PLAY PODCASTS
خطبات

خطبات

524 episodes — Page 4 of 11

Ep 370تقریب | اظہارِ خیال برموقع تقریبِ رونمائی موقف فی الحدیث و خطبات و مقالات

*اظہارِ خیال:*حضرت ڈاکٹر مفتی سعید الرحمن مدظله*برموقع تقریبِ رونمائی کتاب*"المَوقِف في الحدیث النّبَوي الشّریف"مِن کتاب "التّمھید لتعریف أئمّة التّجدید“تالیف: امامِ انقلاب مولانا عبید الله سندھیؒمع شرح"المَوثِقُ البثیث علَی المَوقِف في الحدیث الشّریف"تحقیق وتعلیق وتکمیل:الشّیخ المفتي عبد الخالق آزاد الرّائبوريحَفِظه الله تعالیٰو"خطبات ومقالات مولانا عبید الله سندھیؒ"ترتیب وتقدیم، تحقیق وحواشی:مولانا مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریحَفِظه اللهُ تعالیٰ*بتاریخ :*26؍ جمادی الاُخرٰی 1446ھ / 29؍ دسمبر 2024ء*بروز:* اتوار*بمقام:* ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہوربروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute*منجانب: رحیمیہ میڈیا*

Jan 8, 202527 min

Ep 369تقریب | اظہارِ خیال برموقع تقریبِ رونمائی موقف فی الحدیث و خطبات و مقالات

*اظہارِ خیال:*حضرت مولانا مفتی محمد مختار حسن مدظله*برموقع تقریبِ رونمائی کتاب*"المَوقِف في الحدیث النّبَوي الشّریف"مِن کتاب "التّمھید لتعریف أئمّة التّجدید“تالیف: امامِ انقلاب مولانا عبید الله سندھیؒمع شرح"المَوثِقُ البثیث علَی المَوقِف في الحدیث الشّریف"تحقیق وتعلیق وتکمیل:الشّیخ المفتي عبد الخالق آزاد الرّائبوريحَفِظه الله تعالیٰو"خطبات ومقالات مولانا عبید الله سندھیؒ"ترتیب وتقدیم، تحقیق وحواشی:مولانا مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریحَفِظه اللهُ تعالیٰ*بتاریخ :*26؍ جمادی الاُخرٰی 1446ھ / 29؍ دسمبر 2024ء*بروز:* اتوار*بمقام:* ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہوربروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute*منجانب: رحیمیہ میڈیا*

Jan 8, 202516 min

Ep 368تقریب | اظہارِ خیال برموقع تقریبِ رونمائی موقف فی الحدیث و خطبات و مقالات

*اظہارِ خیال:*حضرت مفتی عبدالمتین نعمانی مدظله*برموقع تقریبِ رونمائی کتاب*"المَوقِف في الحدیث النّبَوي الشّریف"مِن کتاب "التّمھید لتعریف أئمّة التّجدید“تالیف: امامِ انقلاب مولانا عبید الله سندھیؒمع شرح"المَوثِقُ البثیث علَی المَوقِف في الحدیث الشّریف"تحقیق وتعلیق وتکمیل:الشّیخ المفتي عبد الخالق آزاد الرّائبوريحَفِظه الله تعالیٰو"خطبات ومقالات مولانا عبید الله سندھیؒ"ترتیب وتقدیم، تحقیق وحواشی:مولانا مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریحَفِظه اللهُ تعالیٰ*بتاریخ :*26؍ جمادی الاُخرٰی 1446ھ / 29؍ دسمبر 2024ء*بروز:* اتوار*بمقام:* ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہوربروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute*منجانب: رحیمیہ میڈیا*

Jan 8, 202519 min

Ep 367تقریب | اظہارِ خیال برموقع تقریبِ رونمائی موقف فی الحدیث و خطبات و مقالات

*اظہارِ خیال:*حضرت مولانا ڈاکٹر تاج افسر مدظله*برموقع تقریبِ رونمائی کتاب*"المَوقِف في الحدیث النّبَوي الشّریف"مِن کتاب "التّمھید لتعریف أئمّة التّجدید“تالیف: امامِ انقلاب مولانا عبید الله سندھیؒمع شرح"المَوثِقُ البثیث علَی المَوقِف في الحدیث الشّریف"تحقیق وتعلیق وتکمیل:الشّیخ المفتي عبد الخالق آزاد الرّائبوريحَفِظه الله تعالیٰو"خطبات ومقالات مولانا عبید الله سندھیؒ"ترتیب وتقدیم، تحقیق وحواشی:مولانا مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریحَفِظه اللهُ تعالیٰ*بتاریخ :*26؍ جمادی الاُخرٰی 1446ھ / 29؍ دسمبر 2024ء*بروز:* اتوار*بمقام:* ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہوربروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute*منجانب: رحیمیہ میڈیا*

Jan 8, 202511 min

Ep 366سماج کی صحت مند تشکیل کے لیے رائے جزئی کے بالمقابل رائے کلی کی دینی اہمیت اور اس کے تقاضے| 2024-12-13

سماج کی صحت مند تشکیل کے لیے رائے جزئی کے بالمقابل رائے کلی کی دینی اہمیت اور اس کے تقاضے(دینِ اسلام میں رائے کلی(اجتماعی بھلائی کی سوچ) کی ضرورت و اہمیت، رائے جزئی (انفرادی طبقاتی مفاد پرستی کی سوچ)کے نقصانات اور رائے کلی (اجتماعی بھلائی اور فلاح کے نظریے) کے فروغ کے لیے ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ کی خدمات)خُطبۂ جمعۃ المبارکحضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعید الرحمٰن مدظلهبتاریخ: 10؍ جمادی الاخرٰی 1446ھ / 13؍ دسمبر 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) ملتان کیمپس۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇✔️ دینِ اسلام کی خصوصیت، موضوع، نصب العین اور مشعلِ راہ✔️ دنیا میں دو طرح کے اَفکار و نظریات کا رواج اور ان کے اثرات و نتائج✔️ دینِ اسلام‘ رائے کلی (اجتماعی سوچ) کی حامل اجتماعیت کا متقاضی، نیز اس کے مثبت فوائد و ثمرات✔️ معاشروں کی پس ماندگی کی اصل وجہ؛ رائے کلی (اجتماعی مفاد) کی سوچ کا فقدان✔️ دینِ اسلام کی اَساس‘ رائے کلی (اجتماعی مفاد کی سوچ کا نظریہ)، نیز آج زوال کی بڑی وجہ جزوی و سطحی اَفکار کا غلبہ✔️ رائے کلی (اجتماعی سوچ) کی بنیاد پر دینِ اسلام کا مربوط نظام اور تعلیم و تربیت کے ادارے✔️ انسانوں کی رائے کلی (اجتماعی سوچ) کی بنیاد پر تعلیم و تربیت اور آپ ﷺ کی دینی دعوت کا یہی ہدف✔️ دین کا مرکزی فکر؛ غلبۂ دین اور اللہ کا اپنے نور کو مکمل کرنے کا واضح حکم✔️ صحیح اجتماعی فکر کی تربیت کے لیے دینی مراکز کا قیام اور ان کے مقاصد و اہداف✔️ غلط اَفکار و اعمال کو اللہ کی طرف منسوب کرنا رائے جزئی (انفرادی سطحی سوچ) کا شاخسانہ نیز ’’رجال اللہ‘‘ کا مطمحِ نظر✔️ خواہشات کے اسیر‘ رائے جزئی (انفرادی و طبقاتی سوچ) کے حامل مسلم معاشرے✔️ عالمی حالات (شام وغیرہ کے واقعات) کا رائے کلی (اجتماعی انسانی مفاد) کی اساس پر غور وفکر اور تجزیہ✔️ غلبۂ دین اور اجتماعی فکر پیدا کرنے کے لیے اِقامتِ صلوٰۃ کا حکم اور فکری انتشار کے مُحرِّکات✔️ ادارہ رحیمیہ کے قیام کا بنیادی مقصد‘ رائے کلی (مفادِ عامہ کے اجتماعی نظریے) کی بنیاد پر شعوری تعلیم و تربیت کا انتظام✔️ ادارہ رحیمیہ کا ہدف: امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے تجدیدی مکتبۂ فکر اور مزاحمتی شعور کی اَساس پر جدوجہدبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

Jan 7, 202552 min

Ep 365انبیائے کرام علیہم السلام کی اقوام کے لیےعلم و شعور اور آزادی کی جدوجہد اورمسلمانوں کا دورِ ماضی و حال| 2025-01-03

انبیائے کرام علیہم السلام کی اقوام کے لیےعلم و شعور اور آزادی کی جدوجہد اورمسلمانوں کا دورِ ماضی و حال*خُطبۂ جمعۃ المبارک*حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری*بتاریخ:* 2؍ رجب المرجب 1446ھ / 3؍ جنوری 2025ء*بمقام:* ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور*خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی واحادیثِ نبوی ﷺ:**آیتِ قرآنی:*وَإِذْ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ يَاقَوْمِ اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَعَلَ فِيكُمْ أَنْبِيَاءَ وَجَعَلَكُمْ مُلُوكًا وَآتَاكُمْ مَا لَمْ يُؤْتِ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِينَ۔ (5 – المائدۃ؛ 20)*احادیثِ نبوی ﷺ :**1۔* ‌كَانَ ‌بَنُو ‌إِسْرَائِيلَ ‌إِذَا ‌كَانَ ‌لِأَحَدِهِمْ ‌خَادِمٌ ‌وَدَابَّةٌ ‌وَامْرَأَةٌ، ‌كُتِب ‌مَلِكًا۔ (تفسیر ابن کثیر تحت آیة 24 مِن المائدۃ)*ترجمہ:* ”اگر بنی اسرائیل (میں سے کسی) کے پاس کوئی خادم، جانور یا عورت ہوتی تو اسے بادشاہ قرار دیا جاتا"۔*2۔* أولُ هذا الأ مرِ نبوةٌ ورحمةٌ، ثمَّ يكونُ خلافةٌ ورحمةٌ، ثمّ يكون مُلكاً ورحمةً، ثمّ يتكادمون عليه تكادُم الحُمُرِ، فعليكُم بالجهادِ، وإن أفضل جهادِكم الرِّباطُ، وإن أفضلَ رباطِكم عسقلانُ۔ (‏‏‏‏أخرجه الطبراني في "المعجم الكبير" (11/88/11138)*ترجمہ:* ”دین اسلام کی حکومت کے معاملے کی ابتدا نبوت و رحمت سے ہوئی ہے، اس کے بعد خلافت و رحمت ہو گی اور پھر بادشاہت اور رحمت۔ بعد ازاں گدھوں کا ایک دوسرے کو کاٹنے کی طرح لوگ اس پر ٹوٹ پڑیں گے، تم جہاد کو لازم پکڑنا، بہترین جہاد، رباط (سرحد پر مقیم رہنا) ہے اور (شام کے ساحلی شہر) عسقلان کا رباط سب سے افضل ہے۔“*۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔* 👇✔️ قرآن حکیم میں نعمت ہائے خداوندی کا تذکرہ اور ان کی شکر گزاری کا ضابطہ و دستور✔️ خطبے کی مرکزی آیات کا سیاق و سباق اور ان کا واقعاتی پسِ منظر و مختصر تشریح✔️ بنی اسرائیل میں انبیا علیہم السلام کی کثرت سے آمد اور ان پر علوم کا نزول✔️ انبیا علیہم السلام کے فرقانی علوم اور انسانی اعمال کے نتائج کا پلاننگ سے تعلق✔️ حقیقی علم کے معنی، اس کی تعریف اور اس کا انسانی سماج کی ترقی سے گہرا تعلق✔️ بنی اسرائیل کے لیے ایک بڑی نعمت؛ حقیقی اور سچے علوم کا اُن پر نزول تھا✔️ بنی اسرائیل پر دوسرا فضلِ خداوندی اور انعام؛ اقتدار اور حکومت تھا✔️ ملک کا اصطلاحی اور لغوی معنی ومفہوم اور اس کے حقیقی تقاضے✔️ ایک آزاد ملک و ریاست کا مفہوم، اس کے لوازمات اور حقیقی آزادی کے تقاضے✔️ علم و شعورِ آزادی اور ملک و اقتدار اور صلاحیت واستعداد‘ اللہ کا فضل و انعام ہے✔️ بنی اسرائیل کی حقیقی آزادی کے لیے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی جدوجہد کے اثرات✔️ انبیا علیہم السلام کی عدل و انصاف کی نمائندہ حکومتیں اور انسانی ترقی✔️ تاریخ اسلام کے عدل پسند ملک و بادشاہ اور ان کی حکومتوں کے شان دار اَدوار✔️ جدید دور کا ریاستی جبر اور اس پر مسلط طبقوں کے انسانیت سے ناروا سلوک کی روداد✔️ مسلمانوں کے شاہی دور سے متعلق خلطِ مبحث اور انتہا پسندانہ تصور✔️ انبیا علیہم السلام کی تاریخ کی روشنی میں ہندوستان کی تحریکِ آزادی کے دو مؤقف✔️ سرمایہ دارانہ ریاست میں نوجوانوں کی بے قدری اور روزگار کے لیے بیرون ملک نوکریاںبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute*منجانب: رحیمیہ میڈیا*

Jan 6, 20251h 16m

Ep 364پاکستان میں ولی اللّٰہی فکر کی ترویج اور فروغ میں شاہ سعید احمد رائے پوریؒ اور ادارہ رحیمیہ کا کردار| 2024-12-13

*پاکستان میں ولی اللّٰہی فکر کی ترویج اور فروغ میں شاہ سعید احمد رائے پوریؒ اور ادارہ رحیمیہ کا کردار**خُطبۂ جمعۃ المبارک*حضرت مولانا مفتی محمد مختار حسن*بتاریخ:* 10؍ جمادی الآخریٰ 1446ھ / 13؍ دسمبر 2024ء*بمقام:* ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ، ملتان کیمپسبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute*منجانب: رحیمیہ میڈیا*

Jan 1, 202530 min

Ep 363مراکزِ دینیہ کی اساسیات اور ادارہ رحیمیہ کے قیام کا پسِ منظر، اہداف و مقاصد اور خدمات| 2024-12-13

مراکزِ دینیہ کی اساسیات اور ادارہ رحیمیہ کے قیام کا پسِ منظر، اہداف و مقاصد اور خدماتخُطبۂ جمعۃ المبارکحضرت مولانا مفتی عبد المتین نعمانیبتاریخ: 10؍ جمادی الآخریٰ 1446ھ / 13؍ دسمبر 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ، ملتان کیمپسhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

Dec 31, 202442 min

Ep 362عادلانہ قومی نظم و نسق کے قیام کے لیے بامعنٰی مشاورت پر مبنی اجتماعیت کی تشکیل کے دینی تقاضے| 2024-12-27

عادلانہ قومی نظم و نسق کے قیام کے لیےبامعنٰی مشاورت پر مبنی اجتماعیت کی تشکیل کے دینی تقاضےخُطبۂ جمعۃ المبارکحضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 24؍ جمادی الاخرٰی 1446ھ / 27؍ دسمبر 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورخطبے کی رہنما آیتِ قرآنی وحدیثِ نبوی ﷺ:آیتِ قرآنی:يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قِيلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوا فِي الْمَجَالِسِ فَافْسَحُوا يَفْسَحِ اللَّهُ لَكُمْ وَإِذَا قِيلَ انْشُزُوا فَانْشُزُوا يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ۔ (-58 المجادله: 11)ترجمہ: ”اے ایمان والو ! جب تمہیں مجلسوں میں کھل کر بیٹھنے کو کہا جائے تو کھل کر بیٹھو۔ اللہ تمہیں فراخی دے گا۔ اور جب کہا جائے کہ اٹھ جاؤ تو اٹھ جاؤ۔ تم میں سے اللہ ایمان داروں کے اور ان کے جنہیں علم دیا گیا ہے، درجے بلند کرے گا۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے خبردار ہے“۔حدیثِ نبوی ﷺ:إِنَّ اللّٰهَ يَرْفَعُ بِهَذَا الْكِتَابِ أَقْوَامًا، وَيَضَعُ بِهِ آخَرِينَ۔ (صحیح مسلم، حدیث: 1897)ترجمہ: ”اللہ تعالیٰ اس کتاب (قرآن) کے ذریعے بہت سے لوگوں کو اونچا کردیتا ہے اور بہتوں کو اس کے ذریعے سے نیچا گراتا ہے“۔۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇0:00 آغاز خطاب1:52 قرآن حکیم کا اعجاز، اس کے حقیقی اہداف اور نزول کے بنیادی مقاصد2:38 انسانیت کے لیے اقوام کی اہمیت اور قوموں کا ہونا کیوں ضروری ہے؟3:34 اقوام کی ترقی و عروج میں کتابِ مقدس قرآن حکیم کا انقلابی کردار5:08 اقوام کی تشکیل کے رہنما اُصولوں کو قرآن حکیم نے واضح کیا ہے 9:12 قوم کی صورت گری کے لیے ایک حزب (قومی جماعت) کے وجود کی ناگزیریت10:14 جماعت میں درجہ بہ درجہ اجتماعیت اور نظم و نسق قائم کرنے کی ضرورت و اہمیت11:14 آں حضرت ﷺ کے ہاں اپنی مجالس میں وسعت کا اظہار14:27 مشاورت کے بنیادی اور اَساسی قرآنی اُصول کی رہنمائی اور اس کی ضرورت و اہمیت17:37خطبے کی مرکزی آیت کا پسِ منظر اور واقعات اور مختصر تفسیری خلاصہ22:36 قوموں کے بلند مقام اور رفعت کے لیے از بس اور ضروری قرآنی اقدامات30:41 عہدِ نبویؐ میں قاری الکتاب کا حقیقی مفہوم اور عصرِ حاضر کی غلط فہمی کا ازالہ36:18 عہدِ فاروقی میں قائم مقام گورنر مکہ کی صلاحیت و استعداد اور شخصی خوبیاں40:17 سیاسی لیڈر شپ اور حکمران قیادت کا قرآنی علوم و معارف کا ماہر ہونا ضروری40:50 ریاست میں وراثت اور قومی وسائل کے منصفانہ تقسیم کی ضرورت و اہمیت43:07 ریاست میں بامعنی آزادانہ عادلانہ نظام کی ضرورت و اہمیت44:26 قومی ریاست کی اتھارٹی کمزور طبقوں کی نمائندہ ہوتی اور ان کے حقوق کی محافظ ہوتی ہے49:07 حضرت عمر فاروقؓ کے سیاسی، انتظامی تجربات اور اجتماعی نظام کا قیام50:52 حضرت عمر فاروقؓ اور حضرت مغیرہ بن شعبہؓ کے درمیان اہم امور پر مشاورت51:51 عہدِ نبویؐ و خلافت راشدہ میں باصلاحیت کم عمر وجونیئر سے کام لینے کی حکمتِ عملی57:02 قرآن حکیم سے سیاسی و معاشی اصولوں کی رہنمائی اور بامعنی مشاورت کی ضرورت و اہمیت58:03 مسلمانوں کے اجتماعی زوال کے بنیادی اسباب اور اس سے نکلنے کی قرآنی حکمتِ عملی1:07:32 قرآنی ضروری مشاورتی اُصولوں کی یاد دہانی اور نبوی حکمت کی اہمیت1:10:38 سیاسی لیڈر شپ کی اہم خصوصیت؛ انسانی نسلوں کی جانی حفاظت اور اپنے وطن کی حفاظتبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

Dec 30, 20241h 16m

Ep 361سیمینار | دینی شعور کی بنیاد پر عادلانہ سماجی تبدیلی کی جدوجہد کی ضرورت واہمیت

دینی شعور کی بنیاد پر عادلانہ سماجی تبدیلی کی جدوجہد کی ضرورت واہمیتخطاب:حضرت ڈاکٹر مفتی سعید الرحمٰن حفظه اللهسرپرست ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہوربرموقع سیمیناربتاریخ: 13؍ ربیع الثانی 1446ھ /17؍ اکتوبر 2024ءبمقام: رائل مارکی دارالسکینہ روڈ جھنگ۔ ۔ ۔ ۔ خطاب کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇0:00 آغاز0:42 اِنفرادیت پسندی‘ فطرتِ انسانی سے متصادِم4:51 اِسلام محض انفرادیت کی سوچ دیتا ہے، بہت بڑا اِلزام اور اسوۂ رسولؐ کے قطعی منافی9:18 معاشرے کی ترقی اور استحکام کے معیارات: وحدتِ انسانیت اور گروہیت کا خاتمہ14:15 عقیدۂ توحید کا لازمی تقاضا وحدتِ انسانیت اور طبقاتیت کا خاتمہ18:31 غلامی اور عدمِ استحکام کی بڑی وجہ؛ انگریز سامراج کی ڈیوائڈ اینڈ رول کی پالیسی22:22 پاکستان کا طبقاتیت پر مبنی نظامِ تعلیم و تربیت25:48 کالونیل و استعماری وِرثے اور وِکٹورین کلچر کے نظام پر اثرات و نتائج35:16 طبقاتی نظام کے خلاف ذہنی بیداری اور سماجی جدوجہد؛ ملکی استحکام کی طرف پہلا قدم 38:57 نیا سماج پیدا کرنا ایک مستقل علم اور رسول اللہ ﷺ کا اسوۂ حسنہ45:32 سیاسی و سماجی بے شعوری کی وجہ سے مسائل کی ذمہ دار قیادت ہی ہم پر مسلط46:46 جبر کے نظام کے خلاف ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ کا بنیادی شعوری پیغامبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

Dec 29, 202458 min

Ep 360حزب الشیطان کے سماج دشمن کردار کے بالمقابل آزاد رَبانی نظامِ تعلیم و تربیت کے تقاضے| 2024-12-20

*حزب الشیطان کے سماج دشمن کردار کے بالمقابل**آزاد رَبانی نظامِ تعلیم و تربیت کے تقاضے**خُطبۂ جمعۃ المبارک*حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری*بتاریخ:* 17؍ جمادی الاخرٰی 1446ھ / 20؍ دسمبر 2024ء*بمقام:* ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور *خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی وحدیثِ نبوی ﷺ:* *1۔* اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَo خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍo اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُo الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِo عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْo كَلَّا إِنَّ الْإِنْسَانَ لَيَطْغَىo أَنْ رَآهُ اسْتَغْنَىo إِنَّ إِلَى رَبِّكَ الرُّجْعَىo (-96 العلق: 1 تا 8)*ترجمہ:* ”اپنے رب کے نام سے پڑھیئے، جس نے سب کو پیدا کیا۔ انسان کو خون بستہ سے پیدا کیا۔ پڑھیئے اور آپ کا رب سب سے بڑھ کر کرم والا ہے۔ جس نے قلم سے سکھایا۔ انسان کو سکھایا جو وہ نہ جانتا تھا۔ ہرگز نہیں، بے شک آدمی سرکش ہو جاتا ہے۔ جب کہ اپنے آپ کو غنی پاتا ہے۔ بے شک آپ کے رب ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے“۔ *2۔* اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَانُ فَأَنْسَاهُمْ ذِكْرَ اللَّهِ أُولَئِكَ حِزْبُ الشَّيْطَانِ أَلَا إِنَّ حِزْبَ الشَّيْطَانِ هُمُ الْخَاسِرُونَo إِنَّ الَّذِينَ يُحَادُّونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ أُولَئِكَ فِي الْأَذَلِّينَo كَتَبَ اللَّهُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِي إِنَّ اللَّهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌo (-58 المجادله: 19 تا 21)*ترجمہ:* ”ان پر شیطان نے غلبہ پا لیا ہے۔ پس اس نے انہیں اللہ کا ذکر بھلا دیا ہے۔ یہی شیطان کا گروہ ہے۔ خبردار بے شک شیطان کا گروہ ہی نقصان اٹھانے والا ہے۔ بے شک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کرتے ہیں، یہی لوگ ذلیلوں میں ہیں۔ اللہ نے لکھ دیا ہے کہ مَیں اور میرے رسول ہی غالب رہیں گے۔ بے شک اللہ زور آور زبردست ہے“۔ *حدیثِ نبوی ﷺ:* ”خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ“۔ (صحیح بخاری، حدیث: 5027)*ترجمہ:* ”تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن مجید سیکھے اور سکھائے“۔*۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔* 👇✔️ انبیا علیہم السلام کی جماعت‘ علم و اَخلاق اور عدل و انصاف کی نمائندہ جماعت ہے ✔️ انسانی جماعت کے قلب و دماغ پر علم کے نور اور روشنی کے اثرات و نتائج ✔️ انسان کی شکل میں خدا کی عمدہ تخلیق کا اظہار اور انسانی وجود کے تقاضے✔️ ربوبیت اور تخلیق کے تناظر میں انسانی رویوں میں علم و اَخلاق کے تقاضے✔️ اجتماعیت کا حامل علم‘ جس سے عدل و انصاف کی حامل سوسائٹی پیدا ہوتی ہے ✔️ علم و عدل سے بیگانہ مکہ کی سوسائٹی کی قبل از نبوت حالتِ زار✔️ انسانی معاشروں پر شیطانی تسلط کا مفہوم اور معاشرے کی اجتماعیت پر اثرات ✔️ سوسائٹی میں (حزب) جماعت کیسے پیدا ہوتی ہے؟ سورت مجادلہ کی روشنی میں ✔️ سوسائٹی میں حزب (پارٹی) کام کیسے کرتی ہے؟ اس کا طریقۂ کار اور اُسلوبِ کار✔️ سوسائٹی میں انسانی حقوق اور ان کی پیمالی کی بھیانک صورتیں اور انسانی قتل کی تعبیر ✔️ سوسائٹی میں حزب اللہ اور حزب الشیطان کا کردار اور اس کے اثرات و نتائج ✔️ سوسائٹی میں حزب الشیطان‘ اپنے نظام کی بنیاد تین باتوں پر رکھتا ہے ✔️ قرآنی اصطلاح ’’زخرف القول‘‘ کا معنی و مفہوم اور گفتگو کی ملمع کاری کے شیطانی اثرات✔️ علم الانسان کا معنی و مفہوم اور انسانِ کامل و انسانی طاغوت کی تعبیر اور دو کردار✔️ ظالم جماعتوں کی مشاورت میں شیطان کی شرکت اور طاغوتی فیصلوں میں شیطانی کردار✔️ انسانی قتال میں نامعلوم کردار کا تاریخی پسِ منظر اور شیطانی واردات کے فاسد مقاصد✔️ ربانی اور شیطانی نظامِ تعلیم و تربیت اور نظریے کا فرق اور اس کے اثرات ✔️ نظریے کا بیج اور حزب کے قیام کے اسباب اور معاشرے میں اس کا کردار✔️ آزاد تعلیم‘ آزاد ملک اور معاشرے پیدا کرتی ہے، تعلیم اور آزادی کا چولی دامن کا ساتھ ہے✔️ آزادیٔ فکر اور حریت کے لیے امامِ اعظم امام ابوحنیفہؒ کا مجاہدانہ کردار✔️ آزادانہ قانون سازی کے لیے فقہائے اسلام کا فکرو کردار اور تاریخِ اسلام پر اثرات ✔️ استعماری دور میں آزادانہ قانون سازی کا قتل اور برعظیم ہند پر اس کے اثرات✔️ برعظیم ہند میں آزادانہ نظامِ تعلیم اور حریتِ فکر کے لیے دینی مدارس کا کردار✔️ مذہبی حلقوں کا مدارس کے حوالے سے غیر قومی ودینی ویژن اور اس کے نقصاناتبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute*منجانب: رحیمیہ میڈیا*

Dec 25, 20241h 45m

Ep 359دینی غلبے کے لیے اجتماعی جدوجہد کی ناگزیریت اور علمائے حق کے کردار کے تناظر میں ادارہ رحیمیہ کا تعارف| 2024-12-13

*دینی غلبے کے لیے اجتماعی جدوجہد کی ناگزیریت**اور علمائے حق کے کردار کے تناظر میں ادارہ رحیمیہ کا تعارف**خُطبۂ جمعۃ المبارک*حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری*بتاریخ:* 10؍ جمادی الاخرٰی 1446ھ / 13؍ دسمبر 2024ء*بمقام:* ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) ملتان*خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی:*يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ، مَا كَانَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ وَمَنْ حَوْلَهُمْ مِنَ الْأَعْرَابِ أَنْ يَتَخَلَّفُوا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ وَلَا يَرْغَبُوا بِأَنْفُسِهِمْ عَنْ نَفْسِهِ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ لَا يُصِيبُهُمْ ظَمَأٌ وَلَا نَصَبٌ وَلَا مَخْمَصَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا يَطَئُونَ مَوْطِئًا يَغِيظُ الْكُفَّارَ وَلَا يَنَالُونَ مِنْ عَدُوٍّ نَيْلًا إِلَّا كُتِبَ لَهُمْ بِهِ عَمَلٌ صَالِحٌ إِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ۔ (-9 التوبه: 120-119)*ترجمہ:* اے ایمان والو ! ڈرتے رہو اللہ سے اور رہوساتھ سچوں کے۔ نہ چاہیے مدینہ والوں کو اور ان کے گرد کے گنواروں کو کہ پیچھے رہ جائیں رسول اللہ کے ساتھ سے، اور نہ یہ کہ اپنی جان کو چاہیں زیادہ رسول کی جان سے۔ یہ اس واسطے کہ جہاد کرنے والے نہیں پہنچتی ان کو پیاس اور نہ محنت اور نہ بھوک، اللہ کی راہ میں، اور نہیں قدم رکھتے کہیں جس سے کہ خفا ہوں کافر، اور نہ چھینتے ہیں دشمن سے کوئی چیز، مگر لکھا جاتا ہے ان کے بدلے نیک عمل، بے شک اللہ نہیں ضائع کرتا حق نیکی کرنے والوں کا“۔*۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔* 👇✔️ اصلاح اور تربیت کے دو دائرے؛ تہذیبِ نفس اور تہذیبِ مدن✔️ نظامِ مدن کے حوالے سے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ابراہیم علیه السلام کی جدوجہد✔️ امامِ انسانیت حضرت محمد ﷺ کی خلافتِ کبریٰ کے قیام کی جدوجہد✔️ انسانی معاشروں کی تہذیب کے لیے نظام کے قیام اور جماعت کی ضرورت و اہمیت✔️ انبیا علیہم السلام کی تاریخ اور اسوۂ محمدیؐ میں منظم جماعت کا مؤثر کردار✔️ غزوۂ تبوک میں پیچھے رہ جانے والے صحابہ کرامؐ کا سماجی بائیکاٹ اور جماعتی ڈسپلن کا اِظہار✔️ اس واقعے کے تناظر میں سچی جماعت کا ساتھ دینے اور ان کی معیت اختیار کرنے کا حکم✔️ رسول اللہ ﷺ کی حکم عدولی اور مشن سے انحراف کی سخت ممانعت✔️ کسی کو آپ ﷺ کی جان اور ذاتِ گرامی پر ترجیح حاصل نہیں ہے✔️ دین کے غلبے اور سماجی جدوجہد کے راستے میں مشکلات‘ اعمال صالحہ ہیں✔️ برصغیر پاک و ہند میں استعماری نظام کے خلاف علما کی جدوجہد اور عظیم قربانیاں✔️ 1857ء کی تلافی کے لیے دارالعلوم دیوبند کا قیام اور عزیمت کا راستہ✔️ تحریکِ آزادی میں خانقاہوں کا کردار اور مشائخ طریقت کی طرف سے بیعتِ جہاد✔️ حضرت شاہ عبد الرحیم رائے پوریؒ کی حضرت شیخ الہندؒ کے مکان پر بہادرانہ حاضری✔️ ولی اللّٰہی نظامِ فکر، مقاصد دارالعلوم دیوبند اور مدارس کا حقیقی اور اصلی کردار✔️ پاکستان میں ولی اللّٰہی فکر کے اِحیا میں حضرت مولانا شاہ سعید احمد رائے پوریؒ کا کردار✔️ ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ کے بنیادی مقاصد و اہداف اور پاکستان میں ان کا قیام✔️ برصغیر میں ولی اللّٰہی فکر کے علی الرغم استعمار کی اسلام سے کنفیوز طبقے کی سرپرستی✔️ ولی اللّٰہی نظامِ فکر میں تفسیر و حدیث کا اسلوب اور ائمہ مجتہدین کے فقہی منہج کا تعارف✔️ ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ میں پڑھائے جانے والے دس علوم کا اِجمالی تعارف✔️ ریاست کے نظم و نسق کو سمجھنے اور اس میں کردار ادا کرنے کے لیے چار علوم✔️ حضرت شیخ الہندؒ کے مطالعے کا عالَم اور دارالعلوم دیوبند کا نظریاتی ویژن✔️ پاکستان میں سوسائٹی سے کٹے ہوئے مدارس اور مذہبی طبقوں کی بیچارگی کا عالَم✔️ ادارہ رحیمیہ ملتان کیمپس کے قیام کے موقع پر پاکستان میں ادارہ رحیمیہ کے قیام کا پسِ منظر

Dec 16, 20241h 8m

Ep 358قومِ ثمود کے فاسد کردار اور صالح علیہ السلام کی تعلیمات کی روشنی میں قابض مُسرِف نظام کے جائزہ کی دعوت | 2024-12-06

قومِ ثمود کے فاسد کردار اور صالح علیہ السلام کی تعلیمات کی روشنی میںقابض مُسرِف نظام کے جائزہ کی دعوتخُطبۂ جمعۃ المبارکحضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 3؍ جمادی الاخرٰی 1446ھ / 6؍ دسمبر 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورخطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی:”فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَأَطِيعُونِ، وَلَا تُطِيعُوا أَمْرَ الْمُسْرِفِينَ، الَّذِينَ يُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ وَلَا يُصْلِحُونَ۔ (-26 الشُعَراء: 150 تا 152) ترجمہ: ”پس اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو۔ اور ان حد سے نکلنے والوں کا کہا مت مانو، جو زمین میں فساد کرتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے“۔۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇0:00 آغاز خطاب1:28 قرآن حکیم کا انبیا علیہم السلام کے واقعات کے ذریعے معاشرتی تجزیے کا اسلوب2:59 انسانیت اور اقوام کے درمیان تاریخی تسلسل اور تجربات و مشاہدات کا سلسلہ8:36 کامیاب نظریات‘ قابل اتباع ہوتے ہیں، ناکام لوگ اور ان کے نظریات قابلِ اتباع نہیں 12:04 قرآن نے عربوں کی سبق آموزی کے لیے قومِ عاد و ثمود کی تاریخِ عبرت بیان کی ہے17:41 قومِ ثمود کی صنعت، زراعت اور تجارت کی ترقی اور ان کے نظام میں محنت کشوں کا استحصال22:20 اعمالِ خیر‘ نورانی شکل میں اور دجل و فریب کا شر‘ ملاء سافل میں محفوظ رہتا ہے27:50 مسرف (حد سے تجاوز کرنے والا) کا معنی و مفہوم اور اس کے کردار کا تجزیہ44:35 حضرت صالح علیہ السلام کی اپنی قوم کو دعوت اور اس کے چند اہم نکات53:01 امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی نظر میں ریاستیں کب اور کیوں ناکام ہوجاتی ہیں؟57:07 ریاستوں پر مسلط طبقے اور اسے گِدھ کی طرح نوچنے والے طبقوں کا قبیح کردار57:56 ریاست پر ظالم قابض طبقوں کی اپنی عیاشیوں کے لیے محنت کشوں پر ٹیکسوں کی بھرمار1:01:35 قوم کا حضرت صالح علیہ السلام سے اونٹنی کی شکل میں معجزے کا مطالبہ1:04:21 قومِ صالح کے مطالبے کے تناظر میں قانونِ تخلیق پر امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے ارشادات1:07:27 مادہ‘ قانونِ قدرت کے تحت کوئی وجود اختیار کرتا ہے اور مصائب حیوانات کی شکل1:15:04 مسرفین،مترفین اور ظالم لیڈروں کی اطاعت کرنے سے ممانعت1:19:33 قومِ ثمود کے سرداروں کی حضرت صالح علیہ السلام کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی1:28:36 اونٹنی کے قتل کے بعد شر کا پھیلاؤ اور قومِ ثمود پر عبرت ناک عذابِ الٰہی1:32:00 برصغیر میں اِسراف کے سامراجی نظام کا شر اور فرنگیوں کی استعماریت1:32:53 سامراجی اور استعماری نظام کا عالمی شر کہ، مشرق و مغرب اس کی زد میں ہے1:41:05 جھوٹا پراپیگنڈہ بہر صورت غلط ہے، خواہ وہ اپوزیشن کرے یا ریاست1:42:00 سرمایہ دارانہ جمہوریت اور کثیر الجماعتی نظام کی ناکامی اور وَن پارٹی سسٹمبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

Dec 9, 20241h 46m

Ep 357اجتماعی تربیت میں شعائرِ عبادات کا کردار اور موجودہ رسمیت کا جائزہ | 2024-10-18

اجتماعی تربیت میں شعائرِ عبادات کا کردار اور موجودہ رسمیت کا جائزہخُطبۂ جمعۃ المبارک: ڈاکٹر مفتی سعید الرحمٰن مدظلهبتاریخ: 14؍ ربیع الثانی 1446ھ / 18؍ اکتوبر 2024ءبمقام: جامع مسجد عثمانیہ، ریل بازار، جھنگ صدر۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔*دینِ اسلام میں دین دنیا کی تقسیم کا کوئی تصور موجود نہیں!عبادات (نماز) کے مطلوبہ اجتماعی اثرات و نتائج اور آج ہماری صورتِ حالدینی مراکز و مساجد‘ سماجی کردار سے کوسوں دور!معاشرتی کردار سے عاری مذہبی طبقہ اور رسمی اعمالغلبۂ دین کا تصور اور اصلاحی طریقۂ کار (انفرادی اصلاح) کی عدمِ افادیتسماجی تبدیلی کی تعلیم و تربیت کے لیے عبادات اور مساجد کا کردار اور آج ہماری حالتِ زارمکمل خطبہ سننے کے لیے درجِ ذیل لِنکس پر کلک کیجیے 👇یوٹیوبفیس بُکبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute*منجانب: رحیمیہ میڈیا*

Dec 7, 202452 min

Ep 356فرعون اور قَیصَرو کِسْریٰ کے نظاموں کے عصری نمونے اور موسوی و محمدی اُسْوَہ کا فکرو عمل اور جدوجہد | 2024-11-15

فرعون اور قَیصَرو کِسْریٰ کے نظاموں کے عصری نمونے اور موسوی و محمدی اُسْوَہ کا فکرو عمل اور جدوجہدخُطبۂ جمعۃ المبارک حضرت مولانا مفتی عبد المتین نعمانی*بتاریخ:* 12؍ جمادی الاولیٰ 1446ھ / 15؍ نومبر 2024ء*بمقام:* ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ، پشاور کیمپسبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute*منجانب: رحیمیہ میڈیا*

Dec 5, 202449 min

Ep 355قومِ مدین کے کردار اور شعیب علیہ السلام کی تعلیمات کے تناظر میں معاشی نا انصافی اور سیاسی و سماجی بد اَمنی کے ملکی نظام کے بارے میں فکر وشعور کی دعوت | 2024-11-29

قومِ مدین کے کردار اور شعیب علیہ السلام کی تعلیمات کے تناظر میں*معاشی نا انصافی اور سیاسی و سماجی بد اَمنی کے ملکی نظام کے بارے میں فکر وشعور کی دعوت**خُطبۂ جمعۃ المبارک*حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری*بتاریخ:* 26؍ جمادی الاولیٰ 1446ھ / 29؍ نومبر 2024ء*بمقام:* ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور*خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی وحدیثِ نبوی ﷺ:**آیاتِ قرآنی:*وَاِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا، قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ، قَدْ جَآءَتْكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَوْفُوا الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا، ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ۔ وَلَا تَقْعُدُوا بِكُلِّ صِرَاطٍ تُوعِدُونَ وَتَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِهِ وَتَبْغُونَهَا عِوَجًا وَاذْكُرُوا إِذْ كُنْتُمْ قَلِيلًا فَكَثَّرَكُمْ وَانْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِينَ۔ (7- الاعراف: 85-86)ترجمہ: ”اور مَدیَن کی طرف اس کے بھائی شعیب کو بھیجا، فرمایا: اے میری قوم ! اللہ کی بندگی کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس دلیل پہنچ چکی ہے، سو ناپ اور تول کو پورا کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں گھٹا کر نہ دو۔ اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد مت کرو یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم ایمان دار ہو۔ ترجمہ: ”اور سڑکوں پر اس غرض سے مت بیٹھا کرو کہ اللہ پر ایمان لانے والوں کو دھمکیاں دو، اور اللہ کی راہ سے روکو، اور اس میں ٹیڑھا پن تلاش کرو، اور اس حالت کو یاد کرو جب کہ تم تھوڑے تھے پھر اللہ نے تمہیں زیادہ کر دیا اور دیکھو فساد کرنے والوں کا انجام کیا ہوا ہے“۔*حدیثِ نبوی ﷺ:*عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِيَّاكُمْ وَالْجُلُوسَ بِالطُّرُقَاتِ "، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا لَنَا بُدٌّ مِنْ مَجَالِسِنَا نَتَحَدَّثُ فِيهَا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَبَيْتُمْ إِلَّا الْمَجْلِسَ فَأَعْطُوا الطَّرِيقَ حَقَّهُ "، قَالُوا: وَمَا حَقُّهُ؟، قَالَ: " غَضُّ الْبَصَرِ، وَكَفُّ الْأَذَى، وَرَدُّ السَّلَامِ، وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ، وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ ". (صحیح بخاری، حدیث: 5648)ترجمہ: حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نے فرمایا: "راستوں میں بیٹھنے سے اجتنا ب کرو۔"صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے کہا: اے اللہ کے رسول!!ہمارے لیے (را ستے کی) مجلسوں کے بغیر جن میں (بیٹھ کر) ہم باتیں کرتے ہیں، کوئی چارہ نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم مجا لس کے بغیر نہیں رہ ہو سکتے تو را ستے کا حق ادا کرو۔"لوگوں نے کہا: اس کا حق کیا ہے؟آپ نے فرمایا: "نگاہ نیچی رکھنا تکلیف دہ چیزوں کو (را ستے سے) ہٹانا، سلام کا جواب دینا، اچھا ئی کی تلقین کرنا اور بر ائی سے روکنا۔"*۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔* 👇✔️ انبیا علیہم السلام کی اجتماعی سماجی و سیاسی جدوجہد کا پسِ منظر✔️ گزشتہ خطبہ جمعتہ المبارک کی گفتگو سے ربط کے لیے تمہیدی گفتگو✔️ مدین میں حضرت شعیب علیہ السلام کی اپنی قوم کے حق میں جدوجہد✔️ قومیں دُنیا میں کیسے وجود میں آتی ہیں، اس کا جغرافیہ اور بنیادی عوامل✔️ انبیا علیہم السلام کس طبقے کے خلاف اور کس طبقے کے حق میں اپنی جدوجہد کرتے ہیں✔️ حضرت شعیب علیہم السلام کی اپنی قوم کو دعوت اور اس کے بنیادی نکات✔️ ریاست کو چلانے والے طبقوں کے اختیارات کے استعمال کی حدود و قیود✔️ سورتِ اعراف کا بنیادی موضوع اور اس میں پیش کیے گئے مضامین کے بنیادی نکات✔️ قومِ شعیب کی معاشی سرگرمیوں، تجارتی نوعیتوں اور کاروباری دائرے کا تذکرہ✔️ قومِ شعیب کی معاشی سرگرمیوں میں بنیادی معاشی خرابی؛ ناپ تول میں کمی✔️ ناپ تول کے حوالے سے ’’بالقسط‘‘ کے تناظر میں قرآن حکیم کی بنیادی رہنمائی✔️ سوسائٹی میں وسائل کی تقسیم میں عدل اور محنت کشوں کی محنت کی قدر و اہمیت✔️ قومِ شعیب کو معاشیات میں عدل کے بعد سیاسی بد اَمنی کی سخت ممانعت✔️ ذرائع رسل و آمد و رفت (راستوں،سڑکوں) کو بند کرنے کی ممانعت✔️ قوم شعیب کے حکمرانوں کا حربہ کہ وہ لوگوں کو حضرت شعیبؑ سے ملنے سے روکتے تھے✔️ قومِ شعیب کے حکمرانوں کا اپنی قوم کے راستوں کو بند کرنے کے مختلف طریقے✔️ قُطّاعُ الطّریق (راستہ روکنے والے) کی تشریح، معنی و مفہوم اور عصرِ حاضر پر اس کا اِطلاق✔️ قرآن و حدیث میں وارِد تمثیل سے ہر عہد کے واقعات میں رہنمائی لینے کا اصول✔️ قوانین کے اطلاق میں عوج (ٹیڑھے پن) کا مظاہرہ اور اس کا ظالمانہ استعمال✔️ حدیثِ نبویؐ میں راستے کے پانچ حقوق ادا کرنے کا حکم اور پانچ حقوق کی تفصیلات✔️ ایسٹ انڈیا کمپنی اور برٹش شہنشاہیت کے دو سو سالہ عہد میں گولی لاٹھی کی سرکار کے بدترین مظاہرےبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute*منجانب: رحیمیہ میڈیا*

Dec 2, 20241h 26m

Ep 354قصۂ نوح علیہ السلام کے تناظر میں انبیا علیہم السلام کی جامع دعوتِ دین اور محنت کشوں کی توہین پر مبنی سرکش مقتدرہ کے ردِعمل اور اس کے نتائج کا جائزہ | 2024-11-22

قصۂ نوح علیہ السلام کے تناظر میں انبیا علیہم السلام کی جامع دعوتِ دین اور محنت کشوں کی توہین پر مبنی سرکش مقتدرہ کے ردِعمل اور اس کے نتائج کا جائزہخُطبۂ جمعۃ المبارک حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 19؍ جمادی الاولیٰ 1446ھ / 22؍ نومبر 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورخطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی: وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَى قَوْمِهِ إِنِّي لَكُمْ نَذِيرٌ مُبِينٌo أَنْ لَا تَعْبُدُوا إِلَّا اللَّهَ إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ أَلِيمٍ o فَقَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ قَوْمِهِ مَا نَرَاكَ إِلَّا بَشَرًا مِثْلَنَا وَمَا نَرَاكَ اتَّبَعَكَ إِلَّا الَّذِينَ هُمْ أَرَاذِلُنَا بَادِيَ الرَّأْيِ وَمَا نَرَى لَكُمْ عَلَيْنَا مِنْ فَضْلٍ بَلْ نَظُنُّكُمْ كَاذِبِينَ o (-11 هود: 25 تا 27)ترجمہ: ”اور ہم نے نوح (علیه السلام) کو اس کی قوم کی طرف بھیجا، بے شک میں تمہیں صاف ڈرانے والا ہوں، کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو! بے شک میں تم پر دردناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ پھر اس کی قوم کے جو کافر سردار تھے، وہ بولے: ہمیں تو تم ہم جیسے ہی ایک آدمی نظر آتے ہو، اور ہمیں تو تمہارے پیرو وہی نظر آتے ہیں جو ہم میں سے رذیل ہیں، وہ بھی سرسری نظر سے، اور ہم تم میں اپنے سے کوئی فضیلت بھی نہیں پاتے، بلکہ تمہیں جھوٹا خیال کرتے ہیں“۔۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔👇0:00 آغاز 1:54 انبیا علیہم السلام‘ انسانی اجتماعیت کو درست خطوط پر استوار اور قائم رکھنے کے لیے آتے ہیں5:05 گزشتہ جمعتہ المبارک کے خطبے پر طائرانہ نظر اور آج کے خطبے کے ساتھ ربط8:41 انبیا علیہم السلام کی ارتفاقات اور اقترابات کے حوالے سے درجہ بدرجہ جدوجہد9:58 مادی ماحول، غذاؤں اور خوراک کے‘ طبیعتوں پر اثرات و نتائج14:08 حضرت نوح علیہم السلام کی اِرتفاقات اور اِقترابات کے حوالے سے محنت کے اثرات و نتائج16:56 ماحول کی خرابی کے باعث‘ انسانی طبائع کے حیوانی اور مَلَکیّت کے تقاضوں میں عدمِ توازن20:56 ظالم با اختیار طبقوں کے اَعمال کے انسانیت کے خلاف جرائم کی ہولناک سزا25:14 حضرت ادریس علیہ السلام کے دور کے فنون سے وابستہ طبقوں کے لیے حضرت نوح علیہ السلام کا کردار28:02 قرآنی اصطلاح ’’الْمَلَأ‘‘ (سردار) کا معنی و مفہوم اور اس کے کردار کے اثرات و نتائج34:04 قومِ نوح کا حضرت نوح علیہ السلام پر اعتراض اور ان کا مذاق و استہزا اُڑانے کی کوشش35:37 بے اعتدال حیوانیت کے حامل طبقوں کے دل و دماغ کی حالت و کیفیت اور رویے37:39 قرآنی اصطلاح ’’أَرَاذِل‘‘ کا لغوی و اصطلاحی معنی و مفہوم اور اس کی مختصر تشریح41:43 ظالم سرداروں کی قوم نوح کے عام عوام اور نچلے طبقوں کے بارے میں حقیرانہ رائے44:41 معاشرے کے ظالم طبقے کا اپنے مفادات پر مبنی اپنی رائے کو منوانے کے لیے اصرار کا رویہ47:37 معاشرے میں کاسب (مزدور) طبقوں کی معاشرتی ترقی میں ضرورت و اہمیت50:54 پاکستان کے سرمایہ دارانہ نظام میں عوام دشمن طبقوں کے کردار کا تحلیل و تجزیہ52:50 حضرت نوح علیہ السلام کی اپنی قوم کے ظالمانہ کردار اور جرائم پیشہ طبقوں کو تنبیہ58:17 قوموں پر عذابوں کی شکلوں کے حوالے سے امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کا نقطۂ نظر1:02:04 قوم نوح پر عذابِ الٰہی کا وقت اور حضرت نوح علیہ السلام کو کشتی تیار کرنے کا حکم1:04:02 قومِ نوح پر عذاب الٰہی کے وقت‘ ارتفاقات کی ترقی کے حامل طبقوں کو محفوظ کرلیا گیا 1:05:56 معاشرتی و سماجی ترقی میں محنت کش طبقوں کی ضرورت و اہمیت اور ترقیاتی کردار بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔ https://www.rahimia.org/ https://web.facebook.com/rahimiainstitute/ https://www.youtube.com/@rahimia-institute منجانب: رحیمیہ میڈیا

Nov 25, 20241h 32m

Ep 353قومی نظام کی تشکیلِ نو کے لیے زمینی حقائق کے فہم اور غیر طبقاتی کردار کی شعوری اہمیت؛ تاریخی تناظر میں دعوتِ فکر | 2024-11-15

قومی نظام کی تشکیلِ نو کے لیے زمینی حقائق کے فہم اور غیر طبقاتی کردار کی شعوری اہمیت؛تاریخی تناظر میں دعوتِ فکرخُطبۂ جمعۃ المبارکحضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 12؍ جمادی الاولیٰ 1446ھ / 15؍ نومبر 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ، پشاور کیمپس خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی: وَإِذْ قَالَ مُوسٰى لِقَوْمِهِ يَاقَوْمِ لِمَ تُؤْذُونَنِي وَقَدْ تَعْلَمُونَ أَنِّي رَسُولُ اللّٰهِ إِلَيْكُمْ فَلَمَّا زَاغُوا أَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوبَهُمْ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ۔ (-61 الصف: 5)ترجمہ: ”اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ: اے میری قوم ! مجھے کیوں ستاتے ہو؟ حالانکہ تم جانتے ہو کہ میں تمھاری طرف اللہ کا رسول ہوں۔ پس جب وہ پھر گئے تو اللہ نے ان کے دل پھیر دیئے۔ اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں کرتا“۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇✔️ دینِ اسلام کی خصوصیت کہ وہ انسانوں میں کا میابی کی صلاحیت پیدا کرتا ہے✔️ فرد کی ترقی‘ قوم کی ترقی کے ساتھ اور قوم کی ترقی‘ بین الاقوامی ترقی سے جڑی ہوئی ہے✔️ انبیا علیہم السلام ہمیشہ قومی اجتماعیت کو مضبوط کرنے آتے ہیں اور انھیں ترقی کے راستے پر ڈالتے ہیں ✔️ قرآن حکیم کے عربی میں نزول کی اجتماعی اور قومی حکمت✔️ قوموں کی ترقی اور عروج ان کے خودمختار فیصلوں کی مرہونِ منت ہوتی ہے ✔️ قرآن حکیم میں قصص کو سماجی ارتقاء کی حکمت کے اُصول پر سمجھنے کی ضرورت واہمیت✔️ بنی اسرائیل کے قومی ارتقاء کے تقاضے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کا کردار✔️ قوموں کے مزاجوں میں اس دھرتی کی مٹی، پانی اور اَناجوں کے اثرات ✔️ قریشِ مکہ کے لیے بنی اسرائیل کی تاریخ میں عبرت آموز اَسباق اور حکمتیں✔️ خطبے کی مرکزی آیت کا پسِ منظر اور مختصر تفسیری خلاصہ ✔️ قوم سازی میں معاشی سرگرمیوں کی اہمیت، غربت اور خوش حالی کے اجتماعی اثرات و نتائج ✔️ بر صغیر پاک و ہند میں علمائے حق کی سیاسی حکمتِ عملی؛ اسلام کی اجتماعی تعبیر کی نمائندہ✔️ علم الارتفاقات اور اقترابات کی ترقی و ترویج میں انبیاء علیہم السلام کا کردار ✔️ معاشروں کی اجتماعی تاریخ کو درست طور پر سمجھانے میں امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کا کردار✔️ امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے علوم و اَفکار کے فروغ میں حضرت سندھیؒ کا کردار✔️ ترکی میں سقوطِ خلافتِ عثمانیہ کا حقیقی تاریخی پسِ منظر اور اس کے عوامل✔️ مولانا عبید اللہ سندھیؒ کی کتاب ’’التّمہید لتعریف أئمّۃ التّجدید‘‘ کا مطالعاتی اور تصنیفی پسِ منظر✔️ بر صغیر کے مادی وسائل، سماجی ترقی اور جغرافیے کو قومی فکر سے دیکھنے کی ضرورت ✔️ برصغیر پاک و ہند کے پانی کے دریاؤں اور زبانوں کے رُوٹس اور ماخذات✔️ خلافتِ راشدہ کا اسلام کے بین الاقوامی انقلاب کے لیے کردار✔️ اسلامی انقلاب کے قومی و بین الاقوامی کردار واَدوار کو سمجھنے میں ’’إزالۃ الخفاء‘‘ کی اہمیت ✔️ پاکستانی سر زمین کے زمینی حقائق اور یہاں کے مسائل کے حل کا حقیقی راستہ✔️ صوبائی عصبیتیں‘ نظام اور سامراج کی سیاست ہے، غریب عوام سب یکساں ہیں ✔️ غیر ملکی طاقتوں اور قوتوں کی پراکسی کے بجائے قومی کردار اپنانے کی ضرورت ✔️ تفسیر، حدیث اور تاریخ میں مولانا عبید اللہ سندھیؒ کا دَرک اور رُوحِ عصر✔️ برصغیر کی حق

Nov 18, 20241h 30m

Ep 352اسلام کے نظامِ فکر میں "الحکمة" کی اہمیت اور جزوی مصلحت سے موازنہ، قومی تناظر میں دعوتِ فکر | 2024-11-08

اسلام کے نظامِ فکر میں "الحکمة" کی اہمیت اور جزوی مصلحت سے موازنہ، قومی تناظر میں دعوتِ فکرخُطبۂ جمعۃ المبارکحضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 5؍ جمادی الاولیٰ 1446ھ / 8؍ نومبر 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورخطبے کی رہنما آیتِ قرآنی وحدیثِ نبوی ﷺ:آیتِ قرآنی: وَأَنْزَلَ اللّٰهُ عَلَيْكَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ وَكَانَ فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكَ عَظِيمًا۔ (النّساء:113)ترجمہ: ”اور اللہ نے تجھ پر کتاب اور حکمت نازل کی ہے اور تجھے وہ باتیں سکھائی ہیں جو تو نہ جانتا تھا اور اللہ کا تجھ پر بہت بڑا فضل ہے“۔ حدیثِ نبوی ﷺ: ”لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ، رَجُلٍ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَسَلَّطَهُ عَلَى هَلَكَتِهِ فِي الْحَقِّ، وَرَجُلٍ آتَاهُ اللَّهُ حِكْمَةً فَهُوَ يَقْضِي بِهَا وَيُعَلِّمُهَا“۔ (صحیح بخاری، حدیث 7141) ترجمہ ” حسد (رشک) کرنا صرف دو ہی آدمیوں کے ساتھ جائز ہو سکتا ہے: ایک تو اس شخص کے ساتھ جسے اللہ نے مال دیا اور اسے حق اور مناسب جگہوں میں خرچ کرنے کی توفیق دی۔ دوسرے اس شخص کے ساتھ جسے اللہ تعالیٰ نے حکمت (عقل علم قرآن و حدیث اور معاملہ فہمی) دی اور وہ اپنی حکمت کے مطابق حق فیصلے کرتا ہے اور لوگوں کو اس کی تعلیم دیتا ہے۔ “ *۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔* ✔️ قرآن حکیم کی جامعیت اوریقینی علم وعمل کی بنیاد پر مزاج اور طبیعت کی تربیت ✔️ انسانی معاشرے کی ترقی کے لیے آئین و دستور اور اس پر عمل درآمد کے نظام کی ضرورت ✔️ آئین ودستور پر نظام قائم کرنے میں حکمت عملی کی ضرورت واہمیت✔️ "انزلنا الکتب و الحکمة" میں آئین و دستور اور حکمت عملی کا ذکر ✔️ منافق اور یہودی کے ایک واقعہ کے تناظر میں کتاب اور حکمت کی اصولی رہنمائی ✔️ الحکمة کا معنی و مفہوم (معرفة الاشیاء کما ھی) معاملات میں درست حقائق تک پہنچنا اور فیصلے کرنا✔️ قومی معاملات میں ہر سطح اور دائرہ کے مطابق بلا امتیاز عقیدہ و نسل کے درست فیصلے کرنا✔️ انبیاء علیہم السلام کتاب کی طرح قوم کو حکمت بھی سکھاتے ہیں ✔️ انبیاء کرامؑ کے حقیقی وارثوں کو علم وفکر کے ساتھ حکمت بھی منتقل ہوتی ہے۔✔️ علم اسرار دین بھی دراصل حکمت کی اساس پر مدون ہوا ہے✔️ احکام دین میں مصلحت اور مفسدہ کے بجائے حکمت کی بنیاد پر علت کی اہمیت ہے✔️ علم اسرار دین سمجھانے کے لیے حضرت الامام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کا منہج و اسلوب✔️ دین اسلام کی حکمت اور اسرار دین سمجھانے میں "حجة الله البالغة" کی اہمیت✔️ ہندوستان میں برٹش استعمار کے مقابلے میں علماء حق کی حکمت کی اساس پر جدوجہد آزادی ✔️ دینی احکام اور قومی ضروریات میں حکمت سے مصلحت مراد لینے کے نقصانات ✔️ ہندوستان میں بعض مذہبی رہنماؤں کی مصلحت انگیزی کی وجہ سے تحریک آزادی کو نقصان پہنچا✔️ برٹش استعمار کی طرف سے بہادر شاہ ظفر پر قائم مقدمے میں بہادر شاہ ظفر کا حقیقی مؤقف ✔️ نام نہاد جمہوریت میں برٹش استعمار سے آج تک سرمایہ داری نظام کا کردار✔️ حکمت کو مصلحت قرار دینے کے نتیجے میں سرمایہ دارانہ نظام میں اسلامی بیکنگ ڈھونڈی جارہی ہے۔✔️ قومی مسائل کے حل کے لیے حکمت و شعور کی اساس پر مبنی قرآن حکیم کا پیغام!بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute*منجانب: رحیمیہ میڈیا*

Nov 11, 20241h 15m

Ep 351سماجی زوال میں مکر و فریب کی مجرمانہ سیاست کاری کا کردار اور قانونِ الٰہی، دعوتِ فکر | 2024-11-01

سماجی زوال میں مکر و فریب کی مجرمانہ سیاست کاری کا کردار اور قانونِ الٰہی، دعوتِ فکرخُطبۂ جمعۃ المبارک:حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری*بتاریخ:* 28؍ ربیع الثانی 1446ھ / یکم؍ نومبر 2024ء*بمقام:* ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور*خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی وحدیثِ نبوی ﷺ:**آیتِ قرآنی:*وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَا فِي كُلِّ قَرْيَةٍ أَكَابِرَ مُجْرِمِيهَا لِيَمْكُرُوا فِيهَا وَمَا يَمْكُرُونَ إِلَّا بِأَنْفُسِهِمْ وَمَا يَشْعُرُونَ ۔ (-6 الانعام: 123)*ترجمہ:* ”اور اسی طرح ہر بستی میں ہم نے گناہگاروں کے سردار بنا دیے ہیں، تاکہ وہاں اپنے مکر و فریب کا جال پھیلائیں، حالانکہ وہ اپنے فریب کے جال میں آپ پھنستے ہیں، مگر وہ سمجھتے نہیں“۔*حدیثِ نبوی ﷺ:*”‌مَنْ ‌غَشَّنَا ‌فَلَيْسَ ‌مِنَّا وَالْمَكْرُ ‌وَالخُدْعُ في النّار“۔ (معجم صغير للطبراني، حدیث: 538، نیز التدوين في أخبار قزوين للرّافعي)*ترجمہ:* ”جو شخص کھوٹ ملا مال دے، وہ ہم سے نہیں ہے، اور مکر اور دھوکہ جہنم میں ہوگا۔“*۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔* 👇✔️ انسانی معاشروں کے عروج وزوال کے اسباب؛ قرانی تعلیمات کے تناظر میں✔️ نیکی اور بُرائی کے ظاہری اور باطنی تناظر کو سمجھنے کی ضرورت و اہمیت✔️ بُرائی کے ظاہری اور باطنی دونوں دائروں کو ترک کرنے کی ضرورت✔️ نفسِ ناطقہ جسم و روح اور جملہ جوارح کو اطاعت اللہ والرسول میں دینا✔️ جوارح، خیال اور قوتِ واہمہ کے درمیان تعلق اور عمل و نتائج تک کا سفر✔️ شریعتِ محمدیہ ﷺ کے احکام و مسائل، ارتفاقات و عبادات میں زمانے کا لحاظ✔️ عبادات اور تعلق مع اللہ میں خیال اور توجہ کی ضرورت و اہمیت✔️ رسول اللہ ﷺ کی دعوت اور مکے کے فاسد نظام کے محافظ طبقوں کا کردار✔️ مکے کے فاسد نظام اور عصری سرمایہ دارانہ نظام کی کارروائیوں میں مماثلت✔️ دارالندوہ کی مشاورت میں اہلِ مکہ کو شیطانی مشورے اور آں حضرت ﷺ کے خلاف منصوبہ بندی✔️ اہلِ مکہ کے مجرموں کی قانون سازی اور کردار کے ظاہرو باطن میں فرق✔️ مکر اور جرم کے اثرات و نتائج؛ زمانے اور جغرافیے کے دائرے سے ما وراء ہوتے ہیں✔️ حضرت سفیان ثوریؒ کے نزدیک مکاری اور خالص عمل کے درمیان جوہری فرق✔️ انسانیتِ عامہ کی ناموسِ کلیہ (بنیادی انسانی اقدار) اور شرائع کے درمیان اہم تعلق✔️ اَخلاقِ اربعہ کے عملی اظہارات اور مظاہر‘ زمانے کے تقاضوں کے مطابق نمودار ہوتے ہیں✔️ مفاد پر ست طبقوں کا مکر وفریب اور آئین و قانون کے نام پر فراڈ✔️ امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے ہاں حروفِ تہجی کے معانی و مفاہیم کا خلاصہ✔️ درست کام کرنے والے اور مکرو فریب کرنے والے فرد کی نفسیات کا محاکمہ✔️ مکروفریب کے حامل طبقات کے مقابلے میں تدبیرِ الٰہی کا قانون✔️ کسی کی تباہی اور تکلیف پہنچانے کا قانون دراصل قانون ساز طبقے کے گلے کا طوق✔️ مکروفریب کا پردہ چاک کرنے والے علمائے ربانیین کا بے لاگ کردار✔️ ہر دور میں مکروفریب کے پردے چاک کروانے والے موجود رہیں گے!بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute*منجانب: رحیمیہ میڈیا*

Nov 4, 20241h 15m

Ep 350معاشروں کی زوال پذیری میں مفاد پرست اشرافیہ کا ہلاکت خیز کردار؛ اثرات و نتائج پر دعوتِ فکر | 2024-10-25

معاشروں کی زوال پذیری میں*مفاد پرست اشرافیہ کا ہلاکت خیز کردار؛ اثرات و نتائج پر دعوتِ فکر**خُطبۂ جمعۃ المبارک:*حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری*بتاریخ:* 21؍ ربیع الثانی 1446ھ / 25؍ اکتوبر 2024*بمقام:* ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور*خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی وحدیثِ نبوی ﷺ:**آیاتِ قرآنی:*مَنِ اهْتَدٰى فَإِنَّمَا يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرٰى وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولًا، وَإِذَا أَرَدْنَا أَنْ نُهْلِكَ قَرْيَةً أَمَرْنَا مُتْرَفِيهَا فَفَسَقُوا فِيهَا فَحَقَّ عَلَيْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنَاهَا تَدْمِيرًا۔ (-17 الاسراء: 16-15)*ترجمہ:* ”جو سیدھے راستے پر چلا تو اپنے ہی لیے چلا، اور جو بھٹک گیا تو بھٹکنے کا نقصان بھی وہی اُٹھائے گا، اور کوئی بوجھ اُٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ اور ہم سزا نہیں دیتے جب تک کسی رسول کو نہیں بھیج لیتے۔ اور جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں تو وہاں کے دولت مندوں کو کوئی حکم دیتے ہیں، پھر وہ وہاں نافرمانی کرتے ہیں تب ان پر حجت تمام ہو جاتی ہے اور ہم اسے برباد کر دیتے ہیں“۔*حدیثِ نبوی ﷺ:*سُئِل النّبيُّ ﷺ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ ! أَنَهْلِكُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ، قَالَ ﷺ: ”نَعَمْ ! إِذَا كَثُرَ الْخَبَثُ“۔ (صحیح بخاری، حدیث: 3346)*ترجمہ:* نبی اکرم ﷺ سے پوچھا گیا: کیا ہم اس کے باوجود ہلاک اور تباہ و برباد ہو جائیں گے جبکہ ہم میں نیک لوگ بھی موجود ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ: ”ہاں ! جب فسق و فجور بڑھ جائے گا (تو یقیناً بربادی ہو گی)“۔*۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔* 👇✔️ قران حکیم؛ رہنمائی کی ایک جامع کتاب، جس کے ضابطے ہر عہد اور ہر خطے کے لیے ہیں✔️ کسی بھی معاملے میں مثبت اور منفی پہلو کا لحاظ رکھنا ضروری ہے✔️ دنیا میں انسانی نفس‘ اللہ تعالیٰ کی ایک حیرت انگیز تخلیق ہے✔️ انسان دنیا میں جو اعمال کرتا ہے، جنت انھیں اَخلاق اور اَعمال کے نتائج ہیں✔️ مجرم معاشروں کا وطیرہ؛ اپنے جرم کے بدلے پیسے یا دوسرا کوئی فرد دے دیا جاتا ہے✔️ قیامت والے دن اللہ تعالیٰ کا ضابطۂ عدل کہ کوئی کسی کا بوجھ نہ اٹھائے گا✔️ قیامت والے اللہ تعالیٰ کی شانِ منصفی اوربندوں پر ذاتِ الٰہی کا خوف✔️ مترف کا قرآنی معنی و مفہوم، اس کا کردار اور اس کے نتائج و اثرات✔️ بِر و اِثم کے ابدی قوانین ہر زمانے اور ہر علاقے کے لیے ہمیشہ ایک رہے ہیں✔️ ’’فاسق‘‘ کا معنی و مفہوم، اس کا کردار اور اس کے اثرات و نتائج✔️ ’’فسق‘‘ کے عملی اثرات کا وسیع دائرہ اور اس کے اثرات و نتائج✔️ ’’مترف‘‘ کے معنی و مفہوم کے تناظر میں اس کا وسیع تر کرداری دائرہ✔️ ’’راعی‘‘ کا معنی و مفہوم، اس کی ذمہ داریاں، رعیت اور اس کا دائرۂ کار✔️ سیاسی لیڈروں، حکمرانوں (راعی) کا مفاد پرستانہ کردار اور اس کے بھیانک نتائج✔️ معاشروں پر اجتماعی تباہی و بربادی کب اور کیوں آتی ہے؟اسباب و محرکات✔️ آئین کی نوعیت، اس کی اہمیت اور ترقی یافتہ اقوام کے آئین اور اجتماعی قومی رویہ✔️ ہمارے آئین کا باب، جس میں صرف نصیحتوں کا اندراج اور سفارشات لکھی جاتی ہیں✔️ 26 ویں آئینی ترمیم، اس کا فسق اور اس کے اثرات و نتائجبروقت مطلع ہونے کے لئے

Oct 29, 20241h 8m

Ep 349سیمینار | قومی شعوری تربیت کی اساس پر پُرامن عادلانہ سماج کی تشکیل اور نوآبادیاتی دور کا نظامِ تعلیم

قومی شعوری تربیت کی اساس پر پُرامن عادلانہ سماج کی تشکیل اور *نوآبادیاتی دور کا نظامِ تعلیم**خطاب*حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری*برموقع سیمینار:* *بتاریخ:* 30؍ صفر المظفّر 1446 / 5؍ ستمبر 2024ء *بمقام:* فاسٹ یونیورسٹی، اسلام آباد کیمپس*۔ ۔ ۔ ۔ خطاب کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔* 👇✔️ تعلیم کا بنیادی مقصد اور تعلیمی اداروں کی خصوصیت ✔️ قوم و ریاست کی ترقی کے لیے اہلِ علم کا قرآن کی نظر میں مطلوبہ کردار ✔️ متضاد نظام ہائے تعلیم کے نتائج بصورت سوسائٹی میں فکری انتشار، سیاسی عدمِ استحکام اور غیر مطمئن معاشی نظام ✔️ نبی اکرم ﷺ کی صفتِ معلم کی روشنی میں اَربابِ اہلِ علم کی ذمہ داریاں✔️ قومی شناخت کے تضادات کا خاتمہ اور قومیت کی پہچان کی تعلیم و تربیت ✔️ سماج کی درست خطوط پر تعلیم و تربیت کے قرآنی معیارات: (1) حریتِ فکر✔️ (2) عدل و انصاف کی اساس پر سماجی معاہدات اور فریقین کی مساوی حیثیت کے تعین کی تعلیم✔️ (3) بلا تفریق رنگ، نسل اور مذہب‘ احترامِ انسانیت اور شہری حقوق کی حفاظت کی تعلیم و تربیت ✔️ (4) اطمینان بخش معاشی نظام قائم کرنے کے لیے تربیت یافتہ افراد مہیا کرنا؛ تعلیمی اداروں کی بنیادی ذمہ داری✔️ تعلیم و تربیت ناقابل تقسیم اکائی اور برٹش شہنشاہت کے دور میں تعلیم و تربیت کے اعلیٰ اُصولوں کی پامالی✔️ تعلیم و تربیت کے اعلیٰ اُصولوں کی پامالی کے لیے انگریز کا مدرسہ عالیہ کلکتہ کا مذہبی تعلیمی نظام اور لارڈ میکالے کا عصری تعلیمی نظام ✔️ غلامی، بداَمنی و بد حالی اور عدل و انصاف سے عاری سوسائٹی کی اصل وجہ؛ یہی دوہرا نظامِ تعلیم ✔️ ہمارے تعلیم یافتہ افراد یورپ و امریکا جانے کے لیے کیوں بے تاب ہیں؟✔️ حدیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں کامل ایمان کے معیاراتبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute*منجانب: رحیمیہ میڈیا*

Oct 27, 202446 min

Ep 348ظلمانی اور نورانی راستوں کے تاریخی شعور کے تناظر میں برصغیر کے عادلانہ اور استعماری نظاموں کے موازنہ کی دعوتِ فکر | 2024-10-18

ظلمانی اور نورانی راستوں کے تاریخی شعور کے تناظر میں برصغیر کے عادلانہ اور استعماری نظاموں کے موازنہ کی دعوتِ فکر*خُطبۂ جمعۃ المبارک:*حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری*بتاریخ:* 14؍ ربیع الثانی 1446ھ / 18؍ اکتوبر 2024ء*بمقام:* ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور*خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی:*وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسٰى بِآيَاتِنَا أَنْ أَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَذَكِّرْهُمْ بِأَيَّامِ اللّٰهِ، إِنَّ فِي ذٰلِكَ لَآيَاتٍ لِكُلِّ صَبَّارٍ شَكُورٍ۔ (-4 ابراہیم: 5)ترجمہ: ”اور البتہ تحقیق ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں دے کر بھیجا تھا کہ اپنی قوم کو اندھیروں سے روشنی کی طرف نکال اور اُنھیں اللہ کے دن یاد دلا، بے شک اس میں ہر ایک صبر شکر کرنے والے کے لیے بڑی نشانیاں ہیں“۔*۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔* 👇0:00 آغاز1:31 انسانی زندگی کے لازمی اور طبعی مراحل میں درست رہنمائی کا الٰہی نظام6:31 عالمِ ناسوت میں انسانی زندگی کو درپیش شرور فتن اور ظلمات7:30 انسانی اجتماع میں انبیا علیہم السلام اور صدیقین کی رہنمائی کا الٰہی اہتمام10:02 شر پسند انسانوں کے شر سے بچنے کے لیے ایک مضبوط نظام کی ضرورت11:12 انبیاء علیہم السلام کا العزیز و الحمید ذات سے تعلق اور اس کے تقاضے15:51 بعثتِ انبیاء علیہم السلام کے تناظر میں عرب جغرافیے پر ایک نظر اور پیغام رسانی کا نظام22:28 انبیاء علیہم السلام کی جدوجہد کی تاریخ سے رہنمائی لینے کی ضرورت و اہمیت24:09 قرآن حکیم میں انسانی معاشروں کی تاریخ کے ذریعے صراطِ مستقیم کی رہنمائی27:33 ملت کی تعریف، مفہوم اور اس کے تقاضوں کے تناظر میں اثرات و نتائج29:50 صراطِ مستقیم کی خوبیاں اور خصائص؛ قران حکیم کے تناظر میں32:24 انسانی شاہراہ حیات میں دل لبھانے والی اشیا سے بچنے کی ہدایت38:11 حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لشکر اور فرعونی لشکر میں نظریے اور کردار کا فرق48:17 لتخرج الن’اس من الظلمات الی النور کی روشنی میں آں حضرت ﷺ کی بعثت کا مقصد50:25 یہود ونصاریٰ کو جزیرۂ عرب سے نکالنے جانے کی قومی وسیاسی حکمت51:30 معاشروں کی آزادی اور قومی ترقی کے لیے قومیت کی بنیاد پر جدوجہد کی اہمیت52:26 ہندوستان میں مسلمان فاتحین کی آمد اور مقامی آبادیوں کے ساتھ حسنِ سلوکٍٍٍٍٍٍٍ55:29 ہندوستان میں مسلمان علمی طبقوں کا مقامی آبادیوں کے علم و شعور میں مثبت کردار58:20 ہندوستان میں صوفیائے کرام کی جدوجہد کے انسان دوست اثرات1:01:26 تاریخی شعور کے ذریعے ظلمات بھرے راستوں اور نورانی راستوں کی پہچان1:03:33 استعماری دور میں سامراج نے ہندوستان کو ظلمت کدے میں کیسے تبدیل کیا؟1:07:08 مسلمانوں کے قوم دشمن افراد کا انسانیت دشمن کردار اور فرقہ واریت کا فروغ1:08:03 مغربی استعماری معاشروں سے نام نہاد مسلم قیادت کی مرعوبیت کے اثرات1:11:38 دینِ اسلام کے اجتماعی نظام کو سمجھانے کے لیے امام شاہ ولی اللہ دہلوی کے تصنیفی کارنامے1:13:28 مسلمانوں کی اجتماعی تاریخ کے فلسفے کو منظم اور مدوّن کرنے میں امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کا کارنامہ1:16:02 حضرت الامام شاہ ولی اللہ ؒدہلوی کے افکار کی ترویج میں مولانا عبید اللہ سندھیؒ کا کردار1:18:43 قرآنی افکار کے تناظر میں فلسفہ تاریخ کی ضرورت و عصری اہمیتبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

Oct 22, 20241h 21m

Ep 347بطور ’’داعی الی اللہ‘‘آنحضرت ﷺ کا منہجِ دعوت بنیادی اُصول اور حکمتِ عملی کے لوازمات عصری تناظر میں | 2024-10-11

*بطور ’’داعی الی اللہ‘‘**آنحضرت ﷺ کا منہجِ دعوت*بنیادی اُصول اور حکمتِ عملی کے لوازمات؛ عصری تناظر میں*خُطبۂ جمعۃ المبارک:*حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری*بتاریخ:* 7؍ ربیع الثانی 1446ھ / 11؍ اکتوبر 2024ء*بمقام:* ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور*خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی:*1۔ يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا، وَدَاعِيًا إِلَى اللّٰهِ بِإِذْنِهِ ‌وَسِرَاجًا مُنِيرًا۔ (-33 الاحزاب: 46)ترجمہ: ”اے نبی ! ہم نے آپ کو بلاشبہ گواہی دینے والا اور خوش خبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ اور اللہ کی طرف اس کے حکم سے بلانے (والا) اور چراغ روشن بنایا ہے“۔2۔ ‌ادْعُ ‌إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ۔ (-16 النّحل: 125)ترجمہ: ”اپنے رب کے راستے کی طرف دانش مندی اور عمدہ نصیحت سے بلا اور ان سے پسندیدہ طریقہ سے بحث کر“۔*۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔* 👇✔️ حضرت محمد ﷺ کی بعثت کا قومی و بین الاقوامی پسِ منظر✔️ آنحضرت ﷺ کی بعثت کی قرار واقعی حیثیت✔️ آنحضرت ﷺ کی بعثت کے تناظر میں حضرت عمر رضی اللہ عنہٗ کا ایمان افروز واقعہ✔️ آنحضرت ﷺ کے دعوتی اَوصاف کے تناظر میں آپؐ کی دعوت کا حقیقی جوہر✔️ پارٹی کی طاقت میں تربیت یافتہ افرادی قوت کی ضرورت و اہمیت✔️ دعوت الی اللہ اور لیڈرشپ کی ذات کے درمیان اہمیت کی درجہ بندی✔️ دعوت میں موعظتِ حسنہ اور حکمت کی اہمیت اور دعوت کا اسلوب✔️ حکمت کسے کہتے ہیں؟ تعریف، مفہوم اور عصری تناظر میں اس کے تقاضے✔️ عصرِ حاضر میں آپ ﷺ کی دعوتی حکمتِ عملی کو سمجھنے میں ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ کی اہمیت✔️ جماعتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر آنحضرت ﷺ کی دعوت کے اثرات✔️ دعوت کا پہلا اصول: غلط نظام اور افکار کے بارے میں حقیقی شعوری علم✔️ دعوت کا دوسرا اُصول: نظامِ عدل کے قیام اور مفادِ عامہ کی بنیاد پر حکومت کے قیام کی دعوت✔️ دعوت کا تیسرا اُصول: انقلاب کے بین الاقوامی تناظر کو پیش نظر رکھنا✔️ آپ ﷺ کی دعوتی حکمت عملی کے لوازمات: جماعت کی تیاری، تزکیہ اور مزاج شناسی✔️ عوام کو اپنے حقوق کے لیے حکمران اور ریاست سے مجادلے کا حق حاصل ہے✔️ قانون سازی میں حکمرانوں اور عدلیہ پر عدل و انصاف کی ذمہ داری✔️ سنتِ راشدہ اور غلط طریقے میں شعوری امتیاز کی ضرورت و اہمیت✔️ غلامی کے دور میں دعوت کے خود ساختہ رُجحانات پر شعوری تنقیدی تجزیہ✔️ دعوت میں ’’بِإِذْنِهٖ‘‘ کی قید کے تناظر میں نبی مکرمؐ، جماعتِ صحابہ و صالحین کی دعوتی تاریخ✔️ عصرِ حاضر میں نبویؐ دعوتی حکمتِ عملی کو شعوری طور پر اپنانے کی ضرورت و اہمیتبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute*منجانب: رحیمیہ میڈیا*

Oct 14, 20241h 5m

Ep 346عصرِ حاضر میں دین اسلام کی اساس پر سماجی تشکیلِ نو کی اہمیت اور تقاضے | 2024-08-26

عصرِ حاضر میں دین اسلام کی اساس پرسماجی تشکیلِ نو کی اہمیت اور تقاضےخطابحضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبرموقع سیمینار:بتاریخ: 20؍ صفر المظفّر 1446 / 26؍ اگست 2024ءبمقام: سبحان مارکی، ہری پور۔ ۔ ۔ ۔ خطاب کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇✔️ ہمارے قلوب و اَذہان غلط تأثر کا شکار ہیں کہ دینِ اسلام کی اَساس پر سماجی نظام قائم نہیں ہو سکتا!✔️ مسلمان افراد، جماعتیں اور اسلامی ممالک دینِ اسلام کے سیاسی و معاشی اور سماجی نظام سے منحرف ہو کر مادی نظاموں کا آلۂ کار بن رہے ہیں✔️ دینِ اسلام کے بارہ سو سالہ نظام کے دنیا بھر میں اثرات و نتائج اور آج ہماری حالتِ زار✔️ دینِ اسلام کے سیاسی و معاشی نظام اور سماجی تعلیمات ہمارے تعلیمی اداروں کے نصاب کا حصہ ہی نہیں!✔️ دینِ اسلام کا علم، عدل، امن اور معاشی خوش حالی کا نظام✔️ دینِ حق کو تمام اَدیان اور نظاموں پر غالب کرنے کے لیے سنجیدہ جدوجہد‘ دور کا تقاضا✔️ سماجی تشکیل کا پہلا اُصول؛ قوم کو غلامی سے آزادی دلانا ہے✔️ اسلامی ملک میں سودی نظام کے ختم نہ ہونے کی اصل وجہ✔️ سماجی تشکیل کا دوسرا اُصول؛ عدل کی اَساس پر سماجی معاہدہ (سوشل کنٹریکٹ)✔️ انگریز سامراج کے دور سے لیکر آج تک ظالمانہ سماجی معاہدات کا نظام✔️ سماجی تشکیل کا تیسرا اُصول؛ بلا تفریق رنگ، نسل اور مذہب امن و امان کا سیاسی نظام✔️ سماجی تشکیل کا چوتھا اُصول؛ ہر شہری کے لیے خوش حالی کا نظام✔️ دینِ اسلام کے ان چار اصولوں کی اساس پر نام نہاد اسلامی ریاست کا ایک تجزیہ✔️ آج کا مسلمان ان اصولوں پر رہنما قرآنی تعلیمات سے غافل اور عصرِ حاضر کی ضرورت✔️ نظریے پر رسمی اور اندھی عقیدت رکھنے والی قوم کا انجامبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

Oct 13, 202445 min

Ep 345رسول اللہ ﷺ کے منصبِ ’’ شہادت‘‘ کے تناظر میں عدلِ اجتماعی کے دینی نظام کا تاریخی تسلسل اور نوآبادیاتی دور کا نظامِ ظلم؛ شعوری دعوتِ فکر | 2024-10-04

رسول اللہ ﷺ کے منصبِ ’’ شہادت‘‘ کے تناظر میںعدلِ اجتماعی کے دینی نظام کا تاریخی تسلسلاور نوآبادیاتی دور کا نظامِ ظلم؛ شعوری دعوتِ فکرخُطبۂ جمعۃ المبارک:حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 29؍ ربیع الاوّل 1446 / 4؍ اکتوبر 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورخطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی:1۔ ”يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا ‌أَرْسَلْنَاكَ ‌شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا، وَدَاعِيًا إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا مُنِيرًاo (-33 الاحزاب: 46-45)ترجمہ: اے نبی ! ہم نے آپ کو بلاشبہ گواہی دینے والا، اور خوش خبری دینے والا، اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ اور اللہ کی طرف اس کے حکم سے بُلانے والا اور چراغ روشن بنایا ہے“۔2۔ وَكَذَلِكَ ‌جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا۔ (-2 البقرہ: 143)ترجمہ: ”اور اسی طرح ہم نے تمہیں برگزیدہ امت بنایا تاکہ تم اور لوگوں پر گواہ ہو اور رسول تم پر گواہ ہو“۔۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇0:00 آغاز خطاب1:44 انفرادی اور اجتماعی سطح پر سیرت النبی ﷺ سے رہنمائی کی ضرورت5:01 گزشتہ دو خطبات کے اظہارِ خیال کا طائرانہ جائزہ اور آج کے عنوان سے ربط6:58 آپ ﷺ کا منصبِ شہادت؛ اس کی اہمیت اور تقاضے9:23 اُمتِ محمدیہ بھی شہداء علی الناس (انسانیت پر گواہی) کے منصب کی حامل ہے14:40 منصبِ ختم نبوت کے ضروری لوازمات اور اس کے بنیادی تقاضے18:51 شہادت علی الناس کو بہ طور ایک نظام کے سمجھنے کی اہمیت19:44 حکمرانوں، فقہا اور محدثین کا منصبِ گواہی ایک نظام کے ساتھ منسلک ہے22:58 فقہائے کرام کا سیاسی اور عدالتی ڈھانچوں کے قیام میں بنیادی کردار25:26 ہندوستان میں منو کے طبقاتی قوانین کے اثرات و نتائج27:18 قوانین‘ انسانیت کے اجتماعی ضمیر کی آواز ہوتے ہیں نہ کہ محض خواہشات کا پلندہ30:07 حکمرانی اور قانون سازی کے تناظر میں شہادت کا اصلی و حقیقی مفہوم32:11 مکے کے فرسودہ نظام اور مدینے کی نئی ریاست کی سیاسی و سماجی اہمیت35:04 تحویلِ قبلہ کا حکم اور سیاسی و قانونی حکمت37:26 قانون سازی میں دینی تقاضوں، سماجی عوامل اور انسانی اَقدار کی اہمیت و رعایت38:33 انسانی اَقدار (بنیادی اُصولِ حکمت) کل انسانیت کی مشترکہ اساس ہوتے ہیں41:59 قانونی نظام کی ترقی میں فقہ حنفی کا بنیادی انسانی اَقدار کے تناظر میں کردار51:42 ہندوستانیوں کے اجتماعی قانونی نظام کی تباہی میں استعمار کا کردار54:18 استعماری قانون سازی کے پسِ منظر میں انسانی اقدار کی تباہی کا منظر56:01 ہندوستان میں انگریزوں کے زیرِ سایہ دستوری نظام میں عوام دشمنی کے مظاہر58:13 ہندوستان کامستقبل اینگلو انڈین طبقوں کے ذریعے طے کرلیا گیا تھا1:01:21 ہندوستان میں کانگریس اور مسلم لیگ کے قیام کا پسِ منظر1:03:28 بہادر شاہ ظفر کے مقدمے میں استعماری عدالت کا بھیانک کردار1:06:22 بہادر شاہ ظفر کو سزائے موت نہ دینے کی اہم دستوری وجہ1:10:18 عصرِ حاضر کے عدالتی نظاموں اور استعماری دور کی عدالتوں کی مشترکہ اَساس1:12:03 مولانا عبید اللہ سندھیؒ کا بیسویں صدی اور مابعد سیاسی منظر نا مے پر ہوش رُبا تجزیہ1:14:04 علما کا نظام کے سامنے سرنڈر کرنا اور اس کے سبب عذابِ الٰہی1:16:38 انسانی معاشروں میں حقیقی سیاسی پارٹیوں کی قدرو قیمت اور اہمیت1:19:11 پاکستان کے پارلیمانی اور عدالتی بحران پر مختصر شعوری تبصرہبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

Oct 7, 20241h 24m

Ep 344ملتِ ابراہیمی کی تکمیل اور مسخ نظریات پر غلبے کی ’’بشارت‘‘ کا نبوی ﷺ منصب اور عصرِ حاضر میں اس کی اجتماعی معنویت | 2024-09-27

ملتِ ابراہیمی کی تکمیل اور مسخ نظریات پر غلبے کی ’’بشارت‘‘ کا نبوی ﷺ منصب اور عصرِ حاضر میں اس کی اجتماعی معنویتخُطبۂ جمعۃ المبارک:حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 22؍ ربیع الأوّل 1446ھ / 27؍ ستمبر 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورخطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی:‌إِنَّا ‌أَرْسَلْنَاكَ ‌بِالْحَقِّ ‌بَشِيرًا وَنَذِيرًا وَلَا تُسْأَلُ عَنْ أَصْحَابِ الْجَحِيمِ o وَلَنْ تَرْضٰى عَنْكَ الْيَهُودُ وَلَا النَّصَارٰى حَتّٰى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ قُلْ إِنَّ هُدَى اللّٰهِ هُوَ الْهُدَى وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْوَاءَهُمْ بَعْدَ الَّذِي جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍo الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَتْلُونَهُ حَقَّ تِلَاوَتِهِ أُولآئِكَ يُؤْمِنُونَ بِهِ وَمَنْ يَكْفُرْ بِهِ فَأُولآئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ“۔ (-2 البقرہ: 121-119)ترجمہ: ”بے شک ہم نے تمھیں سچائی کے ساتھ بھیجا ہے خوش خبری سنانے کے لیے اور ڈرانے کے لیے، اور تُم سے دوزخیوں کے متعلق باز پُرس نہ ہو گی۔ اور تم سے یہود اور نصاریٰ ہرگز راضی نہ ہوں گے جب تک کہ تم ان کے دین کی پیروی نہیں کرو گے۔ کہہ دو ! بے شک ہدایت اللہ ہی کی ہدایت ہے۔ اور اگر تم نے ان کی خواہشوں کی پیروی کی اس کے بعد جو تمھارے پاس علم آ چُکا، تو تمھارے لیے اللہ کے ہاں کوئی دوست اور مددگار نہیں ہو گا۔ وہ لوگ جنھیں ہم نے کتاب دی ہے وہ اسے پڑھتے ہیں جیسا اس کے پڑھنے کا حق ہے۔ وہی لوگ اس پر ایمان لاتے ہیں، اور جو اس سے انکار کرتے ہیں وہی نقصان اٹھانے والے ہیں“۔۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇0:00 آغاز1:53 بشارت کا معنی و مفہوم، اُصول و ضوابط اور عملی تقاضے و نتائج13:20 اہلِ یہود کی آپ ﷺ کے انکار کے حوالے سے ضد اور ہٹ دھرمی16:03 آپ ﷺ کے دو بنیادی وصف: بشیر اور نذیر اور اس کے تقاضے20:11 عہدِ نبوی ﷺ کے مکہ اور مدینہ منورہ میں بشارت اور انذار کے مستحق طبقے22:17 تورات میں آں حضرت ﷺ کے اوصاف کا واضح ذکر و بیاں25:07 آں حضرت ﷺ کی بعثت کا ایک مقصد؛ ملتوں کی اصلاح ہے27:45 ’’ملت‘‘ کی تعریف اور مفہوم؛ امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے ارشادات کی روشنی میں36:18 ملتوں کے وجود میں آنے کا نظام؛ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے پہلے کی ملتیں اور ملتِ ابراہیمی37:58 ملتِ ابراہیمی کے دس اُصولوں کی طرف اشارہ اور مختصر تذکرہ41:04 یہود و نصاریٰ کا ملتِ موسوی و عیسوی میں تبدیلی کرنا اور اس تبدیلی کی نوعیت48:09 سابق ملتوں میں خرابیوں کے اَسباب اور اس خرابی کے اثرات و نتائج51:18 آں حضرت ﷺ کا مشن؛ ارتفاقات اور اقترابات کے کامیاب نظام کا قیام55:13 جنگِ بدر میں مکہ کے نظام کی سیاسی طاقت کا استیصال اور مدینہ میں خوشی کی لہر1:07:00 آں حضرت ﷺ اور جماعتِ صحابہؓ کے متعدد اقدامات خوش خبری کا سامان1:09:00 ہماری غفلت اور گزشتہ تین سو سال میں استعماری کردار کے نتائج1:13:18 دینِ اسلام میں معاہدات کی پاسداری کی سنہری روایت اور اس کے خوش گوار اثرات1:16:16 سرمایہ داری نظام میں معاہدوں کی خلاف ورزیوں کا تسلسل اور اس کے نتائج1:17:55 مسلم معاشروں میں محض مخصوص طبقوں کی خوش حالی‘ حقیقی بشارت نہیں1:20:48 مسلم معاشروں میں خراب ملتوں کے آثار اور یہود و نصاریٰ کی پیروی 1:28:51 فاسد اور گمراہ ملتوں کی اتباع سے گریز کی ہدایات اور تنبیہ1:30:19 عصرِ حاضر میں آں حضرت ﷺ کے منصبِ بشارت کی معنویت اور اُمت کی ذمہ داریبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

Sep 30, 20241h 34m

Ep 343رسول اللہ ﷺ کا منصبِ ’’اِنذار‘‘ اور اس تناظر میں مفاد پرست نااہل ملکی قیادت کے کردار کے جائزہ کی دعوتِ فکر | 2024-09-20

*رسول اللہ ﷺ کا منصبِ ’’اِنذار‘‘ اور اس تناظر میں**مفاد پرست نااہل ملکی قیادت کے کردار کے جائزہ کی دعوتِ فکر**خُطبۂ جمعۃ المبارک:*حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری*بتاریخ:* 15؍ ربیع الأوّل 1446ھ / 20؍ ستمبر 2024ء*بمقام:* ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور*خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی وحدیثِ نبوی ﷺ:**آیاتِ قرآنی:**1.* وَإِنَّهُ ‌لَتَنْزِيلُ ‌رَبِّ ‌الْعَالَمِينَo نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُo عَلَى قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنْذِرِينَo (26 – الشُّعَراء: 192 تا 194)*ترجمہ:* ” اور یہ قرآن رب العالمین کا اتارا ہوا ہے، اسے امانت دار فرشتہ لے کر آیا ہے، تیرے دل پر، تاکہ تو ڈرانے والوں میں سے ہو“۔*2.* ”إِنَّمَا أَنْتَ مُنْذِرٌ ‌وَلِكُلِّ ‌قَوْمٍ ‌هَادٍ“۔ (13 – الرعد: 7)*ترجمہ:* ”تُو محض ڈرانے والے ہو، اور ہر قوم کے لیے ایک رہبر ہوتا آیا ہے“*حدیثِ نبوی ﷺ:*”إِذَا وُسِّدَ الْأَمْرُ إِلَى غَيْرِ أَهْلِهِ فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ“۔ (الجامع الصّحیح للبخاری، حدیث: 59)*ترجمہ:* ”جب (کسی قوم کا حکومتی) معاملہ نا اہل و نالائق کو سونپ دیا جائے تو (اس قوم پر) قیامت برپا ہونے کا انتظار کر“۔*۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔* 👇0:00 آغاز1:33 انسان کی قوتِ عقلیہ،اسلام کی جامعیت اور افراد کی درست خصوصیات4:44 اجتماعی قومی ترقی کے لیے درست لیڈر شب کی ضرورت و اہمیت8:24 کسی بھی اجتماع میں رائے کے دو دائرے اور لیڈر شپ کا مثبت اور منفی کردار11:13 ذاتی مفادات کے تابع اور پست رائے قائم کرنے کے نقصانات13:14 قوم کیسے وجود میں آتی ہے؟ قوم کسے کہتے ہیں؟ اور نیشنلزم کے تقاضے14:59 مشورے اور آرا کی سطح اور اعلیٰ درجے کی رائے قائم کرنے میں انبیا علیہم السلام کا مقام26:36 ربیع الاوّل میں سیرتِ طیبہ کا حقیقی پیغام اور نبی کریم ﷺ کی خصوصیت29:14 نبی کریم ﷺ کے منصبِ عالیہ کا مقصد؛ اَقوام کو اعمال کے نتائج پر ڈرانا ہے36:05 آپ ﷺ کو اپنے رشتہ داروں کو ڈرانے کا حکم38:26 امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے نزدیک مُنْذِر (ڈرانے والے) کا معنی و مفہوم42:59 اِنذار کی کیفیت ہرشخص کے مزاج اور صلاحیت کے حوالے سے مختلف ہوتی ہے59:19 آں حضرت ﷺ کے وصف ’’مُنْذِر‘‘ سے رہنمائی لینے میں ہماری غفلت1:02:12 امام ولی اللہ دہلویؒ کے ارشاد ’’ذُوْ رَأْیٍ فَاسِدٍ‘‘ کے تناظر میں اپنی تین سوسالہ تاریخ کا جائزہ1:04:33 سیاسی اور مذہبی لیڈر شپ کا کھوکھلا پن اور قوم کی غفلت کے نتائج1:07:30 بیسویں صدی کے نصفِ اوّل کے آخر میں برعظیم کے حالات پر مولانا سندھیؒ کا تجزیہ1:12:26 پاکستان کی پہلی بیوروکریسی کی عملی مہارت اور صلاحیت پر سنجیدہ سوالات1:19:34 ربیع الاوّل کے مہینے میں نبوی فرمان: ’’إِذَا وُسِّدَ الْأَمْرُ إِلیٰ غَیْرِ أَہْلِہِ‘‘ پر غوروفکر کی اہمیت بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute*منجانب: رحیمیہ میڈیا*

Sep 23, 20241h 23m

Ep 342سیمینار | مکی دعوتِ نبوی ﷺ کے مقاصد اور مدنی نظام کی تشکیل کی اساس پر سماجی رہنمائی کی ضرورت و اہمیت

*مکی دعوتِ نبوی ﷺ کے مقاصد**اور مدنی نظام کی تشکیل کی اساس پر سماجی رہنمائی کی ضرورت و اہمیت**خطاب:*حضرت ڈاکٹر مفتی سعید الرحمٰن حفظہ اللہسرپرست ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ(ٹرسٹ) لاہور*برموقع سیمینار:*بتاریخ: 29؍ صفر المظفر 1446ھ / 04؍ ستمبر 2024ءبمقام: :ڈیسٹینیشن ہوٹل جی پی او چوک مری۔ ۔ ۔ ۔ خطاب کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇✔️ رسول اللہ ﷺ کو ہمارے لیے اُسوۂ حسنہ بنانے کا درست مفہوم✔️ آپ ﷺ کا انتہا درجے کا قربِ الٰہی حاصل ہونے کے باوجود عام انسانوں کی طرح زندگی بسر کرنے کا راز✔️ تین صحابہ کرامؓ کا رسول اللہ ﷺ کی عبادت کو اسوہ و نمونہ بنانے کا شوق اور ہر ایک کا اپنا اپنا لائحۂ عمل طے کرنا✔️ رسول اللہ ﷺ کی تین صحابہؓ کے لائحۂ عمل پر تنبیہ اور عام آدمی کے لیے شاہراہِ عمل کا تعین✔️ سماجی حقوق کے لیے رسول اللہ ﷺ کی بھرپور جدوجہد✔️ بعثتِ نبوی ﷺ سے پہلے مکہ میں ظلم و جبر پر مبنی طبقاتی سوسائٹی✔️ طبقاتی تقسیم کے خاتمے کے لیے حضور ﷺ کی کلمۂ توحید کی دعوت اور سرمایہ پرست ایلیٹ کلاس (اَشرافیہ) کا ری ایکشن✔️ کلمہ ’’لا الہٰ الا اللّٰہ‘‘ طبقاتی سوسائٹی کے نظام کو بدلنے کا پیغام✔️ کلمۂ توحید کی دعوت کے تین نتائج؛ پہلا نتیجہ دنیا کی فلاح و کامیابی✔️ کلمۂ توحید کی دعوت کا دوسرا نتیجہ؛ سرزمین عرب پر حکمرانی کا قیام✔️ کلمۂ توحید کی دعوت کا تیسرا نتیجہ؛ فارِس و رُوم کی حکومتوں پر بالادستی اور بین الاقوامی نظام کا قیام✔️ آپ ﷺ کی سیاسی دعوت کا امپیکٹ؛ مکہ میں طبقات پر مبنی انسانی تقسیم کے نظام کا خاتمہ✔️ نبی اکرم ﷺ کا یثرب کو مدینہ (سول سوسائٹی) بنانے کا پہلا عمل؛ عقدِ مواخات سے مضبوط معاشی نظام کی راہ ہموار✔️ یثرب کو مدینہ (سول سوسائٹی) بنانے کا دوسرا اِقدام؛ میثاقِ مدینہ سے اَمن و امان کے مستحکم سیاسی نظام کا قیام✔️ آج ہماری سوسائٹی کی بہتری کے لیے آپ ﷺکی سیرت سے رہنمائی اور لائحۂ عمل کا معیار✔️ فکری انتشار کی حامل سوسائٹی میں دین کے درست نظریے کے فہم و شعور کی ضرورت و اہمیت✔️ دینِ اسلام میں کل انسانیت کے حقوق کی پاسداری‘ نیز ذمی کے حقوق کی پامالی پر آپ ﷺ کی سخت وعید✔️ آج کی سائنسی ترقیات کی بنیاد؛ دینِ اسلام کے دورِعروج کی مرہونِ منت✔️ سیرتِ نبی ﷺ اور روشن تاریخ کا اس نکتۂ نظر سے مطالعہ کرنے کی ضرورتبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute*منجانب: رحیمیہ میڈیا*

Sep 22, 202453 min

Ep 341نظریہ توحید؛ مفہوم و تقاضے | 2024-09-13

نظریہ توحید ؛مفہوم و تقاضےخُطبۂ جمعۃ المبارک:حضرت مولانا مفتی مختار حسنبتاریخ: یکم؍ ربیع الأوّل 1446ھ / 6؍ ستمبر 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) راولپنڈی کیمپسبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

Sep 16, 202429 min

Ep 341اقوام کے مابین فطری روابط کے تناظر میں قومی نظام کا دینی تصور اور عصری تقاضے | 2024-09-13

*اقوام کے مابین فطری روابط کے تناظر میں**قومی نظام کا دینی تصور اور عصری تقاضے**خُطبۂ جمعۃ المبارک:*حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری*بتاریخ:* 8؍ ربیع الأوّل 1446ھ / 13؍ ستمبر 2024ء*بمقام:* ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور*خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی وحدیثِ نبوی ﷺ :**آیتِ قرآنی:*يَاأَيُّهَا النَّاسُ ‌إِنَّا ‌خَلَقْنَاكُمْ ‌مِنْ ‌ذَكَرٍ وَأُنْثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ۔ (49 – الحجرات: 13)*ترجمہ:* ”اے لوگو ! ہم نے تمھیں ایک ہی مرد اور عورت سے پیدا کیا ہے، اور تمھارے خاندان اور قومیں جو بنائی ہیں تاکہ تمھیں آپس میں پہچان ہو، بے شک زیادہ عزت والا تم میں سے اللہ کے نزدیک وہ ہے جو تم میں سے زیادہ پرہیزگار ہے، بے شک اللہ سب کچھ جاننے والا خبردار ہے“۔*حدیثِ نبوی ﷺ :*”فَعَنْ مَعَادِنِ الْعَرَبِ تَسْأَلُونِ خِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقُهُوا“۔ (الجامع الصحیح للبخاری، حدیث: 3353)*ترجمہ:* ”تو عرب کے خاندانوں کے متعلق تم پوچھنا چاہتے ہو۔ سنو ! جو جاہلیت میں نیک بخت تھے اسلام میں بھی وہ نیک بخت ہیں جب کہ دین کی سمجھ انہیں آ جائے“۔*۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔* 👇0:00 آغاز خطبہ1:29 دینِ اسلام‘ فرد اور اقوام کے انفرادی و اجتماعی معاملات پر مکمل رہنمائی کرتا ہے4:19 کافر اور مسلمان کی ڈیفینیشن اور ایک مسلمان کا میدانِ عمل13:58 سورت حجرات کے مضامین اور اجتماعی معاملات پر رہنمائی14:43 تاریخِ اسلام میں صلح حدیبیہ کے معاہدے کی سیاسی و سماجی اہمیت19:36 قوموں کے درمیان خوش شگوار سیاسی و سماجی تعلقات کے بنیادی اُصول23:59 انسانوں کے درمیان بین الانسانی فطری روابط پر قرآنی نقطۂ نظر25:14 مرد و عورت کے صنفی تعلقات اور خواص سے نسلِ انسانی کی نشوونما کے تقاضے28:22 عربوں کے ہاں عشیرہ، شعوب اور قبائل کے لغوی و اصطلاحی مفاہیم کا پسِ منظر32:04 زبان اور نسل سے ایک شعب (قوم) وجود میں آتی ہے37:59 انسانی برادری میں قبائل اور اَقوام کے الگ تعارف اور شناخت کی بنیادی قرآنی حکمت42:32 انسانی سماج کے مختلف دائروں میں انسانوں کے درمیان باہمی تعاون کا قرآنی اُصول45:34 معیشت کے شعبے میں قوم کے افراد کے درمیان تعاونِ باہمی کی اہمیت48:05 آیت: ’’إِنَّ أَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ أَتْقَاکُمْ‘‘ کو احادیث کی روشنی میں سمجھنے کی اہمیت52:36 نبوی معاشرے میں افراد کے سماجی مقام و مرتبے کے حوالے سے نبوی رہنمائی55:08 مذہب کے نام سے نسل، وطن اور قومی خواص و تصورات کے انکار کا غیرحقیقی نظریہ58:56 قوم (نسل، وطن) کا اجتماعی نظام اوردینی عصری تقاضوں کی ناگزیریت1:01:00 مذہب کے نام پر ایک ہی نسل کے افراد کے درمیان نفرت کا استعماری حربہ1:05:24 ایک حدیث کے ذریعے عربوں کے شعوب (قبائل) کی فضیلت کے معیار کا تذکرہ1:20:10 قوموں کی رُولنگ کلاس کی اہمیت اور تیسری دنیا میں انھیں تباہ کرنے کے استعماری حربےبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/ht

Sep 16, 20241h 36m

Ep 340پاکستانی سماج کے علم فروش ہامانی کردار؛ تجزیہ کی دعوتِ فکر | 2024-09-06

پاکستانی سماج کے علم فروش ہامانی کردار؛تجزیہ کی دعوتِ فکرخُطبۂ جمعۃ المبارک:حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: یکم؍ ربیع الأوّل 1446ھ / 6؍ ستمبر 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) راولپنڈی کیمپسخطبے کی رہنما آیتِ قرآنی:‌وَقَالَ فِرْعَوْنُ يَاأَيُّهَا الْمَلَأُ ‌مَا ‌عَلِمْتُ ‌لَكُمْ مِنْ إِلٰهٍ غَيْرِي فَأَوْقِدْ لِي يَاهَامَانُ عَلَى الطِّينِ فَاجْعَلْ لِي صَرْحًا لَعَلِّي أَطَّلِعُ إِلَى إِلٰهِ مُوسٰى وَإِنِّي لَأَظُنُّهُ مِنَ الْكَاذِبِينَ، وَاسْتَكْبَرَ هُوَ وَجُنُودُهُ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ إِلَيْنَا لَا يُرْجَعُونَ۔ (28 – القصص: 38-39)ترجمه: ”اور فرعون نے کہا: اے سردارو! میں نہیں جانتا کہ میرے سوا تمہارا اور کوئی معبود ہے، پس اے ہامان! تُو میرے لیے گارا پکوا، پھر میرے لیے ایک بلند محل بنوا، کہ میں موسیٰ کے خدا کو جھانکوں، اور بے شک میں اسے جھوٹا سمجھتا ہوں۔ اور اس (فرعون) نے اور اس کے لشکروں نے زمین پر ناحق تکبر کیا اور خیال کیا کہ وہ ہماری طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے“۔۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇✔️ قرآن حکیم میں قصص الانبیاء بیان کرنے کی منشا اور ان کے اَسرار و رُموز اور حکمتیں✔️ انسانی معاشروں میں زوال در آنے کے اسباب اور وجوہات کا قرآنی فلسفہ✔️ اندازے، گمان اور حقیقی علم میں جوہری فرق اور ان کے اثرات و نتائج✔️ ریاست و سیاست میں حقیقی علم و دانش کے کردار و فکر کے اثرات و نتائج✔️ ماضی کی ریاستوں اور حکومتوں کی تاریخ بارے ایک عام غلط فہمی کا ازالہ✔️ انسانی معاشروں میں سماجی اور طبیعاتی قوانین سازی کے انسانی تجربات اور پسِ منظر✔️ فرعونی نظام میں ہامان کی اپنے طبیعاتی اور فلکیاتی علم کی بنیاد پر کلیدی حیثیت اور مقام✔️ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے حضرت موسیٰؑ کلیم اللہ تک علم و دانش کا تسلسل✔️ حضرت یوسف علیہ السلام کی عزیزِ مصر کے خواب کی مَلَکوتی نظام کی اساس پر تعبیر✔️ فرعونی دربار میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی حمایت میں ’رجل مؤمن‘ کی بصیرت افروز گفتگو✔️ فرعون کا ہامان کو حکم کہ: ’’میرے لیے چوبارہ بناؤ! تاکہ میں موسیٰ کے ربّ کو دیکھ سکوں‘‘✔️ ایک گھوڑے کی تمثیل سے حدیثِ نبوی ﷺ میں تین کرداروں کی نشان دہی✔️ بدکردار یہودی اہلِ علم کی مثال بوجھ بردار گدھے کی سی ہے✔️ کسی بھی دور کے علم فروش طبقے کا ظالم حکومتوں کے لیے آلہ کار کردار کی تباہ کاریاں✔️ سرمایہ دار نظاموں میں یہودی اور عیسائی علما کا علم فروشی کا کردار✔️ الٰہی علم کمزور طبقوں کی بحالی کا علم ہوتا ہے، نہ کہ فرعونوں ہامانوں اور قارونوں کے لیے✔️ ہامانی کردار کی روشنی میں برعظیم کی تین سوسالہ تاریخ کے تجزیے کی شعوری دعوت✔️ اس جدید سرمایہ داری دور میں قدیم اور جدید نظامِ تعلیم کی اَساس ہامانی فکر پر ہے✔️ آج کے دور کے فرعون، ہامان، قارون کو سیاست، علم اور دولت کے آئینے میں پہچاننے کی ضرورتبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

Sep 9, 20241h 33m

Ep 339سماجی نظام کی تشکیل میں اسلام کے اجتماعی مزاج کی ضرورت واہمیت | 2024-08-23

سماجی نظام کی تشکیل میں اسلام کے اجتماعی مزاج کی ضرورت واہمیتخُطبه جمعة المبارَكحضرت مولانا مفتی عبد المتین نعمانیبتاریخ: 17؍ صفر المظفّر 1446ھ / 23؍ اگست 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

Sep 8, 202445 min

Ep 338زوال یافتہ سوسائٹی میں جامع تصورِ دین کے فہم و ادراک کی ضرورت و اہمیت | 2024-08-30

زوال یافتہ سوسائٹی میںجامع تصورِ دین کے فہم و ادراک کی ضرورت و اہمیتخُطبۂ جمعۃ المبارک:ڈاکٹر مفتی سعید الرحمٰنبتاریخ: 24؍ صفر المظفر 1446ھ / 30؍ اگست 2024ءبمقام: جامع مسجد قبا، مانسہرہ ۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇✔️ دینِ اسلام زندگی کے ہر شعبے میں مکمل قابلِ عمل اور جامع نظام رکھتا ہے✔️ ہماری سوسائٹی میں دین کا محدود اور جزوی تصور اور اس کے اثرات✔️ عبادات کی قبولیت کی پہلی شرط؛ معاشرے میں حلال معیشت اور عادلانہ سیاست کا نظام✔️ اسلام کے نظامِ عدالت میں گواہوں کی چھان پرکھ کے معیارات اور ہماری حالتِ زار✔️ مسلمان ہونے کا کم سے کم درجہ اور اسلام کی بنیادی شرط ہمارے معاشرے میں ناپید، نیز منافقت اور اذیت پر مبنی نظام کا تسلط✔️ مسجد کی رسمیت ختم کرکے دین کے جامع تصور کی اَساس پر سوسائٹی استوار کرنے کی ضرورتبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

Sep 6, 202435 min

Ep 337پاکستانی سماج کے قوم فروش قارونی کردار؛ تجزیہ کی دعوتِ فکر | 2024-08-30

پاکستانی سماج کے قوم فروش قارونی کردار؛ تجزیہ کی دعوتِ فکرخُطبۂ جمعۃ المبارک:حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 24؍ صفر المظفر 1446ھ / 30؍ اگست 2024ءبمقام: جامع مسجد قبا، مانسہرہ خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی:‌إِنَّ ‌قَارُونَ ‌كَانَ ‌مِنْ ‌قَوْمِ مُوسٰى فَبَغَى عَلَيْهِمْ وَآتَيْنَاهُ مِنَ الْكُنُوزِ مَا إِنَّ مَفَاتِحَهُ لَتَنُوءُ بِالْعُصْبَةِ أُولِي الْقُوَّةِ إِذْ قَالَ لَهُ قَوْمُهُ لَا تَفْرَحْ إِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْفَرِحِينَ۔ (28 – القصص: 76)ترجمہ: ”بے شک قارون موسیٰ (علیه السلام) کی قوم میں سے تھا، پھر ان پر اکڑنے لگا، اور ہم نے اسے اتنے خزانے دیے تھے کہ اس کی کُنجیاں ایک طاقت ور جماعت کو اٹھانی مشکل ہوتیں، جب اس سے اس کی قوم نے کہا: اِترا مت ! بے شک اللہ اِترانے والوں کو پسند نہیں کرتا“۔۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇✔️ دینِ اسلام کا اعلیٰ پروگرام اور انبیا علیہم السلام کی بعثت کا بنیادی مقصد✔️ انبیا علیہم السلام کی جدوجہد کا بنیادی ہدف‘ قومی شعور کی بیداری ہوتا ہے✔️ خطبے کی مرکزی آیت میں فرعونی نظام کے تین بنیادی کرداروں کا تحلیل و تجزیہ✔️ انسانیت دوست جمہوری نظام کی اَساس اور فرعون کے آمرانہ نظام کا جائزہ✔️ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بنی اسرائیل میں قومی سوچ اور حنیفی تعلیمات کی اَساس پرعظیم جدوجہد✔️ گزشتہ جمعہ میں ’’قومی وطن سے تعلق و محبت اور اس کی آزادی وترقی کے ایمانی تقاضوں‘‘ پر گفتگو کا حوالہ✔️ مخصوص طبقوں کی دولت میں اضافے اور قومی استحصال کے طریقہ ہائے کار✔️ قارون کے فرعونی نظام کو قبول کرکے قوم سے غداری، بغاوت اور مال و دولت کی بہتات✔️ قارون کی وطن فروشی، اس کا مال و دولت پر اِترانا اور اس کے خلاف موسوی جدوجہد✔️ قومیت کی تشکیل میں سب سے بڑی رُکاوٹ‘ قوم کے زر خرید افراد کا تسلط✔️ قارونی دولت کے بنی اسرائیلی پست ذہنیت پرمنفی اثرات اور اس کے اثرات و نتائج✔️ غلامانہ نظام میں قوموں کے پست رویوں کی نشان دہی اور اس کے اثرات و نتائج✔️ اپنی دھرتی کے دشمن اور قوم سے نفرت کا نتیجہ؛ قارون کا بھیانک انجام✔️ قوم کے باغی فرد قارون کا قرآن حکیم میں قصہ ذکر کرنے کا بنیادی مقصد اور عبرت✔️ موسوی قصے میں قومِ قریش سے بغاوت کرنے والے سردارانِ مکہ کو اِنذار اور ان کا انجام✔️ قارونی قصے سے اپنے دور کے فرعون و قارون کی پہچان کا قرآنی قانون✔️ پچھلے تین سو سال سے ہمارے خطے پر مسلط قارون و فرعون اور وطن فروشی کا جائزہ✔️ انسان دشمن پاکستانی نظام کا اپنی قوم کے ساتھ ظلم و جبر کا بھیانک چہرہ✔️ فرعونی نظام اور اس کی قیادت اور پاکستانی نظام اور قیادت میں مماثلت✔️ پاکستانی معاشرے کے سیاسی عناصر کی طرح مذہبی طبقوں کی رسمیت اور غفلتبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

Sep 3, 20241h 15m

Ep 336سیمینار | وطنِ عزیز کو در پیش سیاسی،معاشی اور سماجی چیلنجز اور اُن کا حل

وطنِ عزیز کو در پیش سیاسی،معاشی اور سماجی چیلنجز اور اُن کا حلخِطاب:حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبرموقع سیمیناربتاریخ: یکم؍ جولائی 2024ءبمقام: کوہِ نور میرج ہال، سرگودھاخطاب کے چند مرکزی نکات 👇✔️ موجود حالات کا جائزہ اور باشعور افراد کی ذمہ داری✔️ زوال سے نکلنے کے لیے نبی اکرم ﷺ کی سیرت اور خلفائے راشدینؓ سے رہنمائی✔️ قرآن حکیم کا انسانی معاشروں کا تجزیہ اور انبیائے کرام علیہم السلام کی سیاست کا مقصد و ہدف✔️ قرآنی اصطلاح ’’عُلوّ فی الارض‘‘ اور ’’طاغوت‘‘ کی توضیح،حضر ت موسیٰ علیہ السلام اور دیگر انبیاؑ کا بنی اسرائیل کی آزادی کے لیے جدو جہد کرنا✔️ پہلا اصول: نبی اکرم ﷺ کا پیغامِ آزادی و حریت اور جماعتِ صحابہؓ کا انقلابی کردار✔️ دوسرا اُصول: بلا تفریق عدل و انصاف کا قیام✔️ تیسرا اُصول: امن و امان کا قیام✔️ چوتھا اُصول: معاشی خوش حالی کا بندوبست✔️ ان قرآنی اُصولوں کی روشنی میں سوسائٹی کا جائزہ✔️ برعظیم پاک وہند کی سیاسی و معاشی صورتِ حال؛ انگریز کے آنے سے پہلے اور بعد✔️ جنگِ آزدی 1857ء کے بعد انگریز کی سفاکیت کی وجہ سے خوف و ہراس اور شیخ الہندؒ کا جرأت مندانہ کردار✔️ ہندوستان کو غلام بنانے کے لیے غلامانہ تعلیمی نظام اور حریت پسندوں کا کردار✔️ امریکہ کا ہندوستان کو تقسیم کرنے پر برطانیہ پر دباؤ اور غلامی کا نیا دور✔️ وطنِ عزیز کے مسائل کا قرآنی تعلیمات کی روشنی میں حلبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

Aug 30, 20241h 13m

Ep 335قومی وطن سے تعلق و محبت اور اس کی آزادی وترقی کے ایمانی تقاضے| 2024-08-23

قوم کی آزادی کے لئے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شعوری و تنظیمی جدوجہد کے تناظر میں*قومی وطن سے تعلق و محبت اور اس کی آزادی وترقی کے ایمانی تقاضے**خُطبۂ جمعۃ المبارک:*حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری*بتاریخ:* 17؍ صفر المظفر 1446ھ / 23؍ اگست 2024ء*بمقام:* ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور *خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی:*‌”وَنُرِيدُ ‌أَنْ ‌نَمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الْأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ“۔ (28 – القصص: 5)*ترجمہ:* ”اور ہم چاہتے تھے کہ ان پر احسان کریں جو ملک میں کمزور کیے گئے تھے اور انہیں سردار بنا دیں اور انہیں وارث کریں“۔*۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔* 👇✔️ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور آں حضرت ﷺ کی سیرت میں آج کے حالات میں رہنمائی✔️ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی جدوجہد تاریخ انسانی کے لیے اہم سنگِ میل✔️ آزادی کے نام پر سامراج کا انسانیت کی آنکھوں میں دُھول جھونکنے کا قبیح عمل✔️ موسوی سیرت اور جدوجہد کے طریقۂ کار کی اہمیت اور عصری ناگزیریت✔️ انسانی سماجی ارتقاء میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی جدوجہد کا مقام✔️ خطبے کی مرکزی ’’سورت قصص‘‘ کی آیت کا گزشتہ خطبے کی مرکزی ’’سورت شعراء‘‘ کی آیت میں ربط✔️ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمد ﷺ کی جدوجہد میں مماثلت✔️ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دو بنیادی خصوصیات؛ حقائق کی بنیاد پر علم اور حکمت کی اَساس پر حکم✔️ انسانی اجتماعیت کے لیے ڈیٹا کی بنیاد پر درست تجزیے کی اہمیت اور ناگزیریت✔️ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تحریکِ آزادی میں آباؤ اجداد کے وطن اورقومیت کی اہمیت✔️ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی جدوجہد کے تناظر میں بنی اسرائیل سے خدائی وعدہ✔️ مؤثر سیاسی کردار کے لیے نسلوں کا اپنی دھرتی اور وطن ، قومیت سے تعلق کی اہمیت✔️ آں حضرت ﷺ کا اپنے وطن مکہ کے ساتھ محبت کا والہانہ اظہار✔️ انسانیت کو اپنے گھروں سے بے دخل کرنے کو قرآن نے جرم قرار دیا ہے✔️ وطن سے تعلق اور محبت کا اظہار‘ ایمانی جذبات کے منافی نہیں ہے✔️ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی جدوجہد کی حکمتِ عملی کے دو اہم گوشے✔️ استعمار کے دورِ غلامی میں مقامی قوموں کو اپنے حق میں استعمال کرنے کی دو جہتی حکمتِ عملی✔️ 1857ء میں اس خطے (پاکستان) میں استعماری ظلم و بربریت کے انسانیت سوز نمونے✔️ بنی اسرائیل کے تین گروہوں کے کردار و رویوں کا تحلیل و تجزیہ اور قرآنی موعظت✔️ قوم کی سیاسی تنظیم کے لیے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اپنی قوم کے بارہ قبیلوں کے لیے اقدامات✔️ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اپنے وطن میں دفن ہونے کی خواہش‘ وطن سے محبت کی علامت!✔️ آں حضرت ﷺ کے خطبہ تبوک میں بیان شدہ سیاسی و تنظیمی اُمور کی اہمیت✔️ ملک پاکستان سے محبت اور اس میں انسانی آزادیوں اور حقوق کے لیے جدوجہد کی ضرورت و اہمیتبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute*منجانب: رحیمیہ میڈیا*

Aug 26, 20241h 24m

Ep 334حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اُلوہی رہنمائی کے تناظر میں پُراَمن منظّم اجتماعی جِدّوجُہد کے لائحۂ عمل کی رہنمائی| 2024-08-16

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اُلوہی رہنمائی کے تناظر میںپُراَمن منظّم اجتماعی جِدّوجُہد کے لائحۂ عمل کی رہنمائیخُطبۂ جمعۃ المبارک:حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 10؍ صفر المظفر 1446ھ / 16؍ اگست 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی وحدیثِ نبوی ﷺآیاتِ قرآنی”وَإِذْ نَادَى رَبُّكَ مُوسَى ‌أَنِ ‌ائْتِ الْقَوْمَ الظَّالِمِينَo قَوْمَ فِرْعَوْنَ أَلَا يَتَّقُونَo قَالَ رَبِّ إِنِّي أَخَافُ أَنْ يُكَذِّبُونِo وَيَضِيقُ صَدْرِي وَلَا يَنْطَلِقُ لِسَانِي فَأَرْسِلْ إِلَى هَارُونَo وَلَهُمْ عَلَيَّ ذَنْبٌ فَأَخَافُ أَنْ يَقْتُلُونِo قَالَ کَلَّا“۔ (26 – الشّعراء: 10 تا 14)ترجمہ: ”اور جب تیرے رب نے موسیٰ کو پکارا کہ اس ظالم قوم کے پاس جا، فرعون کی قوم کے پاس، کیا وہ ڈرتے نہیں؟ عرض کی: اے میرے رب! میں ڈرتا ہوں کہ مجھے جُھٹلا دیں، اور میرا سینہ تنگ ہو جائے، اور میری زبان نہ چلے، پس ہارون کو پیغام دے، اور میرے ذمہ ان کا ایک گناہ بھی ہے، سو میں ڈرتا ہوں کہ مجھے مار نہ ڈالیں، فرمایا ہر گز نہیں“۔حدیثِ نبوی ﷺ :”هٰذَا كَانَ ‌فِرْعَوْنَ ‌هَذِهِ ‌الْأُمَّةِ“۔ (مسنَد أحمد، حدیث: 3824)ترجمہ: (غزوہ بدر میں جب ابوجہل مارا گیا اور آپ ﷺ کو اس کی خبر دی گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا:)”یہ (ابوجہل) اس امت کا فرعون تھا“۔۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇✔️ سوسائٹی کے اصلاحِ احوال کے لیے قرآنی قصص سے رہنمائی کے بنیادی اُصول✔️ خطبے کی مرکزی آیتِ قرآنی کا پس منظر اور خلاصہ مضامین کا مختصر تذکرہ✔️ سورت شعراء کے حروف مقطعات کا مطلب و مفہوم اور اَسرار و رموز✔️ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعے میں سیکھنے کے اہم ترین اسباق✔️ حقیقی طور پر قوم بننے کے بنیادی، لازمی، ضروری اور ناگزیر اقدامات✔️ فرعون کے ظلم کا طریقۂ کار اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی جدوجہدِ آزادی✔️ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اللہ تعالیٰ سے شرح صدر اور فصاحتِ لِسانی کی دعا✔️ شرح صدر اور ضیق الصدر کی تعریفات کے حوالے سے ایک سابقہ خطاب کا حوالہ✔️ شرح صدر اور نورِالٰہی کے حوالے سے حضرت مولانا عبید اللہ سندھی کی تشریح✔️ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اللہ تعالیٰ سے حضرت ہارون علیہ السلام کو ساتھ لے جانے کی درخواست✔️ نظریے کی دعوت اور ابلاغ کے لیے صلاحیت اظہار ما فی الضمیر کی اہمیت✔️ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہما السلام کی فرعون کی دربار میں مدلل گفتگو✔️ جماعتی نظم و ضبط کے ساتھ نظریے پر یقین اور عصری تقاضوں کی اہمیت✔️ برصغیر میں مخلص قومی سیاسی پارٹیوں و شخصیات اور مفاد پرست طبقوں کی جدوجہد میں فرق✔️ برعظیم میں امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی نظریاتی ابلاغ اور جماعت سازی کی عظیم جدوجہد✔️ ولی اللّٰہی فکر کے ابلاغ میں ولی اللّٰہی خاندان اور مابعد کے علمائے حق کا حکمت افروز کردار✔️ عصرِ حاضر میں جدوجہد کا لائحۂ عمل اور اس میں شعور و حکمت اور عصری تقاضوں کے لحاظ کی اہمیتبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

Aug 19, 20241h 30m

Ep 333انسانی تاریخ سے عبرت کے قرآنی اُصول کی روشنی میں ماہِ اگست کے اہم واقعات میں سامراجی قوتوں کے سفّاکانہ کردار کے شعوری تجزیہ کی دعوت| 2024-08-09

انسانی تاریخ سے عبرت کے قرآنی اُصول کی روشنی میں ماہِ اگست کے اہم واقعات میںسامراجی قوتوں کے سفّاکانہ کردار کے شعوری تجزیہ کی دعوتخُطبۂ جمعۃ المبارک:حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 3؍ صفر المظفر 1446ھ / 9؍ اگست 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی:‌أَفَلَمْ ‌يَسِيرُوا ‌فِي ‌الْأَرْضِ فَتَكُونَ لَهُمْ قُلُوبٌ يَعْقِلُونَ بِهَا أَوْ آذَانٌ يَسْمَعُونَ بِهَا فَإِنَّهَا لَا تَعْمَى الْأَبْصَارُ وَلَكِنْ تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِo (22 – الحج: 46)ترجمہ: ”کیا انھوں نے ملک میں سیر نہیں کی پھر ان کے ایسے دل ہو جاتے جن سے سمجھتے یا ایسے کان ہو جاتے جن سے سنتے پس تحقیق بات یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ دل جو سینوں میں ہیں اندھے ہو جاتے ہیں“۔۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇✔️ انسانی معاشروں میں گرد و پیش کے حالات و واقعات کے شعوری تجزیے کے قرآنی اُصول✔️ خطبے کی مرکزی آیت کا سیاق و سباق اور مختصر مگر جامع تفسیری خلاصہ✔️ دینِ اسلام میں جنگ اور جہاد کی اجازت کا سبب اور اس کے مقاصدوتقاضے✔️ دنیا میں جہاد اور لڑائی کے ذریعے امن و امان قائم رکھنے کی قرآنی حکمت✔️ گزشتہ اقوام کی تاریخ سے واقفیت اور اس سے عبرت حاصل کرنے کا اصول✔️ شعوری مشاہدہ یعنی دل کی آنکھوں سے دیکھنے اور اس کے ذریعے عبرت حاصل کرنے کا اُصول✔️ گردو پیش کے واقعات کو دل کے کانوں سے سننے اور اس سے عبرت حاصل کرنے کا اُصول✔️ شیطانی وساوس اور خیالات سے پیدا ہونے والی تین خطر ناک انسانی حالتیں✔️ تین حالتیں: ظلمت (دل کا اندھا پن)، قساوت (دل کی سختی)، غفلت (گردوپیش سے بے خبری)✔️ 6/9 ؍ اگست 1945ء کو جاپان پر ایٹمی حملے میں عبرت اور سیکھنے کے مواقع✔️ اگست کے مہینے میں سامراجی قوتوں کے انسانی تاریخ کے بھیانک عبرت ناک فیصلے✔️ ایٹم بنانے کے لیے یورینیم اِکٹھا کرنے کے سامراجی معاہدے اور اس کامنفی استعمال✔️ سفاک لوگوں کے دل بھیڑیوں کے دلوں کی مانند ہوتے ہیں✔️ برطانیہ اور امریکا کی رُولنگ کلاس کی سفاکانہ تاریخ اور ظالمانہ کردار✔️ بنگلہ دیش میں حکومت بدلنے کا پسِ منظر اور عالمی سامراجی قوتوں کا کردار✔️ بنگلہ دیش کے نئے صدر (یونس) کا اصل کارنامہ اور اس کا حقیقی تعارف✔️ برطانوی وزیر اعظم کا تقسیمِ ہند کو قبول کروانے کے لیے مقامی قیادت پر دباؤ✔️ اگست 1945ء میں جاپان پر ایٹمی حملے کے ذمہ دار تین یورپین ملک امریکا، برطانیہ اور کینیڈا ہیں✔️ آج مسلمان ممالک ظلمت اور غفلت کی حالت میں ہیں، اگست؛ انسانی تاریخ پر غوروفکر کا مہینہ ہے، اس سے نکلنے کی حکمت عملیمکمل خطبہ سننے کے لیے درجِ ذیل لِنکس پر کلک کیجیے 👇یوٹیوبفیس بُکبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

Aug 14, 20241h 7m

Ep 330تدبُّرِ قرآن حکیم ضرورت و اہمیت| 2024-07-28

تدبُّرِ قرآن حکیم ضرورت و اہمیتتقریب تقسیم اسناد شرکت دورہ تفسیر قرآن حکیم 2024ءخطاب: حضرت مولانا مفتی عبد المتین نعمانیبتاریخ: 21؍ محرم الحرام 1446ھ / 28؍ جولائی 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور مکمل خطاب سننے کے لیے درجِ ذیل لِنکس پر کلک کیجیے یوٹیوبفیس بکبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل ( ) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

Aug 14, 202448 min

Ep 329دورہ تفسیر اور ہماری اجتماعی ذمہ داریاں| 2024-07-28

دورہ تفسیر اور ہماری اجتماعی ذمہ داریاںتقریب تقسیم اسناد شرکت دورہ تفسیر قرآن حکیم 2024ءخطاب: حضرت ڈاکٹر مفتی سعید الرحمنبتاریخ: 21؍ محرم الحرام 1446ھ / 28؍ جولائی 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور مکمل خطبہ سننے کے لیے درجِ ذیل لِنکس پر کلک کیجیے یوٹیوبفیس بکبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل ( ) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

Aug 14, 202445 min

Ep 332سامراجی قوتوں کے سفّاکانہ کردار کے شعوری تجزیہ کی دعوت| 2024-08-09

انسانی تاریخ سے عبرت کے قرآنی اُصول کی روشنی میں ماہِ اگست کے اہم واقعات میںسامراجی قوتوں کے سفّاکانہ کردار کے شعوری تجزیہ کی دعوتخُطبۂ جمعۃ المبارک:حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 3؍ صفر المظفر 1446ھ / 9؍ اگست 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی:‌أَفَلَمْ ‌يَسِيرُوا ‌فِي ‌الْأَرْضِ فَتَكُونَ لَهُمْ قُلُوبٌ يَعْقِلُونَ بِهَا أَوْ آذَانٌ يَسْمَعُونَ بِهَا فَإِنَّهَا لَا تَعْمَى الْأَبْصَارُ وَلَكِنْ تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِo (22 – الحج: 46)ترجمہ: ”کیا انھوں نے ملک میں سیر نہیں کی پھر ان کے ایسے دل ہو جاتے جن سے سمجھتے یا ایسے کان ہو جاتے جن سے سنتے پس تحقیق بات یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ دل جو سینوں میں ہیں اندھے ہو جاتے ہیں“۔۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇✔️ انسانی معاشروں میں گرد و پیش کے حالات و واقعات کے شعوری تجزیے کے قرآنی اُصول✔️ خطبے کی مرکزی آیت کا سیاق و سباق اور مختصر مگر جامع تفسیری خلاصہ✔️ دینِ اسلام میں جنگ اور جہاد کی اجازت کا سبب اور اس کے مقاصدوتقاضے✔️ دنیا میں جہاد اور لڑائی کے ذریعے امن و امان قائم رکھنے کی قرآنی حکمت✔️ گزشتہ اقوام کی تاریخ سے واقفیت اور اس سے عبرت حاصل کرنے کا اصول✔️ شعوری مشاہدہ یعنی دل کی آنکھوں سے دیکھنے اور اس کے ذریعے عبرت حاصل کرنے کا اُصول✔️ گردو پیش کے واقعات کو دل کے کانوں سے سننے اور اس سے عبرت حاصل کرنے کا اُصول✔️ شیطانی وساوس اور خیالات سے پیدا ہونے والی تین خطر ناک انسانی حالتیں✔️ تین حالتیں: ظلمت (دل کا اندھا پن)، قساوت (دل کی سختی)، غفلت (گردوپیش سے بے خبری)✔️ 6/9 ؍ اگست 1945ء کو جاپان پر ایٹمی حملے میں عبرت اور سیکھنے کے مواقع✔️ اگست کے مہینے میں سامراجی قوتوں کے انسانی تاریخ کے بھیانک عبرت ناک فیصلے✔️ ایٹم بنانے کے لیے یورینیم اِکٹھا کرنے کے سامراجی معاہدے اور اس کامنفی استعمال✔️ سفاک لوگوں کے دل بھیڑیوں کے دلوں کی مانند ہوتے ہیں✔️ برطانیہ اور امریکا کی رُولنگ کلاس کی سفاکانہ تاریخ اور ظالمانہ کردار✔️ بنگلہ دیش میں حکومت بدلنے کا پسِ منظر اور عالمی سامراجی قوتوں کا کردار✔️ بنگلہ دیش کے نئے صدر (یونس) کا اصل کارنامہ اور اس کا حقیقی تعارف✔️ برطانوی وزیر اعظم کا تقسیمِ ہند کو قبول کروانے کے لیے مقامی قیادت پر دباؤ✔️ اگست 1945ء میں جاپان پر ایٹمی حملے کے ذمہ دار تین یورپین ملک امریکا، برطانیہ اور کینیڈا ہیں✔️ آج مسلمان ممالک ظلمت اور غفلت کی حالت میں ہیں، اگست؛ انسانی تاریخ پر غوروفکر کا مہینہ ہے، اس سے نکلنے کی حکمت عملیبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

Aug 12, 20241h 7m

Ep 331اندھے فرعونی نظام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بصیرت افروز جدوجہدِ آزادی کے تناظر میں استعماری طاقتوں کے کردار کے تجزیہ کی ضرورت| 2024-08-02

اندھے فرعونی نظام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بصیرت افروز جدوجہدِ آزادی کے تناظر میںاستعماری طاقتوں کے کردار کے تجزیہ کی ضرورتخُطبۂ جمعۃ المبارک:حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 26؍ محرم الحرام 1446ھ / 2؍ اگست 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی:”‌وَمَا ‌يَسْتَوِي الْأَعْمَى وَالْبَصِيرُ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَلَا الْمُسِيءُ قَلِيلًا مَا تَتَذَكَّرُونَ“۔ (40 – المؤمن: 58)ترجمہ: ”اور اندھا اور دیکھنے والا برابر نہیں، اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے وہ، اور بدکار، برابر نہیں۔ تم بہت ہی کم سمجھتے ہو“۔۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ درست فیصلوں کے پیچھے عقل و شعور اور سماجی بصیرت کی ضرورت و اہمیت حقائق کو سامنے رکھ کر فیصلے ہی حقیقی فیصلے کیے جاسکتے ہیں چیزوں کو سمجھنے کے لیے متضاد اشیا اپنی مخالف چیزوں کو سمجھنے میں معاون ہوتی ہیں اندھے اور بینا شخص کے دیکھنے کی صلاحیت میں فرق کی قرآنی تمثیل حضور اکرم ﷺ کی بصیرتِ نبوت، قلبی نورانیت اور سچے خواب ایمان کا تعلق انسان کے قلب اور عقل سے ہے اور اعمال کا تعلق نفس (اعضا) سے ہے عقل و قلب کے مسخ ہونے سے عمل کی صلاحیت بھی مفقود ہو جاتی ہے اس سورت میں حضرت موسیٰ کی جدوجہد اور فرعون کی سرکشی کے ذکر سے تذکیر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف سے فرعون سے بنی اسرائیل کی آزادی کا مطالبہ اور نظام میں کھلبلی قومِ فرعون کے ایک رجل مؤمن کی طرف سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی حمایت فرعون کے دور میں طبیعاتی اور فلکیاتی امور کے ماہر جادو گرہی دانش ور سمجھے جاتے تھے علم بذاتِ خود کوئی بھی غلط نہیں ہوتا بلکہ اس کا غلط یا صحیح استعمال ہی اصل ہے مصر کی تہذیب و معاشرت کی ترقی میں حضرت یوسف علیہ السلام کا ترقی پسندانہ کردار

Aug 7, 20241h 25m

Ep 328تعمیری رویوں اور معاشرے کی تشکیل میں قرآن حکیم کی تلاوت،اس کے نظامِ حکمت اور صفتِ احسان کا اَساسی کردار| 2024-07-28

تعمیری رویوں اور معاشرے کی تشکیل میں قرآن حکیم کی تلاوت،اس کےنظامِ حکمت اور صفتِ احسان کا اَساسی کردارتکمیلی نشست دورہ تفسیر قرآن حکیمخطاب: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 21؍ محرم الحرام 1446ھ / 28؍ جولائی 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور خطاب کی رہنما آیاتِ قرآنی وحدیث نبوی ص:آیاتِ قرآنی1۔ ‌هُوَ ‌الَّذِي ‌أَرْسَلَ ‌رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ۔ (9 – التوبہ: 33)ترجمہ: ”اس (اللہ تعالیٰ) نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا ہے، تاکہ اسے سب دینوں پر غالب کرے اور اگر چہ مشرک نا پسند کریں“۔2۔ ‌وَكُونُوا ‌مَعَ ‌الصَّادِقِينَ۔ (9 – التوبہ: 119)ترجمہ: "اور ہو جاؤ سچوں کے ساتھ"۔حدیثِ نبوی ﷺ:”خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ“۔ (الجامع الصحیح للبخاری، حدیث: 5027)ترجمہ: ”تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن مجید پڑھے اور پڑھائے“۔۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ تمہیدی گفتگو قرآن حکیم کے حوالے سے ہماری روز مرہ حکمتِ عملی اور ترجیحات کیا ہونی چاہئیں تلاوتِ قرآن حکیم کے حوالے سے غلط فہمی کا ازالہ اور تلاوتِ قرآن کی اہمیت تلاوتِ قرآن حکیم کے حوالے سے عقلی ترغیبات اور امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے ارشادات صوفیائے کرام کے اقوال اور مجالس کے لیے مریدین اور معتقدین کا اہتمام قرآن حکیم کی تلاوت اور تفہیم کے لیے امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کا خصوصی ارشاد روزانہ قرآن حکیم کی تلاوت کے معمول کا شخصیت سازی میں اہم ترین کردار قرآن حکیم دین کے مکمل نظامِ فکر و عمل کی دعوتِ فکر و عمل دیتا ہے قرآن حکیم عبادات سمیت انسانیت کے مسلمہ اقدار کو قائم کرنے کی دعوت دیتا ہے قرآن حکیم ابدی سچائیوں کے عملی نظام کو قائم کرنے کا ایک لائحۂ عمل دیتا ہے محض لفاظی اور گفتگو کے بجائے قرآنی تعلیمات کے مطابق اپنی تربیت پیش نظر رہے تربیت اور رویوں کی تبدیلی اور تعمیر میں صفتِ احسان کا بنیادی کردار قرآن حکیم کے چار بنیادی اُمورِ تربیت: تلاوتِ قرآن، تعلیمِ کتاب،...

Aug 4, 202452 min

Ep 327غلبہ دین کی جدوجہد کے لیے دینی فکر کی ضرورت اور عصری تقاضے| 2024-07-19

غلبہ دین کی جدوجہد کے لیےدینی فکر کی ضرورت اور عصری تقاضےخُطبۂ جمعۃ المبارک:حضرت مولانا مفتی عبدالمتین نعمانی بتاریخ: 12؍ محرم الحرام 1446ھ / 19؍ جولائی 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور مکمل خطبہ سننے کے لیے درجِ ذیل لِنکس پر کلک کیجیے یوٹیوبفیس بکبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل () آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute

Aug 4, 202446 min

Ep 326صالح نظام کے قیام میں مجتہدین (اہل علم و دانش) کا کردار| 2024-07-26

*صالح نظام کے قیام میں**مجتہدین (اہل علم و دانش) کا کردار**خُطبۂ جمعۃ المبارک:*حضرت مولانا مفتی عبد المتین نعمانی*بتاریخ:* 19؍ محرم الحرام 1446ھ / 26؍ جولائی 2024ء*بمقام:* ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورمکمل خطبہ سننے کے لیے درجِ ذیل لِنکس پر کلک کیجیے یوٹیوبفیس بکبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل () آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute*منجانب: رحیمیہ میڈیا*

Aug 4, 202443 min

Ep 325اہلِ ایمان اور نمازیوں کی صفات اور سوسائٹی میں ان کا کردار| 2024-07-26

*اہلِ ایمان اور نمازیوں کی صفات**اور سوسائٹی میں ان کا کردار**خُطبۂ جمعۃ المبارک:*حضرت مولانا مفتی مختار حسن*بتاریخ:* 19؍ محرم الحرام 1446ھ / 26؍ جولائی 2024ء*بمقام:* ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورمکمل خطبہ سننے کے لیے درجِ ذیل لِنکس پر کلک کیجیے یوٹیوبفیس بکبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل () آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute*منجانب: رحیمیہ میڈیا*

Aug 4, 202444 min

Ep 324عصرِ حاضر میں اعلیٰ تعلیمی اداروں میں اَساتذہ کی ذمہ داریاں اور فرائض (اعلیٰ تعلیم کے انسان دوست تقاضے اور موجود نظامِ تعلیم کا غلامانہ ڈھانچہ)| 2024-07-01

عصرِ حاضر میں اعلیٰ تعلیمی اداروں میںاَساتذہ کی ذمہ داریاں اور فرائض(اعلیٰ تعلیم کے انسان دوست تقاضے اور موجود نظامِ تعلیم کا غلامانہ ڈھانچہ)خِطاب:حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبرموقع سیمیناربتاریخ: یکم؍ جولائی 2024ءبمقام: یونیورسٹی آف لاہور (سرگودھا کیمپس)خطاب کے چند مرکزی نکات علم کے فروغ اور ترقی و کامیابی کے لیے علمی مکالمے اور تعلیمی مراکز کا کردار استاذ ہونا بہت بڑا شرف اور معلم کے دو بنیادی وصف قرآنی آیات کی روشنی میں ریاستی اُمور کی انجام دہی کے لیے معاہدات کی پاسداری اور اعلیٰ تعلیم (ہائر ایجوکیشن) کی ضرورت و اہمیت ایمان سے متعلق حدیثِ نبویؐ سے امن و سلامتی، عدل و انصاف اور معاشی مساوات کی وضاحت اور معلم کی بنیادی ذمہ داریاں ہمارا غلامانہ تعلیمی ڈھانچہ اور پالیسیاں‘ آزاد ذہنیت پیدا کرنے سے کوسوں دور دینِ اسلام کی تعلیمات کے تناظر میں ریاست کا مفید شہری بننے کی ناگزیریت انسان دوست رویوں کا فروغ‘ اعلیٰ تعلیمی اداروں کے اساتذہ کا بنیادی ہدف ترقی یافتہ سوسائٹی اور مفید شہری بنانے کے لیے اساتذہ کی ذمہ داریاں پرو ریکٹر کے کلمات تشکرمکمل خطاب سننے کے لیے درجِ ذیل لِنک پر کلک کیجیے بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل () آئیکون کو دبادیں۔منجانب: رحیمیہ میڈیا

Aug 4, 202443 min

Ep 323سچ اور جھوٹ کے نظاموں کے بارے میں قرآن حکیم کی تقابلی رہنمائی اور بُرائی کے دائرے میں محصور پاکستانی معاشرہ| 2024-07-26

سچ اور جھوٹ کے نظاموں کے بارے میں قرآن حکیم کی تقابلی رہنمائی اوربُرائی کے دائرے میں محصور پاکستانی معاشرہخُطبۂ جمعۃ المبارک:حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 19؍ محرم الحرام 1446ھ / 26؍ جولائی 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی وحدیثِ نبوی ﷺ:آیاتِ قرآنی:فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَبَ عَلَى اللَّهِ ‌وَكَذَّبَ ‌بِالصِّدْقِ إِذْ جَاءَهُ أَلَيْسَ فِي جَهَنَّمَ مَثْوًى لِلْكَافِرِينَo وَالَّذِي جَاءَ بِالصِّدْقِ وَصَدَّقَ بِهِ أُولَئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَo (39 – الزمر: 32-33)ترجمہ: ”پھر اس سے کون زیادہ ظالم ہے جس نے اللہ پر جھوٹ بولا اور سچی بات کو جھٹلایا، جب اس کے پاس آئی، کیا دوزخ میں کافروں کا ٹھکانا نہیں ہے! اور جو سچی بات لایا اور جس نے اس کی تصدیق کی، وہی پرہیزگار ہیں“۔حدیثِ نبوی ﷺ:”إِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَصْدُقُ حَتَّى يَكُونَ صِدِّيقًا، وَإِنَّ الْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ وَإِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَكْذِبُ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ كَذَّابًا۔ (الجامع الصّحیح للبخاری، حدیث: 6094)ترجمہ: ”بلاشبہ سچ آدمی کو نیکی کی طرف بلاتا ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے، اور ایک شخص سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ ”صدیق“ کا لقب اور مرتبہ حاصل کر لیتا ہے۔ اور بلاشبہ جھوٹ برائی کی طرف لے جاتا ہے اور برائی جہنم کی طرف، اور ایک شخص جھوٹ بولتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ کے یہاں ”بہت جھوٹا“ لکھ دیا جاتا ہے۔“۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ جھوٹ ایک معاشرتی خرابی، جس سے معاشرہ جہنم کا نمونہ بن جاتا ہے سورت زمرکی آیات میں دو جماعتوں کے رویوں کا تذکرہ کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنے اور بہتان باندھنے والے لوگوں کی حقیقت خبر اور واقعات کو نقل کرتے ہوئے حقیقتِ حال کے مطابق بات کرنا سچ ہوتا ہے انسانی کیفیت اور جذبات کو مادی چیزوں کی طرح نہیں ناپا جاسکتا جھوٹ اور سچ کا بنیادی فلسفہ اور دونوں کے سماجی اور اُخروی نتائج تمام شرائع اور جملہ اجتماعی ضابطوں کا مرکزی محور بر واثم (نیکی اور گناہ) ہوتا ہے امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے نزدیک بر و اِثم یعنی نیکی اور گناہ کا اجتماعی دائرہ نیکی اور صدق کا باہمی تعلق، اس کے اجتماعی نتائج اور اس کا جنت کی طرف لے جانے کا مفہوم عزم، ارادہ اور نیت کی حقیقت اور اس کے عملی نتائج کے اثرات و ثمرات بدی اور جھوٹ کا باہمی تعلق، ان کے اجتماعی نتائج اور اس کے جہنم کی طرف لے جانے کا مفہوم جھوٹی ا...

Aug 4, 20241h 19m

Ep 322عادلانہ سوسائٹی کے قیام میں معاہدات کا کردار | 2024-07-19

عادلانہ سوسائٹی کے قیام میںمعاہدات کا کردارخُطبۂ جمعۃ المبارک:حضرت مولانا مفتی مختار حسنبتاریخ: 12؍ محرم الحرام 1446ھ / 19؍ جولائی 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور پیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

Jul 22, 202441 min