنے کی اہمیت دینِ اسلام میں خیر اور شر کے حقیقی پیمانے اور اس کے عملی تقاضے کسی معاشرے میں حکمرانوں کے شر پسند اور دولت مندوں کے بخیل ہونے کے تباہ کن سماجی اثرات اجتماعی حقیقی مشاورت کے سماجی اور معاشرتی اثرات امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے نزدیک قانون سازی کی اصل ذمہ دار جماعت رسول اللہ ﷺ کی زندگی کا اہم ترین سبق؛ حقیقی مشاورت حدیث میں ’’زمین تنگ‘‘ ہونے کا حقیقی مطلب اور اس کے تقاضے دینِ اسلام کی حقیقی تعلیمات اور اس کے عصری تقاضےمکمل خطبہ سننے کے لیے درجِ ذیل لنک پر کلک کیجیے بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ چینل کو سبسکرائب کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل () آئیکون کو دبادیں۔*منجانب: رحیمیہ میڈیا*

Ep 24412-05-2023 |قرآنی اصطلاح ’’اَلَدُّ الخِصَامِ‘‘ کے تناظر میں ملکی گروہوں اور ریاستی اداروں کے سنگدل طرز ِعمل اور مفاداتی نفسیات کا تحلیل و تجزیہ|
قرآنی اصطلاح ’’اَلَدُّ الخِصَامِ‘‘ کے تناظر میں ملکی گروہوں اور ریاستی اداروں کےسنگدل طرز ِعمل اور مفاداتی نفسیات کا تحلیل و تجزیہخُطبۂ جمعۃ المبارک:حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 21؍ شوال المکرّم 1444ھ / 12؍ مئی 2023ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورخطبے کی رہنما آیتِ قرآنی و حدیثِ نبوی ﷺ:آیتِ قرآنی:”وَ مِنَ النَّاسِ مَنۡ یُّعۡجِبُکَ قَوۡلُہٗ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَ یُشۡہِدُ اللّٰہَ عَلٰی مَا فِیۡ قَلۡبِہٖ ۙ وَ ہُوَ اَلَدُّ الۡخِصَامِ، وَ اِذَا تَوَلّٰی سَعٰی فِی الۡاَرۡضِ لِیُفۡسِدَ فِیۡہَا وَ یُہۡلِکَ الۡحَرۡثَ وَ النَّسۡلَ ؕ وَ اللّٰہُ لَا یُحِبُّ الۡفَسَادَ“۔ (2 – البقرۃ: 204-205)ترجمہ: ”اور بعض آدمی وہ ہے کہ پسند آتی ہے تجھ کو اس کی بات دنیا کی زندگانی کے کاموں میں، اور گواہ کرتا ہے اللہ کو اپنے دل کی بات پر، اور وہ سخت جھگڑالو ہے۔ اور جب پھِرے تیرے پاس سے تو دوڑتا پِھرے ملک میں، تاکہ اس میں خرابی ڈالے اور تباہ کرے کھیتیاں اور جانیں، اور اللہ ناپسند کرتا ہے فساد کو“۔حدیثِ نبوی ﷺ: ”إِنَّ أَبْغَضَ الرِّجَالِ إِلَى اللّٰه الْأَلَدُّ الْخَصِمُ“. (الصحیح للبخاری، حدیث: 7188)ترجمہ: ”اللہ کے نزدیک سب سے مبغوض وہ شخص ہے جو سخت جھگڑالو ہو۔“۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ قرآن حکیم کا موضوع اور اجتماعیات میں اس کی اصولی رہنمائی فسادات اور اَنارکی معاشروں کے لیے زہرِ قاتل اور تباہ کن ہوتی ہے لچھے دار گفتگو کرنے والے باتونی لوگوں کے رویے اور خوف ناک عزائم جھگڑالو اور ضدی قسم کے لوگ معاشرے میں بد اَمنی پیدا کرتے ہیں قرآنی اصطلاح ’’اَلَدُّ الخِصَامِ‘‘ کا معنی و مفہوم اور عصری انطباق عزت بالبر اور عزت بالشر کا فرق اور شر پسند عناصر کی نفسیات میٹھی گفتار کے حامل سخت دل اور مفاد پرست مذہبی شناخت رکھنے والے طبقے برعظیم کو غلام بنائے جانے کے تلخ تاریخی حقائق کی روداد استعماری دور کی یاد گار بیوروکریسی کے طریقہ ہائے واردات عوام کے جذبات کو بھڑکا کر بداَمنی اور انارکی پیدا کرنا اسلام، عدل اور جمہوریت کے پُرکشش ناموں کی آڑ میں استعماری مقاصد کی آبیاری کا عمل عادلانہ مشاورت اور صالح اجتماعی اداروں کا باہم ناگزیر تعلق نو آبادیاتی دور کی بندوبستی جمہوریت اور غدار خاندانوں کی حکومتیں پاکستانی معاشرے میں تقسیم در تقسیم کے عمل کے نتیجے میں انتشار نظام کے مختلف طبقوں کے درمیان موجودہ کشمکش کا شعوری تجزیہ اصل ایشو مالی لوٹ کھسوٹ اور استحصال کو پسِ پشت ڈالنے کی سیاست کاری سرمایہ دارانہ نظام میں الیکشن کی حیثیت اور اس میں حصہ لینے والے آلہ کار گروہ فتنۂ مستطیرہ کی تعریف، اَحوال و آثار اور علامات و نتائجمکمل خطبہ سننے کے لیے درجِ ذیل لنک پر کلک کیجیے بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ چینل کو سبسکرائب کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل () آئیکون کو دبادیں۔منجانب: رحیمیہ میڈیا

Ep 24428-04-2023 |آئین و دستور اور اداروں کی تشکیل میں دینی فکر کی رہنمائی کی اہمیت اور اس کے تقاضے
آئین و دستور اور اداروں کی تشکیلمیں دینی فکر کی رہنمائی کی اہمیت اور اس کے تقاضےخُطبۂ جمعۃ المبارک:حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 7؍ شوال المکرّم 1444ھ / 28؍ اپریل 2023ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورخطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی: 1۔ الٓمّٓۚ ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَیْبَۖ فِیْهِۚ هُدًى لِّلْمُتَّقِیْنَۙ۔ (2 – البقرۃ: 1-2)ترجمہ: ”الۤمّ ۔ اس کتاب میں کچھ شک نہیں، راہ بتلاتی ہے ڈرنے والوں کو“۔2۔ ثُمَّ جَعَلْنٰكَ عَلٰى شَرِیْعَةٍ مِّنَ الْاَمْرِ فَاتَّبِعْهَا وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ۔ (45 – الجاثیہ: 18)ترجمہ: ”پھر تجھ کو رکھا ہم نے ایک راستہ پر دین کے کام کے، سو تُو اسی پر چل اور مت چل خواہشوں پر نادانوں کی۔۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ قرآن کی تعلیمات سے غفلت کے سبب غضبِ الٰہی یہودیوں پر غضبِ الٰہی، مولانا سندھیؒ کی تشریح کے تناظر میں قرآنِ حکیم سابقہ انبیاؑ پر نازل ہونے والی دستوری تعلیمات کی وسعت اور جامعیت پر مشتمل مَلَکوتی دستور حضور ﷺ کو شریعت و دستور کے اِتباع کا حکمِ الٰہی قارون کا ناقص علم اور آئین شکنی تمام شرائع کے احکامات‘ انسانیت کے مجموعی مطالعے کا نتیجہ ہیں دستور و کتاب کی پابندی سے ماوراء معاشروں کی حالت آئین و قانون کی پابندی اور عدالتی نظام کے حوالے سے حضرت عمر فاروق اور حضرت علی رضی اللہ عنہما کی سیرت سے مثالیں نظامِ عدالت کی ذمہ داری ہے کہ وہ انسانیت کے آئین اور دستور العمل کی حفاظت اور نگرانی کرے خواہشات و مفادات کی وجہ سے دستور شکن اہلِ کتاب (یہود و نصاریٰ) عذاب کے مستحق بغیر کسی انحراف و تحریف کے دستور و شریعت کو تسلیم کرنا‘ ہر ایک کے لیے لازمی ہے پیش آمدہ مسائل کے حل کے لیے خلفائے راشدینؓ، فقہا و محدثین اور عادل حکمرانوں کی کاوِشیں عدلیہ؛ آئین کی روح کو برقرار رکھنے کے لیے آزاد ادارے کی حیثیت رکھتی ہے پارلیمان؛ آئین کے تحت قانون سازی میں آزاد، لیکن عدلیہ کی تشریح کی پابند تصور ہوتی ہے آج کا المیہ میڈیا میں عدلیہ، مقننہ اور انتظامیہ کے خود ساختہ ماہرین کی بھرمار مروّجہ عالمی دساتیر، دینی فکر کے انکار پر استوار ہوئے اسلام کا مَلَکوتی خصوصیات کا حامل آئین اور مسلمانوں کی نااہلی آئین اس لیے بالاتر تصور ہوتا ہے کہ اس کے قاعدے و ضابطے انسانی تجربات کا نچوڑ ہوتے ہیں پاکستان میں آئین سازی کا عمل اور اس کا نفاذ بنیادی آئینی ڈھانچے سے انحراف کے بغیر قانون ساز مرکزی ادارہ آئینی ترمیم کا مجاز ہوتا ہے نافذ العمل آئین (چاہے ناقص و محدود ہی ہو) کی تشریح کی مجاز عدلیہ تصور ہوتی ہے ریاستِ پاکستان میں آئین قطع و بُرید کا شکار، جب کہ ممبرانِ پارلیمنٹ کٹھ پتلیوں کی حیثیت رکھتے ہیں سماج میں ملکوتی دستور و آئین کے قیام کے لیے مسلمانوں پر عائد فریضہ مہذب نظام سے عاری اور آئین کی دھجیاں بکھیرنے کی تاریخ اور آج ہماری ذمہ داریاںمکمل خطبہ سننے کے لیے درجِ ذیل لنک پر کلک کیجیے بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ چینل کو سبسکرائب کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل () آئیکون کو دبادیں۔منجانب: رحیمیہ میڈیا

Ep 243یومِ مزدور؛ یکم مئی / محنت کش انسانیت پر ظلم و ستم کے خاتمےکے لیے../ مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
یومِ مزدور؛ یکم مئی[محنت کش انسانیت پر ظلم و ستم کے خاتمے کے لیے تحریکِ حنیفیت کی اَساس پر جدوجہد کی اہمیت اور اس کے لیے باشعور اجتماعی قیادت کی ضرورت]خطاب:حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 10؍ شوال المکرّم 1444ھ / یکم؍ مئی 2023ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور۔ ۔ ۔ ۔ خطاب کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ یومِ مزدور: مزدوروں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی سیاہ تاریخ یاد دلانے کا دن مزدور دُشمن عالمی نظام کے خلاف دنیا بھر کے ہمہ قسم کے محنت کش افراد و اقوام کی جدوجہد کی ناگزیریت مسلمان جماعت: انسانیت کے حقوق کے بلا تفریق قیام کے لیے اللہ کی اجیر (مزدور) جماعت:(1) احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں مزدور کی مزدوری کا تذکرہ(2) ملتِ ابراہیمی کی دعوت اور اس کے فکر و عمل کو غالب کرنے کے لیے گزشتہ اُمتوں اور مسلمانوں کی جد و جہد (مزدوری) کا تذکرہ انبیاء علیہم السلام اللہ کے اجیر (مزدور) ہیں، اس لیے اس کا معاوضہ انسانوں سے وصول نہیں کرتے مزدور کا بنیادی کام: ذہنی و جسمانی محنت سے اشیا میں افادیت پیدا کرکے انسان کی حاجات کو پورا کرنا ولی اللّٰہی فکر در اصل دعوتِ حنیفیت ہے اور تحریکِ حنیفیت کی عامل و اجیر (مزدور) جماعت کے دو بنیادی کام:(1) برّ و اثم، حق و باطل میں کرنے کی صلاحیت اور اقترابات و ارتفاقات کے نظام کا شعور(2) ارضی و سماوی خصوصیات کی حامل ملتِ ابراہیمی کے عملی سیاسی نظام کے غلبے کے لیے جدوجہد اجتماعی لیڈرشپ کی علامت کہ اس کا ہر فرد رہنمائی کی صلاحیت کا حامل ہو دنیا کی سب سے منظم جماعتِ رسول اللہ ﷺ:مصائب و مشکلات، لیڈر شپ کی صلاحیت، مشاورت، پارٹی ڈسپلن، منظم جدوجہد، صف بندی، بطور مثال معرکۂ بدر کا مطالعہ صالح حکومت، باشعور، منظم اور محنت کش (جد وجہد کرنے والی) جماعت کے بغیر اور ایسی جماعت، باہم بامعنی مشورے کے بغیر کوئی حیثیت نہیں رکھتی لیڈرشپ کے لیے آزاد ذہن کا ہونا لازمی ہے اور آزاد ذہن، رائے سازی کے بغیر تشکیل نہیں پاتامکمل خطبہ سننے کے لیے درجِ ذیل لنک پر کلک کیجیے بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ چینل کو سبسکرائب کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل () آئیکون کو دبادیں۔منجانب: رحیمیہ میڈیا

Ep 24221-04-2023 | تکمیل رمضان المبارک اور نظام عیدالفطر کی حکمت اور مقاصد
*تکمیلِ رمضان المبارک اور نظامِ عیدالفطر**کی حکمت اور مقاصد**خُطبۂ جمعۃ المبارک:*حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری*بتاریخ:* 30؍ رمضان المبارک 1444ھ / 21؍ اپریل 2023ء*بمقام:* ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور*خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی و احادیثِ نبوی ﷺ* :*آیتِ قرآنی:*”یُرِیْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْیُسْرَ وَ لَا یُرِیْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ، وَ لِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ۔ (2 – البقرۃ: 185)ترجمہ: ”اللہ چاہتا ہے تم پر آسانی، اور نہیں چاہتا تم پر دُشواری، اور اس واسطے کہ تم پوری کرو گنتی، اور تاکہ بڑائی کرو اللہ کی اس بات پر کہ تم کو ہدایت کی، اور تاکہ تم احسان مانو“۔*احادیثِ نبوی ﷺ:**1۔* إِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدًا وَهَذَا عِيدُنَا۔ (صحیح بخاری، حدیث: 952)ترجمہ: ”ہر قوم کی عید ہوتی ہے اور آج یہ ہماری عید ہے“۔*2۔* إِذَا كَانَ يَوْمُ عِيدِهِمْ يَعْنِي يَوْمَ فِطْرِهِمْ بَاهَى بِهِمْ مَلَائِكَتَهُ، فَقَالَ: يَا مَلَائِكَتِي مَا جَزَاءُ أَجِيرٍ وَفَّى عَمَلَهُ؟ قَالُوا: رَبَّنَا جَزَاؤُهُ أَنْ يُوَفَّى أَجْرَهُ. (مشکوٰۃ المصابیح، حدیث: 2096)ترجمہ: ”جب ان کی عید کا دن ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ ان کی وجہ سے اپنے فرشتوں پر فخر کرتے ہوئے فرماتا ہے: میرے فرشتو! اس مزدور کی کیا جزا ہونی چاہیے جو اپنا کام پورا کرتا ہے؟ وہ عرض کرتے ہیں، پروردگار! اس کی جزا یہ ہے کہ اسے پورا پورا بدلہ دیا جائے“۔*۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔* انسانیت کو اپنی ترقی کے لیے ایک جامع اور مکمل نظامِ حیات درکار ہے دینِ اسلام کے نظامِ فکر اور نظامِ حیات سے متعلق ایک بنیادی غلطی فہمی کا ازالہ دینِ اسلام ایک جامع، مربوط اور مکمل نظامِ حیات دیتا ہے اسلام تمام مادی اور رُوحانی نظاموں کی خوبیوں کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے روحانی ترقی کے نظام اور جسمانی تہذیب میں روزے کا مقام اور کردار قیام اللیل، اعتکاف اور ادعیۂ ماثورہ کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق میں کردار اسلام کے مجموعی نظام میں ’’عید‘‘ کا تصور اور اس کی اہمیت روزے کے معاملے میں مریض اور مسافر کے لیے (یُسر) سہولت و آ سانی کے احکام انسانیت کے لیے اسلام کے مَلَکوتی نظام کے مقابلے میں مادی اور فلکیاتی نظام کی سختیاں بمقابلہ اسلام دیگر مذاہب میں تشدد و تعمق کے رویوں سے انسان کے لیے مشکلات اسلام کے مجموعی نظام کی روح یُسر (آسانی) پر قائم ہے نہ کہ عُسر (سختی) پر عیدالفطر روزوں کی عدت (تعداد) پوری کرنے کے بعد خوشی کا دن ہے عید کے دن میں روزہ نہ رکھنے کے حکم کی حکمت نوروز اور مِہرجان کے نعم البدل کے طور پر مسلمانوں کے لیے عید الفطر اور عید الاضحی کا تقرر عیدین کا مقصود‘ انسانیت کو عقلی اور طبعی فرحت مہیا کرنا ہے ظالمانہ نظام کی موجودگی میں انسانوں کے درمیان عقلی اور طبعی خوشی کے تقاضے پورے نہیں ہوتے عیدین (خوشی کے دن منانے) کے بعض آداب‘ جیسے غسل، خوشبو اور بہتر لباس وغیرہ کا اہتمام عیدین کا اہتمام عالمی نہیں، بلکہ جغرافیائی سطح پر ہونے کی وجہ اور حکمتمکمل خطبہ سننے کے لیے درجِ ذیل لنک پر کلک کیجیے بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ چینل کو سبسکرائب کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل () آئیکون کو دبادیں۔*منجانب: رحیمیہ میڈیا*

Ep 24114-04-2023| نظامِ دُعا کا مَلَکُوتی نظام سے تعلق اور انسانوں کے نظامِ حیات میں اس کی قرار واقعی اہمیت
*نظامِ دُعا کا مَلَکُوتی نظام سے تعلق**اور انسانوں کے نظامِ حیات میں اس کی قرار واقعی اہمیت**خُطبۂ جمعۃ المبارک:*حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری*بتاریخ:* 23؍ رمضان المبارک 1444ھ / 14؍ اپریل 2023ء*بمقام:* ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور*خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی و احادیثِ نبوی ﷺ* :*آیتِ قرآنی*:”وَ اِذَا سَاَلَكَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌؕ اُجِیْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِۙ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَ لْیُؤْمِنُوْا بِیْ لَعَلَّهُمْ یَرْشُدُوْنَ“۔ (2 – البقرۃ: 186)ترجمہ: ”اور جب تجھ سے پوچھیں میرے بندے مجھ کو، سو میں تو قریب ہوں، قبول کرتا ہوں مانگنے والے کی دعا کو جب مجھ سے دعا مانگے، تو چاہیے کہ وہ حکم مانیں میرا اور یقین لائیں مجھ پر، تاکہ نیک راہ پر آئیں“۔*احادیثِ نبوی ﷺ* :*1۔* ”الدُّعَاءُ هُوَ الْعِبَادَةُ“ (دُعا ہی عبادت ہے)۔(الجامع للترمذی، حدیث: 2969)*2۔* ”الدُّعَاءُ مُخُّ الْعِبَادَةِ“ (دُعا عبادت کا مغز (حاصل و نچوڑ) ہے)۔(الجامع للترمذی، حدیث: 3371)*3۔* ”مَنْ فُتِحَ لَهُ مِنْكُمْ بَابُ الدُّعَاءِ فُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ الرَّحْمَةِ“ (تم میں سے جس کسی کے لیے دعا کا دروازہ کھولا گیا تو اس کے لیے (گویا) رحمت کے دروازے کھول دیئے گئے)۔(الجامع للترمذی، حدیث: 3548)*۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔* 👇✔️ اللہ تعالیٰ کے ہاں مطلوب انسان اور انبیائے کرام علیہم السلام کا کردار✔️ کامیابی اور تہذیبِ اعمال کے لیے نظم و ضبط کی ضرورت واہمیت✔️ ڈسپلن اور نظم و ضبط سے عاری لوگوں کی بے نتیجہ زندگی✔️ مَلَکوتی نظام کا تعارُف اور کردار✔️ انسانی وِجدان کی وسعت اور اِسے مادی آلات سے ناپنے کی بے جا کوشش✔️ انبیا علیہم السلام کے مشاہدے اور ’اِدراکی صلاحیت‘ کی استعداد✔️ رمضان المبارک کے روزوں اور قیام اللیل کا مَلَکوتی نظام سے تعلق✔️ ذہنی، نفسی اور قلبی اِنہماک سے روحانی ترقی اور سماجی مسائل کے حل میں مدد✔️ خطبے کی مرکزی آیت کا شانِ نزول اور دعاؤں و مناجات کی اہمیت✔️ دُعا کی قبولیت میں انسان اور اللہ تعالیٰ کے درمیان دوطرفہ تعلق کی اہمیت✔️ وہ اُمور جن کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنا ممنوع اور ناجائز ہے✔️ دُعا کے دو دائرے: (1) تعلق مع اللہ اور اقترابِ الٰہی (2) انسانی معاملات و ارتفاقات✔️ دعاؤں کی قبولیت میں ایام، مقامات، اوقات اور طریقوں کی تاثیر✔️ دُعا کی دنیا و آخرت میں قبولیت کی صورتیں✔️ اللہ تعالیٰ کی ذاتِ مبارکہ پر یقینِ کامل‘ قبولیتِ دُعا کی لازمی شرط✔️ سات بد بخت کردار اور نبی اکرم ﷺ کی بد دعا کے نتیجے میں ان کا عبرت ناک انجام✔️ کامیابی کے لیے عملی جدوجہد اور دُعاؤں کا باہم ناگزیر تعلق✔️ انسانی تجربات اور وسائل بلا امتیاز مذہب و نسل کل انسانیت کا اَثاثہ ہیں✔️ دعاؤں کی تاثیر اور اُن کے انکار کے حوالے سے انتہا پسند رویوں کا عقلی تجزیہ✔️ نبی اکرم ﷺ نے ماہِ رمضان المبارک میں خصوصاً دو دُعاؤں کی تلقین فرمائیپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

Ep 24007-04-2023| رمضان المبارک میں مَلَکُوتی نظام کے ساتھ تعلق قائم کرنے میں نظامِ اعتکاف کا کردار، حکمت اور اجتماعی مقاصد
*رمضان المبارک میں مَلَکُوتی نظام کے ساتھ تعلق قائم کرنے میں**نظامِ اعتکاف کا کردار، حکمت اور اجتماعی مقاصد**خُطبۂ جمعۃ المبارک:*حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری*بتاریخ:* 16؍ رمضان المبارک 1444ھ / 7؍ اپریل 2023ء*بمقام:* ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور*خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی و احادیثِ نبوی ﷺ :**آیاتِ قرآنی:*ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَى الَّیْلِۚ وَ لَا تُبَاشِرُوْهُنَّ وَ اَنْتُمْ عٰكِفُوْنَۙ فِی الْمَسٰجِدِؕ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَقْرَبُوْهَاؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ اٰیٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ۔ وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَ تُدْلُوْا بِهَاۤ اِلَى الْحُكَّامِ لِتَاْكُلُوْا فَرِیْقًا مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ بِالْاِثْمِ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۠ ۔ (2 – البقرۃ : 187-188)ترجمہ: ”پھر پورا کرو روزہ کو رات تک، اور نہ مِلو عورتوں سے جب تک کہ تم اعتکاف کرو مسجدوں میں، یہ حدیں باندھی ہوئی ہیں اللہ کی، سو ان کے نزدیک نہ جاؤ، اسی طرح بیان فرماتا ہے اللہ اپنی آیتیں لوگوں کے واسطے، تاکہ وہ بچتے رہیں۔ اور نہ کھاؤ مال ایک دوسرے کا آپس میں ناحق، اور نہ پہنچاؤ ان کو حاکموں تک کہ کھا جاؤ کوئی حصہ لوگوں کے مال میں سے ظلم کر کے (نا حق)، تم کو معلوم ہے“۔*احادیثِ نبوی ﷺ**1۔* ”مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ“۔ (صحیح بخاری، حدیث: 1901)ترجمہ: رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے رمضان کے روزے ایمان کے ساتھ اور احتساب کی نیت سے رکھے، اس کے گزشتہ تمام گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں“۔*2۔* ”مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ". (صحیح بخاری، حدیث: 37)ترجمہ: رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا: ”جو کوئی رمضان میں (راتوں کو) ایمان کے ساتھ اور احتساب کی نیت سے عبادت کرے، اس کے گزشتہ تمام گناہ بخش دئیے جاتے ہیں“۔*۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔* 👇✔️ گزشتہ دو خطباتِ جمعۃ المبارک کے مضامین پر ایک طائرانہ نظر✔️ رمضان المبارک کے آخری عشرے کے اعتکاف کی اہمیت✔️ صیامِ رمضان (روزے) اور قیامِ رمضان (نمازِ تراویح) کے دو دائرے✔️ دنیا کے واقعات و حقائق پر تین ملتوں کے غور وفکر کے طریقے✔️ تحریکِ حنیفیت اورمسلمان ملت کا طریقۂ غور وفکر اور نتائج متوازن اور معتدل ہے✔️ ’’لا إلٰہ إلَّا اللّٰہ‘‘ کے تناظر میں حقیقی مسلمان کی شان✔️ تحریکِ حنیفیت کے قرآن حکیم میں مذکور دس رہنما اُصول✔️ رمضان المبارک کے اعتکاف کا مقصد پانچ اُمور کا حصول ہے✔️ ملکوتی نظام پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے غور و فکر کے نتائج اور بیت اللہ الحرام کا قیام✔️ کاموں کے نتائج کے لیے ذہنی انتشار کے خاتمے اور ذہنی ارتکاز کی ضرورت✔️ ملکوتی نظام سے تشابہ پیدا کرنے کی حکمت اور ضرورت✔️ محسنین کے لیے لیلۃ القدر کی تلاش اور اس رات میں کیے جانے والے اہم کام✔️ اعتکاف میں معتکف اپنی نظریاتی، نفسیاتی اور عملی قوتوں کو صیقل کریں✔️ مزید برآں معتکف معاشرے میں موجود سماجی مسائل کے حل پر غور وفکر کریں✔️ چینلز پر مروّجہ رمضان ٹرانسمیشن میں نمائشی، غیر عقلی اور غیر مربوط گفتگو کا اَلمیہ✔️ رمضان المبارک میں امام شاہ ولی اللّٰہ دہلویؒ اور دیگر اکابر اہل اللّٰہ کا معمولپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

Ep 239خطبہ جمعہ / رمضان المبارک اور قرآن حکیم ذریعۂ قربِ الٰہی اور فرسودہ نظام.../ مفتی عبدالمتین نعمانی
*رمضان المبارک اور قرآن حکیم**ذریعۂ قربِ الٰہی اور فرسودہ نظام سے نجات!**خطبہ جمعۃ المبارک:*حضرت مولانا مفتی عبد المتین نعمانی*بتاریخ:* 16؍ رمضان المبارک 1444ھ / 7؍ اپریل 2023ء*بمقام:* ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

Ep 238خطبہ جمعہ / رمضان المبارک و لیلۃالقدر اور احتسابِ فکرو عمل/ مولانا محمد مختار حسن
*رمضان المبارک و لیلۃ القدر اور**احتسابِ فکرو عمل**خطبہ جمعۃ المبارک:*حضرت مولانا مفتی محمد مختار حسن*بتاریخ:* 16؍ رمضان المبارک 1444ھ / 7؍ اپریل 2023ء*بمقام:* ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

Ep 237تقریبِ رونمائی کتاب ”النجوم الساطعۃ شرح البدور البازغۃ“ / مفتی عبدالخالق آزادراۓ پوری
*حکمتِ ولی اللّٰہی کی منفرد عقلی و بُرھانی تصنیفِ لطیف**’’البُدورُ البازِغۃ‘‘؛**تعارُف، مقصدِ تالیف اور کتاب کی اشاعت کی تاریخی روداد**خطاب:*حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری*برموقع:*تقریبِ رونمائی کتاب ”النجوم الساطعۃ شرح البدور البازغۃ“*بتاریخ:* 12؍ رمضان المبارک 1444ھ / 3؍ اپریل 2023ء*بمقام:* ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

Ep 236تقریبِ رونمائی کتاب ”النجوم الساطعۃ شرح البدور البازغۃ“ / حضرت آزاد رائے۔۔۔ / مفتی سعید الرحمٰن
*حضرت آزاد رائے پوری مدظلہ کی علمی کاوش**’’النجوم الساطعۃ شرح البدور البازغۃ‘‘**تعارف و خراج تحسین**خطاب:*حضرت ڈاکٹر مفتی سعید الرحمٰن حفظہ اللّٰہ*برموقع:*تقریبِ رونمائی کتاب ”النجوم الساطعۃ شرح البدور البازغۃ“*بتاریخ:* 12؍ رمضان المبارک 1444ھ / 3؍ اپریل 2023ء*بمقام:* ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

Ep 235خطبہ جمعہ / انسانی زندگی کے حقیقی و دائمی نصب العین کی ناگزیریت اور اس کی۔۔۔/ مفتی عبدالمتین نعمانی
انسانی زندگی کے حقیقی و دائمی نصب العینکی ناگزیریت اور اس کی قدر و قیمتخطبہ جمعۃ المبارک:حضرت مولانا مفتی عبد المتین نعمانی بتاریخ: 9؍ رمضان المبارک 1444ھ / 31؍ مارچ 2023ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

Ep 234خطبہ جمعہ / سوسائٹی میں عمدہ اَخلاق کے غلبے اور بد َاخلاقیوں کے خاتمے کے۔۔۔/ مولانا محمد مختار حسن
سوسائٹی میں عمدہ اَخلاق کے غلبے اور بد َاخلاقیوں کے خاتمے کے لیےروزے کا تربیتی نظامخطبہ جمعۃ المبارک:حضرت مولانا مفتی محمد مختار حسنبتاریخ: 9؍ رمضان المبارک 1444ھ / 31؍ مارچ 2023ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

Ep 233خطبہ جمعہ / نیکی و بدی کا تصور، اثرات و نتائج اور۔۔۔/ مولانا محمد مختار حسن
نیکی و بدی کا تصور، اثرات و نتائج اورتہذیبِ نفس میں روزے کا کردارخطبہ جمعۃ المبارک:حضرت مولانا مفتی محمد مختار حسنبتاریخ: 2؍ رمضان المبارک 1444ھ / 24؍ مارچ 2023ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

Ep 23231-03-2023| رمضان المبارک میں صیام (روزے) اور قیام اللیل (تراویح) کی حیثیت اور نظام تربیت میں کردار
رمضان المبارک میں صیام (روزے) اورقیام اللیل (تراویح) کی حیثیت اور نظام تربیت میں کردارخُطبۂ جمعۃ المبارک:حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 9؍ رمضان المبارک 1444ھ / 31؍ مارچ 2023ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی و احادیثِ نبوی ﷺآیاتِ قرآنی:1۔ فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ ۖ (2 – البقرۃ: 185)ترجمہ: ”سو جو کوئی پائے تم میں سے اس (رمضان کے) مہینے کو، تو ضرور روزے رکھے اس کے“۔2۔ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَكُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ،۪ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَى الَّیْلِۚ وَ لَا تُبَاشِرُوْهُنَّ وَ اَنْتُمْ عٰكِفُوْنَۙ فِی الْمَسٰجِدِؕ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَقْرَبُوْهَاؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ اٰیٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ۔ (2 – البقرۃ: 187)ترجمہ: ”کھاؤ اور پیو جب تک کہ صاف نظر آئے تم کو دھاری سفید صبح کی جُدا دھاری سیاہ سے، پھر پورا کرو روزہ کو رات تک، اور نہ مِلو عورتوں سے جب تک کہ تم اعتکاف کرو مسجدوں میں، یہ حدیں باندھی ہوئی ہیں اللہ کی، سو ان کے نزدیک نہ جاؤ، اسی طرح بیان فرماتا ہے اللہ اپنی آیتیں لوگوں کے واسطے تاکہ وہ بچتے رہیں“۔احادیثِ نبوی ﷺ :1۔ ”مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ“۔ (صحیح بخاری، حدیث: 1901)ترجمہ: رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے رمضان کے روزے ایمان کے ساتھ اور احتساب کی نیت سے رکھے، اس کے گزشتہ تمام گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں“۔2۔ ”مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ". (صحیح بخاری، حدیث: 37)ترجمہ: رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا: ”جو کوئی رمضان میں (راتوں کو) ایمان کے ساتھ اور احتساب کی نیت سے عبادت کرے، اس کے گزشتہ تمام گناہ بخش دئیے جاتے ہیں“۔۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇 رمضان اور قرآن کی روحانیت کو سمجھنے کی ضرورت و اہمیتانسان کی روح اس کے طبعی، قلبی اور عقلی تین دائروں سے تعلق رکھتی ہے✔️ تمام انبیائے کرام علیہم السلام اور حکما کی نظر میں روزے کے مطلوب نتائج کی اہمیت✔️ حنیفی تحریک کے انبیا علیہم السلام کے ہاں اجتماعی روزے کے متعین اوقات کی حکمت✔️ دینِ اسلام کی تعلیمات کو بہ طور مربوط نظام سمجھنے کی ضرورت و اہمیت✔️ ’’اہلِ قرآن‘‘ کے نظریے کا پسِ منظر اور نظریات و عزائم✔️ جدید تعلیم یافتہ نوجوانوں کے دین کے بارے میں سوالات کا پسِ منظر✔️ روزے اور تراویح کے اجتماعی نظام کی تفہیم بارے امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے ارشادات✔️ قانون سازی کے عمل میں مستعمل اصطلاحات کی تعریف اور تعیین کی ضرورت✔️ روزے کے تربیتی نظام میں انتہاپسندی کے بجائے اعتدال کی اہمیت✔️ ’’اللیل‘‘ کی درست تعریف کے ذریعے افطار میں انتہاپسند طرزِ عمل سے بچا جاسکتا ہے✔️ ’’الجماعت‘‘ کی بنیاد پر سنت کو نہ سمجھنے اور قرآن کی من مانی تشریح کے مضمرات✔️ قیام اللیل کے تناظر میں نمازِ تراویح کا ثبوت اور نام نہاد مذہبی جدت پسند✔️ نمازِ تراویح کی حیثیت و اہمیت اور اُمت کا اجتماعی عملی تسلسلپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

Ep 231خطبہ جمعہ / پیغامِ رمضان المبارکنبویؐ تعلیمات اور اہلِ حق کی جماعت کی۔۔۔/ مفتی عبدالمتین نعمانی
پیغامِ رمضان المبارکنبویؐ تعلیمات اور اہلِ حق کی جماعت کی تعلیمات کے تناظر میںخطبہ جمعۃ المبارک:حضرت مولانا مفتی عبد المتین نعمانی بتاریخ: 2؍ رمضان المبارک 1444ھ / 24؍ مارچ 2023ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

Ep 230خطبہ جمعہ / قرآنی علوم، توحید کی اقسام اور اس کے عملی تقاضے/ مولانا محمد مختار حسن
نیکی و بدی کا تصور، اثرات و نتائج اورتہذیبِ نفس میں روزے کا کردارخطبہ جمعۃ المبارک:حضرت مولانا مفتی محمد مختار حسنبتاریخ: 2؍ رمضان المبارک 1444ھ / 24؍ مارچ 2023ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

Ep 22924-03-2023| رمضان المبارک کے روح پرور شب و روز میں نفسانی، قلبی اور عقلی علاج کی اہمیت!
رمضان المبارک کے روح پرور شب و روز میںنفسانی، قلبی اور عقلی علاج کی اہمیت!خُطبۂ جمعۃ المبارک:حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 2؍ رمضان المبارک 1444ھ / 24؍ مارچ 2023ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی و احادیثِ نبوی ﷺ:آیتِ قرآنی:شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ فِیْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَ الْفُرْقَانِ١ۚ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْیَصُمْهُ١ؕ وَ مَنْ كَانَ مَرِیْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ١ؕ (2 – البقرۃ : 185)ترجمہ: ”مہینہ رمضان کا ہے، جس میں نازل ہوا قرآن، ہدایت ہے واسطے لوگوں کے، اور دلیلیں روشن راہ پانے کی، اور حق کو باطل سے جدا کرنے کی، سو جو کوئی پائے تم میں سے اس مہینہ کو تو ضرور روزے رکھے اس کے، اور جو کوئی ہو بیمار یا مسافر تو اس کو گنتی پوری کرنی چاہیے اَور (دیگر) دنوں سے“۔احادیثِ نبوی ﷺ :1۔ ”مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ“۔ (صحیح بخاری، حدیث: 1901)ترجمہ: رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے رمضان کے روزے ایمان کے ساتھ اور احتساب کی نیت سے رکھے، اس کے گزشتہ تمام گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں“۔2۔ ”مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ". (صحیح بخاری، حدیث: 37)ترجمہ: رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا: ”جو کوئی رمضان میں (راتوں کو) ایمان کے ساتھ اور احتساب کی نیت سے عبادت کرے، اس کے گزشتہ تمام گناہ بخش دئیے جاتے ہیں“۔۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇01:35 رمضان المبارک کا مہینہ تعلیم و تربیت کا مہینہ ہے4:50 رمضان المبارک میں انبیائے کرامؑ پر پیغامِ الٰہی کا نزول07:23 رمضان المبارک میں قرآن حکیم کی روحانیت جلوہ گر ہوتی ہے13:40 تعلیم و تربیت کا مطلب و مفہوم اور اس کے عملی تقاضے15:39 رمضان المبارک کے روزوں اور اوقات کے ساتھ سنجیدہ ہونے کی ضرورت19:51 شَھَر‘‘ اور ’’رمضان‘‘ کی لغوی اور معنوی تحقیق اور اہلِ علم کی رائے’’23:04 حیوانی ادراک اور انسانی عقل اور ارادے کی صلاحیت کا فرق26:48 انسان کی طبیعی قوتیں؛ نفس، عقل اور قلب کی ماہیت اور کردار32:06 روزہ اور قرآن حکیم کی روحانیت‘ انسان کی طبیعی قوتوں کو جلا بخشتے ہیں36:40 ہر چیز کا ایک بطن اور ایک ظاہر ہوتا ہے، ہر عمل بھی یہی کیفیت رکھتا ہے37:51 قران حکیم کا بطن اور روحانیت اس کے ظاہری جسم سے الگ ہے39:11 انسان اور قرآن، یعنی روحِ قرآن اور روحِ انسان کا باہمی تعلق اور رشتہ42:41 نفسِ طبیعی کے ارتفاقات میں قرآن حکیم کی روحانیت کا کردار44:16 انسانی اَخلاقیات کے ساتھ قرآن حکیم کی روحانیت کے ربط کی اہمیت47:59 قرآن حکیم کی روحانیت کے عقلِ انسانی پر اثرات اور اس کی ترقی52:05 قرآن حکیم کی روحانیت کے ذریعے قلب کے افعال؛ ارادہ، شجاعت، استقامت اور ہمت پر اثرات53:33 تاریخِ اسلام کی عظیم شخصیات کے نفس، عقل اورقلب‘ قرآنی روحانیت کے تابع تھےپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

Ep 228خطاب/ عروج و زوال کے اسباب، اسلامی معاشی نظام اورروایتی بینکاری۔۔۔/ مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
عروج و زوال کے اسباب، اسلامی معاشی نظام اورروایتی بینکاری نظام کے نقصاناتخطاب:حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریمؤرخہ: 21؍ رجب المرجب 1444ھ / 13؍ فروری 2023ءبمقام: شاہ عبد اللطیف یونیورسٹی، خیرپور، سندھ۔ ۔ ۔ ۔ خطاب کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇0:54 موضوع کا بنیادی دائرۂ کار4:39 تکریمِ انسانیت اور اس کے تین لازمی تقاضے10:16 اسلامی اکنامکس سسٹم میں تبادلۂ دولت سے متعلق اَساسی رہنمائی اور سود کی ممانعت22:25 سونا و چاندی بہ طور آلۂ مبادلہ کے عالمی زر، قرضوں کی معیشت؛ پرافٹ کے ساتھ زر کی استحصالی خرید و فروخت کی ممانعت30:11 ایڈم سمتھ کا نظریۂ زر سے استحصالی معیشت کا آغاز، ایسٹ انڈیا کمپنی کی لوٹ کھسوٹ36:01 بینک کی اساس پر کیپٹل ازم کا آغاز اور زر کی اساس پر قرضوں کی عالمی معیشت اور بندر بانٹ40:38 ڈالر کے عالمی کرنسی بنانے کی حقیقت اور سیاست و معیشت پر کنٹرول0:43:14 کاغذی کرنسی کی جبری تجارت، پیڑو ڈالر کی وجہ سے دولت کا ارتکاز اور امریکی ورلڈ بینک کا ملکوں پر تسلط 48:53 روایتی بینکنگ سسٹم کی تباہ کاریاں اور استحصالی نوعیت 0:52:13 اسلامی بینکاری کے نام پر دھوکہ اور علما کی حیلہ بازی58:40 عصرِ حاضر میں دینِ اسلام کے انسانیت دوست معاشی نظام پر مکالمے کی ناگزیریتپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

Ep 227خطاب/ قرضوں کی معیشت اور اس کی تباہ کاریاں اسلامی تناظر میں اس کا حل/مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
*قرضوں کی معیشت اور اس کی تباہ کاریاں؛**اسلامی تناظر میں اس کا حل**خطاب:*حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری*مؤرخہ:* 16؍ رجب المرجب 1444ھ / 8؍ فروری 2023ء*بمقام:* آئی بی اے (IBA) یونیورسٹی، سکھر، سندھ*۔ ۔ ۔ ۔ خطاب کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔* 👇2:03 عصرِ حاضر میں قومی و ملّی مسائل کے حل کے لیے تعلیمی اداروں میں دینِ اسلام کی تعلیمات کو علمی انداز میں سمجھنے سمجھانے کی ضرورت و اہمیت7:34 تبادلۂ دولت کی ارتقائی تاریخ اور تجارت میں سونا و چاندی کو بہ طورِ زر کے تخلیق کرنے کی ضرورت و اہمیت13:21 قرض کی حقیقت، تجارت، قرض اور اجارہ میں بنیادی اُمور کا فرق اور اُن کے مقاصد و اہداف17:43 قرآن و حدیث میں تجارت، اجارہ (کراء الارض وغیرہ) اور قرض (عقدِ تبرُّع) کی وضاحت21:35 قرضوں کی معیشت اور کاروبار کی حقیقت اور اس کی ممانعت میں قرآن و حدیث کی واضح تعلیمات25:32 ایڈم سمتھ کا نظریۂ زر اور سرمایہ دارانہ نظام میں زر کو کیپٹل کا حصہ بنانے اور قرضوں کی معیشت کے دنیا پر مہلک اثرات و نتائج31:04 حدیث نبویؐ میں اشیائے ستہ (چھ چیزوں)کی خرید و فروخت سے ممانعت کی اصل وجہ اور دینِ اسلام کی تعلیمات کی روشنی میں زر کا عالمی نظام34:52 عالمی تجارت میں کرنسی، قرضوں کا ظالمانہ کاروبار، قیامِ پاکستان سے قرضوں کی معیشت اور اسلامی بینکاری کا مکروہ دھندہپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

Ep 226تقریبِ تکمیل صحیح بخاری/ درس صحیح بخاری (آخری حدیث) / شیخ الحدیث مفتی عبدالخالق آزاد
اسلام کے عملی نظام کی توضیح و تشریح پر مبنی صحیح ترین احادیثِ رسول اللہ ﷺ پر مشتمل امام بخاریؒ کی مایۂ ناز تصنیف ’’الجامع الصّحیح‘‘ کی تکمیل کی تقریب میں*درسِ صحیح بخاری شریف**(آخری حدیث)**مدرس:*حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری*بتاریخ:* 13؍ رجب المرجب 1444ھ / 5؍ فروری 2023ء*بمقام:* ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔* 👇1:00 کلام اللہ قرآن حکیم انسانیت کے نام اللہ کے فرامینِ شاہی ہیں3:01 قرآنی دستور کی عملی تشریح حدیث النبی ﷺ ہے4:15 انسانی معاشرے کی تشکیل کے دو بنیادی ماخذ (قرآن و حدیث) کی حفاظت کرنے والے نامور خلفا6:19 صحیح بخاری کا بنیادی خاکہ و خلاصہ10:49 بخاری شریف چار بنیادی اُمورپر مشتمل ہے12:16 دین کے بنیادی اُمور کا مرکز و منبع توحید ہے13:44 بخاری کی آخری حدیث کے مضامین؛ میدانِ حشر میں میزانِ عدل سے انسانی اعمال کا وزن کیا جائے گا21:15 امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے فرمایا کہ آپ ﷺ کو انسانی اعمال کے وزن اور ان قدر وقیمت معلوم تھی24:28 القِسْط (عدل و انصاف) کی لغوی تحقیق27:42 عدل و انصاف کے نظام کے قیام کی ضرورت اور انتہا پسندی کی ممانعت31:27 امام بخاریؒ کا مکرر حدیث لانے کا انوکھا انداز34:07 ثلاثیاتِ بخاری امام بخاریؒ کا امتیاز35:15 روایتِ حدیث میں سند کی ضرورت و اہمیت اور ولی اللّٰہی مشائخ تک حضرت اقدس مدظلہ کے سلاسلِ سند40:34 آخری حدیث کی تشریخپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

Ep 22517-03-2023| رمضان المبارک کی دینی اہمیت اور تربیتی و اجتماعی تاثیرات
*رمضان المبارک کی دینی اہمیت**اور تربیتی و اجتماعی تاثیرات**خُطبۂ جمعۃ المبارک:*حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری*بتاریخ:* 24؍ شعبان المعظم 1444ھ / 17؍ مارچ 2023ء*بمقام:* ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور *خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی و حدیثِ نبوی ﷺ**آیتِ قرآنی*یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الصِّیَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ۔ (2 – البقرۃ: 183)ترجمہ: ”اے ایمان والو ! فرض کیا گیا تم پر روزہ، جیسے فرض کیا گیا تھا تم سے اگلوں (پہلے لوگوں) پر، تاکہ تم پرہیزگار ہوجاؤ“۔*حدیثِ نبوی ﷺ*”مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ“۔ (صحیح بخاری، حدیث: 1901)ترجمہ: ”جس نے رمضان کے روزے ایمان کے ساتھ اور احتساب کی نیت سے رکھے، اس کے گزشتہ تمام گناہ معاف کر دیئے جائیں گے“۔*۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔* 👇✔️ اللّٰہ تعالیٰ کا خلیفہ کون بن سکتا ہے؟ خلیفۃُ اللّٰہ کی بنیادی اہلیت✔️ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا تعلق مع اللّٰہ کے لیے انسانی روح کو ذریعہ بنانے کا کارنامہ✔️ انسان‘ روح اور نفس پر مشتمل ہے، معرفتِ خداوندی اس کی ضرورت ہے✔️ تعلق مع اللّٰہ کے لیے حنیفی اُصول اور اس کا عملی طریقہ کار✔️ کائنات اور انسان کے مطالعے کے لیے زمان و مکان کی اہمیت✔️ اشیا اور زمان و مکان (Time and space) میں تاثیراتِ الٰہی کا نظام✔️ عارف باللّٰہ اور عالم باللّٰہ کا فرق اور عالم باللّٰہ کی خصوصیت✔️ سال کے بارہ مہینوں کی تقسیم اور ان کے اثرات و تاثیرات کا نظام✔️ حرمت کے چار مہینوں کے بعد رمضان المبارک کی خصوصی تاثیر✔️ قرآن و حدیث سے ثابت شدہ رمضان المبارک کی دو لازمی خصوصیات✔️ رمضان المبارک کے روزے کے ذریعے انسان کی روحانی ترقی اور کیفیات✔️ کرۂ ارض پر خصوصی تاثیرات کے بعض خصوصی مختلف اوقات✔️ خصوصی اوقات روزانہ (پانچ نمازیں)، ہفتہ وار (جمعہ)، ماہانہ (ایامِ بِیض)، سالانہ (رمضان کے روزے)✔️ روزانہ، ہفتہ وار، ماہانہ اور سالانہ عبادات کی اجتماعی اور سیاسی اہمیت✔️ جسمانی، طبی اور روحانی اثرات و نتائج کے حوالے سے روزے کا آفاقی تصور✔️ دینِ اسلام میں روزوں کا مقررہ نصاب سابقہ نصابوں کے مقابلے میں معتدل ہے✔️ قرآن کے نزول کی روحانیت خلافتِ کبریٰ اور نظامِ عدل کے قیام کی راہ ہموار کرتی ہے✔️ اجتماعیت اور تہذیبِ نفس میں تلاوتِ قرآن حکیم اور روزے کا بنیادی کردار✔️ جیسے فصلوں کی کاشت میں موسموں کا لحاظ رکھا جاتا ہے، ایسے ہی اعمال کے نتائج میں بھی دنوں کا کردار ہے✔️ خوش دلی سے رمضان المبارک کے قیام اور اہتمام کی دینی اہمیت✔️ رمضان المبارک کے استقبال اور تیاری کے لیے آں حضرت ﷺ کا معمول✔️ دیگر عبادات کی طرح رمضان میں اجتماع کی دینی و تربیتی اہمیتپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

Ep 22410-03-2023| ...قرآنی اصطلاح ’’البَلَد‘‘ اور سیرت ُالنبی ﷺ کے تناظر
قرآنی اصطلاح ’’البَلَد‘‘ اور سیرت ُالنبی ﷺ کے تناظر میںامن اور خوشحالی پر مبنی شہری حقوق کا اجتماعی نظامخُطبۂ جمعۃ المبارک:حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 17؍ شعبان المعظم 1444ھ / 10؍ مارچ 2023ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی و حدیثِ نبوی ﷺ:آیاتِ قرآنی:1۔ لَاۤ اُقْسِمُ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ، وَ اَنْتَ حِلٌّۢ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ، وَ وَالِدٍ وَّ مَا وَلَدَۙ، لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ كَبَدٍؕ۔ (90 – البلد: 1 تا 4)ترجمہ: ”قسم کھاتا ہوں میں اس شہر کی، اور تجھ پر قید نہیں رہے گا اس شہر میں، اور قسم ہے جنتے (والد) کی اور جو اس نے جنا (اولاد)، تحقیق ہم نے بنایا آدمی کو محنت میں“۔2۔ وَ التِّیْنِ وَ الزَّیْتُوْنِۙ، وَ طُوْرِ سِیْنِیْنَۙ، وَ هٰذَا الْبَلَدِ الْاَمِیْنِۙ۔ (95 – التّین: 1 تا 3) ترجمہ: ”قسم انجیر کی اور زیتون کی، اور طور سینین کی، اور اس شہر امن والے کی“۔حدیثِ نبوی ﷺ:”أحَبُّ البِلَادِ إلى اللهِ مَسَاجِدُهَا، وَأَبْغَضُ البِلَادِ إلى اللهِ أَسْوَاقُهَا“. (صحیح مسلم، حدیث: 1528)ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”شہروں میں اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ جگہ مسجدیں ہیں، اور اللہ کے نزدیک سب سے بُری جگہ بازار ہیں۔“۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇0:59 انبیا علیہم السلام درست اجتماعیت کی تشکیل کے لیے تشریف لاتے ہیں03:35 عبادات کا اجتماعی نظام‘ اجتماعیت کو درست خطوط پر قائم کرنے کی تربیت کرتا ہے4:41 گزشتہ تین خطباتِ جمعہ کے مضامین پر طائرانہ نظر05:21 البَلَد‘‘ کا معنی و اجتماعی مفہوم اور اس کی بنیادی اجتماعی اہمیت’’06:59 قرآن حکیم میں ’’البَلَد‘‘ کا وُرُود اور اس کی معنوی خصوصیات8:24 البَلَد کے تناظر میں زمینوں کی خوبیاں اور انسانی دلوں اور دماغوں کے لیے اس کی تمثیل20:17 مکہ کی مرکزیت میں دو بنیادی شہری خصوصیات؛ امن اور معاشی خوش حالی24:44 اہلِ مکہ کے طبقاتی نظام کے باعث اس شہر کی دونوں مذکورہ خوبیوں کا خاتمہ32:22 اشیا کی تقدیر کا سادہ اور عام فہم مفہوم اور اس کے تقاضے36:11البَلَدُ الأمین‘‘ (مکۃ المکرمہ) میں استحصالی نظام میں انسانی حقوق کی پامالی ’’43:25 فتح مکہ پر ’’البَلَد‘‘ کی خصوصیات اور اس کی شہریت کی بحالی46:17 سیاسی امن اور معاشی خو ش حالی کے اُصولوں پر ریاستِ مدینہ کا قیام49:42 شرُّ البِلاد‘‘ (بُرا شہر) اور ’’خیرُ البِلاد‘‘ (اچھا شہر) کے معیارات اور پیمانے’’51:37 صالح بلدیاتی نظام کی خوبیاں و خصوصیات اور اُن کے اثرات و نتائج57:13 شہری زندگی کے بنیادی اَساسی اصولوں کی اہمیت اور ان کے نتائج58:04 مسجدِ نبویؐ کے تناظر میں مساجد کا اجتماعی سماجی کردار اور ان کی اہمیت1:04:08 موجودہ دور میں مساجد کی حالتِ زار اور اُن کے حقیقی کردار کے احیا کی ضرورت1:07:31 غلامی کی اَساس پر برعظیم میں نوآبادیاتی نظام کا قیام اور اَثرات و نتائج1:08:38 نوآبادیاتی سیاسی اور معاشی نظام کی طرح نام نہاد مذہبی نظام میں لوٹ مارپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

Ep 223خطاب/ امامِ انقلاب حضرت مولانا عبید اللّٰہ سندھیؒ شخصیت، علمی.../مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
*امامِ انقلاب حضرت مولانا عبید اللّٰہ سندھیؒ**شخصیت، علمی و سیاسی اَفکار اور عملی کردار**خطاب:*حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری*مؤرخہ:* 17؍ رجب المرجب 1444ھ / 9؍ فروری 2023ء*بمقام:* شیخ ایاز یونیورسٹی، شکارپور، سندھ*خطاب کی رہنما آیتِ قرآنی:*یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ كُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ (9 - التوبہ: 119)ترجمہ: ”اے ایمان والو ! اللّٰہ سے ڈرتے رہو اور سچوں کے ساتھ رہو”۔*۔ ۔ ۔ ۔ خطاب کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔* 👇0:58 حریت پسند رہنماؤں کے افکار کی اہمیت4:31 مولانا عبیداللہ سندھیؒ کی سیرت کا مختصر خاکہ6:21 ابتدائی حالاتِ زندگی و تعلیم9:43 بچپن میں مطالعے کا شوق اور ذہانت10:22 تحفۃ الہند‘‘ سے اسلام کی حقانیت کا اِدراک اور قبولِ اسلام’’11:34 حافظ محمدصدیق بھرچونڈیؒ والوں سے بیعت 12:05 کلمہ توحید کی تلقین سے نظریے پر اعتماد 13:15 حصولِ علوم و فنون کے لیے اَسفار اور سندھ واپسی 15:43 مطبع محمودیہ کا قیام اور علمی کتب کا گہرا مطالعہ16:44 تحریکِ آزادی کے لیے مرکز ’’دار الرشاد‘‘ کا قیام17:57 دیوبند کے فاضلین کی انجمن سازی کے لیے ’’جمعیت الانصار‘‘ کا قیام19:25 جدید عصری و دینی علوم کے امتزاج پر ادارہ ’’نظارۃ المعارف القرآنیہ‘‘ کا قیام 21:24 کابل میں سات سال اور عالمی سیاست پر گہری نظر23:25 کابل سے ماسکو روانگی اورانقلابِ روس کا مطالعہ24:12 ترکی میں مصطفی کمال سے ملاقات25:44 مکہ مکرمہ آمد اور حرم میں درس و تدریس 27:47 ہندوستان واپسی کے لیے مدبرانہ اپروچ32:07 علمی و تربیتی خدمات34:58 مولانا سندھیؒ کا ایک اہم نظریہ قومیت کا حقیقی شعور37:50 قومی جمہوریت پر مبنی ادارہ جاتی نظام کا قیام38:29 ہندوستان کی آزادی کا خاکہ؛ سروراجی منشور39:41 عالمگیر انقلابی سوچ اور فکر کا اظہار41:40 حقیقی لیڈرشپ کی شناخت46:04 یونیورسٹی کے VC کی طرف سے مہمان مقرر کے لیے کلماتِ تشکر!پیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/پیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

Ep 22203-03-2023| ...قرآنی اصطلاح ”مصر“ اور انبیائے کرام علیہم السلام کی جدوجہد کے تناظر میں
قرآنی اصطلاح ”مصر“ اور انبیائے کرام علیہم السلام کی جدوجہد کے تناظر میںانسانی اجتماع کے تمدنی حُقوق اور شہری ذمہ داریاںخُطبۂ جمعۃ المبارک:حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 10؍ شعبان المعظم 1444ھ / 3؍ مارچ 2023ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی و حدیثِ نبوی ﷺ:آیتِ قرآنی:فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى یُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَبَوَیْهِ وَ قَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِیْنَؕ (12 - یوسف: 99)ترجمہ: ”پھر جب داخل ہوئے یوسف کے پاس، جگہ دی اپنے پاس اپنے ماں باپ کو، اور کہا: داخل ہو مصر میں اللہ نے چاہا تو دل جمعی سے“۔حدیثِ نبوی ﷺ :’’مَنْ أعْیَتْہُ الْمَکَاسِب فَعَلَیْہ بِمِصْر‘‘۔ (رواہ ابن عساكر عن ابن عمرو)ترجمہ: ”جس شخص پر روزگار کے مواقع تنگ ہوجائیں تو اسے چاہئے کہ وہ مصر (شہر) میں جا کر آباد ہوجائے“۔۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇0:57 قرآن حکیم کا نظریۂ اجتماعیت اور معاشرتی ترقی کا لازوال پروگرام5:47 گزشتہ دو خطباتِ جمعہ پر طائرانہ نظر7:02 ’’مصریت‘‘ کا معنی و مفہوم اور اطلاقی تقاضے9:44 قران حکیم میں ’’المدینہ‘‘، ’’القریہ‘‘ اور ’’مصر‘‘ کا ذکر10:15 حنیفی نظریے پر پہلی عملی حکومت مصر میں قائم ہوئی13:14 نظریے کا ارتقائی سفر امام عبید اللہ سندھیؒ کے ارشاد کی روشنی میں14:12 مصر کی جغرافیائی نقطہ نظر سے حیثیت ’’مرکزی مقام‘‘ کی ہے19:29 لفظ ’’مصر‘‘ کا لغوی اور لسانی نقطہ نظر سے ایک جائزہ21:05 قرآن حکیم میں مصر کا تذکرہ ’’خزائن الارض‘‘ کے حوالے سے ہوا ہے23:23 سب سے پہلے منصوبہ بند زراعت کا اہتمام مصر میں حضرت یوسف علیہ السلام نے کیا26:19 مصر میں فاضل پیداوار کو محفوظ کرنے کے حضرت یوسف علیہ السلام کے اقدامات27:31 مصر کو مصر بنانے میں حضرت یوسف علیہ السلام کے سیاسی اور معاشی اقدامات کی اہمیت28:54 حضرت یوسف علیہ السلام کا اپنے بھائیوں کے ساتھ مثالی حسنِ سلوک32:07 مصر میں حضرت یوسف علیہ السلام نے وسائل اوران کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا35:47 کسی بھی نظام میں معاشی وسائل کو لوٹنے والے اور نظام پر بوجھ طبقے39:13 مصر میں فرعونوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کے عادلانہ نظام کو نظامِ ظلم سے بدل دیا42:00 اپنے دور کے فرعونِ مصر کے خلاف حضرت موسیٰ علیہ السلام کی انقلابی جدوجہد50:17 قیصر و کسریٰ کے خلاف حضور اکرم ﷺ کی اجتماعی انقلابی جدوجہد52:20 صحابہ کرامؓ کی انقلابی جماعت نے مصر کی ’’مصریت‘‘ کو از سرِنو بحال کیا56:29 ترقی اور تمدن کے تناظر میں ہندوستانی شہروں کی مصری معنویت59:55 قبل از غلامی‘ ہندوستان کے سیاسی و معاشی نظام کی کار کردگی1:03:45 انگریزوں نے فرعونوں کی طرح ہندوستان کے نظام کو تباہ کردیا1:06:19 مدینہ، قریہ اور مصر اجتماعیت کے فروغ کے ادارے ہیں، جن کو بسانا اور ریاستیں قائم کرنا انبیا علیہم السلام کی سنت ہےپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

Ep 22124-02-2023| ...معیاری تمدن کے قیام کی قرآنی تعلیمات اور شہری حقوق تباہ کرنے والے
معیاری تمدن کے قیام کی قرآنی تعلیمات اور شہری حقوق تباہ کرنے والےفسادی نظام کے خلاف شعوری جدوجہدخُطبۂ جمعۃ المبارک:حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 3؍ شعبان المعظم 1444ھ / 24؍ فروری 2023ءبمقام: جامع مسجد ریلوے، ہارون آباد، ضلع بہاولنگرخطبے کی رہنما آیتِ قرآنی:آیتِ قرآنی:وَ مَا كَانَ رَبُّكَ لِیُهْلِكَ الْقُرٰى بِظُلْمٍ وَّ اَهْلُهَا مُصْلِحُوْنَ (11–ھود: 117)ترجمہ: ”اور تیرا رب ہرگز ایسا نہیں کہ ہلاک کرے بستیوں کو زبردستی سے اور لوگ وہاں کے نیک ہوں“۔حدیثِ نبوی ﷺ:”إنَّ النَّاسَ إذا رأَوْا ظالمًا فلم يأخُذوا على يدَيْه أوشك أن يعُمَّهم اللهُ بعقابٍ منه“. (جامع ترمذی، حدیث: 3057)ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب لوگ ظالم کو (ظلم کرتے ہوئے) دیکھیں، پھر بھی اس کے ہاتھ نہ پکڑیں (اسے ظلم کرنے سے نہ روکیں) تو قریب ہے کہ ان پر اللہ کی طرف سے عمومی عذاب آجائے (اور وہ ان سب کو اپنی گرفت میں لے لے)“۔۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇1:33 دورِ حاضر میں قرآن حکیم کی سیاسی و معاشی و اجتماعی تعلیمات کی ضرورت و اہمیت08:46 قرآنی اصطلاح ’’المدینۃ‘‘ کی وضاحت اور یثرب سے مدینہ بننے کا سفر10:49 قرآنی لفظ ’’القریۃ‘‘ کا مطلب و مفہوم اور مثالی قریہ (بستی) کی علامات17:10 بستیوں کی تباہی و ہلاکت کا سبب فساد برپا کرنے والے عناصر ہیں19:55 سیرت النبی ﷺ کی روشنی میں انسانی بستی (معاشرے) کا معیاری تمدنی نظام26:08 ظلم کے خلاف آیتِ قرآنی کی تفہیم و تشریح میں حدیثِ مبارک کی رہنمائی30:30 ظلم کی اَساس پر قائم معاشرے میں محض انفرادی اصلاح پر کاربند رہنے والے عذابِ الٰہی سے نہیں بچ سکتے33:43 ظالم بستیوں پر عذابِ الٰہی کا سبب محض کفر نہیں ہے38:40 بستیوں اور شہروں کے تحفظ کے لیے اسلام کا روشن عالمی نظام43:25 غیر مسلم خاتون کی مدد کی خاطر گورنر لاہور و امرتسر کے خلاف بادشاہ جہانگیر کی کارروائی45:22 برعظیم ہند کے عادلانہ عدالتی نظام پر انگریز کمشنر پینڈرل مون کی گواہی47:49 برعظیم میں انگریز سامراج کی انسانی بستیوں کو اُجاڑنے اور فساد مچانے کی سیاہ تاریخ55:38 ملک پر مسلط آلہ کار لوٹنے والی اشرافیہ57:49 ہماری ریاست انسانی شہری حقوق (جان، مال، عزت و آبرو) کی محافظ نہیں ہے1:01:05 حقوقِ شہریت کے حصول میں کوتاہی برتنے میں اجتماعی توبہ کی ضرورتپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

Ep 220تکمیلی تقریب بخاری شریف /تفقُّہ فی الدِّین کی اہمیت اور عصرِ حاضر میں اس۔۔۔ / ڈاکٹر مفتی سعید الرحمن
اسلام کے عملی نظام کی توضیح و تشریح پر مبنی صحیح ترین احادیثِ رسول اللہ ﷺ پر مشتمل امام بخاریؒ کی مایۂ ناز تصنیف ’’الجامع الصّحیح‘‘ کی تکمیل کے موقع پر تقریب میں اظہارِ خیال بعنوان:*تفقُّہ فی الدِّین کی اہمیت**اور عصرِ حاضر میں اس کی ناگزیریت**مقرر:* حضرت ڈاکٹر مفتی سعید الرحمٰن حفظہ اللہ*بتاریخ:* 13؍ رجب المرجب 1444ھ / 5؍ فروری 2023ء*بمقام:* ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

Ep 21917-02-2023| ...شہری حقوق کی پامالی کے جابرانہ نظاموں کے خلاف
شہری حقوق کی پامالی کے جابرانہ نظاموں کے خلافانبیائے کرام علیہم السلام کی جدوجہد اور اسلام کا عادلانہ نظامِ تمدن*خُطبۂ جمعۃ المبارک:*حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری*بتاریخ:* 25؍ رجبُ المُرجَّب 1444ھ / 17؍ فروری 2023ء*بمقام:* عرفات کالونی، لاڑکانہ*خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی:*وَ كَانَ فِی الْمَدِیْنَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ یُّفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا یُصْلِحُوْنَ (27 – النمل: 48)ترجمہ: ”اور اس شہر میں نو شخص تھے، کہ خرابی کرتے ملک میں، اور اصلاح نہ کرتے“۔*۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔* 👇✔️ قومی و بین الاقوامی انقلابات کے لیے انبیائے کرام علیہم السلام کی جدوجہد اور مزاحمت✔️ مدنیت و شہریت؛ قرآنی اصطلاح میں مفہوم اور تقاضے✔️ خطبے کی مرکزی آیت کا تفسیری خلاصہ✔️ طاقت ور ریاستی طبقوں کے ظلم و جبر کی قبیح روایت✔️ ریاست کے کام‘ پرافٹ کے بجائے خدمت کے اُصول پر انجام پانے چاہئیں✔️ انبیاء علیہم السلام کی سیرت کی روشنی میں قائد اور رہنما کی خصوصیات✔️ ایک حقیقی ریاست میں شہری کے حقوق کا تحفظ✔️ اوّلین شہری حقوق؛ جان، مال اور عزت کا تحفظ ہے✔️ مصر کی سویلائزیشن اور ترقی میں حضرت یوسف علیہ السلام کا کردار✔️ قومِ ثمود کے بگاڑ کے اصل اسباب اور محرکات✔️ حضرت صالح علیہ السلام کے خلاف قوم کے سرمایہ داروں کا گٹھ جوڑ✔️ قوم کے سرداروں کا حضرت صالح علیہ السلام کو قتل کرنے کا منصوبہ✔️ اسلام کے قانونِ مقاسمہ کی حیثیت اور پسِ منظر✔️ عالمی استعماری نظام کے زیرِ سایہ شہری حقوق کی بدترین پامالی✔️ جنگوں میں عوام کا قتل عام استعماری طریقۂ جنگ کی دین ہے✔️ استعماری عہد میں لینڈ ریکارڈ کی ہیرا پھیری کا مکروہ دھندہ✔️ استعماری نو آبادیات اور مسلم عہد کی آبادیات میں بنیادی فرق✔️ غلامانہ ذہنیت کی حامل قوم کے عادات و اَطوار اور ذہنی رویے✔️ عہدِ فاروقی میں حقوقِ شہریت کا غماز واقعہ✔️ قیامت والے دن بھکاریوں کے چہروں کی مخدوش حالت✔️ مرجف کے معنی و مفہوم اور اس کے کردار کے اثرات و نتائج✔️ نام نہاد پاکستانی لیڈر شپ کا وطیرہ؛ خوف کا کاروبار✔️ تمام ریاستی اداروں کا کام‘ حقوقِ شہریت کا تحفظ ہے✔️ ریاست کا موجودہ نظام‘ عوام کو شہری نہیں، بلکہ غلام سمجھتا ہے✔️ اسلام کے اجتماعی نظام کی حدود کے خلاف پراپیگنڈے کی حیثیت✔️ قرآن حکیم میں انبیاء علیہم السلام کے واقعات کی اجتماعی حکمتپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

Ep 21810-02-2023| ...اسلام کے اجتماعی نظامِ عدل کی ناگزیریت اور
اسلام کے اجتماعی نظامِ عدل کی ناگزیریت اورفساد فی الارض کے تباہ کن اثراتخُطبۂ جمعۃ المبارک:حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 18؍ رجبُ المُرجَّب 1444ھ / 10؍ فروری 2023ءبمقام: جامع مسجد نیو پنڈ، سکھر خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ كَآفَّةً، وَّ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ (2 – البقرۃ: 208)ترجمہ: ”اے ایمان والو ! داخل ہوجاؤ اسلام میں پورے، اور مت چلو شیطان کے قدموں پر، بے شک وہ تمہارا صریح دشمن ہے“۔۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇0:00 آغاز خطبہ1:15 دُنیاوی و اُخروی کامیابی کے لیے دینِ اسلام کی ناگزیر یت2:59 دینِ اسلام ہی انسانیت کے لیے واحد قابلِ قبول نظامِ حیات ہے5:14 عہد ِنبوی ﷺمیں قبیلہ بنوثقیف کے ایک منافق کا عبرت انگیز واقعہ9:46 فسادفی الارض؛ معنی اور مفہوم11:50 نفاق اور فسادکا باہمی تعلق اور اَثرات و نتائج14:58 حقیقی مؤمن کے اوصاف و خصائل اور معاشرتی رویے16:23 معاشی مساوات اور سماجی انصاف قرآن کی نظر میں19:28 دِکھلاوے اور رِیاکاری کی نماز کی حیثیت21:55 دینِ اسلام کے عادلانہ سیاسی اور معاشی نظام کی اہمیت26:14 اسلام کے تجارتی نظام کا طریقۂ کار اور خوبیاں32:18 اسلام کے مکمل نظام کے عملی تقاضے اور ہماری حالتِ زار35:41 اجتماعی بداَعمالی کے نتائج39:23 دجال کا تصور اور عذابِ الٰہی44:18 پاکستان میں پرائیویٹ قرضوں کے خوف ناک سودی نظام کے تباہ کن انفرادی و اجتماعی اثرات47:22 توبہ؛ معنی و مفہوم، شرائط اور تقاضے51:22 علمائے حق کا دینِ اسلام کے حقیقی فکر کے فروغ اور نظام کے قیام کے لیے کردارپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

Ep 21703-02-2023| ...انبیا علیہم السلام کی تعلیمات؛ انسانیت کی ترقی کے معیارات
انبیا علیہم السلام کی تعلیمات؛انسانیت کی ترقی کے معیارات اور اُن کی مخالفت کے اثرات و نتائجخطبہ جمعۃ المبارک:حضرت مولانا مفتی عبد المتین نعمانی بتاریخ: 11؍ رجب المرجب 1444ھ / 3؍ فروری 2023ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

Ep 21603-02-2023| ...سماجی تعمیر و تشکیل و آباد کاری کے دینی تصور کی اہمیت اور
سماجی تعمیر و تشکیل و آباد کاری کے دینی تصور کی اہمیت اور فروغِ تشدد کی استعماری پالیسی خُطبۂ جمعۃ المبارک: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ: 11؍ رجبُ المُرجَّب 1444ھ / 3؍ فروری 2023ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی و حدیثِ نبوی ﷺ: آیتِ قرآنی: ”وَ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا١ۘ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ هُوَ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَ اسْتَعْمَرَكُمْ فِیْهَا فَاسْتَغْفِرُوْهُ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ قَرِیْبٌ مُّجِیْبٌ“۔ (11 – ھود: 61) اردو ترجمہ: ”اور ثمود کی طرف بھیجا ان کا بھائی صالح، بولا: اے قوم! بندگی کرو اللہ کی، کوئی حاکم نہیں تمہارا اس کے سِوا، اسی نے بنایا تم کو زمین سے، اور بسایا تم کو اس میں، سو گناہ بخشواؤ اس سے اور رجوع کرو اس کی طرف، تحقیق میرا رب نزدیک ہے قبول کرنے والا“۔ حدیثِ نبوی ﷺ: "إنْ قَامَتِ السَّاعةُ و في يَدِ أحَدِكُم فَسِيْلَةٌ، فإنِ اسْتَطَاعَ أن لَّا تَقُوْمَ حتّٰى يَغْرِسَها، فَلْيَغْرِسْهَا (أخرجه البخاري في الأدب المفرد) اردو ترجمہ: حضور ﷺ نے فرمایا: ”’اگر قیامت قائم ہوجائے، اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں کوئی پودا ہو، پھر اگر وہ اس کی طاقت رکھتا ہے کہ قیامت قائم ہونے سے پہلے پہلے اُس پودے کو لگا دے، تو اُسے چاہیے کہ اُسے بو دے“ ۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇 0:00 موضوع کی تمہیدی گفتگو 08:34 انبیا علیہم السلام کے دُنیا میں بعثت کے مقاصد 17:18 خطبے کی مرکزی آیت کا تفسیری خلاصہ 20:52 حضرت صالح علیہ السلام کی دعوت اور قومِ ثمود کے امراض 31:47 انسانی معاشروں میں ظالمانہ استعمار کی ممانعت اور نقصانات 33:25 دنیا میں نباتات کی آباد کاری اور نشوو نما کی ضرورت و اہمیت 35:26 اعلیٰ نظریے اور عمدہ خیال کی مثال بیج کی مانند ہے 36:11 فکرِ صحیح اَمن اور معاشی خوش حالی، صالح معاشرے کی بنیادیں ہیں 37:40 سوسائٹی میں لاقانونیت اور دستوری فقدان کے نقصانات 38:59 انسانی قوانین کی بنیاد سیاسی ڈھانچہ قائم کرنے کی اہمیت 40:37حضرت محمد ﷺ نے انسان دوستی کی بنیاد پر بین الاقوامی نظام قائم کیا 52:59 دنیا میں مسلمانوں کے انسان دوست نظام کے اثرات و نتائج 55:54 دنیا پر عالمی استعماری نظام کے قبضے کے بعد کے افسوس ناک حالات 57:11 نااُمیدی اور قنوطیت کے عہد میں اُمید کی شمع جلانے اور نویدِ سحر کی اہمیت 59:39 تشدد اور مایوسی کے دور میں پُرامن شعوری جدوجہد کی ضرورت و اہمیت پیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان https://www.rahimia.org/ https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

Ep 21527-01-2023| ...حکمتِ ربانی کی بنیاد پر قائم عادلانہ نظاموں کے نتائج کی روشنی میں
حکمتِ ربانی کی بنیاد پر قائم عادلانہ نظاموں کے نتائج کی روشنی میں قومی مفادات کے دشمن پاکستانی نظام کا جائزہ خُطبۂ جمعۃ المبارک: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ: 4؍ رجبُ المُرجَّب 1444ھ / 27؍ جنوری 2023ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی: ”فَهَزَمُوهُم بِإِذْنِ اللّٰهِ، وَقَتَلَ دَاوُۥدُ جَالُوتَ وَءَاتَىٰهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ وَ الْحِكْمَةَ، وَعَلَّمَهُۥ مِمَّا يَشَآءُ“۔ (2 – البقرۃ: 251) اردو ترجمہ: ”پھر شکست دی مؤمنوں نے جالوت کے لشکر کو اللّٰہ کے حکم سے، اور مار ڈالا داؤد نے جالوت کو، اور دی داؤد کو اللّٰہ نے سلطنت اور حکمت، اور سکھایا اُن کو جو چاہا“۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇 0:00 آغاز خطبہ اور تمہیدی گفتگو 5:23 بلادُ العرب اور بلادُ الشام کا جغرافیہ 9:06 حضرت داؤد علیہ السلام کی سلطنت و مملکت کا تذکرہ 9:52 سلطنتوں کا نظام کب خراب ہوتا ہے؟ 10:44 بنی اسرائیل کی اِلتجا اور حضرت طالوت کی حکومت 12:19 حضرت طالوت کے لشکر کی جالوت سے جنگ اور فتح 13:00 حضرت داؤد علیہ السلام کے ذریعے نئی سلطنت کا قیام 13:58 حکمت کے اُصول پر نظام کا قیام اور اس کے اثرات و نتائج 17:10 حکمتِ ربانی اور حکمتِ مادی کی معرفت اور دونوں کا فرق 19:40 حکمتِ ربانی کی معرفت و اَثرات کے حوالے سے امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کا ارشاد 22:06 حکمتِ ربانی کی بنیاد پر سلطنتوں کے بانی حکمائے ربانی اور انبیائے کرام 32:59 المُلْکُ یَبْقٰی مَعَ الکُفْرِ، و لا یَبْقٰی مَعَ الظُّلْم‘‘؛ حکمائے ربانی کا قول ہے" 33:55 حکمت پر استقامت کے شعوری نتائج اور اس کے معاشرتی و سماجی اثرات 36:20 حکمتِ ربانیہ کی بنیاد پر اداروں کا قیام ضروری ہے اور اس کے اثرات و نتائج 47:20 ملتِ ابراہیمی کے اصولوں کی بنیاد پر رسول اللہ ﷺ نے عالمی نظام قائم کیا 49:54 نظاموں میں خرابیوں اور کمزوریوں پر قابو پانے کی ربانی حکمت 55:32 1947 میں پاکستانی بیوروکریسی کی شاہ خرچیوں کا ہوش رُبا اَحوال 1:00:39 مہنگے ڈالروں کے دور میں موجودہ حکومت کی شاہ خرچیوں کی ایک مثال 1:01:22 پاکستان میں حکمت کے علی الرغم سامراج کے حسبِ خواہش حکمرانوں کا انتخاب پیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان https://www.rahimia.org/ https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

Ep 21420-01-2023| ...جاہلیتِ جدیدہ اور سرمایہ دارانہ استحصالی نظام کے گٹھ جوڑ کے بالمقابل خدا پرستی اور انسان دوستی
جاہلیتِ جدیدہ اور سرمایہ دارانہ استحصالی نظام کے گٹھ جوڑ کے بالمقابل خدا پرستی اور انسان دوستی پر مبنی مِلّتِ إبراہیمیّہ حنیفیّہ کی جامعیت اور اہمیت خُطبۂ جمعۃ المبارک: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ: 27؍ جمادی الاخریٰ 1444ھ / 20؍ جنوری 2023ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی: وَ مَنْ یَّرْغَبُ عَنْ مِّلَّةِ اِبْرٰهٖمَ اِلَّا مَنْ سَفِهَ نَفْسَهٗ، وَ لَقَدِ اصْطَفَیْنٰهُ فِی الدُّنْیَا، وَ اِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ۔ (2 – البقرہ: 130) ترجمہ: ”اور کون ہے جو پِھرے ابراہیمؑ کے مذہب سے، مگر وہی کہ جس نے احمق بنایا اپنے آپ کو، اور بے شک ہم نے ان کو منتخب کیا دنیا میں، اور وہ آخرت میں نیکوں میں ہیں“۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇 0:00 آغاز خطبہ 1:06 علم وشعور کی بنیاد پر انسانیت کی رہنمائی کا الٰہی اہتمام 2:42 قرآنی فکر اور ملتِ ابراہیم سے اعراض کا انجام اور اس کے نتائج 7:43 مِلّتِ إبراہیمیّہ حنیفیّہ کا مفہوم اور اس پر عمل کے تقاضے 10:35 اسمِ جامع اور اجتماعی جامع نظام کا مرکز اور ذاتِ الٰہی کی مرکزیت 21:35 خطبے کی مرکزی آیت کا ترجمہ اور مختصر تفسیری خلاصہ 25:16 مِلّتِ حنیفیّہ کی دو خصوصیات؛ علم کی پختگی اور رائے کی مضبوطی 31:38 تین مللِ ناقصہ کا تعارف 37:22 مِلّتِ إبراہیمیّہ حنیفیّہ کی جامعیت اور ذاتِ مطلق کا تعارف 40:06 مِلّتِ إبراہیمیّہ حنیفیّہ کے دو بنیادی اُصول؛ خدا پرستی اور انسان دوستی 57:23 سیاست، معیشت، سماج اور اجتماعیت میں مِلّتِ إبراہیمیّہ حنیفیّہ کی رہنمائی 58:50 جاہلیتِ جدیدہ اور سرمایہ دارانہ نظام کا اتحاد اور انسانیت کا استحصال 1:03:37 ملکوں کی ڈوبتی معیشتیں اورعالمی سرمایہ داری نظام کی ناکامی 1:04:29 لالچ اور سیاسی و معاشی غلامی کا باہمی تعلق 1:15:08 پاکستان میں معیشت کی اسلامائزیشن کا فریب پیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان https://www.rahimia.org/ https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

Ep 21306-01-2023| مُخلِصین کی صفات اور اُن پر تربیت کی ضرورت و اہمیت
*مُخلِصین کی صفات* *اور اُن پر تربیت کی ضرورت و اہمیت* *خطبہ جمعۃ المبارک:* حضرت مولانا مفتی عبد المتین نعمانی *بتاریخ:* 13؍ جمادی الاخریٰ 1444ھ / 6؍ جنوری 2023ء *بمقام:* ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور پیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان https://www.rahimia.org/ https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

Ep 21213-01-2023| نظامِ مملکت میں دینِ اسلام کی رہنمائی اور ملکی تنازعات کے بنیادی اسباب اور اُن کا قرآنی حل
نظامِ مملکت میں دینِ اسلام کی رہنمائی اور ملکی تنازعات کے بنیادی اسباب اور اُن کا قرآنی حل خُطبۂ جمعۃ المبارک: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ: 20؍ جمادی الاخریٰ 1444ھ / 13؍ جنوری 2023ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی و حدیثِ نبوی ﷺ: آیاتِ قرآنی: اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَا، وَ اِذَا حَكَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِ، اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا یَعِظُكُمْ بِهٖ، اِنَّ اللّٰهَ كَانَ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا۔ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْكُمْ، فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ۔ (4 – النّساء: 58-59) ترجمہ: ”بے شک اللہ تم کو فرماتا ہے کہ پہنچا دو امانتیں امانت والوں کو، اور جب فیصلہ کرنے لگو لوگوں میں تو فیصلہ کرو انصاف سے۔ بے شک اللہ اچھی نصیحت کرتا ہے تم کو، بے شک اللہ ہے سننے والا دیکھنے والا۔ اے ایمان والو ! حُکم مانو اللہ کا اور حُکم مانو رسول ﷺ کا، اور حاکموں کا، جو تم میں سے ہوں۔ پھر اگر جھگڑ پڑو کسی چیز میں تو اس کو رجوع کرو طرف اللہ کے اور رسول ﷺ کے، اگر یقین رکھتے ہو اللہ پر اور قیامت کے دن پر“۔ حدیثِ نبوی ﷺ: ”لا طاعةَ لمخلوقٍ في معصيةِ الخالقِ“. (أخرجه البغوي في ”شرح السنة“، حدیث: 2455) ترجمہ: ”خالق کی معصیت میں کسی مخلوق کی اطاعت جائز نہیں“۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇 ✔️ اسلام نے انسانیت کی رہنمائی امن، عدل اور سلامتی کے عنوان سے کی ہے ✔️ فرد اور معاشرہ ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے رہتے ہیں ✔️ معاشرے کی اجتماعی ہیئتِ ترکیبی اور فرد کے شخصی نظام میں مماثلت ✔️ دنیا میں ہر وجود کا ایک محور اور مرکزی نقطہ ہوتا ہے ✔️ دینِ اسلام کا مرکز اور محور ’’عدل‘‘ اور انسانی بدن میں مرکز ’’قلب‘‘ ہے ✔️ فرد اور معاشرے کی ترقی اور زوال میں بنیادی کردار ’’نظام‘‘ کا ہوتا ہے ✔️ اولی الامر کے تعین اور امانتوں کا معنی و مفہوم، کردار اور حقیقی تقاضے ✔️ خطبے کی مرکزی آیت کا شانِ نزول اور خانۂ کعبہ کے کلید بردار کا واقعہ ✔️ اولی الامر (صاحبانِ اختیار) کو عدل کے اختیار کرنے کا دو ٹوک حکم ✔️ انسانی صلاحیتوں کو عدل کے نفاذ اور غلبے کے لیے استعمال کرنے کا حکم ✔️ اللہ تعالیٰ، رسول اکرمؐ اور اولی الامر کی اطاعت کا قرآنی حکم ✔️ خالق کی نافرمانی میں مخلوق کی اطاعت نہ کرنے کا نبویؐ حکم ✔️ برعظیم میں گزشتہ پونے تین سو سال سے استعماری نظام کا استحصالی کردار ✔️ پاکستانی نظام کے اولی الامر طبقات سے پاکستانی عوام کا مطالبہ اور تنازعہ ✔️ ’’"فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ" کے حقیقی معنی و مفہوم اور تقاضے ✔️ نظام کے ذمہ داروں کی طرف سے عوام کے بنیادی حقوق کی صریح خلاف ورزی ✔️ نظام کی خرابی اور انسانی حقوق کی عدمِ ادائیگی پر عذابِ الٰہی کی کسوٹی پیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان https://www.rahimia.org/ https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

Ep 21106-01-2023| قرآنی علوم، توحید کی اقسام اور اس کے عملی تقاضے
*قرآنی علوم، توحید کی اقسام* *اور اس کے عملی تقاضے* *خطبہ جمعۃ المبارک:* حضرت مولانا مفتی محمد مختار حسن *بتاریخ:* 13؍ جمادی الاخریٰ 1444ھ / 6؍ جنوری 2023ء *بمقام:* ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور پیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان https://www.rahimia.org/ https://web.facebook.com/rahimiainstitute/