
خطبات
560 episodes — Page 3 of 12

Ep 454رسولُ الله ﷺ کا منصبِ اِنذار اور دجل وفریب کے موجودہ نظام میں اس کے تقاضے | 19-09-2025
رسولُ الله ﷺ کا منصبِ اِنذار اور دجل وفریب کے موجودہ نظام میں اس کے تقاضےخُطبۂ جمعۃ المبارکحضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 25؍ ربیع الاوّل 1447ھ / 19؍ ستمبر 2025ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورخطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی و حدیثِ نبوی ﷺ آیاتِ قرآنی1۔ إِنَّمَا أَنْتَ مُنْذِرٌ وَلِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ۔ (13 – الرعد: 7)ترجمہ: ”تم تو محض ڈرانے والے ہوں اور ہر قوم کے لیے ایک رہبر ہوتا آیا ہے“۔2۔ إِنَّمَا تُنْذِرُ مَنِ اتَّبَعَ الذِّكْرَ وَخَشِيَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَيْبِ فَبَشِّرْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَأَجْرٍ كَرِيمٍ۔ (36 – یٰسین:11)ترجمہ: ”بے شک آپ اسی کو ڈرا سکتے ہیں جو نصیحت کی پیروی کرے اور بن دیکھے رحمان سے ڈرے پس خوشخبری دے دو اس کو بخشش اور اجر کی جو عزت والا ہے“۔حدیثِ نبوی ﷺ أَنَا النَّذِيرُ الْعُرْيَانُ. (صحیح مسلم، حدیث: 5954)ترجمہ: ”میں صاف صاف ڈرانے والا ہوں“۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇✔️ سابقہ خطبۂ جمعہ کا خلاصہ✔️ علم الفتن والانذار ✔️ انسانی معیارات سے منحرف انسانیت کے لیے پہلے منذر نوح علیہ السلام✔️ نبی اکرم ﷺ کا کُل انسانیّت کو فتنوں اور دجل و فریب سے (انذار) خبردار کرنا✔️ سورۂ یٰسین میں آپ ﷺ کی صفاتِ حمیدہ کا ذکر ✔️ آپ ﷺ کی صفتِ انذار اور قومِ قریش کے انحرافات کی درستگی کا عمل✔️ آپ ﷺ کا انوارات و تجلّیات کا مرکز بیت اللہ الحرام کو کل انسانیت کا مرکز بنانا✔️ علم الانذار؛ دجل و فریب انسانیت کے معیارات کو پرکھنے کی کسوٹی✔️ مشرکینِ مکہ کی دجل و فریب کی شکار قومی حکومت اور آپ ﷺ کے انذار کے پہلو✔️ سردارانِ مکہ کو انذار اور ڈرانے سے ذرا ہدایت حاصل نہیں ہو سکتی!✔️ آپ ﷺ کی صفتِ انذار کے تناظر میں حقائق کا شعوری تجزیہ کرنا لازمی و ضروری✔️ تین سو سال سے دجل وفریب کے پردے میں خوب صورت عنوانات کا کھیل جاری✔️ انسانیت دشمنی اور دجل و فریب کی مثالیں✔️ آپ ﷺ کی صفتِ انداز کی روشنی میں عقل و شعور اور فہم و بصیرت کی ضرورت و اہمیتبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

Ep 453نورِ محمدی ﷺ کا کائنات گیر انقلاب اور اس سے رہنمائی کے شعوری تقاضے | 12-09-2025
نورِ محمدی ﷺ کا کائنات گیر انقلاب اور اس سے رہنمائی کے شعوری تقاضےخُطبۂ جمعۃ المبارکحضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 18؍ ربیع الاوّل 1447ھ / 12؍ ستمبر 2025ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورخطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی واحادیثِ نبوی ﷺ آیاتِ قرآنی: 1۔ هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ۔ (9 – التّوبه: 33)ترجمہ: ”اس نے اپنے رسولؐ کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا ہے، تاکہ اسے سب دینوں پر غالب کرے، اور اگر چہ مشرک نا پسند کریں“۔2۔ يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا، وَدَاعِيًا إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا مُنِيرًا۔ (33 – الأحزاب: 45-46)ترجمہ: ”اے نبی ! ہم نے آپ کو بلاشبہ گواہی دینے والا اور خوش خبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ اور اللہ کی طرف اس کے حکم سے بُلانے والا اور چراغ روشن بنایا ہے“۔ احادیثِ نبوی ﷺ: 1۔ لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ، حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ، وَلَدِهِ، وَوَالِدِهِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ . (صحیح مسلم، حدیث: 169)ترجمہ: ” تم میں سے کوئی شخص (اس وقت تک) مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کے لیے اس کی اولاد، اس کے والد اور تمام انسانوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہوں۔“2۔ ”لَوْلَاكَ لَمَا خَلَقْتُ الْأفْلَاكَ“۔ (کشف الخفاء ۲/۱۴۸، ،کنز العمال:۳۲۰۲۲، (المستدرک للحاکم:۴۲۲۷)ترجمہ: ”اگر آپ (اے محمد ﷺ) نہ ہوتے تو میں آسمان و زمین کو پیدا نہ کرتا“۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇✔️ ماہِ ربیع الاوّل کو آں حضرت ﷺ سے خصوصی مناسبت✔️ آپ ﷺ کی بعثت کے بعد اگلے سو سالوں میں غلبۂ دین کی تکمیل✔️ غلبۂ دین اور کرۂ ارض کا بنیادی پیراڈائم✔️ آپ ﷺ کائنات کے ساتوں مواطن اور ہر زمانے میں امامِ انسانیّت✔️ انسانیّت کی تخلیق کے مرکز و محور‘ نورِ محمدی اور اس کا فیضان ✔️ نورِ محمدی تمام علوم کا مرکز و منبع✔️ روزِ محشر انسانیت حساب کتاب شروع نہ ہونے کی وجہ سے پریشان✔️ اللہ کی خاص عنایت سے آپ ﷺ پر دعا کا اِلقا اور حساب کا عمل شروع ✔️ کفر و شرک کا ارتکاب کرنے والی پہلی قوم اور حضرت نوح علیہ السلام کی انتھک جدوجہد✔️ حضرت نوح علیہ السلام کی دعوتی جدوجہد کی گواہی دینی والی اُمتِ محمدیہ✔️ آپ ﷺ تمام مواطن اور زمانوں میں نبی الانبیاء ﷺ بھی ہیں✔️ کائنات کے عالَم گیر نظام میں ٹائم زون کی بڑی اہمیت✔️ کائنات کا ٹائم زون کو سمجھانے کے لیے حضرت ادریس علیہ السلام پر فلکیاتی علوم کا نزول✔️ نوح علیہ السلام کے دور سے ٹائم زون میں بگاڑ اور انبیا علیہم السلام کا درستگی کے لیے کردار✔️ مشرکینِ مکہ کا دو ٹائم زون کو مکس کرکے کیلنڈر میں تغیر و تبدل✔️ قدیم زمانے سے حساب و کتاب کے لیے شمسی و قمری تقویم کا رواج✔️ قمری و شمسی تقویم مکس کرکے تغیر وتبدل کے مزعومہ مقاصد✔️ شمسی کیلنڈر کے مطابق حساب و کتاب کی سب سے بڑی خرابی✔️ آپ ﷺ کا خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر کیلنڈر کی درستگی کی نشان دہی کرنا ✔️ 17 ہجری قمری کیلنڈر کے باقاعدہ سرکاری اجرا کے لیے مشاورت✔️ قمری تقویم میں آج تک تغیر وتبدل نہیں ہوا✔️ آپ ﷺ کی ولادت کے بعد زمان و مکان میں غیر معمولی انقلابات کا سلسلہ جاری✔️ منبعِ علم کی بعثت کے بعد علومِ ارتفاقات اور اقترابات کی بارش✔️ نبی اکرم ﷺکا بخت اور رعب و دبدبہ؛ اثرات و نتائج✔️ میلاد کے نام پر خواہش پرستی اور خرافات و فضول خرچیاں✔️ پندرہ سو سالہ ولادتِ باسعادت کے موقع پر سیرت سے رہنمائی کے شعوری تقاضےمکمل خطبہ سننے کے لیے درجِ ذیل لِنک پر کلک کیجیے 👇بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

Ep 452ولادتِ با سعادت کے 1500 سالہ تکمیل کے موقع پر قومی ریاست کی عصری تشکیل کے لیے رسولُ اللّٰه ﷺ کے خُلقِ عظیم کی رہنمائی میں بنیادی سماجی اقدار کی اطلاقی ناگزیریت | 05-09-2025
ولادتِ با سعادت کے 1500 سالہ تکمیل کے موقع پر قومی ریاست کی عصری تشکیل کے لیے رسولُ اللّٰه ﷺ کے خُلقِ عظیم کی رہنمائی میں بنیادی سماجی اقدار کی اطلاقی ناگزیریتخُطبۂ جمعۃ المبارکحضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 4؍ ربیع الاوّل 1447ھ / 29؍ اگست 2025ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورخطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی و حدیثِ نبوی ﷺ آیاتِ قرآنیفَمَا لِهَؤُلَاءِ الْقَوْمِ لَا يَكَادُونَ يَفْقَهُونَ حَدِيثًا، مَا أَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللَّهِ وَمَا أَصَابَكَ مِنْ سَيِّئَةٍ فَمِنْ نَفْسِكَ وَأَرْسَلْنَاكَ لِلنَّاسِ رَسُولًا، وَكَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا، مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ وَمَنْ تَوَلَّى فَمَا أَرْسَلْنَاكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًا۔ (4 – النساء: 78 تا 80)ترجمہ: ”ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ کوئی بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی، تجھے جو بھی بھلائی پہنچے وہ اللہ کی طرف سے ہے اور جو تجھے برائی پہنچے وہ تیرے نفس کی طرف سے ہے، ہم نے تجھے لوگوں کو پیغام پہنچانے والا بنا کر بھیجا ہے اور اللہ کی گواہی کافی ہے۔ جس نے رسول کا حکم مانا اس نے اللہ کا حکم مانا اور جس نے منہ موڑا تو ہم نے تجھے ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجا“۔حدیثِ نبوی ﷺ مَنْ يُرِدِ اللّٰهُ بِه خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ۔ (صحیح بخاری، حدیث: 71)ترجمہ: ”جس شخص کے ساتھ اللہ تعالیٰ بھلائی کا ارادہ کرے اسے دین کی سمجھ عنایت فرما دیتا ہے“۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇✔️ تفقہ و بصیرت اور قومی شعور کی بیداری میں انبیا علیہم السلام کی کدوکاوشیں✔️ نبی اکرمﷺ کا اقوامِ عالَم کی ترقی کا شعوری پروگرام اور عملی کردار✔️ قومِ قریش کی شعوری بیداری کے لیے آپﷺ کی انتھک جدوجہد ✔️ قومی و بین الاقومی نظام کی تشکیل کے لیے آپؐ کی شعوری تعلیم وتربیت✔️ خطبے کی مرکزی آیت کے شانِ نزول کا پسِ منظر اور تفسیری خلاصہ✔️ ان آیات کی روشنی میں موجودہ مسائل کا شعوری جائزہ اور قومی حقائق سمجھنے کی دعوت✔️ نیشنل ازم اور ریاستِ پاکستان کا قیام؛ ایک شعوری حقیقت✔️ حقیقی نیشنل ازم کی اساس پر ہندستان کا ہزار سالہ اسلامی دور ✔️ ہندستان میں نیشنل ازم کی دینی تاریخ کا شعوری جائزہ‘ عصری تقاضا✔️ مسلم ہندستان کے نیشنل ازم سے نابلد مذہبی اور سیاسی پارٹیاں ✔️ نیشنل ازم، دھرتی کے حقائق کے علی الرغم اور قومی سوچ سے عاری مقتدرہ✔️ قومی شعور اور دھرتی کے درست حقائق تسلیم نہ کرنے کے نتائج ✔️ فقاہت پر مبنی قرآنی پکار سمجھے بغیر عصری مسائل حل نہیں ہو سکتےمکمل خطبہ سننے کے لیے درجِ ذیل لِنک پر کلک کیجیے 👇بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

Ep 451جاہلیت کےعالمی وآلہ کارنظاموں کےمقابلےپردین کےعادلانہ نظام کی اجتماعی اصولوں پرتشکیل کی ضرورت واہمیت | 29-08-2025
سماجی بصیرت کی نبوی جدوجہد کی روشنی میں زمینی حقائق سے ہم آہنگ بر صغیر کے مسلم عہد اور عصری تقاضوں کا جائزہخُطبۂ جمعۃ المبارکحضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 4؍ ربیع الاوّل 1447ھ / 29؍ اگست 2025ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورخطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی و حدیثِ نبوی ﷺ آیاتِ قرآنیفَمَا لِهَؤُلَاءِ الْقَوْمِ لَا يَكَادُونَ يَفْقَهُونَ حَدِيثًا، مَا أَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللَّهِ وَمَا أَصَابَكَ مِنْ سَيِّئَةٍ فَمِنْ نَفْسِكَ وَأَرْسَلْنَاكَ لِلنَّاسِ رَسُولًا، وَكَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا، مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ وَمَنْ تَوَلَّى فَمَا أَرْسَلْنَاكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًا۔ (4 – النساء: 78 تا 80)ترجمہ: ”ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ کوئی بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی، تجھے جو بھی بھلائی پہنچے وہ اللہ کی طرف سے ہے اور جو تجھے برائی پہنچے وہ تیرے نفس کی طرف سے ہے، ہم نے تجھے لوگوں کو پیغام پہنچانے والا بنا کر بھیجا ہے اور اللہ کی گواہی کافی ہے۔ جس نے رسول کا حکم مانا اس نے اللہ کا حکم مانا اور جس نے منہ موڑا تو ہم نے تجھے ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجا“۔حدیثِ نبوی ﷺ مَنْ يُرِدِ اللّٰهُ بِه خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ۔ (صحیح بخاری، حدیث: 71)ترجمہ: ”جس شخص کے ساتھ اللہ تعالیٰ بھلائی کا ارادہ کرے اسے دین کی سمجھ عنایت فرما دیتا ہے“۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇✔️ تفقہ و بصیرت اور قومی شعور کی بیداری میں انبیا علیہم السلام کی کدوکاوشیں✔️ نبی اکرمﷺ کا اقوامِ عالَم کی ترقی کا شعوری پروگرام اور عملی کردار✔️ قومِ قریش کی شعوری بیداری کے لیے آپﷺ کی انتھک جدوجہد ✔️ قومی و بین الاقومی نظام کی تشکیل کے لیے آپؐ کی شعوری تعلیم وتربیت✔️ خطبے کی مرکزی آیت کے شانِ نزول کا پسِ منظر اور تفسیری خلاصہ✔️ ان آیات کی روشنی میں موجودہ مسائل کا شعوری جائزہ اور قومی حقائق سمجھنے کی دعوت✔️ نیشنل ازم اور ریاستِ پاکستان کا قیام؛ ایک شعوری حقیقت✔️ حقیقی نیشنل ازم کی اساس پر ہندستان کا ہزار سالہ اسلامی دور ✔️ ہندستان میں نیشنل ازم کی دینی تاریخ کا شعوری جائزہ‘ عصری تقاضا✔️ مسلم ہندستان کے نیشنل ازم سے نابلد مذہبی اور سیاسی پارٹیاں ✔️ نیشنل ازم، دھرتی کے حقائق کے علی الرغم اور قومی سوچ سے عاری مقتدرہ✔️ قومی شعور اور دھرتی کے درست حقائق تسلیم نہ کرنے کے نتائج ✔️ فقاہت پر مبنی قرآنی پکار سمجھے بغیر عصری مسائل حل نہیں ہو سکتےبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

Ep 450جاہلیت کےعالمی وآلہ کارنظاموں کےمقابلےپردین کےعادلانہ نظام کی اجتماعی اصولوں پرتشکیل کی ضرورت واہمیت | 22-08-2025
جاہلیت کے عالمی وآلہ کار نظاموں کے مقابلے پر دین کے عادلانہ نظام کی اجتماعی اصولوں پر تشکیل کی ضرورت واہمیتخطبہ جمعۃ المبارکحضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہبتاریخ: 27 صفر المظفر 1447ھ /22؍ اگست 2025ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپسخطبے کی راہنما قرآنی آیتاَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّـةِ يَبْغُوْنَ ۚ وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّـٰهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ يُوْقِنُـوْنَ (المائدہ:50-5)ترجمہ: تو کیا پھر جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں، حالانکہ جو لوگ یقین رکھنے والے ہیں ان کے ہاں اللہ سے بہتر اور کوئی فیصلہ کرنے والا نہیں۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇00:39 تقسیمِ انسانیت کے خود ساختہ فلسفے05:40 وحدتِ انسانیت کا دینی تصور08:09 جاہلیت کی حقیقت13:45 ماتحتوں (ملازموں) کے ساتھ حسن سلوک کا نبوی حکم16:56 انسانیت کی تقسیم پر مبنی جاہلیت کا عالمگیر نظام 23:35 انسانی اقدار کی پامالی اور سائنس و ٹیکنالوجی کا منفی استعمال29:20 اخوت و بھائی چارے کی اساس پر دین کا اجتماعی نظام35:07 زکوۃ، اجتماعی نظام کی اساس40:13 جاہلیت کے نظام کے مقابلے کی منظم دینی حکمت عملی 47:43 دین کے عادلانہ نظام کا غلبہ؛ عصر حاضر کا تقاضا 53:14 برطانوی سامراج کا دوہرا سماجی معیار55:14 دین کے اجتماعی نظام کے تعارف کی ضرورتبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

Ep 449ولی اللہی فکر کی روشنی میں ولایتِ نبوت کی خصوصیات کا تعارف اور حضرت مولانا عبید اللہ سندھی کے حالات زندگی کا اطلاقی مطالعہ | 22-08-2025
ولی اللہی فکر کی روشنی میں ولایتِ نبوت کی خصوصیات کا تعارف اور حضرت مولانا عبید اللہ سندھی کے حالات زندگی کا اطلاقی مطالعہخُطبۂ جمعۃ المبارکحضرت مولانا مفتی شاہ عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ: 27؍ صفر المظفّر 1447ھ / 22؍ اگست 2025ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورآیت قرانیاَلَااِنَّ اَوۡلِيَآءَ اللّٰهِ لَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُوۡنَ - (10 – یونس: 62)’’یاد رکھو جو لوگ اللہ کے دوست ہیں نہ ڈر ہے ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔‘‘حدیث نبوی من عادى لي وليًا فقد آذنته بالحرب ”جس شخص نے میرے کسی دوست سے دشمنی کی، میرا اس سے اعلان جنگ ہے‘‘۔سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1640 خُطبے کے چند مرکزی نِکات ✔️ نوعِ انسانیت کے لیے راہِ ہدایت کا سامان ✔️ خاتم الانبیاؑ کے نورِ نبوت کا اولیا اللہ پر فیضان✔️ اولیا اللہ کے کمالِ دینِ محمدیﷺ کے سات درجات✔️ ولایتِ نبوت کا ولی اللہی طریقۂ تعلیم و تربیت خصوصیات سبعہ کا حامل ✔️ اگست؛ ولی اللہی سلسلے کے سرخیل اور اکابرین کے سانحۂ ارتحال کا مہینہ بھی ہے✔️ امامِ انقلاب مولانا عبید اللہ سندھیؒ ولایتِ نبوت پر فائز شخصیت✔️ خطبے کی مرکزی آیات کی تشریح؛ ولی کی تعریف اور ولایتِ نبوت و ولایتِ اولیا میں فرق✔️ کمالِ نبوت کے فیضان کی روشنی میں ولی اللہی طریقۂ تعلیم و تربیت کے سات درجات✔️ 1۔ ایمانِ حقیقی کا نظریے اور افعال و اعمال میں مکمل رسوخ ✔️ 2۔ ایمانِ حقیقی پر نفسِ انسانی کا شرح صدر✔️ 3۔ قرب بالنوافل؛ نوافل سے قربِ بارگاہ الہی میں فنا ہونے کی کیفیت کا حصول ✔️ 4۔ قرب الحکمة یا قرب الوجود؛ بنیادی حقیقت ✔️ انبیاؑ میں حکمت کا اعلی ترین نمونہ حضرت یوسفؑ ✔️ امتِ محمدیہ ﷺ میں مقامِ حکمت پر فائز اولیا کے کارنامے✔️ 5۔ قرب الفرائض؛ فرائض کی ادائیگی کے لیے جان و مالی قربانی کا جذبہ✔️ 6۔ قربِ ملکوتی؛ ملاءِ اعلی کی قربت کے ذریعے قربِ بارگاہ الہی✔️ 7۔ درجۂ کمال؛ حقّانی لباس پہن کر اپنی ذات کو فنا کرکے حق کا نمائندہ اور علامت بن جانا ✔️ ولی اللہی اکابر کی زندگی ان ساتوں مراحل سے گزری ✔️ حضرت مولانا عبیداللہ سندھیؒ کے ولایتِ نبوت پر فائز ہونے کے مراحل ✔️ حضرت سندھیؒ کا ایمانِ حقیقی اور ہر قسم کے شرک کے خاتمے کا دور✔️ ولی اللہی اکابرین کی صحبت سے ایمانِ حقیقی پر شرح صدر✔️ مولانا سندھیؒ کا قرب بالنوافل اور قربِ حکمت کا دور✔️ قرب الفرائض کے لیے قربانیاں اور انوارِ حرمِ الہی کے ذریعے قربِ ملکوتی کا دور ✔️ ہندوستان آمد سے وفات تک حضرت سندھیؒ کا لباسِ حقّانی پہن کر درجۂ کمال کا دور ✔️ ماہِ اگست میں اولیا اللہ کی سیرت و سوانح کا تذکرہ اور شعوری تقاضےبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

Ep 448طاغوت کے خلاف انبیائے کرام علیھم السلام کی جامع جدوجہد اوراقوام کی آزادی کے لیے علمائےحق کا رہنما کردار | 15-08-2025
طاغوت کے خلاف انبیائے کرام علیھم السلام کی جامع جدوجہد اوراقوام کی آزادی کے لیے علمائے حق کا رہنما کردارخُطبۂ جمعۃ المبارکحضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعید الرحمٰن حفظه اللهبتاریخ: 20؍ صفر المظفر 1447ھ / 15؍ اگست 2025ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) ملتان کیمپسخطبے کی رہنما قرآنی آیتوَلَقَدْ بَعَثْنَا فِىْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّـٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ ۖ فَمِنْـهُـمْ مَّنْ هَدَى اللّـٰهُ وَمِنْـهُـمْ مَّنْ حَقَّتْ عَلَيْهِ الضَّلَالَـةُ ۚ فَسِيْـرُوْا فِى الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِيْنَ۔ (16-النحل: 36)ترجمہ: اور البتہ تحقیق ہم نے ہر امت میں یہ پیغام دے کر رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور شیطان سے بچو، پھر ان میں سے بعض کو اللہ نے ہدایت دی اور بعض پر گمراہی ثابت ہوئی، پھر ملک میں پھر کر دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیا ہوا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇✔️ اللہ کی بندگی کا تقاضا؛ طاغوت کا انکار✔️ سماج کے استحصالی کردار اورانبیا علیہم السلام کی دعوت✔️ شریعت کی پابندی کے لیے آزادی کی ضرورت✔️ انبیا علیہم السلام کی دعوت؛ سماجی آزادی✔️ سماجی آزادی کو برقرار رکھنے میں جماعتِ صحابہؓ کا کردار✔️ دین بہ طور مکمل سماجی نظام✔️ آزادی کے حصول کے لیے جدوجہد اور قربانی کی اہمیت✔️ ایشیا کی آزادی کے لیے مولانا عبیداللہ سندھیؒ کی جدوجہد✔️ آزادی کے بعد، سماج کی تشکیل کے تقاضے✔️ سماج کی تشکیلِ نَو کے لیے نوجوانوں کے شعوری اور بے لوث کردار کی ضرورت✔️ دینی اُصولوں پر سماجی تشکیلِ نَو کے لیے عدمِ تشدُّد کی حکمتِ عملی کی اہمیت بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute منجانب: رحیمیہ میڈیا

Ep 447انبیائے کرام علیھم السلام کے تاریخی تسلسل کے تناظُر میں آزاد اور خوش حال سماج کے قیام کے لیے رسولُ الله ﷺ کی جدوجہد اور اس کے مابعد اثرات کا جائزہ | 15-08-2025
انبیائے کرام علیھم السلام کے تاریخی تسلسل کے تناظُر میں آزاد اور خوش حال سماج کے قیام کے لیے رسولُ الله ﷺ کی جدوجہد اور اس کے مابعد اثرات کا جائزہخُطبۂ جمعۃ المبارکحضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 20؍ صفر المظفّر 1447ھ / 15؍ اگست 2025ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورخطبے کی رہنما آیتِ قرآنی: وَأَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِينَ كَانُوا يُسْتَضْعَفُونَ مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنَى عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ بِمَا صَبَرُوا وَدَمَّرْنَا مَا كَانَ يَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُهُ وَمَا كَانُوا يَعْرِشُونَ۔ (7 – الاعراف: 137)ترجمہ: ”اور ہم نے ان لوگوں کو وارث کر دیا جو اس زمین کے مشرق و مغرب میں کمزور سمجھے جاتے تھے کہ جس میں ہم نے برکت رکھی ہے اور تیرے رب کا نیک وعدہ بنی اسرائیل کے حق میں ان کے صبر کے باعث پورا ہو گیا اور فرعون اور اس کی قوم نے جو کچھ بنایا تھا ہم نے اسے تباہ کر دیا اور جو وہ اونچی عمارتیں بناتے تھے“۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇✔️ دنیا میں انبیائے کرام علیہم السلام کا مشن اور ان کے منصب کے تقاضے✔️ بہ حیثیتِ انسان‘ انسان کے حقوق و فرائض اور اس کی انسانیّت کے تقاضے✔️ دینی معاملات و معاشی سرگرمیوں میں انسانی کردار کے اعتدال کی دینی اہمیت✔️ انسانی معاشروں میں غلامی کے سبب پیدا ہونے والے مسائل و مصائب✔️ آزادی اور انسانی سماج کی ترقی کے لیے انبیا علیہم السلام کی جدو جہد✔️ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی‘ انسانیّت کے لیے جدو جہد اور اس کے نتائج✔️ قوموں کے اَخلاق اور مزاج پر زمین، پانی، آب و ہوا اور مادی ماحول کا اثر✔️ نظریاتی تناظر میں حضرت یعقوب و یوسف علیہما السلام کے واقعے کا تذکرہ✔️ بنی اسرائیل اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعے کا نظریہ افروز تذکرہ✔️ آزاد سماج قابل اور باصلاحیت قیادت پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے✔️ قوموں کی حقیقی آزادی کے اصل اور حقیقی عناصر اور معاشی و سیاسی ترقی✔️ حضرت محمد ﷺ کے قائم کردہ سیاسی، معاشی اور سماجی نظام کا ماڈل✔️ مالِ غنیمت صرف اُمّتِ محمدیہ ﷺ کے لیے حلال ہونے کی حکمت✔️ سابقہ اُمتوں میں مالِ غنیمت پہاڑوں پر رکھ کر جلا دینے کی روایت تھی✔️ اُمتِ محمدیہ میں مالِ غنیمت غلام قوموں کی آزادی کے لیے استعمال ہوگا✔️ اسلام کا بین الااقوامی انقلاب‘ قوموں کی قومی آزادی کا پیش خیمہ تھا✔️ مسلمانوں نے اپنی حکومتوں سے ہندستان کو ترقی کا نیا ماڈل فراہم کیا✔️ ہندستان کی ترقی اور فلاح کے لیے مسلمان بادشاہوں کا کردار✔️ ہندستان سمیت دنیا بھر میں یورپین استعماری حکمرانوں کا سامراجی کرداربروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

Ep 446انسانیّت کی آزادی کے لیے بعثتِ انبیا علیھم السّلام کے الٰہی مشن کی روشنی میں برصغیر کی آزادی کے لیے علمائے حق کی جدوجہد کا جائزہ | 08-08-2025
انسانیّت کی آزادی کے لیے بعثتِ انبیا علیھم السّلام کے الٰہی مشن کی روشنی میں برصغیر کی آزادی کے لیے علمائے حق کی جدوجہد کا جائزہخُطبۂ جمعۃ المبارکحضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعید الرحمٰن حفظه اللهبتاریخ: 13؍ صفر المظفر 1447ھ / 8؍ اگست 2025ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) ملتان کیمپس خطبے کی رہنما قرآنی آیتاَلَمْ اَعْهَدْ اِلَيْكُمْ يَا بَنِىٓ اٰدَمَ اَنْ لَّا تَعْبُدُوا الشَّيْطَانَ ۖ اِنَّهٝ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ، وَاَنِ اعْبُدُوْنِىْ ۚ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِـيْـمٌ ۔ (36 – یٰسین: 60-61)ترجمہ: اے آدم کی اولاد! کیا میں نے تمہیں تاکید نہ کردی تھی کہ شیطان کی عبادت نہ کرنا، کیونکہ وہ تمہارا صریح دشمن ہے۔ اور یہ کہ میری ہی عبادت کرنا، یہ سیدھا راستہ ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇01:02 انبیا علیھم السلام کا دو نکاتی پروگرام05:51 طاغوت کا ایجنڈا09:51 بد ترین غلامی12:09 انبیا علیھم السلام کا اعلانِ آزادی( موسوی جدوجہد کا مطالعہ)20:25 آزادی کی سوداگری کے طریقے26:33 قوموں پر غلامی کے اثرات اور ذہنی آزادی کے لیے تربیّت کی ضرورت29:27 برِصغیر کی غلامی کی تاریخ33:02 برِصغیر میں جاگیرداری کی داغ بیل37:28 برِصغیر کے علوم اور وسائل کی لوٹ مار40:06 غلامی کی حقیقت اور آزادی کی شعوری و قومی جدوجہد (امام شاہ عبدالعزیزدہلویؒ کا بصیرت افروز فتویٰ)51:02 برِصغیر کی آزادی میں دارالعلوم دیوبند کا کردار56:04 آزادی کے حقیقی ہیروز کے تعارف سے محروم مطالعہ 01:01:02 قومی ذہن سے عاری، دوغلی اشرافیہ01:06:28 عصر حاضر کے نوجوانوں کی ذمہ داریاں بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

Ep 445سورت کہف میں مذکور واقعات کے تناظُر میں رسولُ اللّٰه ﷺ کے انقلابی کردار کے مراحل کا تعارف اور دورِ حاضر کے چیلنجز ؛ ایک اِطلاقی جائزہ | 08-08-2025
”سورت کہف“ میں مذکور واقعات کے تناظُر میں رسولُ اللّٰه ﷺ کے انقلابی کردار کے مراحل کا تعارف اور دورِ حاضر کے چیلنجز ؛ ایک اِطلاقی جائزہخُطبۂ جمعۃ المبارکحضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 13؍ صفر المظفّر 1447ھ / 8؍ اگست 2025ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورخطبے کی رہنما آیتِ قرآنی وحدیثِ نبوی ﷺآیتِ قرآنیقَالَ أَمَّا مَنْ ظَلَمَ فَسَوْفَ نُعَذِّبُهُ ثُمَّ يُرَدُّ إِلىٰ رَبِّهِ فَيُعَذِّبُهُ عَذَابًا نُكْرًا، وَأَمَّا مَنْ آمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَهٗ جَزَاءً الْحُسْنٰى، وَسَنَقُولُ لَهُ مِنْ أَمْرِنَا يُسْرًا ۔ (18 – الکہف:87 - 88)ترجمہ: ” اللہ تعالیٰ نے کہا: جو اِن میں ظالم ہے، اسے تو ہم سزا ہی دیں گے، پھر وہ اپنے ربّ کے ہاں لوٹایا جائے گا، پھر وہ اسے اَور بھی سخت سزا دے گا۔ اور جو کوئی ایمان لائے گا اور نیکی کرے گا تو اسے نیک بدلہ ملے گا، اور ہم بھی اپنے معاملے میں اسے آسان ہی حکم دیں گے “۔حدیثِ نبوی ﷺ”سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ، الْإِمَامُ الْعَادِلُ“ (الحدیث)۔ (صحیح بخاری، حدیث: 660)ترجمہ: ”سات طرح کے آدمی ہوں گے، جن کو اللہ اُس دن اپنے سائے میں جگہ دے گا، جس دن اس کے سایہ کے سوا اور کوئی سایہ نہ ہو گا: اوّل: انصاف کرنے والا بادشاہ“۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇✔️ شریعتِ محمدیہﷺ کُل انسانیّت کی فلاح و بقا کے لیے نازل ہوئی✔️ انسانی معاشرے کی تشکیل کے غیر متبدَّل اُصول اور معروضی حقائق کے مطابق عملی شکلیں ✔️ قرآنی واقعات، قصص اور تمثیلات کی روشنی میں انسانی معاشرے کے غیر متبدَّل اُصولوں کی وضاحت ✔️ سورۃ بنی اسرائیل میں انسانی معاشرے کی تشکیل کے عالَم گیر اُصولوں کا بیان✔️ سورة الکہف کی ابتدائی آیات میں نبی اکرم ﷺ کی بین الاقوامی انقلابی جدوجہد کا خاکہ✔️ سورة الکہف میں چار واقعات کے ضمن میں آپ ﷺ کی سیرت کے چار مراحل کا بیان ✔️ مکہ میں ظلم وجبر کا ماحول اور اصحابِِ کہف کے قصے کے ضمن میں حضور ﷺ کی قبل از نُبوّت جدوجہد کے‘ پہلا مرحلہ✔️ بیت اللہ الحرام؛ دنیا بھر کے حُنَفا (اللہ کی طرف یکسو ہونے والوں) کی ہمتوں کا مقام✔️ قصۂ اصحابِ کہف یاد رکھنے اور آپﷺ کو حُنَفا کی سچی جماعت کے ساتھ رہنے کا حکم✔️ اصحابِ قریہ کے واقعے کے ضمن میں تیرہ سالہ مکی دور میں آپ ﷺ کی انقلابی جدوجہد کا دوسرا مرحلہ✔️ حضرت موسیٰؑ اور حضرت خضرؑ کے مکالمے کے تناظر میں حضور ﷺ کا ریاستِ مدینہ کی تشکیل کا تیسرا مرحلہ ✔️ قصۂ ذوالقرنین کے ضمن میں آپؐ کا بین الاقوامی کردار اور قیصر وکسریٰ کے خاتمے کے لیے جماعتِ رسول اللہ ﷺ کی انقلابی جدوجہد کا چوتھا مرحلہ✔️ قرآن کی عجیب تمثیل اور خلافتِ راشدہ اور بنو اُمیہ کا اپنے دور کے یاجوج ماجوج کے خلاف کردار ✔️ اگست کے مہینے میں یورپین بھیڑیوں (یاجوج ماجوج) کے جنوبی ایشیا پر مظالم اور 80 سالہ دجل و فریب کے حربےبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

Ep 444انبیائے کرام علیہم السلام اور ان کے وارثین کاربانی سازکرداراورمسخ شدہ قیادتوں کاطرزِعمل دعوتِ فکر | 25-07-2025
انبیائے کرام علیہم السلام اور ان کے وارثین کا ربانی ساز کردار اور مسخ شدہ قیادتوں کا طرزِ عمل ؛ دعوتِ فکرخُطبۂ جمعۃ المبارکحضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعید الرحمٰن حفظه اللهبتاریخ: 29؍ محرم الحرام 1447ھ / 25؍ جولائی 2025ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) ملتان کیمپس خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی وحدیثِ نبوی ﷺآیتِ قرآنیمَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ يُّؤْتِيَهُ اللّـٰهُ الْكِتَابَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ ثُـمَّ يَقُوْلَ لِلنَّاسِ كُوْنُـوْا عِبَادًا لِّىْ مِنْ دُوْنِ اللّـٰهِ وَلٰكِنْ كُوْنُـوْا رَبَّانِيِّيْنَ بِمَا كُنْتُـمْ تُعَلِّمُوْنَ الْكِتَابَ وَبِمَا كُنْتُـمْ تَدْرُسُوْنَ (آل عمران:79)ترجمہ: کسی انسان کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ اللہ اسے کتاب اور حکمت اور نبوت عطا فرمائے پھر وہ لوگوں سے یہ کہے کہ اللہ کو چھوڑ کر میرے بندے ہو جاؤ لیکن کہے گا کہ تم لوگ اللہ والے بن جاؤ اس لیے کہ تم اللہ کی کتاب سکھاتے ہو اور اس واسطے کہ تم پڑھتے ہو۔حدیثِ نبوی ﷺ إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا يَنْتَزِعُهُ مِنَ النَّاسِ، وَلَكِنْ يَقْبِضُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ الْعُلَمَاءِ، حَتَّى إِذَا لَمْ يَتْرُكْ عَالِمًا اتَّخَذَ النَّاسُ رُءُوسًا جُهَّالًا، فَسُئِلُوا فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا۔ (صحیح مسلم، حدیث: 2673)ترجمہ:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ علم کو لوگوں سے چھینتے ہوئے نہیں اٹھائے گا بلکہ وہ علماء کو اٹھا کر علم کو اٹھا لے گا حتی کہ جب وہ (لوگوں میں) کسی عالم کو (باقی) نہیں چھوڑے گا تو لوگ (دین کے معاملات میں بھی) جاہلوں کو اپنے سربراہ بنا لیں گے۔ ان سے (دین کے بارے میں) سوال کیے جائیں گے تو وہ علم کے بغیر فتوے دیں گے، اس طرح خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔“ ۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇0:00 آغاز 01:00 انسانی عظمت اور انبیا علیہم السلام کا کردار06:10 معاشرتی اَخلاق کی حقیقت08:07 انبیا علیہم السلام کی معاشرتی زندگی اور منکرین کا اعتراض12:58 تزکیہ و تربیت کا نبوی کردار18:33 وصالِ نبوی ﷺ کے بعد جماعتِ صحابہ کا قائدانہ کردار25:34 ربانی کردار کا تعارف اور مسخ شدہ مذہبی قیادت30:09 معاشرتی معاملات میں ترجیحات کے تعین کا اسوہ حسنہ34:47 ربانی جماعت کا تسلسل اور ارتقا39:51 معاشرتی زوال کے اسباب؛جاہل قیادت43:36 سچی قیادت کا کردار اور امیر خسرو کا واقعہ47:29 اخوت و احترام کی نبوی تربیت اور وفد نجران52:59 فرسودہ اجتماعیتیں اور سچی جماعت کی خوبیاںمکمل خطبہ سننے کے لیے درجِ ذیل لنک پر کلک کیجیے 👇https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

Ep 443اُسوہ نبوی ﷺ اور علمائے حق کی تاریخ کی روشنی میں آزاد قومی حکمتِ عملی کی تشکیل کی ضرورت واہمیت | 01-08-2025
اُسوہ نبوی ﷺ اور علمائے حق کی تاریخ کی روشنی میں آزاد قومی حکمتِ عملی کی تشکیل کی ضرورت واہمیتخُطبۂ جمعۃ المبارکحضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 6؍ صفر المظفّر 1447ھ / یکم؍ اگست 2025ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورخطبے کی رہنما آیتِ قرآنی وحدیثِ نبوی ﷺآیتِ قرآنیوَإِنْ كَذَّبُوكَ فَقُلْ لِي عَمَلِي وَلَكُمْ عَمَلُكُمْ أَنْتُمْ بَرِيئُونَ مِمَّا أَعْمَلُ وَأَنَا بَرِيءٌ مِمَّا تَعْمَلُونَ۔ وَمِنْهُمْ مَنْ يَسْتَمِعُونَ إِلَيْكَ أَفَأَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ وَلَوْ كَانُوا لَا يَعْقِلُونَ۔وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْظُرُ إِلَيْكَ أَفَأَنْتَ تَهْدِي الْعُمْيَ وَلَوْ كَانُوا لَا يُبْصِرُونَ۔ إِنَّ اللّٰهَ لَا يَظْلِمُ النَّاسَ شَيْئًا وَلَكِنَّ النَّاسَ أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ۔ (10 – یونس:41 تا 44)ترجمہ: ”اور اگر تجھے جھٹلائیں تو کہہ دے! میرے لیے میرا کام اور تمھارے لیے تمھارا کام، تم میرے کام کے جواب دہ نہیں اور مَیں تمھارے کام کا جواب دہ نہیں ہوں۔ اور ان میں بعض ایسے ہیں کہ تمھاری طرف کان لگاتے ہیں ،کیا تم بہروں کو سنا سکتے ہو؟ اگر چہ وہ نہ سمجھیں۔ اور ان میں بعض ایسے ہیں کہ تمھاری طرف دیکھتے ہیں، کیا تم اندھوں کو راہ دکھا دو گے؟ اگر کچھ بھی نہ دیکھتے ہوں۔ بے شک اللہ لوگوں پر ذرہ ظلم نہیں کرتا، لیکن لوگ ہی اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں“۔حدیثِ نبوی ﷺ”مَنْ مَشَى مَعَ ظَالِمٍ لِيُقَوِّيَهُ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ ظَالِمٌ فَقَدْ خَرَجَ مِنَ الْإِسْلَام“۔ (مشکوٰۃ المصابیح، حدیث: 5135)ترجمہ: ” جو شخص ظالم کے ساتھ چلتا ہے تاکہ وہ اس کو تقویت پہنچائے، حالانکہ وہ جانتا ہے کہ وہ ظالم ہے، ایسا شخص اسلام سے خارج ہو جاتا ہے“۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇✔️ قرآن حکیم کی عبرت حاصل کرنے اور غفلت دور کرنے کی دعوت✔️ مکی دور میں نبوی دعوتی اُسلوب اور عالمی منظر نامہ ✔️ حضور اکرم ﷺ کا اپنی دعوت میں اہلِ مکہ کو قیصر و کسریٰ کی ایجنٹی سے خبردار کرنا✔️ سورت یونس میں قومی شناخت اور قومی تقاضوں پر زور دیا گیا ہے ✔️ قرآن حکیم کی مکی سورتوں میں قومی انقلاب کے تصوُّر کو اُجاگر کیا گیا ہے ✔️ رسول اللہ ﷺ کا قومی سطح پر انقلابی جماعت بنانے کا اعلان ✔️ نظام سے بیزاری کا اعلان، نیز قوم کو نظامِ ظلم کے نتائج سے آگہی کی جدوجہد✔️ جان بوجھ کر نظامِ ظلم کی حمایت اور ساتھ دینا‘ اسلام کے بنیادی تقاضوں کے منافی ہے✔️ قران حکیم کا عالَم گیر قانون اور اس کے اطلاقی پہلوؤں کی نشان دہی✔️ خطبے کی حدیث کی توضیح و تشریح ✔️ آیات اور احادیث کے تناظر میں موجودہ قومی حالت کے جائزہ لینے کی اہمیت ✔️ رسول اللہ ﷺ کی مکی زندگی پر امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کا نظریہ افروز قول ✔️ استعماری تسلط کے بعد اس خطے میں سامراجی نظامِ ظلم کے 300 سال ✔️ اکابرین علمائے حق کا اُسوۂ نبوی کی روشنی میں تبدیلئ نظام کی جدو جہد کی تاریخ ✔️ ہندوستان میں صاحبِ بصیرت علما کا کردار اور غیر سیاسی علما کی چشم پوشی ✔️ اگست کے مہینے میں عالمی استعماری نظام کے جنوبی ایشیائی قوموں پر ظلم کی تاریخ ✔️ آج کے پاکستان میں آزادانہ قومی نظام کی ناگزیریت اور ضرورت و اہمیت ✔️ عالمی استعماری نظام کے مقابلے میں مسلم ممالک کا آلہ کارانہ کردار اور اس کے نتائجبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

Ep 442صراطِ مستقیم کی نبویؐ حکمتِ عملی کی روشنی میں موجودہ انحرافی رویوں کا جائزہ | 25-07-2025
صراطِ مستقیم کی نبویؐ حکمتِ عملی کی روشنی میں موجودہ انحرافی رویوں کا جائزہخُطبۂ جمعۃ المبارکحضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 29؍ محرم الحرام 1447ھ / 25؍ جولائی 2025ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورخطبے کی رہنما آیتِ قرآنی وحدیثِ نبوی ﷺ:آیتِ قرآنی:قُلْ إِنَّنِي هَدَانِي رَبِّي إِلىٰ صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ دِينًا قِيَمًا مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَo قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَo لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذٰلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَo۔ (6 – الأنعام: 161 تا 163)ترجمہ: ”کہہ دو! میرے رب نے مجھے ایک سیدھا راستہ بتلا دیا ہے، ایک صحیح دین ابراہیم کی ملت جو ایک ہی طرف کا تھا، اور مشرکوں میں سے نہیں تھا۔ کہہ دو ! بے شک میری نماز اور میری قربانی اور میرا جینا اور میرا مرنا اللہ ہی کے لیے ہے جو سارے جہان کا پالنے والا ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا تھا اور میں سب سے پہلے فرماں بردار ہوں“۔حدیثِ نبوی ﷺ:” بُعِثْتُ بِالْحَنِيفِيَّةِ السَّمْحَةِ“۔ (مسند احمد، حدیث: 22291)ترجمہ: "مجھے یکسو اور آسان دین دے کر بھیجا گیا ہے“۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇✔️ حضرت محمد ﷺ آخری نبی اور دینِ اسلام آخری دین ہے✔️ شریعتِ محمدیہ ﷺ میں خواصِ انسانیّت اور اقدارِ انسانیّت کی بنیاد پر ارتفاقات و اَخلاق کی بنیاد ہے✔️ ”سورت اَنعام“ کے بنیادی مضامین کے ساتھ آج کے خطبے کے موضوع کا تعلق و ربط✔️ ”سورت اَنعام“ میں انحرافات کرنے والے طبقوں پر حجت اور ان کے تصوُّرات کا ردّ✔️ صراطِ مستقیم کا معیار حضرت ﷺ کے اعمال اور سیرت ہے✔️ شریعتِ محمدیہ ﷺ میں علم اور عمل کا باہمی تعلق اور صراطِ مستقیم کا درست تصوُّر✔️ عصرِ حاضر میں موٹیویشنل سپیکرز کا تصوُّرِ علم اور ان کی عملی کوتاہیاں اور کمزوریاں✔️ اَخلاقیات سے بے بہرہ علم کے خوف ناک نتائج اور انسانی اجتماعیّت پر اس کے اثرات✔️ آجِر اور مزدور کے درمیان عملی کردار اور اس کے نتائج کے حوالے سے حقوق و فرائض✔️ شریعتِ محمدیہ ﷺ کی طرف سے ارتفاق چہارم کا صراطِ مستقیم اور اس کا اظہار✔️ شریعتِ محمدیہ ﷺ میں مکی و مدنی سیاست کے تناظُر میں سیاست کا صراطِ مستقیم✔️ شریعتِ محمدیہ ﷺ کے شاہراہِ علم و عمل سے انحرافات کرنے کے نتائج✔️ دینِ اسلام کے صراطِ مستقیم سے انحرافات کے حوالے سے تشیُّع اور تسنُّن کے رویّے✔️ اپنے ہاتھ اور ہنر سے کما کر صدقہ کرنے والے اور بغیر کمائے کے عابد اور زاہد✔️ یہود و نصاریٰ اور مسلمانوں کے ہاں ملتِ ابراہیمیہ سے انحرافات کے رویّے✔️ سابقہ ادیان میں تشدُّد و سختی کے مقابلے میں اسلام میں آسانی و راحت کا تصوُّر✔️ دینِ اسلام میں صراطِ مستقیم کا جامع تصوُّر اور اس کے عملی نظام کے بنیادی تقاضےبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

Ep 441قرآنی دعوت کے فروغ کے بنیادی اصول اور عصری تقاضے | 11-07-2025
قرآنی دعوت کے فروغ کے بنیادی اصول اور عصری تقاضےخُطبۂ جمعۃ المبارکحضرت مولانا مفتی عبد المتین نعمانیبتاریخ: 15؍ محرم الحرام 1447ھ / 11؍ جولائی 2025ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

Ep 440تکمیلی نشست دورہ تفسیر قرآن حکیم 2025ء | خصوصی ارشادات | مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
تکمیلی نشست دورہ تفسیر قرآن حکیم 2025ءسترہ روزہ دورۂ تفسیر کی تکمیل پر خصوصی ارشاداتخطاب: حضرت مولانا مفتی شاہ عبد الخالق آزاد رائے پوری مدظلهبتاریخ: 17؍ محرم الحرام 1447ھ / 13؍ جولائی 2025ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہوربروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

Ep 439تکمیلی نشست دورہ تفسیر قرآن حکیم 2025ء | خصوصی ارشادات | مولانا مفتی محمد مختار حسن
تکمیلی نشست دورہ تفسیر قرآن حکیم 2025ءسترہ روزہ دورۂ تفسیر کی تکمیل پر خصوصی ارشاداتخطاب: حضرت مولانا مفتی محمد مختار حسن بتاریخ: 17؍ محرم الحرام 1447ھ / 13؍ جولائی 2025ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہوربروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

Ep 438تکمیلی نشست دورہ تفسیر قرآن حکیم 2025ء | خصوصی ارشادات | مولانا ڈاکٹر تاج افسر
تکمیلی نشست دورہ تفسیر قرآن حکیم 2025ءسترہ روزہ دورۂ تفسیر کی تکمیل پر خصوصی ارشاداتخطاب: حضرت مولانا ڈاکٹر تاج افسر مدظلهبتاریخ: 17؍ محرم الحرام 1447ھ / 13؍ جولائی 2025ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہوربروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

Ep 437تکمیلی نشست دورہ تفسیر قرآن حکیم 2025ء | خصوصی ارشادات | مفتی عبد المتین نعمانی
تکمیلی نشست دورہ تفسیر قرآن حکیم 2025ءسترہ روزہ دورۂ تفسیر کی تکمیل پر خصوصی ارشاداتخطاب: حضرت مولانا مفتی عبد المتین نعمانی مدظلهبتاریخ: 17؍ محرم الحرام 1447ھ / 13؍ جولائی 2025ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہوربروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

Ep 436مُعاشی تقسیم کے الٰہی نظام کی روشنی میں ظالمانہ طفیلی مَعیشت کو جواز دینے والی فاسد ذہنیت کا جائزہ | 18-07-2025
مُعاشی تقسیم کے الٰہی نظام کی روشنی میں ظالمانہ طفیلی مَعیشت کو جواز دینے والی فاسد ذہنیت کا جائزہخُطبۂ جمعۃ المبارکحضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعید الرحمٰن حفظه اللهبتاریخ: 22؍ محرم الحرام 1447ھ / 18؍ جولائی 2025ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) ملتان کیمپس خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی وحدیثِ نبوی ﷺآیتِ قرآنینَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَـهُـمْ مَّعِيْشَتَـهُـمْ فِى الْحَيَاةِ الـدُّنْيَا ۚ وَرَفَعْنَا بَعْضَهُـمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِّيَتَّخِذَ بَعْضُهُـمْ بَعْضًا سُخْرِيًّا ۗ وَرَحْـمَتُ رَبِّكَ خَيْـرٌ مِّمَّا يَجْـمَعُوْنَ۔(-43الزخرف:32)ترجمہ: ”ان کی روزی تو ہم نے ان کے درمیان دنیا کی زندگی میں تقسیم کی ہے، اور ہم نے بعض کے بعض پر درجے بلند کیے تاکہ ایک دوسرے کو محکوم بنا کر رکھے، اور آپ کے ربّ کی رحمت اس سے کہیں بہتر ہے جو وہ جمع کرتے ہیں“۔حدیثِ نبوی ﷺقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: ”إِنَّ الدِّينَ النَّصِيحَةُ إِنَّ الدِّينَ النَّصِيحَةُ إِنَّ الدِّينَ النَّصِيحَةُ ,“ قَالُوا: لِمَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: ”لِلّٰهِ وَكِتَابِهِ وَرَسُولِهِ وَأَئِمَّةِ الْمُؤْمِنِينَ وَعَامَّتِهِمْ، أَوْ أَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ وَعَامَّتِهِمْ“۔ [سنن ابو داؤد،كتاب الأدب ، حدیث: 4944]ترجمہ: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یقیناً دین خیر خواہی کا نام ہے، یقیناً دین خیر خواہی کا نام ہے، یقیناً، دین خیر خواہی کا نام ہے“ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کن کے لیے؟ آپ نے فرمایا: ”اللہ کے لیے، اس کی کتاب کے لیے، اس کے رسول کے لیے، مومنوں کے حاکموں کے لیے اور ان کے عام لوگوں کے لیے یا کہا مسلمانوں کے حاکموں کے لیے اور ان کے عام لوگوں کے لیے“۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇✔️ دین کے معاشی نظام میں حلال و حرام کے قوانین کی بنیاد✔️ معاشی مساوات اور وسائلِ رزق کی منصفانہ تقسیم کا دینی تصوُّر✔️ دینِ اسلام کا بنیادی مقصود ؛خیر خواہی✔️ انسانوں میں باہمی احتیاج کا الٰہی نظام اور لعنت کے مستحق لوگ ✔️ بعض کو بعض پر معاشی فضیلت کا قرآنی تصوُّر✔️ سماجی مساوات اور سیاسی نظام میں درجات کا مفہوم✔️ طفیلی معیشت کی حقیقت✔️ ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبی عوام اور عالمی اداروں کا کردار✔️ معاشی ظلم کو مذہبی جواز دینے والی ذہنیت کا تجزیہ✔️ سماجی و معاشی برتری کی دینی اساس✔️ دورِ نبویؐ و خلافتِ راشدہ میں معیشت کا اجتماعی تصوُّر✔️ طبقاتی مہنگائی اور یو این ڈی پی کی رپورٹ✔️ مُساوات پر مبنی معیشت؛ اُسوۂ حسنہ کی روشنی میںبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

Ep 435قرآنی فہم و شعور کی رہنمائی میں جرم پیشہ عالمی مقتدرہ کے کردار کا جائزہ | 18-07-2025
قرآنی فہم و شعور کی رہنمائی میں جرم پیشہ عالمی مقتدرہ کے کردار کا جائزہخُطبۂ جمعۃ المبارکحضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 22؍ محرم الحرام 1447ھ / 18؍ جولائی 2025ءبمقام: محمدی مسجد رحیمیہ دار القرآن اسلام آبادخطبے کی رہنما آیتِ قرآنی وحدیثِ نبوی ﷺ:آیتِ قرآنی:وَكَذٰلكَ جَعَلْنَا فِي كُلِّ قَرْيَةٍ أَكَابِرَ مُجْرِمِيهَا لِيَمْكُرُوا فِيهَا وَمَا يَمْكُرُونَ إِلَّا بِأَنْفُسِهِمْ وَمَا يَشْعُرُونَ۔ (6 – الأنعام: 123)ترجمہ: ”اور اسی طرح ہر بستی میں ہم نے گناہگاروں کے سردار بنا دیے ہیں، تاکہ وہاں اپنے مکر و فریب کا جال پھیلائیں، حالانکہ وہ اپنے فریب کے جال میں آپ پھنستے ہیں، مگر وہ سمجھتے نہیں۔“حدیثِ نبوی ﷺ: ”مَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا، وَالْمَكْرُ وَالْخَدِيعَةُ فِي النَّارِ“۔ (معجم صغیر للطّبرانيؒ، حدیث: 538)ترجمہ: ”جو شخص کھوٹ ملا مال دے، وہ ہم سے نہیں ہے، اور مکر اور دھوکہ جہنم میں ہوگا۔“ ۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇✔️ فہمِ قرآن کی نعمت‘ ابدی اور لازوال ہے✔️ خلفائے راشدین کا قرآنی فہم و شعور میں بلند مقام ✔️ حضرت علی - کرم اللہُ وجہہ - کافہمِ قرآن اور نمایاں کارنامے✔️ علمِ تفسیر کے پہلے اُصول کی روشنی میں سماجی ساخت کا جائزہ✔️ عصری مسائل کے پائیدار حل کے تناظُر میں فہمِ قرآن کی ضرورت واہمیت ✔️ قرآن حکیم کے درست فہم سے دوری اور زوال پذیر اُمتِ مسلمہ✔️ خطبے کی مرکزی آیت میں انسانی معاشرے کے اہم مرض کی نشان دہی✔️ آیت کا واقعاتی پسِ منظر اور مختصر تفسیری خلاصہ✔️ مکے کے فاسد نظام کے محافظ طبقوں کا مجرمانہ کردار ✔️ قرآنی اصطلاحات کی توضیح، ”اکابرِ مجرمین “کی تاریخ اور مکر وفریب کا عالمی نظام✔️ یورپین بھیڑیے اور آلہ کار عربوں کا مکر وفریب اور ”اکابرِ مجرمین“ کا انجام✔️ مفاد پر ست طبقوں کا مکر وفریب اور مجرمانہ سیاست✔️ ملکی نظام میں مجرمانہ فریب کاریوں کا جائزہ✔️ مکر وفریب اور مجرمانہ سیاست کے خلاف نبویؐ شعوری تعلیمات✔️ قومی و عالمی ”اکابر مجرمین“ کا مکر وفریب اور قرآنی فہم وشعور کی دعوتِ فکربروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

Ep 434دینِ حق کی اَساس پر سماج کی تشکیلِ نَو کے لیے قرآن حکیم کے پانچ بنیادی علوم سے آگہی کی ضرورت و اہمیت | 11-07-2025
دینِ حق کی اَساس پر سماج کی تشکیلِ نَو کے لیے قرآن حکیم کے پانچ بنیادی علوم سے آگہی کی ضرورت و اہمیتخُطبۂ جمعۃ المبارکحضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعید الرحمٰن حفظه اللهبتاریخ: 15؍ محرم الحرام 1447ھ / 11؍ جولائی 2025ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاهور خطبے کی رہنما آیتِ قرآنیذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ لَمْ يَكُ مُغَيِّـرًا نِّـعْمَةً اَنْعَمَهَا عَلٰى قَوْمٍ حَتّـٰى يُغَيِّـرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِـمْ ۙ وَاَنَّ اللّٰهَ سَـمِيْـعٌ عَلِيْـمٌ۔(-8 الانفال:53)ترجمہ: "اس کا سبب یہ ہے کہ اللہ ہرگز اس نعمت کو نہیں بدلتا جو اس نے کسی قوم کو دی تھی جب تک وہ خود اپنے دلوں کی حالت نہ بدلیں، اور اس لیے کہ اللہ سننے والا جاننے والا ہے"۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇00:49 مطالعۂ قرآن کے لیے امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے عُلومِ خمسہ02:19 منحرِف گروہ اور مسخ شدہ نظریا ت کا تعارف(1۔علم المخاصمہ)05:56 معاشرے کے لیے احکامات اور صالح نظریات کی ضرورت (2۔علم الاحکامات)14:39 انعاماتِ الٰہی کا مدار اور تعاوُنِ باہمی کا اُصول20:56 رزق میں فضیلت کا مفہوم اور منکرینِ نعمت (سورۃ النحل :71)23:25 انعاماتِ الہی سے مستفید ہونے کے لیے اجتماعی نظام کی ضرورت (3۔علم تذکیر بآلاء اللہ)29:21 قوموں کی تاریخ کے مطالعے کی اہمیت (4۔ علم تذکیر بایام اللہ)31:06 مستقبل کے نتائج سے آگہی (5۔ علم تذکیر الموت وما بعدالموت)32:28 سماجی ترقی کے لیے قرآن حکیم کے پانچ عُلوم کے ادراک کی اہمیت مکمل خطبہ سننے کے لیے درجِ ذیل لنک پر کلک کیجیے 👇بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

Ep 434انسانی اَعمال ، اَخلاق و اَحوال کی تربیّت کے تناظُر میں قرآن فہمی کے دس بنیادی نِکات کا تعارُف | 11-07-2025
انسانی اَعمال ، اَخلاق و اَحوال کی تربیّت کے تناظُر میں قرآن فہمی کے دس بنیادی نِکات کا تعارُفخُطبۂ جمعۃ المبارکحضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 15؍ محرم الحرام 1447ھ / 11؍ جولائی 2025ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورخطبے کی رہنما آیتِ قرآنی وحدیثِ نبوی ﷺ :آیتِ قرآنی:هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ ۔ (3 – آلِ عمران: 7)ترجمہ: ”وہی ہے جس نے تجھ پر کتاب اتاری، اس میں بعض آیتیں محکم ہیں (جن کے معنیٰ واضح ہیں)، وہ کتاب کی اصل ہیں، اور دوسری مشابہ ہیں (جن کے معنیٰ معلوم یا معین نہیں)‘‘۔حدیثِ نبوی ﷺعن عليّ - رضي الله عنه - ، قَالَ: أَمَا إِنِّي قَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ ﷺ، يَقُولُ: ”أَلَا إِنَّهَا سَتَـكُونُ فِتْنَةٌ“، فَقُلْتُ: مَا الْمَخْرَجُ مِنْهَا يَا رَسُولَ اللّٰهِ؟ قَالَ: ”كِتَابُ اللّٰهِ فِيهِ نَبَأُ مَا كَانَ قَبْلَكُمْ، وَخَبَرُ مَا بَعْدَكُمْ، وَحُكْمُ مَا بَيْنَكُمْ ... إلخ“ الحدیث۔ (جامع ترمذی، حدیث: 2906)ترجمہ: حضرت علی فرماتے ہیں کہ: ”مَیں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”عنقریب کوئی فتنہ برپا ہو گا“، مَیں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! اس فتنے سے بچنے کی صورت کیا ہو گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کتابُ اللہ؛ اس میں تم سے پہلے کے لوگوں اور قوموں کی خبریں ہیں اور بعد کے لوگوں کی بھی خبریں ہیں، اور تمھارے درمیان کے اُمور و معاملات کا حکم و فیصلہ بھی اس میں موجود ہے“۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇✔️ انسانی سماج کو درپیش چیلنجز اور فتنے، نیز ان کا قرآنی تعلیمات کی روشنی میں حل✔️ قرآنِ حکیم سے رہنمائی حاصل کرنے کا نبویؐ طریقہ ✔️ امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی کتب میں ذکر کردہ مباحثِ علوم القرآن کا اجمالی جائزہ ✔️ شاہ صاحبؒ کے فلسفے کی امتیازی خصوصیات✔️ شاہ صاحبؒ نے عُلوم القرآن کے ساتھ ساتھ ان کا فہم اور حالتِ الٰہی پیدا کرنے کا طریقۂ کار بھی بتایا ہے✔️ گزشتہ خطبے کے مضامین کا خلاصہ✔️ انسانی اَخلاق، احوال اور مقامات پیدا کرنے میں مضامینِ قرآنیہ (علم تفسیر قرآن) کا مطالعہ✔️ ہر انسان میں ایمانِ حقیقی اور معرفتِ خداوندی کا داعیہ موجود✔️ علمِ تفسیر کا پہلا پہلو؛ جمہور انسانوں کے حقوق غصب کرنے والے سرمایہ پرستوں کی سطحی انسانیّت دشمن سوچ کی نشان دہی✔️ علمِ تفسیر کا دوسرا پہلو؛ انسانیّت کے تسلیم شدہ ارتفاقیات اور اَخلاقیات کی ترغیب اور بداَعمالیوں سے ترہیب ✔️ علمِ تفسیر کا تیسرا پہلو؛ آیاتِ عظمیٰ اور نعمتِ کبریٰ پر غور وفکر اور حالتِ الٰہی طاری کرنے کی دعوت ✔️ علمِ تفسیر کا چوتھا پہلو؛ ایمانِ حقیقی پیدا کرنے والی آیات پر غور وتدبُّر✔️ علمِ تفسیر کا پانچواں پہلو؛ماضی میں انبیا علیہم السلام کے واقعات اور ان کی اُمّتوں کے قصوں سے اَحوال و اَخلاق پیدا کرنے کی دعوت ✔️ علمِ تفسیر کا چھٹا پہلو؛انسانیّت کے مُسلَّمات میں ہونے والی تحریفات کا ردّ✔️ علمِ تفسیر کا ساتواں پہلو؛ ارتفاقات و اقترابات کے متعلق تمثیلات سے حالتِ الٰہی پیدا کرنا✔️ علمِ تفسیر کا آٹھواں پہلو؛ معاد (احوالِ آخرت) سے حالتِ اللہ کی کیفیت طاری کرنا✔️ علمِ تفسیر کا نوواں پہلو: انسانیّت کے اعمالِ فاسدہ اور ان کی قباحت کا بیان✔️ علمِ تفسیر کا دسواں پہلو؛ قرآنی سورتوں کے تین طرح کے اسالیب ✔️ مولانا عبید اللہ سندھیؒ کے اُسلوبِ تفسیر میں یہی منہج کار فرما✔️ قرآن کسی مخصوص فرقے کی کتاب نہیں✔️ قرآن کا موضوع المجتمع الانسانی (انسانی اجتماع کی تعمیر و ترقی کے علوم)✔️ دورۂ تفسیر سے مقصود اِن تعلیمات کو سیکھنا اور انھیں آگے منتقل کرنا ہے✔️ قرآنی پیغام کی دعوت کے اُسلوب میں تین اُصولوں کو پیش نظر رکھنا ضروری ہےبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

Ep 433فہمِ قرآن حکیم کے لیے اس کے نزول کے مقاصد و مراحل اور علوم سے شعوری آگہی کی ضرورت واہمیت | 04-07-2025
فہمِ قرآن حکیم کے لیے اس کے نزول کے مقاصد و مراحل اور علوم سے شعوری آگہی کی ضرورت واہمیتخُطبۂ جمعۃ المبارکحضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 8؍ محرم الحرام 1447ھ / 4؍ جولائی 2025ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورخطبے کی رہنما آیتِ قرآنی وحدیثِ نبوی ﷺ: آیتِ قرآنی: وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ تِبْيَانًا لِكُلِّ شَيْءٍ وَهُدًى وَرَحْمَةً وَبُشْرَى لِلْمُسْلِمِينَ۔ (16 – النحل: 89)ترجمہ: ”اور ہم نے تجھ پر ایک ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں ہر چیز کا کافی بیان ہے اور وہ مسلمانوں کے لیے ہدایت اور رحمت اور خوشخبری ہے“۔ حدیثِ نبوی ﷺ: قال ابنُ مسعود رضی الله عنه: ’’قَدْ بُیِّنَ لَنَا فِي هٰذا القُرْآنِ کُلُّ عِلْمٍ، وکُلُّ شَيْئٍ‘‘۔ (تفسیر ابن کثیر) ترجمہ: حضرت عبد اللّٰه بن مسعود رضی الله عنه نے فرمایا کہ: ”قرآن میں ہمارے لیے ہر طرح کا علم اور ہر قسم کی شے کی وضاحت کر دی گئی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇✔️ قرآنِ حکیم کی شعوری تعلیم کے اہداف✔️ قرآنِ حکیم‘ علومِ انسانیت کی حامل کتاب؛ ضرورت و اہمیت✔️ علومِ الٰہی کا انبیاؑ پر نزول اور حواریین و صحابہؓ کو پورا پورا فہم و شعور✔️ آج کا المیہ؛ علوم القرآن سے نا واقفیت اور عدمِ آگہی کی وجوہات✔️ ادارہ رحیمیہ میں منعقد دورۂ تفسیر کے بنیادی مقاصد و اہداف ✔️ علوم القرآن کی ترتیب و تدوین میں امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کا کردار ✔️ علوم القرآن سے عدمِ آگہی کے نقصانات ✔️ نزولِ قرآن کے چار مقاصد اور شعوری تقاضے✔️ قرآن میں ہر طرح کے علم کا نزول اور ہر ہر شے کی وضاحت کا سامان✔️ فہمِ علومِ قرآن میں حضرت عبداللہ بن مسعوؓد کا مقام ومرتبہ✔️ حضرت عبداللہ بن مسعوؓد کی فقاہت اور فقہ حنفی کی بنیاد✔️ امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے علومِ قرآن سے نابلد علما✔️ نزولِ قرآن کے پانچ مراحل اور حضور ﷺکے نفسِ قدسی کے کمالات ✔️ قرآن کی نشاۃِ شرعیہ‘ تا قیامت نافذ العمل ✔️ انسانیت پر نافذ العمل تشریعی دستور؛ قرآنِ حکیم کا لازمی تقاضا ✔️ غلام قوم کو آئین اور قانون سے نابلد رکھنے کے انسانیت دشمن ہتھکنڈے✔️ نو آبادیاتی دور کے غلامانہ رویے اور تبیانِ علومِ قرآن سے کوتاہی کا عمل✔️ قرآن کے سات بنیادی علوم، ان کی ہمہ گیریت اور شاہ صاحبؒ کا امتیاز✔️ علومِ قرآن کا پہلا دائرہ؛ الٰہیات (ذاتِ باری تعالی کے اسما وصفات کا علم) ✔️ انسانی قلوب و عقول میں قرآن کے منتقل کرنے میں علم اسماء الحسنیٰ کا کردار ✔️ علومِ قرآن کا دوسرا دائرہ؛ تکونیات (آسمان و زمین کی ساخت کا علم)✔️ تکوینات کے آٹھ پہلوؤں سے متعلق آیات اور غور وفکر کا منہج✔️ علومِ قرآن کا تیسرا دائرہ؛ وعظ (ترغیب و ترہیب کا علم) ✔️ موعظتِ حسنہ کے اسلوب کا فہم اور علما کی علمی وعملی کاوشیں✔️ علومِ قرآن کا چوتھا دائرہ؛ شرع (شریعت پر مبنی دین کا اقترابات و ارتفاقات کا عملی نظام) ✔️ علومِ قرآن کا پانچواں دائرہ؛ معاد (مرنے کے بعد کے چار مراحل کا علم)✔️ علومِ قرآن کا چھٹا دائرہ؛ محاجۃ الکفار (پہلے پانچ علوم کے منکرین سے مخاصمہ اور حجت قائم کرنے پر مبنی علم)✔️ علومِ قرآن کا ساتواں دائرہ؛ تاریخ (انبیا علیہم السلام کی جدوجہد اور منکرین کے واقعات کا علم)✔️ سیدالانبیاء ﷺ کی حیثیت سے ذوالقرنین کا قصہ ✔️ قرآنی علوم کی روشنی میں مطالعۂ قرآن کی دعوت ✔️ علمی منہج کی اساس پر قرآن فہمی‘ دور کا تقاضابروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

Ep 432اصحابِ رسول ﷺ کے اجتماعی فہم و بصیرت کی رہنمائی میں موجودہ دور کی فرقہ واریّت کے جائزہ کی دعوتِ فکر | 04-07-2025
اصحابِ رسول ﷺ کے اجتماعی فہم و بصیرت کی رہنمائی میںموجودہ دور کی فرقہ واریّت کے جائزہ کی دعوتِ فکرخُطبۂ جمعۃ المبارکحضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعید الرحمٰن حفظه اللهبتاریخ: 8؍ محرم الحرام 1447ھ / 4؍ جولائی 2025ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) ملتان کیمپسخطبے کی رہنما آیتِ قرآنیوَالسَّابِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهَاجِرِيْنَ وَالْاَنْصَارِ وَالَّـذِيْنَ اتَّبَعُوْهُـمْ بِاِحْسَانٍۙ رَّضِىَ اللّـٰهُ عَنْـهُـمْ وَرَضُوْا عَنْهُ وَاَعَدَّ لَـهُـمْ جَنَّاتٍ تَجْرِىْ تَحْتَـهَا الْاَنْـهَارُ خَالِـدِيْنَ فِيْـهَآ اَبَدًا ۚ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْـمُ۔ (9 - التوبہ: 100)ترجمہ: ’’اور جو لوگ قدیم میں پہلے ہجرت کرنے والوں اور مدد دینے والوں میں سے ہیں اور وہ لوگ جو نیکی میں ان کی پیروی کرنے والے ہیں، اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اس سے راضی ہوئے اور ان کے لیے ایسے باغ تیار کیے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ان میں ہمیشہ رہیں گے، یہ بڑی کامیابی ہے‘‘۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇✔️ مقاصدِ نُبوّت کی تکمیل کرنے والی اجتماعیت اور ختمِ نُبوّت✔️ غلبۂ دین کے لیے اجتماعیت کی ضرورت اور تربیت✔️ صحابیّت کا تعارُف، ذمہ داری اور کردار✔️ حضرت ابوبکر صدیق رَضِيَ اللهُ عنه بہ طورِ خلیفہ؛ کردار اور ویژن✔️ جماعتِ صحابہ رَضِيَ اللهُ عنهم کی اجتماعیت اور دینِ اسلام کا عالمی غلبہ✔️ عقیدے اور ظلم کے نظام کی تبدیلی کا فرق✔️ جماعتِ صحابہ رَضِيَ اللهُ عنهم کی دنیا میں پذیرائی اور قبولیت کی بنیاد✔️ اختلافِ رائے اور گروہی سوچ کا فرق✔️ اختلافِ رائے کی حُدود✔️ برِصغیر کی مذہبی منافرت میں انگریز سامراج کا کردار✔️ اورنگزیب عالمگیر رحمةُ اللّٰه علیه کی وُسعتِ نظری✔️ گروہیت کی افزائش اور تنازعات کے فروغ میں ملکی نظام کا کردار✔️ فرقہ وارانہ جماعتوں کی حقیقت، گروہی ذہنیت پیدا کرنے والے عناصر✔️ عالمی نظام کا فرقہ وارانہ تجزیہ اور شیطانی حکمتِ عملی کا شُعوربروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

Ep 432قرآن فہمی کی اہمیّت وطریقۂ کار اور قرآن حکیم کے بیان کردہ علوم خمسہ کا تعارف | 04-07-2025
قرآن فہمی کی اہمیّت وطریقۂ کار اور قرآن حکیم کے بیان کردہ علوم خمسہ کا تعارفخُطبۂ جمعۃ المبارکحضرت مولانا مفتی محمد مختار حسنبتاریخ: 8؍ محرم الحرام 1447ھ / 4؍ جولائی 2025ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہوربروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل ( ) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

Ep 432قرآن حکیم کے انقلابی پروگرام کے مطالعے کی ضرورت و اہمیت | 04-07-2025
قرآن حکیم کے انقلابی پروگرام کے مطالعے کی ضرورت و اہمیتخُطبۂ جمعۃ المبارکحضرت مولانا مفتی عبد المتین نعمانیبتاریخ: 7؍ محرم الحرام 1447ھ / 4؍ جولائی 2025ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہوربروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل ( ) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

Ep 430سماجی مسائل کے حل کے نکتۂ نظر سے قرآن حکیم پر غوروتدبر کی اہمیت اور منعقدہ دورہ تفسیر کا منفرد اسلوب | 27-06-2025
سماجی مسائل کے حل کے نکتۂ نظر سے قرآن حکیم پر غوروتدبر کی اہمیت اور منعقدہ دورہ تفسیر کا منفرد اسلوبخُطبۂ جمعۃ المبارکحضرت مولانا مفتی محمد مختار حسنبتاریخ: یکم؍ محرم الحرام 1447ھ / 27؍ جون 2025ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہوربروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

Ep 431قرآن حکیم کے انسانیت گیر پیغام کے فہم و شعور کے تناظر میں ولی اللّٰہی اُسلوبِ تفسیر کی عصری اہمیت | 27-06-2025
قرآن حکیم کے انسانیت گیر پیغام کے فہم و شعور کے تناظر میں ولی اللّٰہی اُسلوبِ تفسیر کی عصری اہمیتخُطبۂ جمعۃ المبارکحضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: یکم؍ محرم الحرام 1447ھ / 27؍ جون 2025ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورخطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی وحدیثِ نبوی ﷺ:آیاتِ قرآنی:1۔ لَقَدْ أَنْزَلْنَا إِلَيْكُمْ كِتَابًا فِيهِ ذِكْرُكُمْ أَفَلَا تَعْقِلُونَ۔ (21 – الأنبیاء: 10)ترجمہ: ”ہم نے اُتاری ہے تمھاری طرف کتاب کہ اس میں تمھارا ذکر ہے، کیا تم نہیں سمجھتے”2۔ وَإِنَّهُ لَتَنْزِيلُ رَبِّ الْعَالَمِينَ، نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ، عَلَى قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنْذِرِينَ۔ (26 – الشُّعَراء: 192 تا 194)ترجمہ: اور یہ قرآن ہے اُتارا ہوا پروردگارِ عالَم کا، لے کر اُترا ہے اس کو فرشتہ معتبر، ترے دل پر کہ تُو ہو ڈر سنا دینے والا“۔حدیثِ نبوی ﷺ:”الْقُرْآنُ حُجَّةٌ لَكَ، أَوْ عَلَيْكَ“۔ (مشکاۃ المصابیح، صحیح مسلم)ترجمہ: ”قرآن تمھارے حق میں حجت ہے، یا تمھارے خلاف حجت ہے“۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇✔️ دورۂ تفسیر قرآنِ حکیم اور حضرت شاہ سعید احمد رائے پوریؒ✔️ نبی اکرم ﷺ کے قلبِ اطہر پر قرآن کا نزول✔️ زبانِ نبوتؐ سے جاری ہونے والے کلامِ الٰہی کی جامعیت✔️ سرکارِ دوعالم ﷺ کے خاتم الانبیا ہونے کی لاجواب تشریح✔️ متنِ قرآن اور فہمِ حدیث کا شعور اور ضرورت و اہمیت✔️ قرآنی آیت کی روشنی میں حکمران بننے کی بنیادی شرط✔️ قرآن کے نزول کا مقصد‘ انسانوں کو غفلت کی حالت سے نکالنا✔️ قلب کے غافل ہونے کا مطلب✔️ نبیؐ کی دعوت کا ہدف‘ کل انسان ہیں، نہ کہ خاص نسل یا قوم✔️ حضرت بلالؓ کی اذان‘ دلوں کی غفلت دور کرنے کا سبب✔️ مسلمان امن و سلامتی کا شعار، لیکن آج بداَمنی و گروہیت کی علامت✔️ صحابہ کرامؓ، ائمۂ اہل بیتؒ اور تمام علمائے ربّانیینؒ کا موضوع‘ انسانیت ہے✔️ مقامِ صِدیقیت و محدَّثیت، تجدیدِ دین اور خدمتِ انسانیت✔️ صدیقیت کے مقام پر فائز‘ فقہا و محدّثین کے تجدیدی کارنامے✔️ فقہی اختلافات کی حقیقت اور جامع پیغامِ انسانی✔️ مجددین صوفیائے کرامؒ اور قربِ بارگاہ الٰہی کے حصول کے طریقے✔️ صدیقین و محدثین (مجددین) کی جماعت تا قیامت برقرار رہے گی✔️ مجدد الفِ ثانیؒ اور انسانیت کے افتراق و انتشار کا خاتمہ✔️ اس دورِ میں مقامِ صدیقیت پر فائز امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ اور تجدیدی کارنامے✔️ شاہ صاحبؒ کی تجدیدی خصوصیت؛ حصولِ قربِ الٰہی کے لیے جذب کا طریقہ✔️ حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت عمرؓ کے واقعے سے جذب کی توضیح✔️ معروضی مسائل کے حل کے لیے امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کا منہجِ تفسیر اور فہمِ حدیث✔️ شاہ محمداسماعیل شہیدؒ کے ہاں مقامِ صدیقیت کی جامع تشریح✔️ ولی اللّٰہی تفسیری اُسلوب پر قرآنِ حکیم کے فہم و شعور کی ضرورت و اہمیت✔️ ولی اللّٰہی تفسیری اُسلوب پر قرآنِ حکیم کا فہم اور امام شاہ محمداسحاق دہلویؒ کا واقعہ✔️ دورۂ تفسیر کا ہدف؛ ولی اللّٰہی اُسلوب کی روشنی میں قرآنِ حکیم کو سیکھنا اور سمجھنا✔️ آج کے دور میں انسانیت کے پیغام کو سمجھانے کے لیے مکی دور سے رہنمائی✔️ قومی جمہوری دور میں جدوجہد کا منہج اور ولی اللّٰہی جماعت کی انسانی بنیاد پر رہنمائی✔️ تفریقِ انسانیت‘ اسلام کی تعلیم نہیں، بلکہ سرمایہ دارانہ نظام کی پیدا کردہ ہے✔️ قرآن کا انسانیت گیر پیغام پہنچانے کے لیے شاہ سعید احمد رائے پوریؒ کی شبانہ روز جدوجہدبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

Ep 429ملّتِ ابراہیمیہ حنیفیہ کا تاریخی تسلسل اور اس کو مسخ کرنے کی انسانیت دشمن حکمت عملی | 27-06-2025
ملّتِ ابراہیمیہ حنیفیہ کا تاریخی تسلسلاور اس کو مسخ کرنے کی انسانیت دشمن حکمت عملیخُطبۂ جمعۃ المبارکحضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعید الرحمٰن حفظه اللهبتاریخ: یکم؍ محرم الحرام 1447ھ / 27؍ جون 2025ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) ملتان کیمپسخطبے کی رہنما آیتِ قرآنی"يَآ اَيُّـهَا النَّبِىُّ حَسْبُكَ اللّـٰهُ وَمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ"۔ (8 - الانفال: 64)ترجمہ: ”اے نبی! اللہ کافی ہے تجھے اور مومنوں کو جو تیرے تابعدار ہیں"۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇 00:45 حضور اکرم ﷺ کا منصب03:59 حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا اور مکہ کا تمدنی ارتقا09:50 حضور اکرم ﷺ اور آپؐ کی نمائندہ جماعت16:07 جماعتِ رسول ﷺ کی پہچان19:53 جماعتِ رسولؐ کی غلبۂ دین کے لیے جدوجہد22:52 قیصر و کسریٰ کے عالمی نظاموں کے متعلق حضور اکرمؐ کی پیشین گوئی25:44 غلبۂ دین کے ایشیا افریقا پر تمدنی اثرات29:20 یورپ کا دینی فکر سے تعصب34:44 مسلمانوں کے باہمی اختلافات کا دائرہ و حدود37:38 غلبے کی تاریخ اور عصری تقاضے44:45 ابراہام اکارڈ کی حقیقت اور ملتِ ابراہیمی کا تسلسل54:59 شعائرِ ابراہیمی پر عمل کرنے والی ملت اور منحرف گروہ01:00:34 بلاتفریق رنگ، نسل، مذہب‘ انسانی حقوق کا عالمی نظام01:05:34 استحصال پر قائم عالمی نظام اور جبر کے خلاف ملتِ ابراہیمی کا کرداربروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

Ep 428دورِحاضر کے عالمی دجالی نظام کا مکروہ کردار اور اس کی آلۂ کاری و اثراتِ بد سے اجتناب کی ضرورت | 20-06-2025
دورِحاضر کے عالمی دجالی نظام کا مکروہ کردار اور اس کی آلۂ کاری و اثراتِ بد سے اجتناب کی ضرورتخُطبۂ جمعۃ المبارکحضرت مولانا مفتی محمد مختار حسنبتاریخ: 23؍ ذوالحجہ 1446ھ / 20؍ جون 2025ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہوربروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

Ep 427ظلم کے خلاف قرآنی دعوتِ فکر اور عالمی صہیونی نظام ظلم کے خلاف جدوجہد کی اہمیت | 20-06-2025
ظلم کے خلاف قرآنی دعوتِ فکر اور عالمی صہیونی نظام ظلم کے خلاف جدوجہد کی اہمیتخُطبۂ جمعۃ المبارکحضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعید الرحمٰن حفظه اللهبتاریخ: 23؍ ذوالحجہ 1446ھ / 20؍ جون 2025ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) ملتان کیمپسخطبے کی رہنما آیتِ قرآنی’’وَلَا تَـرْكَنُـوٓا اِلَى الَّـذِيْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّـٰهِ مِنْ اَوْلِيَآءَ ثُـمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ‘‘. (سورہ ھود:113)ترجمہ: ’’اور ان کی طرف مت جھکو جو ظالم ہیں پھر تمہیں بھی آگ چھوئے گی، اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی مددگار نہیں ہے پھر کہیں سے مدد نہ پاؤ گے۔‘‘ ۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇0:00 آغاز0:47 کائنات میں میزان اور سماج میں عدل کا اُصول9:07 انبیا علیہم السلام کی بعثت کے مقاصد؛ جبر کے نظام کا خاتمہ16:53 حضور اکرم ﷺ کی بعثت کے مقاصد23:10 جماعتِ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا مشن28:29 دینِ اسلام کا بنیادی پیغام اور دشمن سے مقابلے کی حکمتِ عملی34:44 اکیسویں صدی کی جنگیں اور سامراجی کاروائیاں39:36 جماعتِ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی بصیرت42:27 فرقہ پرست ذہنیت کا المیہ اور سامراج کی 200 سالہ تاریخ46:40 انسانیت دشمن صیہونی فکر کا تجزیہ49:53 امتِ مسلمہ کی بیداری اور درست حکمت عملی اپنانے کی ضرورت54:44 مشرقِ وسطیٰ کی اقوام کے باہمی تصادم کے اثرات اور سامراجی حملےبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

Ep 426امنِ عالم کی تباہ کاری میں عالمی اور علاقائی مجرمانہ طرزِ عمل اور ایران کا مزاحمتی کردار، ایک جائزہ | 20-06-2025
امنِ عالم کی تباہ کاری میں عالمی اور علاقائی مجرمانہ طرزِ عمل اور ایران کا مزاحمتی کردار، ایک جائزہخُطبۂ جمعۃ المبارکحضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 23؍ ذوالحجہ 1446ھ / 20؍ جون 2025ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورخطبے کی رہنما آیتِ قرآنی وحدیثِ نبوی ﷺ:آیتِ قرآنی:كُلَّمَا أَوْقَدُوا نَارًا لِلْحَرْبِ أَطْفَأَهَا اللَّهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِينَ۔ (5 – المائدۃ: 64)ترجمہ (حضرت لاہوریؒ): ”جب کبھی لڑائی کے لیے آگ سُلگاتے ہیں تو اللہ اس کو بُجھا دیتا ہے، یہ زمین میں فساد پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں اور اللہ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا“۔ حدیثِ نبوی ﷺ :عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: اسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ النَّوْمِ مُحْمَرًّا وَجْهُهُ، يَقُولُ:" لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ، فُتِحَ الْيَوْمَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلُ هَذِهِ، وَعَقَدَ سُفْيَانُ تِسْعِينَ أَوْ مِائَةً، قِيلَ: أَنَهْلِكُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ؟، قَالَ: نَعَمْ، إِذَا كَثُرَ الْخَبَثُ".زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے کہ انہوں نے بیان کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نیند سے بیدار ہوئے تو آپ کا چہرہ سرخ تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ عربوں کی تباہی اس بلا سے ہو گی جو قریب ہی آ لگی ہے۔ آج یاجوج ماجوج کی دیوار میں سے اتنا سوراخ ہو گیا اور سفیان نے نوے یا سو کے عدد کے لیے انگلی باندھی پوچھا گیا کیا ہم اس کے باوجود ہلاک ہو جائیں گے کہ ہم میں صالحین بھی ہوں گے؟ فرمایا ہاں! جب برائی بڑھ جائے گی (تو ایسا ہی ہو گا)۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇0:00 آغاز0:37 امنِ عالم کے قیام کے لیے نبی رحمت ﷺ کی بعثت1:45 علوم کے حیوانی اور وحشیانہ استعمال کے بھیانک نتائج4:31 آگ بڑھکانے والے حیوانیت صفت اہلِ علم اور قانونِ خداوندی 8:11 امن تباہ کرنے والوں کے خلاف انبیا علیہم السلام کا کردار9:10 بادشاہ ذوالقرنین اور ظلم و فساد مچانے والے یاجوج ماجوج 13:23 سیرتِ نبی رحمت ﷺ کے مختلف مراحل 20:27 آپ ﷺ کا امنِ عالَم کے قیام کے لیے ذوالقرنین کے مشابہ کردار 26:54 مسلمان حکمرانوں کا اپنے دور کے یاجوج ماجوج کے خلاف سدِ سکندری باندھنا 32:12 حدیث کے الفاظ ’’ویل للعرب‘‘ کی وضاحت42:43 یورپین بھیڑیوں کی یاجوج ماجوج سے مشابہت اور سدِ سکندری میں شگاف کی سیاہ واردات اور جنگ کی آگ بھڑکانے میں عرب‘ یورپین بھیڑیوں کے ساتھ برابر کے شریک46:48 بلاد العرب کی ہلاکت اور تباہی کی تاریخ 59:35 جہاد اور حرب (جنگ بھڑکانے) میں بنیادی فرق 1:02:39 عربوں کی تباہی کے لیے یاجوج ماجوج کے تسلط کی نبویؐ پیشین گوئی 1:05:14 آج صیہونی و یہودی طاقتوں کے خلاف سدِ سکندری قائم کرنے میں ایران کا کردار 1:10:56 ایرانی انقلاب کے نتیجے میں پاکستان میں سنی انقلاب کو روکنے کے لیے سامراج کے ہاتھوں مذہبی طبقہ استعمال ہوا1:13:47 ایرانی انقلاب کے تہذیب و کلچر پر صالح اثرات، نیز بے حیائی پھیلانے میں عربوں کی سیاہ کاریاں1:16:55 انسانیت دشمن عناصر کے لیے میڈیا اور مسلمان حکمرانوں کا مرجفانہ و منافقانہ کردار1:19:53 آج حضرت شاہ سعید احمد رائے پوریؒ کا ایران اور افغانستان کے متعلق مؤقف حق سچ ثابت ہوابروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

Ep 425ملتِ ابراہیمی کے نمائندہ نبوی نظام میں معاشی عدل و توازن کے قوانین اور ملکی بجٹ کا استحصالی پسِ منظر | 13-06-2025
ملتِ ابراہیمی کے نمائندہ نبوی نظام میں معاشی عدل و توازن کے قوانین اور ملکی بجٹ کا استحصالی پسِ منظرخُطبۂ جمعۃ المبارکحضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 16؍ ذو الحجہ 1446ھ / 13؍ جون 2025ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہوررہنما آیاتِ قرآنی واحادیثِ نبوی ﷺ: آیاتِ قرآنی: 1۔ وَكَمْ أَهْلَكْنَا مِنْ قَرْيَةٍ بَطِرَتْ مَعِيشَتَهَا فَتِلْكَ مَسَاكِنُهُمْ لَمْ تُسْكَنْ مِنْ بَعْدِهِمْ إِلَّا قَلِيلًا۔ (28 – القصص: 58)ترجمہ: ”اور ہم نے بہت سی بستیوں کو ہلاک کر ڈالا جو اپنے سامانِ عیش پر نازاں تھے، سو! یہ ان کے گھر ہیں کہ ان کے بعد آباد نہیں ہوئے، مگر بہت کم“۔ 2۔ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا الرِّبَا أَضْعَافًا مُضَاعَفَةً وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ۔ (3 – آلِ عمران: 130)ترجمہ: ”اے ایمان والو! سود دُونے پر دُونا نہ کھاؤ، اور اللہ سے ڈرو، تاکہ تمہارا چھٹکارا ہو“۔ (تراجم از حضرت لاہوریؒ) احادیثِ نبوی ﷺ: 1۔ ”الرِّبَا سَبْعُونَ حُوبًا أَيْسَرُهَا أَنْ يَنْكِحَ الرَّجُلُ أُمَّهُ“۔ (سنن ابن ماجة، حدیث: 2274) ترجمہ: ”سود ستر گناہوں کے برابر ہے، جن میں سے سب سے چھوٹا گناہ یہ ہے کہ آدمی اپنی ماں سے نکاح کرے“۔ 2۔ ”الاقْتِصَادُ في النَّفَقَةِ نِصْفُ الْمَعِيْشَةِ۔ (معجم الأوسط، للطبرانی: 6744، شعب الإیمان للبیھقي: 6568)ترجمہ: ”خرچ کرنے میں میانہ روی اختیار کرنا، آدھی معیشت ہے“۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇✔️ ملتِ ابراہیمیہ کی اَساس پر دینِ اسلام کے جامع نظام کے خدوخال ✔️ رضائے خداوندی ملتِ ابراہیمی کی تعلیمات - جنھیں دینِ اسلام نے مکمل کیا ہے - سے وابستہ ہے ✔️ ملتِ ابراہیمیہ حنیفیہ کے مقاصد پر ایک نظر اور ارتفاقِ ثالث کی بنیادی اہمیت✔️ نبی اکرم ﷺ کی بعثت اور (قومی و بین الاقوامی سطح پر) ارتفاقات کی تکمیل ✔️ مکہ کے نظام میں خرابی کی نوعیت اور اس کی تبدیلی کی حکمتِ عملی اور اِقدامات ✔️ سماجی تبدیلی میں انتہا پسندی سے بچنے اور عصری تقاضوں کے لحاظ کی اہمیت ✔️ سماجی تبدیلی میں انبیا علیہم السلام کی معتدل حکمتِ عملی کا عملی مظاہرہ اور اس کے نتائج ✔️ ملتِ ابراہیمی ہر قوم کے مقامی طبعی تقاضوں کے تناظر میں ارتفاقات کی تکمیل کرتی ہے✔️ عہدِ نبویؐ میں عربوں کے تجارتی رُوٹس اور تبادلۂ اَشیا کا عمل اور دینی رہنمائی ✔️ عربوں کے تجارتی نظام میں استحصالی عناصر اور اس کے تدارُک کی نبوی حکمتِ عملی ✔️ حرمتِ سود اور یہودیوں کی حیلہ سازی اور سود سے متعلق ملتِ ابراہیمی کا حقیقی تصور✔️ زر کے کاروبار کی یہودی حکمتِ عملی کی خرابی اور انسانی محنت پر بُرے اثرات ✔️ بیع کی چند ناجائز شکلوں اور سود کے خاتمے کی نبوی حکمت اور درست اقدامات ✔️ ٹیکسز کے نظام کی رُوح اور اسلام کا کارنامہ اور نبوی حکمتِ عملی میں اس کا لحاظ ✔️ اسلام کے نظامِ زکوٰۃ کی حکمت اور معاشی نظام میں اس کی برکات اور ثمرات ✔️ زکوٰۃ سے بچنے کے لیے حیلہ سازی اور شریعت میں اس کی ممانعت اور اقدامات ✔️ آمدن اور خرچ کے عادلانہ معاشی نظام کو قائم کرنے میں آں حضرت ﷺ اور صحابہؓ کی جدوجہد✔️ ملکی خزانے کو چوسنے والی جونکوں کا خزانے سے پیسے بٹورنے کے ناجائز حربوں پر ایک نظر ✔️ پاکستان کے خزانے پر ناجائز پلنے والے طبقے اور امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کا معاشی فکر ✔️ کسی ریاست کی تباہی کا بنیادی سبب‘ ملکی خزانے پر نکمّے طبقوں کا ٹوٹ پڑنا ہے✔️ یورپین بحری قزاقوں کی تاریخ پر طائرانہ نظر اور ان کی ہندوستان میں آمد کے مقاصد ✔️ پاکستان کے بجٹ 2025ء پر ایک تنقیدی نظر اور پاکستانی معیشت پر اس کے اثراتبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

Ep 424قرآن حکیم کی انسان دوست رہنمائی کے تناظر میں طبقاتی معیشت کی ہلاکت خیزی کا جائزہ | 13-06-2025
قرآن حکیم کی انسان دوست رہنمائی کے تناظر میں طبقاتی معیشت کی ہلاکت خیزی کا جائزہخُطبۂ جمعۃ المبارکحضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعید الرحمٰن حفظه اللهبتاریخ: 16؍ ذوالحجہ 1446ھ / 13؍ جون 2025ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) ملتان کیمپس خطبے کی رہنما آیتِ قرآنیوَلَقَدْ مَکَّنَّاکُمْ فِی الْاَرْضِ وَجَعَلْنَا لَکُمْ فِیْہَا مَعَایِشَ قَلِیْلًا مَّا تَشْکُرُوْنَ(7 - الاعراف:10)ترجمہ: ’’اور ہم نے تمہیں زمین میں جگہ دی اور اس میں تمہاری زندگی کا سامان بنا دیا، تم بہت کم شکر کرتے ہو‘‘۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇0:00 آغاز0:37 انسانوں کی سماجی زندگی اور وسائل پر تصرف7:41 محروم المعیشت؛ ایک غیر فطری تصور15:00 شکر کا معاشی تصور17:35 سماجی نظام کو پرکھنے کا طریقہ21:34 پاکستان کے قومی معاشی وسائل اور عوامی حالت25:00 قرضوں کی معیشت 30:02 قرض لینے والے اور بوجھ اُٹھانے والے طبقات33:05 معاشرتی تباہی کے دو بڑے اسباب (امام شاہ ولی اللہؒ کا نقطۂ نظر)39:16 خسارے کا بجٹ اور قرضوں کی سائنس43:00 طبقاتی سماج اور خوشامدی اَخلاق47:44 ٹیکسوں کی معیشت، اَخلاقی بربادی اور قانونِ قدرت53:41 بجٹ کی حقیقت اور ماہرینِ معیشت کا فقدانبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

Ep 423خطبۂ عید الاضحٰی 1446ھ / 2025ء | ڈاکٹر مفتی سعید الرحمٰن
خطبۂ عید الاضحٰیحضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعید الرحمٰن مدظلہبتاریخ: 10؍ ذوالحجہ 1446ھ / 7؍ جون 2025ءبمقام ادارہ: رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) ملتان کیمپسبروقت مطلع ہونے کے لیے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لیے بل ( 🔔 ) آئی ایکون کو دباد۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

Ep 422خطبۂ عید الاضحٰی 1446ھ / 2025ء | مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
خطبۂ عید الاضحٰیحضرت مولانا مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 10؍ ذوالحجہ 1446ھ / 7؍ جون 2025ءبمقام ادارہ: رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

Ep 421اعلیٰ مقاصد کے لیے قربانی کا ابراہیمی اُسوہ اور اس کے تقاضے | 06-06-2025
اعلیٰ مقاصد کے لیے قربانی کا ابراہیمی اُسوہ اور اس کے تقاضےخُطبۂ جمعۃ المبارکحضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعید الرحمٰن حفظه اللهبتاریخ: 9؍ ذوالحجہ 1446ھ / 6؍ جون 2025ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) ملتان کیمپس خطبے کی رہنما آیتِ قرآنیوَالْبُدْنَ جَعَلْنَاهَا لَكُمْ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰهِ لَكُمْ فِيهَا خَيْرٌ فَاذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَيْهَا صَوَافَّ فَإِذَا وَجَبَتْ جُنُوبُهَا فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ كَذٰلِكَ سَخَّرْنَاهَا لَكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَo (22 - الحج: 36) ترجمہ: ’’اور ہم نے تمہارے لیے قربانی کے اونٹ کو اللہ کی نشانیوں میں سے بنایا ہے، تمہارے لیے ان میں فائدے بھی ہیں، پھر ان پر اللہ کا نام کھڑا کرکے لو، پھر جب وہ کسی پہلو پر گر پڑیں تو ان میں سے خود کھاؤ اور صبر سے بیٹھنے والے اور سائل کو بھی کھلاؤ، اللہ نے انھیں تمھارے لیے ایسا مسخر کر دیا ہے تاکہ تم شکر کرو‘‘۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇✔️ اُسوۂ حضرت ابراہیم علیہ السلام✔️ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا فاسد تمدن کے خلاف اعلانِ برأت✔️ نظریہ اور قربانی کا باہمی تعلق✔️ نظامِ ظلم کی کمزور بنیادیں اور شعوری جدوجہد کی ضرورت✔️ ابراہیمی مشن؛ نظامِ ظلم سے اعلانِ آزادی✔️ نظامِ ظلم میں مفاہمت اور مصالحت کی حقیقت اور وہن کا مرض✔️ قربانی کی حقیقت اور ابراہیم علیہ السلام کی آزمائش✔️ عبادت کا فلسفہ اور ذبحِ عظیم کا مقصد✔️ فلسفۂ حیات اور نفاق پر قائم سماجی نظامبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

Ep 420قربانی کے مَنسَک کی ضرورت اور حکمت عملی شریعتِ محمدیہ ﷺ کے مقاصد اور اُصولوں کے میدان میں | 06-06-2025
قربانی کے مَنسَک کی ضرورت اور حکمت عملی شریعتِ محمدیہ ﷺ کے مقاصد اور اُصولوں کے میدان میںخُطبۂ جمعۃ المبارکحضرت مولانا مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 9؍ ذو الحجہ 1446ھ / 6؍ جون 2025ءبمقام ادارہ: رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورخطبے کی کتاب قرآنی :وَلِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِيَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰه عَلىٰ مَا رَزَقَهُمْ مِنْ بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ فَإِلٰهُكُمْ إِلٰهٌ وَاحِدٌ فَلَهُ أَسْلِمُوا وَبَشِّرِ الْمُخْبِتِينَo (22 – الحج: 34)ترجمہ (از حضرت لاہوریؒ): ”اور ہر امت کے لیے ہم نے قربانی مقرر کر دی تھی، تاکہ اللہ نے جو چار پائے انھیں دیے ہیں ان پر اللہ کا نام یاد کیا کریں، پھر تم سب کا معبود تو ایک اللہ ہی ہے، پس اس کے فرماں بردار رہو اور عاجزی کرنے والوں کو خوشخبری سنا دو“۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نکات۔ ۔ ۔ ۔ 👇✔ ️ عبادات و مناسک کی ضرورت واہمیت✔️ عیدالاضحی اور قربانی کے مقاصد اور مادی تصورات کا جائزہ✔️ مقصدِ دینِ محمدیؐ میں قربانی کے عمل کی ناگزیریت✔️ ہر مَنسَک کے پیچھے کارفرماں نائٹ و اِرادے✔️ قربانی سے متعلق مَنسکُ الخیر اور مَنسَکُ الشّرّ کا تعین✔️ ہر شئے کی حسن وخوبی پر حمدِ باری اللّٰہ کے تین طریقے✔️ ذبح کرنا' خداوندی کا عملی اظہار اور سنتِ ابراہیمیؑ✔️ جانور قربان کرنے کا بنیادی راز؛ عالمِ ارواح سے تعلق کی لاجواب کی تشریح✔️ ذبیحہ کے دُنیوی و اُخروی فوائد ونتائج، نیزآٹھ مال کی قربانی کی حکمت✔️ بھوک و افلاس اور لوٹ کھسوٹ کا سرمایہ دارانہ نظام ✔️ حج اور قربانی کے اعمال میں آٹھ مقاصدِ شریعتِ محمدیؐ سے انحراف درست نہیںبروقت مطلع ہونے کے لیے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لیے بل ( 🔔 ) آئی ایکون کو دباد۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

Ep 419ملتِ ابراہیمی کے مقاصد اور اُصولوں کی روشنی میں مناسکِ حج کے تقاضے اور موجودہ دور میں اِنحرافی طرز ِعمل | 30-05-2025
ملتِ ابراہیمی کے مقاصد اور اُصولوں کی روشنی میں مناسکِ حج کے تقاضے اور موجودہ دور میں اِنحرافی طرز ِعملخُطبۂ جمعۃ المبارکحضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 2؍ ذو الحجہ 1446ھ / 30؍ مئی 2025ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورخطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی وحدیثِ نبوی ﷺ:آیاتِ قرآنی:1۔ الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَعْلُومَاتٌ فَمَنْ فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ۔ (2 – البقرہ: 197)ترجمہ: ”حج کے چند مہینے معلوم ہیں، سو جو کوئی ان میں حج کا قصد کرے تو مباشرت جائز نہیں اور نہ گناہ کرنا اور نہ حج میں لڑائی جھگڑا کرنا“۔2۔ لِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا هُمْ نَاسِكُوهُ فَلَا يُنَازِعُنَّكَ فِي الْأَمْرِ وَادْعُ إِلَى رَبِّكَ إِنَّكَ لَعَلَى هُدًى مُسْتَقِيمٍ۔ (22 – الحج: 67)ترجمہ: ”ہم نے ہر قوم کے لیے ایک دستور مقرر کر دیا ہے، جس پر وہ چلتے ہیں، پھر انہیں تمھارے ساتھ اس معاملہ میں جھگڑنا نہ چاہیئے، اور اپنے رب کی طرف بُلا، بے شک تو البتہ سیدھے راستہ پر ہے“۔حدیثِ نبوی ﷺ:”لِتَأْخُذُوا مَنَاسِكَكُمْ“۔ (صحیح مسلم، حدیث: 3137)ترجمہ: ”تمھیں چاہیے کہ تم اپنے حج کے طریقے سیکھ لو“۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇 ✔️ عشرۂ ذی الحج کی اہمیت✔️ حج‘ عظیم ترین عاشقانہ عبادت اور اس کے مقاصد✔️ جاہلیتِ جدیدہ، فہمِ دین میں کوتاہیاں اور امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی جدوجہد✔️ تعلیمِ کتاب اور تفہیمِ علمِ الٰہی (وحی) پر مبنی جماعت تا قیامت موجود رہے گی✔️ ملتِ ابراہیمیہؑ حنیفیہ کے مقاصد اور عملی تشکیل کے اُصول (سابقہ خطباتِ جمعہ کا خلاصہ)✔️ ملت کے ان مقاصد اور اُصولوں کی روشنی میں مناسکِ حج کی تفہیم✔️ خطبے کی مرکزی آیت کی تشریح و توضیح✔️ مشرکینِ مکہ کا ملتِ ابراہیمیہؑ کے بنیادی قانون میں انحراف اور حج کو کاروبار بنانے کا گھناؤنا عمل✔️ ایامِ حج میں ردّ و بدل اور قمری کیلنڈر میں انحراف کا سد باب ضروری✔️ حالتِ احرام کی تین پابندیاں اور اس کی حکمتیں✔️ مناسکِ حج کی تشریح✔️ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا محجوج الخیر (بیت اللہ الحرام) کا حج کے لیے تعین✔️ ننگے بدن طواف کرنے کی ممانعت کا راز اور مناسکِ حج میں حجابات توڑنے کی مشق✔️ شیطانی نظام کے خاتمے کے لیے عزم و ہمت اور دعاؤں کا خصوصی اہتمام ضروری✔️ حج کا اجتماع، خطبہ حج اور اس کے مقاصد و اہداف✔️ خطبہ حج میں بین الاقوامی اعلامیہ جاری کرنا ضروری✔️ حج کا زمانہ اور مکان‘ مخصوص و متعین ہے✔️ حج کے اعمال‘ نماز کی مانند اور عجز و انکساری کا اظہار ضروری✔️ اعمالِ حج میں اجتماعیت، ڈسپلن کا اظہار بنیان مرصوص کی طرح ہونا چاہیے✔️ حج میں نظم ونسق کی پابندی نہ کرنے کے نقصانات✔️ حج سے حاصل ہونے والے وسائل پر یہودی و صیہونی عناصر کا قبضہ✔️ حجیج اور راکب کا بنیادی فرق✔️ حضرت عمر فاروقؓ کا دِکھاوے، تجارت، بھیک مانگنے اور سیر و تفریح کی نیت سے حج کرنے والوں کی نشان دہی✔️ فریضہ حج ادا کرنے والوں کے لیے ضروری پیغام بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute منجانب: رحیمیہ میڈیا

Ep 418حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اعلانِ حج؛ تعظیمِ شعائراللہ اور انسانیت گیر غیر طبقاتی سماجی تربیت میں اس کا کردار | 30-05-2025
حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اعلانِ حج؛ تعظیمِ شعائراللہ اور انسانیت گیر غیر طبقاتی سماجی تربیت میں اس کا کردارخُطبۂ جمعۃ المبارکحضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعید الرحمٰن حفظه اللهبتاریخ: 2؍ ذو الحجہ 1446ھ / 30؍ مئی 2025ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) ملتان کیمپسخطبے کی رہنما آیاتِ قرآنیوَأَذِّنْ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ يَأْتُوكَ رِجَالًا وَعَلَى كُلِّ ضَامِرٍ يَأْتِينَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ، لِيَشْهَدُوا مَنَافِعَ لَهُمْ وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ فِي أَيَّامٍ مَعْلُومَاتٍ عَلَى مَا رَزَقَهُمْ مِنْ بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْبَائِسَ الْفَقِيرَ، ثُمَّ لْيَقْضُوا تَفَثَهُمْ وَلْيُوفُوا نُذُورَهُمْ وَلْيَطَّوَّفُوا بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ (22 - الحج: 27 تا 29)ترجمہ: ’’اور لوگوں میں حج کا اعلان کر دے کہ تیرے پاس پا پیادہ اور پتلے دُبلے اونٹوں پر دُور دراز راستوں سے آئیں، تاکہ اپنے فائدوں کے لیے آ موجود ہوں اور تاکہ جو چارپائے اللہ نے انھیں دیے ہیں، ان پر مقررہ دنوں میں اللہ کا نام یاد (قربانی) کریں، پھر ان میں سے خود بھی کھاؤ اور محتاج فقیر کو بھی کھلاؤ۔پھر چاہیے کہ اپنا میل کچیل دور کریں اور اپنی نذریں پوری کریں اور قدیم گھر کا طواف کریں‘‘۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇✔️ غلبۂ دین اور حج کی عبادت✔️ شعائراللہ اور ان کی تعظیم✔️ جدوجہدِ ابراہیمی اور حنیفیت✔️ عشرۂ ذوالحجہ کی اہمیت✔️ مقاصدِ حج اور عالمگیر انسانی اجتماع✔️ حج بہ طورِ جہاد اور سماجی جدوجہد و عمل✔️ استطاعت کا مفہوم اور طبقاتی حج✔️ روحِ حج اور رسومِ حج✔️ خطبہ حجۃ الوداع کے تناظر میں عصر ی تقاضوں کا شعور✔️ ایامِ تربیت اور کلماتِ تلبیہ کے مقاصدبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute

Ep 417انسانی شناختوں کے قرآنی تناظر میں نسلی برتری کے علاقائی اور عالمی نظاموں کی تباہ کاری کا جائزہ | 23-05-2025
انسانی شناختوں کے قرآنی تناظر میں نسلی برتری کے علاقائی اور عالمی نظاموں کی تباہ کاری کا جائزہ خُطبۂ جمعۃ المبارکحضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعید الرحمٰن حفظه الله بتاریخ: 25؍ ذو قعدہ 1446ھ / 23؍ مئی 2025ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) ملتان کیمپس خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی’’يَآ اَيُّـهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّاُنْثٰى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوْبًا وَّقَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوْا ۚ اِنَّ اَكْـرَمَكُمْ عِنْدَ اللّـٰهِ اَتْقَاكُمْ ۚ اِنَّ اللّـٰهَ عَلِيْـمٌ خَبِيْـرٌ‘‘ (49 - الحجرات:13)ترجمہ (قرآن عزیز): ”اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک ہی مرد اور عورت سے پیدا کیا ہے اور تمہارے خاندان اور قومیں جو بنائی ہیں تاکہ تمہیں آپس میں پہچان ہو، بے شک زیادہ عزت والا تم میں سے اللہ کے نزدیک وہ ہے جو تم میں سے زیادہ پرہیزگار ہے، بے شک اللہ سب کچھ جاننے والا خبردار ہے“۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇0:00 آغاز0:51 تقسیمِ انسانیت کا ابلیسی نظریہ7:51 انسانی نسلوں میں فطری تنوع اورقومی تشخص15:33 انسانی شناختوں کا قرآنی تصور19:39 انسانی تقسیم کا خود ساختہ نظریہ24:07 نسلی برتری کی بنیاد پر انسانی حقوق کا تصور29:07 سامراج کی سفاکانہ تاریخ اور موجودہ حکمتِ عملی کا جائزہ36:47 دینِ اسلام کی مساواتِ انسانی پر مبنی تعلیمات40:18 سفید فام نسل پرستی سے انسانیت کو لاحق خطرات44:38 دینِ اسلام کے انسانیت پر اِحسانات47:39 نفرت، اسلحہ اور تیسری دنیا کی لیبارٹریاں50:32 تقسیمِ انسانیت کا نظریہ اور شعوری بیداری کی ضرورتبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

Ep 416مقاصدِ شریعت پر مبنی دینی نظام کی تشکیل کے اُصول اور انحرافی تصورات کا جائزہ | 23-05-2025
مقاصدِ شریعت پر مبنی دینی نظام کی تشکیل کے اُصول اور انحرافی تصورات کا جائزہخُطبۂ جمعۃ المبارکحضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 25؍ ذو قعدہ 1446ھ / 23؍ مئی 2025ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورخطبے کی رہنما آیتِ قرآنی واحادیثِ نبوی ﷺ: آیتِ قرآنی:”وَيَوْمَ نَبْعَثُ فِي كُلِّ أُمَّةٍ شَهِيدًا عَلَيْهِمْ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَجِئْنَا بِكَ شَهِيدًا عَلىٰ هٰؤُلَاءِ وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ تِبْيَانًا لِكُلِّ شَيْءٍ وَهُدًى وَرَحْمَةً وَبُشْرَى لِلْمُسْلِمِينَ۔ (16 – النحل: 89)ترجمہ: ”اور جس دن ہر ایک گروہ میں سے ان پر انہیں میں سے ایک گواہ کھڑا کریں گے، اور تجھے ان پر گواہ بنائیں گے، اور ہم نے تجھ پر ایک ایسی کتاب نازل کی ہے، جس میں ہر چیز کا کافی بیان ہے اور وہ مسلمانوں کے لیے ہدایت اور رحمت اور خوش خبری ہے“۔ احادیثِ نبوی ﷺ: 1۔ ”إِنَّ لِلّٰهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا، مِائَةً إِلَّا وَاحِدًا، مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ“۔ (صحیح بخاری، حدیث: 7392)ترجمہ: ”اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں، جو انہیں یاد کر لے گا وہ جنت میں جائے گا۔“2۔ ”مَنْ أَتٰى كَاهِنًا فَصَدَّقَهُ بِمَا يَقُولُ، فَقَدْ برئ مما أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ ﷺ“۔ (رواه أحمد: 10167، وأبو داود: 3904)ترجمہ: ”جو شخص کسی کاہن کے پاس جائے اور اس کی باتوں کی تصدیق کرے تو بے شک اس نے حضرت محمد ﷺ پر نازل ہونے والی شریعت سے برأت ظاہر کردی“۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇✔️ ابراہام اکارڈ کے پردے میں عالمی دجال کے مزعومہ مقاصد اور دینِ اسلام کے قومی و بین الاقوامی نظام کو سمجھنے کی ضرورت واہمیت✔️ انسانیت کے تین بڑے اُصولوں کی حفاظت کے لیے دینِ ابراہیمیؑ اور اس کی ذیلی شریعتوں کا تقرر ✔️ شریعتِ محمدیؐ کے مقاصد کی روشنی میں انسانیت کے آفاقی اصولوں کی حفاظت✔️ مقاصدِ شریعت کے حصول کے لیے دینِ اسلام کے عملی نظام کی تشکیل کے پانچ بنیادی اصول✔️ پہلا اُصول: ملتِ ابراہیمیہؑ میں شامل ہونے کے لیے جملہ ایمانیات کا اقرار لازمی، نیز یہود ونصاریٰ اور نام نہاد اسلام پسندوں کی خرابیاں✔️ دوسرا اصول: سابقہ تین ملتوں سے وابستگی اور ان کی تصدیق کرنے والا بھی ملتِ ابراہیمیؑ کا حصہ نہیں!✔️ ان دو اصولوں کی روشنی میں گمراہ فرقوں کا جائزہ✔️ حدیث: ’’مَنْ أَتٰی کَاہِنًا‘‘ کی روشنی میں سابقہ ملتوں کے کاہنوں کی تصدیق اور غیر تجربہ شدہ عقلی چیزوں پر قانون سازی اور عملی نظام بنانا درست نہیں✔️ تیسرا اُصول: شریعتِ محمدیؐ کے اعمال کی انجام دہی میں نیتوں کا درست ہونا ضروری✔️ خالص منافق کی چار نشانیاں اور ان کے اطلاقی پہلو✔️ چوتھا اُصول: نظام کی تشکیل اور شریعت سازی میں کتاب وسنت کے واضح حلال و حرام کی اتباع اور شبہات سے بچنے کی تاکید✔️ زر کو قرضے پر دینے اور سود کو حلال قرار دینے کے لیے ذہنی و عقلی شبہات سے حیلے بہانے کرنے کی ممانعت✔️ پانچواں اُصول: دینی نظام کی بنیاد محکمات پر ہوگی‘ نہ کہ متشابہات پر✔️ متشابہات کی غلط تعبیرات و تاویلات کی ممانعت✔️ آٹھ مقاصدِ شریعت اور ان پر عمل درآمد کے پانچ اصولوں کے بغیر دینِ اسلام کا جامع تصور پیش کرنا ناممکن ہے✔️ دو سو سال سے ان مقاصد اور اصولوں کے منکرینِ ختم نبوت اور دین کی غلط تعبیر پیش کرنے والے نام نہاد متجددینبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

Ep 415جواب دہی کے قرآنی تصور کی روشنی میں میڈیا اور فتویٰ بازی کے غیر ذمہ دارانہ رویوں کا جائزہ | 16-05-2025
جواب دہی کے قرآنی تصور کی روشنی میں میڈیا اور فتویٰ بازی کے غیر ذمہ دارانہ رویوں کا جائزہ خُطبۂ جمعۃ المبارکحضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعید الرحمٰن حفظه اللهبتاریخ: 18؍ ذو قعدہ 1446ھ / 16؍ مئی 2025ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) ملتان کیمپس خطبے کی رہنما آیتِ قرآنیوَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ ۚ اِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُـوْلًا۔ (17 - بنی اسرائیل:36)ترجمہ (قرآن عزیز): ”اور جس بات کی تجھے خبر نہیں اس کے پیچھے نہ پڑ، بے شک کان اور آنکھ اور دل ہر ایک سے باز پرس ہوگی۔“ ۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇✔️ انسان بہ طورِ ذمہ دار اور مکلف✔️ صغیرہ اور کبیرہ گناہوں کے لیے عبادات اور توبہ کی ضرورت✔️ دنیا اور آخرت میں باز پرس کا نظام✔️ انسان کے پاس اللہ کی امانت اور اس کی جواب دہی✔️ سماجی بگاڑ کی بڑی وجہ؛ جھوٹ کی انڈسٹری✔️ غیر مصدقہ خبریں اور اُن کو پھیلانے کا غیر ذمہ دارانہ رویہ✔️ فتوی بازی اور مفتی ماجن کے متعلق شرعی حکم✔️ رائے سازی میں علمائے شریعت کا محققانہ کردار✔️ علما کا ذمہ دارانہ سماجی کردار✔️ کسی کے ایمان پر حملے کرنے کی ممانعت (قرآن و سنت کی روشنی میں)بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

Ep 414مقاصدِ شریعت کی فقاہت و اجتماعی بصیرت کی اہمیت اور دینی بے شعوری کے نقصانات | 16-05-2025
مقاصدِ شریعت کی فقاہت و اجتماعی بصیرت کی اہمیت اور دینی بے شعوری کے نقصاناتخُطبۂ جمعۃ المبارکحضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 18؍ ذو قعدہ 1446ھ / 16؍ مئی 2025ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورخطبے کی رہنما آیتِ قرآنی وحدیثِ نبوی ﷺ: آیتِ قرآنی: ”فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طَائِفَةٌ لِيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنْذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ۔ (9 – التوبہ: 122)ترجمہ: ”سو کیوں نہ نکلا ہر فرقے میں سے ان کا ایک حصہ، تاکہ سمجھ پیدا کریں دین میں اور تاکہ خبر پہنچائیں اپنی قوم کو، کہ جب لوٹ کر آئیں ان کی طرف، تاکہ وہ بچتے رہیں“۔ حدیثِ نبوی ﷺ: ” مَنْ يُرِدِ اللهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ، وَإِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ وَاللهُ يُعْطِي، وَلَنْ تَزَالَ هَذِهِ الْأُمَّةُ قَائِمَةً عَلىٰ أَمْرِ اللهِ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ حَتّٰى يَأْتِيَ أَمْرُ اللهِ “۔ (صحیح بخاری، حدیث: 71)ترجمہ: ” جس شخص کے ساتھ اللہ تعالیٰ بھلائی کا ارادہ کرے، اسے دین کی سمجھ عنایت فرما دیتا ہے اور میں تو محض تقسیم کرنے والا ہوں، دینے والا تو اللہ ہی ہے اور یہ امت ہمیشہ اللہ کے حکم پر قائم رہے گی اور جو شخص ان کی مخالفت کرے گا، انہیں نقصان نہیں پہنچا سکے گا، یہاں تک کہ اللہ کا حکم (قیامت) آ جائے (اور یہ عالم فنا ہو جائے)۔ “ ۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇✔️ تفقُّہ فی الدین اور دینی مہارت پیدا کرنے کی ضرورت و اہمیت اور لازمی تقاضے✔️ بلا تفریق رنگ و نسل‘ ہر انسان دینِ اسلام کی تعلیمات میں تفقُّہ و بصیرت حاصل کرنے کا حق دار✔️ دینی علوم کے ماہرین اور فقہا کی اطاعت ضروری، نیز دینی بے شعوری کے دُنیوی و اُخروی نقصانات✔️ تفقُّہ و بصیرت کا معنی ومفہوم اور فقیہ کی ضرورت✔️ شریعتِ محمدیؐ کے آٹھ مقاصد و اَہداف کی روشنی میں دینی فقاہت پیدا کرنا ضروری ✔️ آج مقاصدِ نبوت کے علی الرغم ارتفاقات و اقترابات کا نظام✔️ مقاصدِ نبوت کے تناظر میں گرد وپیش کے حقائق کا ادراک ✔️ طاغوتی نظام کا عالمی غلبہ، مذہبی صیہونیت اور فقیہ کا کام ✔️ حدیث کی روشنی میں فقیہ کے مقاصد اور دو ذمہ داریاں✔️ دینی فقاہت اور بصیرت رکھنے والی جماعت تاقیامت برقرار رہے گی✔️ باشعور اور صاحبِ بصیرت و فقاہت، اجتماعیت کی پہچان کرنے اور ان کی معیت اختیار کرنے کا حکمبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

Ep 413شریعتِ محمدیہ ﷺ کے مقاصد کی تفہیم و تشریح اور انسانوں کے بہ طورِ اسلحہ تجربہ گاہ استعمال کا المیہ | 09-05-2025
شریعتِ محمدیہ ﷺ کے مقاصد کی تفہیم و تشریح اور انسانوں کے بہ طورِ اسلحہ تجربہ گاہ استعمال کا المیہخُطبۂ جمعۃ المبارکحضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 11؍ ذو قعدہ 1446ھ / 9؍ مئی 2025ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورخطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی واحادیثِ نبوی ﷺ: آیاتِ قرآنی: 1۔ وَأَنْ أَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا وَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِينَ۔ (10 – یونس: 105)ترجمہ: ”اور یہ کہ سیدھا کر منہ اپنا دین پر، حنیف ہو کر، اور مت ہو شرک والوں میں“۔ 2۔ ثُمَّ جَعَلْنَاكَ عَلَى شَرِيعَةٍ مِنَ الْأَمْرِ فَاتَّبِعْهَا وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ۔ (45 – الجاثیہ: 18)ترجمہ: ”پھر تجھ کو رکھا ہم نے ایک راستہ پر دین کے کام کے سوا،تو اسی پر چل اور مت چل خواہشوں پر نادانوں کی“۔ احادیثِ نبوی ﷺ: 1۔ ”إِنِّي لَمْ أُبْعَثْ بِالْيَهُودِيَّةِ وَلَا بِالنَّصْرَانِيَّةِ , وَلَكِنِّي بُعِثْتُ بِالْحَنِيفِيَّةِ السَّمْحَةِ“۔ (مسند احمد، مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، حدیث: 22291)ترجمہ: ”مجھے یہودیت یا عیسائیت کے ساتھ نہیں بھیجا گیا، مجھے تو صاف ستھرے دین حنیف کے ساتھ بھیجا گیا ہے“۔2۔ بُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً۔ (صحیح بخاری، حدیث: 438)ترجمہ: ”مجھے دنیا کے تمام انسانوں کی ہدایت کے لیے بھیجا گیا ہے“۔ 3۔ بُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ عَامَّةً۔ (صحیح بخاری، حدیث: 335)ترجمہ: ”میں تمام انسانوں کے لیے عام طور پر نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں“۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇✔️ نبی اکرم ﷺ کو ملت ابراہیمیہ حنیفیہ کی اَساس پر شریعت کی اتباع کا حکم✔️ لفظ ’’دین‘‘ کی تحقیق اور دینِ حق اور دینِ باطل کا فرق ✔️ حضور ﷺ کو دینِ حنیفی پر استقامت اختیار کرنے کا حکم ✔️ دینِ حنیفی کی موسوی شریعت میں یہود کی تحریفات✔️ یہود کے مسخ شدہ تصورات کے خلاف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا کردار اور اصل ماڈل کا اِحیا✔️ انجیل کی خود ساختہ تشریحات کی بنیاد پر شریعتِ مسیحی کا مسخ شدہ ماڈل✔️ حضور ﷺ کا مشرکینِ مکہ کی مسخ شدہ تعلیمات کے مقابلے میں ملتِ حنیفی کے اصل ماڈل اور تشریعی نظام کا اِحیا✔️ شریعتِ محمدیہ ﷺ کا بنیادی تقاضا؛ خواصِ انسانیت کا لحاظ ✔️ انسان کے خواص میں مادی اور رُوحانی تقاضوں کو پیشِ نظر رکھنا لازمی و ضروری ✔️ انسان کی خاصیت اور ارتفاقات کی چار سطحیں ✔️ بنیادی انسانی اَخلاق کے ذریعے قربِ بارگاہِ الٰہی کا حصول✔️ شریعتِ محمدیہ ﷺ کا پہلا مقصد: ارتفاقِ ثانی کے پانچ شعبوں کی ملت ابراہیمیہ کے اساس پر اصلاح و بحالی✔️ دوسرا مقصد: غلط اور باطل رسومِ ارتفاقات کی اصلاح، نیز ارتفاق اور رسم کا جوہری فرق ✔️ نبوی شریعت میں اصلاحِ رسوم کے معیارات کا جائزہ ✔️ تیسرا مقصد: ارتفاقِ ثالث (قومی نظام) کی اصلاح اور ظلم کے سیاسی، معاشی اور عدالتی سسٹم کا خاتمہ ✔️ چوتھا مقصد: ملتِ حنیفی کی اساس پر بین الاقوامی نظام کا قیام اور غلبہ، نیز بین الاقوامی تعلقات کے اصول✔️ اسلحہ ٹیسٹ کی انسانی لیبارٹریاں اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ✔️ پانچواں مقصد: دینِ حنیفی کے مقابلے میں مسخ شدہ ظالم نظاموں کا جڑ سے خاتمہ✔️ چھٹا اُصول: صفتِ احسان کا حصول اور تعلق مع اللہ کے تین حجابات کو توڑنا ✔️ ساتواں اُصول: ریاست و مملکت پر شیطانی شرور و فتن اور انسان نما شیطان کے تسلط کا خاتمہ ✔️ شریعت کا آٹھواں مقصد: پہلے سات مقاصد کے نتیجے میں عذابِ قبر، حشر اور جہنم کی آگ کے فتنے سے حفاظت ✔️ اصل شریعتِ محمدیہؐ اور ان کے مقاصد پر نقب اور سوراخ کرنے والے نام نہاد مفاد پرست مسلمان جماعتوں اور لیڈروں کو تنبیہبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

Ep 412توکل کا دینی مفہوم اور وطنی دفاع کی اہمیت اور تقاضے | 09-05-2025
توکل کا دینی مفہوم اور وطنی دفاع کی اہمیت اور تقاضے خُطبۂ جمعۃ المبارکحضرت ڈاکٹر مفتی سعید الرحمٰن حفظه اللهبتاریخ: 11؍ ذو قعدہ 1446ھ / 9؍ مئی 2025ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) ملتان کیمپس خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنیاِنَّهٝ لَيْسَ لَـهٝ سُلْطَانٌ عَلَى الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا وَعَلٰى رَبِّـهِـمْ يَتَوَكَّلُوْنَ، اِنَّمَا سُلْطَانُهٝ عَلَى الَّـذِيْنَ يَتَوَلَّوْنَهٝ وَالَّـذِيْنَ هُـمْ بِهٖ مُشْرِكُـوْنَ۔ (16 - النحل: 99 - 100)ترجمہ (قرآن عزیز): ”اس کا زور ان پر نہیں چلتا جو ایمان رکھتے ہیں اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔ اس کا زور تو انہیں پر ہے جو اسے دوست بناتے ہیں اور جو اللہ کے ساتھ شریک مانتے ہیں۔“ ۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇0:00 آغاز 0:58 قادرِ مطلق ہونے کا مفہوم3:32 نظامِ اسباب اور انبیا علیہم السلام کا اُسوہ8:08 نظامِ اسباب اور جدوجہد؛ اُسوۂ نبوی ﷺ کی روشنی میں11:30 توکل کامفہوم اور انبیا علیہم السلام کی جدوجہد16:38 وطن سے محبت اور فطرتِ انسانی، اُسوۂ نبوی ﷺ کی روشنی میں21:45 دین کی حقیقی تعلیمات اور خود ساختہ تصورات24:59 طبقاتی نظام اور وسائل کی مینجمنٹ کی ضرورت33:14 حُبُّ الوطنی کے تقاضےبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

Ep 411انسانیت کی تقسیم میں فاسد مذہبیت کا کردار اور سماجی وحدت کے لیے دینی بصیرت کی اہمیت | 02-05-2025
انسانیت کی تقسیم میں فاسد مذہبیت کا کردار اور سماجی وحدت کے لیے دینی بصیرت کی اہمیتخُطبۂ جمعۃ المبارکحضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعید الرحمٰن حفظه اللهبتاریخ: 4؍ ذو قعدہ 1446ھ / 2؍ مئی 2025ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) ملتان کیمپسخطبے کی رہنما آیتِ قرآنیقُلْ هٰذهِ سَبِيلِي أَدْعُو إِلَى اللّٰهِ عَلٰى بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي وَسُبْحَانَ اللّٰهِ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ۔ (12 - یوسف:108)ترجمہ(قرآن عزیز): ”کہہ دو یہ راستہ ہے کہ میں لوگوں کو اللہ کی طرف بلا رہا ہوں، بصیرت کے ساتھ میرا اور میرے تابعداروں کا، اور اللہ پا ک ہے اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔“ ۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇0:00 آغاز1:35 دین کا بنیادی مقصد؛ معاشرتی وحدت7:52 سچے دین اور فاسد دین کا فرق13:32 یثرب کی تمدنی تبدیلی؛ اُسوۂ حسنہ کے تناظر میں18:19 جھوٹے دین کا بنیادی ایجنڈا؛ گروہیت کا فروغ23:50 بعثتِ نبوی ﷺ کے مقاصد اور فاسد مذہبی طبقے کا مخالفانہ کردار26:18 بگڑے مذہبی طبقے کے حربے33:55 سچے دین کا راستہ؛ بصیرت، عقل، سماجی وحدت37:15 مذہب اور سماج کی لاتعلقی کی اساس اور آلۂ کار مذہب39:52 لامذہب طبقات اور شدت پسند مذہبی گروہیتیں43:06 برصغیر کی انتہا پسند مذہبی سیاسی جماعتوں کا تجزیہ46:27 انسانی احترام اور وقار کے علم بردار سچے دین کی ضرورت55:18 خطے میں موجود مذہبی فرقہ واریت اور ہماری ذمہ داریاںبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

Ep 409تقریب| درس افتتاح صحیح بخاری شریف 1446ھ / 2025ء
درس افتتاح صحیح بخاری شریفمدرّسحضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 14؍ شوال المکرّم 1446ھ / 13؍ اپریل 2025ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہوربروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

Ep 408نسل پرست اجارہ دار عالمی نظام کا بہیمانہ کردار تعاونِ باہمی پر مبنی قرآن کے اصولِ نمائندگی کی روشنی میں جائزہ | 04-04-2025
نسل پرست اجارہ دار عالمی نظام کا بہیمانہ کردار تعاونِ باہمی پر مبنی قرآن کے اصولِ نمائندگی کی روشنی میں جائزہخُطبۂ جمعۃ المبارکحضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعید الرحمٰنحفظه اللهبتاریخ: 5؍ شوال المکرم 1446ھ / 4؍ اپریل 2025ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) ملتان کیمپسخطبے کی رہنما آیتِ قرآنیوَهُوَ الَّـذِىْ جَعَلَكُمْ خَلَآئِفَ الْاَرْضِ وَرَفَـعَ بَعْضَكُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِّيَبْلُوَكُمْ فِىْ مَآ اٰتَاكُمْ ۗ اِنَّ رَبَّكَ سَرِيْعُ الْعِقَابِ وَاِنَّهُ لَغَفُوْرٌ رَّحِيْـمٌ (6 - الأنعام:165)ترجمہ: ”اس نے تمہیں زمین میں نائب بنایا ہے اور بعض کے بعض پر درجے بلند کر دیے ہیں تاکہ تمہیں آزمائے اس میں جو اس نے تمہیں دیا ہے، بے شک البتہ تیرا رب جلدی عذاب دینے والا ہے اور بے شک وہ بخشنے والا مہربان ہے“ ۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇0:00 آغاز0:44 کائنات میں انسان کی مرکزی حیثیت اور تسخیرِ کائنات کی ذمہ داری3:34 انسانی صلاحیات میں تنوع اور تعاونِ باہمی کے تناظر میں طغیانی کے رویے کا جائزہ 10:17 منصبِ خلافت کا تقاضا اور فاسد اجتماعیت کی علامت اور اجارہ دارانہ ذہنیت کا تجزیہ اور بندگی کا تقاضا15:04 فکری اور ذہنی آزادی اور معاشی برتری کا مفہوم19:17 موجودہ عالمی استحصالی نظام کا جائزہ30:59 اسرائیل کے تحفظ میں امریکا، یورپ اور عالمی اداروں کا بہیمانہ کردار36:22 دلکش عنوانات پر قائم نسل پرستی کا نظام42:44 اسلحہ ٹیسٹ کی ایشین اور افریقن انسانی لیبارٹریاں46:46 صحت مند اقدار پر مبنی دینی نظام کو سمجھنے کی ضرورت49:38 انسانی حقوق کے دعوے اورحقائق کا شعوری ادراک بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute منجانب: رحیمیہ میڈیا

Ep 407ارتفاقات اور ایمانیات کے تناظر میں مِلّتِ إبراہیمیہ کی اصل حقیقت اور عالمی طاقتوں کے مسلط کردہ ابراہام اکارڈ کا جائزہ! | 02-05-2025
ارتفاقات اور ایمانیات کے تناظر میں مِلّتِ إبراہیمیہ کی اصل حقیقت اور عالمی طاقتوں کے مسلط کردہ ابراہام اکارڈ کا جائزہ!خُطبۂ جمعۃ المبارکحضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 4؍ ذو قعدہ 1446ھ / 2؍ مئی 2025ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورخطبے کی رہنما آیتِ قرآنی وحدیثِ نبوی ﷺ:آیتِ قرآنی:هُوَ اجْتَبٰكُمْ وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ مِلَّةَ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ هُوَ سَمّٰكُمُ الْمُسْلِمِينَ مِنْ قَبْلُ۔ (22 – الحج: 78)ترجمہ: ”اس نے تمہیں پسند کیا ہے، اور دین میں تم پر کسی طرح کی سختی نہیں کی، تمہارے باپ ابراہیم کا دین ہے، اسی نے تمہارا نام پہلے سے مسلمان رکھا تھا“۔حدیثِ نبوی ﷺ:”إِنِّي لَمْ أُبْعَثْ بِالْيَهُودِيَّةِ وَلَا بِالنَّصْرَانِيَّةِ , وَلَكِنِّي بُعِثْتُ بِالْحَنِيفِيَّةِ السَّمْحَةِ“۔ (مسند احمد، مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، حدیث: 22291)ترجمہ: ”مجھے یہودیت یا عیسائیت کے ساتھ نہیں بھیجا گیا، مجھے تو صاف ستھرے دین حنیف کے ساتھ بھیجا گیا ہے“۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇0:00 آغاز1:41 دین میں تشدد، تعصب سے اجتناب اور راہِ اعتدال کو اختیار کرنے کی عصری اہمیت5:10 مِلّتِ إبراہیمیہ حنیفیہ کی قومی تشکیل‘ حضرت ابراہیمؑ اور بین الاقوامی تشکیل حضرت محمدؐ نے کی6:57 مغرب کی طرف سے مذہب کے ابراہیمی اکارڈ کے سیاسی استعمال کی کوشش8:57 حضرت ابراہیم علیہ السلام یہودی یا عیسائی نہیں تھے، بلکہ وہ حنیف اور قانتاً لِلّٰہ تھے15:50 ارتفاقِ ثانی اور ارتفاقِ ثالث کی بنیاد تین چیزوں / اصولوں پر رکھی گئی ہے28:36 حکمت کی تعریف و معنی و مفہوم، اس کے لوازمات و استعمالات اور اثرات و نتائج29:44 ارادۂ الٰہیہ کا معنی و مفہوم اور کائنات میں اس کے مؤثرات اور نتائج و اثرات37:05 عقل سے معرفتِ الٰہیہ اور قلب سے تقدسِ الٰہی کا ادراک اور نفس سے اقرار مقصود ہے48:42 پریشانی‘ جسمانی کی طرح عقلی اور روحانی بھی ہے، بلکہ دوسری قسم کی پریشانی زیادہ سخت ہے55:10 دین میں آسانی اور سہولت کا درست تصور اور دین میں تنگی کے تصور کے خلاف انتہا پسندی1:01:20 عبادات میں صرف روح ہی نہیں، بلکہ نَسمِک باڈی یعنی جسمانی طور پر شرکت مقصود ہے1:07:04 مِلّتِ إبراہیمیہ حنیفیہ عالمگیر اِنسانیت کی حقیقی ضرورت ہے، اس کے لیے جدو جہد کی اہمیت بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا