PLAY PODCASTS
اندھے فرعونی نظام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بصیرت افروز جدوجہدِ آزادی کے تناظر میں استعماری طاقتوں کے کردار کے تجزیہ کی ضرورت| 2024-08-02
Episode 331

اندھے فرعونی نظام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بصیرت افروز جدوجہدِ آزادی کے تناظر میں استعماری طاقتوں کے کردار کے تجزیہ کی ضرورت| 2024-08-02

خطبات · Rahimia Institute of Quranic Sciences

August 7, 20241h 25m

Audio is streamed directly from the publisher (media.transistor.fm) as published in their RSS feed. Play Podcasts does not host this file. Rights-holders can request removal through the copyright & takedown page.

Show Notes

اندھے فرعونی نظام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بصیرت افروز جدوجہدِ آزادی کے تناظر میں
استعماری طاقتوں کے کردار کے تجزیہ کی ضرورت

خُطبۂ جمعۃ المبارک:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری

بتاریخ: 26؍ محرم الحرام 1446ھ / 2؍ اگست 2024ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور 

خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی:
”‌وَمَا ‌يَسْتَوِي الْأَعْمَى وَالْبَصِيرُ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَلَا الْمُسِيءُ قَلِيلًا مَا تَتَذَكَّرُونَ“۔ (40 – المؤمن: 58)
ترجمہ: ”اور اندھا اور دیکھنے والا برابر نہیں، اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے وہ، اور بدکار، برابر نہیں۔ تم بہت ہی کم سمجھتے ہو“۔

۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔
درست فیصلوں کے پیچھے عقل و شعور اور سماجی بصیرت کی ضرورت و اہمیت حقائق کو سامنے رکھ کر فیصلے ہی حقیقی فیصلے کیے جاسکتے ہیں چیزوں کو سمجھنے کے لیے متضاد اشیا اپنی مخالف چیزوں کو سمجھنے میں معاون ہوتی ہیں اندھے اور بینا شخص کے دیکھنے کی صلاحیت میں فرق کی قرآنی تمثیل حضور اکرم ﷺ کی بصیرتِ نبوت، قلبی نورانیت اور سچے خواب ایمان کا تعلق انسان کے قلب اور عقل سے ہے اور اعمال کا تعلق نفس (اعضا) سے ہے عقل و قلب کے مسخ ہونے سے عمل کی صلاحیت بھی مفقود ہو جاتی ہے اس سورت میں حضرت موسیٰ کی جدوجہد اور فرعون کی سرکشی کے ذکر سے تذکیر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف سے فرعون سے بنی اسرائیل کی آزادی کا مطالبہ اور نظام میں کھلبلی قومِ فرعون کے ایک رجل مؤمن کی طرف سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی حمایت فرعون کے دور میں طبیعاتی اور فلکیاتی امور کے ماہر جادو گرہی دانش ور سمجھے جاتے تھے علم بذاتِ خود کوئی بھی غلط نہیں ہوتا بلکہ اس کا غلط یا صحیح استعمال ہی اصل ہے مصر کی تہذیب و معاشرت کی ترقی میں حضرت یوسف علیہ السلام کا ترقی پسندانہ کردار