
سیمینار | قومی شعوری تربیت کی اساس پر پُرامن عادلانہ سماج کی تشکیل اور نوآبادیاتی دور کا نظامِ تعلیم
خطبات · Rahimia Institute of Quranic Sciences
Audio is streamed directly from the publisher (media.transistor.fm) as published in their RSS feed. Play Podcasts does not host this file. Rights-holders can request removal through the copyright & takedown page.
Show Notes
*نوآبادیاتی دور کا نظامِ تعلیم*
*خطاب*
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
*برموقع سیمینار:*
*بتاریخ:* 30؍ صفر المظفّر 1446 / 5؍ ستمبر 2024ء
*بمقام:* فاسٹ یونیورسٹی، اسلام آباد کیمپس
*۔ ۔ ۔ ۔ خطاب کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔* 👇
✔️ تعلیم کا بنیادی مقصد اور تعلیمی اداروں کی خصوصیت
✔️ قوم و ریاست کی ترقی کے لیے اہلِ علم کا قرآن کی نظر میں مطلوبہ کردار
✔️ متضاد نظام ہائے تعلیم کے نتائج بصورت سوسائٹی میں فکری انتشار، سیاسی عدمِ استحکام اور غیر مطمئن معاشی نظام
✔️ نبی اکرم ﷺ کی صفتِ معلم کی روشنی میں اَربابِ اہلِ علم کی ذمہ داریاں
✔️ قومی شناخت کے تضادات کا خاتمہ اور قومیت کی پہچان کی تعلیم و تربیت
✔️ سماج کی درست خطوط پر تعلیم و تربیت کے قرآنی معیارات: (1) حریتِ فکر
✔️ (2) عدل و انصاف کی اساس پر سماجی معاہدات اور فریقین کی مساوی حیثیت کے تعین کی تعلیم
✔️ (3) بلا تفریق رنگ، نسل اور مذہب‘ احترامِ انسانیت اور شہری حقوق کی حفاظت کی تعلیم و تربیت
✔️ (4) اطمینان بخش معاشی نظام قائم کرنے کے لیے تربیت یافتہ افراد مہیا کرنا؛ تعلیمی اداروں کی بنیادی ذمہ داری
✔️ تعلیم و تربیت ناقابل تقسیم اکائی اور برٹش شہنشاہت کے دور میں تعلیم و تربیت کے اعلیٰ اُصولوں کی پامالی
✔️ تعلیم و تربیت کے اعلیٰ اُصولوں کی پامالی کے لیے انگریز کا مدرسہ عالیہ کلکتہ کا مذہبی تعلیمی نظام اور لارڈ میکالے کا عصری تعلیمی نظام
✔️ غلامی، بداَمنی و بد حالی اور عدل و انصاف سے عاری سوسائٹی کی اصل وجہ؛ یہی دوہرا نظامِ تعلیم
✔️ ہمارے تعلیم یافتہ افراد یورپ و امریکا جانے کے لیے کیوں بے تاب ہیں؟
✔️ حدیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں کامل ایمان کے معیارات
بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
*منجانب: رحیمیہ میڈیا*