
خطبات
524 episodes — Page 5 of 11

Ep 321قرآن حکیم کے اسلوبِ تمثیل کے تناظر میں کثیر القومی کمپنیوں کے شکنجے میں پھنسے وطن کی بدحالی کا جائزہ| 2024-07-19
*قرآن حکیم کے اسلوبِ تمثیل کے تناظر میں**کثیر القومی کمپنیوں کے شکنجے میں پھنسے وطن کی بدحالی کا جائزہ**خُطبۂ جمعۃ المبارک:*حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری*بتاریخ:* 12؍ محرم الحرام 1446ھ / 19؍ جولائی 2024ء*بمقام:* ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور *خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی وحدیثِ نبوی ﷺ:**آیاتِ قرآنی:*وَلَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِي هَذَا الْقُرْآنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ o قُرْآنًا عَرَبِيًّا غَيْرَ ذِي عِوَجٍ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ o ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا رَجُلًا فِيهِ شُرَكَاءُ مُتَشَاكِسُونَ وَرَجُلًا سَلَمًا لِرَجُلٍ هَلْ يَسْتَوِيَانِ مَثَلًا الْحَمْدُ لِلَّهِ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ o إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ o ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْتَخْتَصِمُونَ o (39 – الزُّمر: 27 تا 31)*ترجمہ:* ”اور ہم نے لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر قسم کی مثال بیان کر دی ہے تاکہ وہ نصیحت پکڑیں o وہ عربی زبان کا بے عیب قرآن ہے تاکہ یہ لوگ ڈریں o اللہ نے ایک مثال بیان کی ہے ایک غلام ہے جس میں کئی ضدی شریک ہیں اور ایک غلام سالم ایک ہی شخص کا ہے، کیا دونوں کی حالت برابر ہے؟ سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، مگر ان میں سے اکثر نہیں سمجھتے o بے شک آپ کو بھی مرنا ہے اور ان کو بھی مرنا ہے o پھر بے شک تم قیامت کے دن اپنے رب کے ہاں آپس میں جھگڑو گےo“۔*حدیثِ نبوی ﷺ:*”يُجَاءُ بِالْإِمَامِ الْخَائِنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَتُخَاصِمُهُ الرَّعِيَّةُ فَيَفْلُجُونَ عَلَيْهِ، فَيُقَالُ لَهُ: سُدَّ رُكْنًا مِنْ أَرْكَانِ جَهَنَّمَ“۔ (مسند البزار، حديث: 1644)*ترجمہ:* ”قیامت کے دن ظالم اور خیانت کرنے والے بادشاہ کو لایا جائے گا، تو اس سے اس کی رعایا جھگڑا کرے گی اور وہ اس پر غالب آجائے گی۔ پھر الله تعالیٰ کی طرف سے فرمان جاری ہوگا کہ ”جاؤ ! اسے جہنم کا ایک رُکن بنا دو“۔*۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔* 👇✔️ فہمِ قرآن حکیم کی اہمیت اور سورت زمر کے گزشتہ مضامین سے آج کی گفتگو کا ربط✔️ گفتگو میں تمثیل کی اہمیت اور دعوت و تذکیر کا قرآنی اسلوب✔️ امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے افکار میں عالم مثال کی تعریف و تشریح✔️ قرآن حکیم کے عربی میں نزول کی حکمت اور اس کی تعلیمات کا اعجاز✔️ قرآن حکیم کے نظریہ و فکر کو کسی بھی قوم کی مادری زبان میں پیش کرنے کی ضرورت و اہمیت✔️ برعظیم میں انگریز وں سے پہلے مادری اور مقامی زبانوں میں تعلیم و تربیت کی روایت✔️ قرآن حکیم کی مختلف قرائتوں کی حکمت اور عہدِ نبویؐ میں فہمِ قرآن کی مقامی روایت✔️ انگریزی استعمار کا مقامی زبانوں میں مداخلت اور انھیں فنا کرنے میں کردار✔️ عہدِ نبویؐ میں عربی زبان سے دوسری زبانوں میں ترجمانی کی روایت✔️ قرآن حکیم کی ایک فرد کے ایک مالک کے مقابلے میں بہت سے آقاؤں کی حکمت بھری تمثیل✔️ آج کے دور میں کسی ریاست پر استحصالی قوتوں کی غلامی کے اجتماعی اثرات و نتائج✔️ ایک آقا کے مقابلے میں کئی آقاؤں کی قرآنی تمثیل اور ضرب المثل سے اہم سبق اور نتائج✔️ ہندوستان پر استعماری قوتوں کی یلغار، ان کی آپسی جنگ اور ہندوستانی نظام کی تباہی✔️ ہندوستان میں استعماری کمپنیوں کا سامراجی ارتقاء اور مقامی وسائل کی لوٹ مار✔️ پاکستان میں کمپنیوں کا جال، ایسٹ انڈیا کمپنی کا تسلسل اور ان کی استعماری تندخوئی کے نتائج✔️ پاکستانی نظام پر استعماری کمپنیوں کی گرفت، سیاسی بداَمنی اور معاشی تباہی کا ذریعہ✔️ پاکستانی حکمرانوں کا قرض کے نام بھیک مانگنے کا بین الاقوامی ایجنڈا✔️ سورت زمر کی روشنی میں بیان کیے گئے حقائق کی روشنی میں پاکستانی قوم کے لیے لمحہ فکریہ!✔️ ادارہ رحیمیہ لاہور میں سترہ روزہ دورہ تفسیر کا فہم قرآن میں کردار اور ہماری ذمہ داریاں!بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute*منجانب: رحیمیہ میڈیا*

Ep 320قرآن حکیم بطور احسن الحدیث جامعیت، خطابی اُسلوب اور اثرات| 2024-07-12
*قرآن حکیم بطور احسن الحدیث ؛* *جامعیت، خطابی اُسلوب اور اثرات**خُطبۂ جمعۃ المبارک:*حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری*بتاریخ:* 5؍ محرم الحرام 1446ھ / 12؍ جولائی 2024ء*بمقام:* ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور خطبہ جمعہ کی آیاتِ قرآنی وحدیثِ نبوی ﷺ: *خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی وحدیثِ نبوی ﷺ:* *آیتِ قرآنی:* اللهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَابًا مُتَشَابِهًا مَثَانِيَ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ثُمَّ تَلِينُ جُلُودُهُمْ وَقُلُوبُهُمْ إِلَى ذِكْرِ اللّٰهِ ذَلِكَ هُدَى اللّٰهِ يَهْدِي بِهِ مَنْ يَشَاءُ وَمَنْ يُضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ۔ (39 – الزُّمر: 23)*ترجمہ:* ”اللہ ہی نے بہترین کلام نازل کیا ہے، یعنی کتاب باہم ملتی جلتی ہے، (اس کی آیات) دہرائی جاتی ہیں جس سے خدا ترس لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں، پھر ان کی کھالیں نرم ہو جاتی ہیں، اور دل یاد الٰہی کی طرف راغب ہوتے ہیں، یہی اللہ کی ہدایت ہے، اس کے ذریعے سے جسے چاہے راہ پر لے آتا ہے، اور جسے اللہ گمراہ کر دے، اسے راہ پر لانے والا کوئی نہیں“۔ *حدیثِ نبوی ﷺ:* عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، فِي قَوْلِ اللَّهِ عز وجل {نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ} [يوسف: 3] الْآيَةُ. قَالَ: ”نَزَلَ الْقُرْآنُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَتَلَا عَلَيْهِمْ زَمَانًا فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ قَصَصْتَ عَلَيْنَا. فَأَنْزَلَ اللَّهُ عز وجل {الر تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْمُبِينِ} [يوسف: 1] تَلَا إِلَى قَوْلِهِ {نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ} [يوسف: 3] الْآيَةُ. فَتَلَا عَلَيْهِمْ زَمَانًا فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ حَدَّثْتَنَا. فَأَنْزَلَ اللَّهُ عز وجل {اللَّهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَابًا مُتَشَابِهًا} [الزمر: 23] الْآيَةُ كُلُّ ذَلِكَ يُؤْمَرُ بِالْقُرْآنِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» (المستدرك علی الصّحیحَین، حدیث: 3319)*ترجمہ:* حضرت سعد بن ابی وقاص رضي اللہ عنه نے اللہ تعالیٰ کے ارشاد:{نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ} [يوسف: 3] (ہم تمہیں سب سے اچھا بیان سناتے ہیں) کے متعلق فرماتے ہیں کہ: رسول اکرم ﷺ پر قرآن پاک نازل ہوا تو آپ ایک عرصہ تک لوگوں کو اس کی تلاوت سناتے رہے۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ ! آپ ہمیں کوئی قصہ سنائیے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:{الر تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْمُبِينِ} [يوسف: 1] (الر، یہ روشن کتاب کی آیتیں ہیں)آپ ﷺ نے ”نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ“ والی آیت کے آخر تک تلاوت کی۔ پھر آپ ایک عرصے تک ان کو یہ قصہ سناتے رہے۔ پھر لوگوں نے فرمائش کی۔ آپ ہم سے باتیں کریں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:اللهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَابًا مُتَشَابِهًا۔ (39 – الزُّمر: 23)ترجمہ: ”اللہ ہی نے بہترین کلام نازل کیا ہے، یعنی کتاب باہم ملتی جلتی ہے“۔*۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔* 👇✔️ ’’سورت زُمر‘‘ کا خاص موضوع؛ دینِ اسلام کا خالص نظام ✔️ ’’سورت زُمر‘‘ میں دینِ حق اور دینِ باطل کی روشنی میں دو جماعتوں کا ذکر ہے✔️ گفتگو اور مکالمے کے حقیقی احوال اور قرآن حکیم کا احسن الحدیث ہونا✔️ صحابہ کرامؓ کا باتوں اور قصص سے متعلق حضور اکرمؐ سے مکالمہ اور آپؐ کا بصیرت افروز جواب✔️ فصاحت و بلاغت کی تعریف اور مؤثر گفتگو کا سلیقہ اور بنیادی اُصول ✔️ ’’مفہومِ کلی‘‘ کی تعریف اور قرآن حکیم کی آیاتِ مبارکہ کا مفاہیمِ کلیہ کا حامل ہونا✔️ ’’جَوَامِعِ کَلِمْ‘‘ کا مفہوم اور آں حضرت ﷺ کی احادیثِ مبارکہ ✔️ بقول امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ: قرآن حکیم کی آیات کے کئی کئی بطن ہیں ✔️ حضرت عبداللہ ابن عباسؓ کے واقعے کے تناظر میں نوجوانوں کی اہمیت ✔️ تفسیر بالرائے اور تفسیر بالرائے حکیم میں فرق اور قرآن حکیم میں غوروفکر کی اہمیت ✔️ قرآن حکیم کی آیاتِ متشابہات کا درست معنی و مفہوم اور منشاءِ الٰہی ✔️ گفتگو اور کلام کے مختلف انداز و اسلوب اور قرآن حکیم کا خطابی اُسلوب ✔️ جسم پر لرزہ طاری ہونے اور رونگٹے کھڑنے ہونے کے عمل کی حکمت ✔️ کلام کے معنی و مفہوم کی تہہ تک پہنچنے کے لیے رِقتِ قلبی کی ضرورت و اہمیت ✔️ مزدوروں کے احوال دیکھ کر حضرت سندھی رحمۃ اللہ علیہ کا ایمان افروز واقعہپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

Ep 319ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ لاہور کے زیر اہتمام دورہ تفسیر کی غرض و غایت اور مقاصد واہداف | 2024-07-12
ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ لاہور کے زیر اہتمامدورہ تفسیر کی غرض و غایت اور مقاصد واہدافخُطبۂ جمعۃ المبارک:حضرت مولانا مفتی محمد مختار حسنبتاریخ: 5؍ محرم الحرام 1446ھ / 12؍ جولائی 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور

Ep 318قرآنی فکر کے لیے قلبی بصیرت اور اس کی حامل قیادت کی تشکیل کی سماجی ضرورت | 2024-07-05
قرآنی فکرو نظر کے لیے قلبی بصیرتاور اس کی حامل سماجی قیادت کی ضرورتخُطبۂ جمعۃ المبارک:حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 28؍ ذو الحجہ 1445ھ / 5؍ جولائی 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور خطبہ جمعہ کی آیاتِ قرآنی وحدیثِ نبوی ﷺ:خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی وحدیثِ نبوی ﷺ :آیتِ قرآنی:”أَفَمَنْ شَرَحَ اللَّهُ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ فَهُوَ عَلَى نُورٍ مِنْ رَبِّهِ فَوَيْلٌ لِلْقَاسِيَةِ قُلُوبُهُمْ مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ أُولَئِكَ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ“۔ (39 – الزمر: 22)ترجمہ: ”بھلا جس کا سینہ اللہ نے دین اسلام کے لئے کھول دیا ہے، سو وہ اپنے رب کی طرف سے روشنی میں ہے۔ سو جِن لوگوں کے دل اللہ کے ذکر سے متاثر نہیں ہوتے، ان کے لیے بڑی خرابی ہے۔ یہ لوگ کھلی گمراہی میں ہیں“۔حدیثِ نبوی ﷺ:رسول اللہ ﷺ نے انسان کے دل میں نور ہونے کی علامت بیان فرمائی کہ:”الإِنابة إلى دار الخلود، والتجافي عن دار الغرور، والاستعداد للموت قبل النّزول“۔ (أخرج ابن المبارك في الزهد وغیرہم)ترجمہ: ”لافانی کے گھر کی طرف لوٹنا، فریب کے گھر سے بچنا، اور موت کے نزول سے پہلے اس کی تیاری کرنا۔“۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ دینِ اسلام کی حقانیت اور قرآن حکیم کی جامعیت انسانیت کی ترقی کے ضامن آج کے خطبے کے موضوع اور گزشتہ جمعہ کے موضوع کے درمیان ربط اور تعلق آج کے خطبے کی مرکزی آیت کا مفہوم اور مختصر جامع تفسیری خلاصہ انسانی دماغ کے تخیل اور خیالات کے ناقص اور کامل نظام کے درمیان فرق دنیا اور قبر و حشر میں قلب و نفس کی درجات و مراتب کی حیثیت و اثرات و نتائج انسانی جسم میں قلب کی مرکزی حیثیت اور مختلف اعضا پر اس کی فوقیت انسانی سوچ وفکر میں انشراحِ قلب اور نورِ قلبی کی اہمیت اور کردار روشن خیالی اور روشن قلبی کے درمیان بنیادی فرق اور روشن قلبی کے درست محرکات روشن خیالی کی محدودیت اور قلب کے روشن ہونے کی ضرورت و اہمیت شرح صدر اور قلب میں نورِ ربانی داخل ہونے کی تین علامتیں حدیثِ نبویؐ کے مطابق قلبی بصیرت کے نور سے متصف افراد کے فکر وعمل اور رویوں کا تجزیہ شرح صدر کے بارے میں امامِ انقلاب مولانا عبید اللہ سندھیؒ کا بصیرت افروز ارشاد شرح صدر اور ہمت کا خلاصہ انسان کے دل و دماغ کی تمام قوتوں کا ایک پیج پر آجانا ہے ویل (ہلاکت) کا معنی و مفہوم اور اس کی قلبی، عملی و نفسی کیفیات اور محسوسات انسانی ہمت کی تعبیر میں امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کا روشن فکر قول روشن فکر اور قلبی بصیرت کی حامل قیادت کی تلاش اور ان کی ضرورت و اہمیت بھیڑیا صفت سخت دل سیاسی و مذہبی قیادت سے بچنے کی نبوی ہدایت نبوی فرمودات کی روشنی میں عصرِ حاضر کی سیاسی و مذہبی قیادت کے تحلیل و تجزیہ کی ضرورت پاکستان کے موجودہ انسانیت سوز حالات پر اہل علم و دانش کی حیرت انگیز خاموشی

Ep 317تعلق مع اللہ کے لیے طاغوت سے قطع تعلق کی ناگزیریت اور جبر و استحصال کا عالمی نظام | 2024-06-28
*تعلق مع اللہ کے لیے طاغوت سے قطع تعلق کی ناگزیریت اور* *جبر و استحصال کا عالمی نظام**خُطبۂ جمعۃ المبارک:*حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری*بتاریخ:* 21؍ ذو الحجہ 1445ھ / 28؍ جون 2024ء*بمقام:* ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور *خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی:* ”وَالَّذِينَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوتَ أَنْ يَعْبُدُوهَا وَأَنَابُوا إِلَى اللّٰه لَهُمُ الْبُشْرَى۔ (39 – الزمر: 17)*ترجمہ:* ”اور جو لوگ شیطانوں کو پوجنے سے بچتے رہے اور اللہ کی طرف رجوع ہوئے، ان کے لیے خوشخبری ہے“۔*۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔* 👇✔️ انسان کے تعلق مع اللہ اور حقوق اللہ کے حوالے سے عبودیت کے تقاضے✔️ کائنات کے نظم و نسق پر اللہ تعالیٰ کا کنٹرول اور توحیدِ حقیقی کے تقاضے✔️ ذاتِ باری تعالیٰ کے مقابلے میں کسی بھی طاقت کے نظام کو ماننا شرک ہے✔️ خطبے کی مرکزی آیت کا تفسیری خلاصہ دو جماعتوں کے کردار کا موازنہ ✔️ تقویٰ کا بنیادی مقصد اور دین کا بنیادی مفہوم اور اس کے عملی تقاضے✔️ انسان کی مکمل ترقی اور فلاح کا نظام‘ اللہ تعالیٰ نے انبیاؑ کے ذریعے دے دیا ہے ✔️ سورۂ زمر کے مضامین میں علم اور نظریے کے حوالے سے دو بنیادی مقاصد ✔️ تقویٰ کے نتائج کہ حق و باطل اور عدل وظلم کی پہچان اور شعور پیدا ہو جائے ✔️ ایک متقی کا وصف یہ ہے کہ حق کی پہچان کے بعد اس کا نظام قائم کرے ✔️ مزید برآں متقی دنیاوی مفاد کے بجائے صرف اللہ کی رضا کے لیے کام کرے✔️ طاغوتی نظام کے خلاف جدوجہد اور اس کی غلامی سے اجتناب کرنا✔️ اِنابت (رجوع) الی اللہ کی بنیادی شرط‘ طاغوتی نظام کا انکار اور برأت ہے✔️ رجوع الی اللہ اور اجتنابِ طاغوت‘ انبیائے کرام علیہم السلام کا بنیادی مقصد رہا ہے ✔️ نظریے پر علم و عمل کی بات توجہ سے سننے کے نتیجہ خیز اثرات و نتائج ✔️ اجتنابِ طاغوت کے تناظر میں پاکستان میں حکمرانوں اور آئی ایم ایف کے کردار کا جائزہ ✔️ تاریخِ اسلام کے صدرِ اوّل کو تاریخی بد فہمی کے تناظر میں دیکھنے کے نتائج ✔️ تاریخِ اسلام کے اجتماعی نظام کے جائزے کا بنیادی اُصول؛ انسانیتِ عامہ کا مفاد ✔️ طاغوتی نظام کے تناظر میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے کردار کا تحلیل و تجزیہ ✔️ مسلمان ملکوں اور معاشروں پر آج کے عالمی طاغوتی نظام کا کنٹرول ✔️ آج کے طاغوتی نظاموں کے اَحبار و رُہبان‘ سسٹم کو کنٹرول کرنے والی طاقتیں ہیں ✔️ طاغوتی نظام کے بجٹ میں غیر حقیقی اور ظالمانہ ٹیکسز کا تحلیل و تجزیہ ✔️ پاکستان کے امریکی قرضوں میں جکڑے جانے کا تاریخی پسِ منظر اور نتائج ✔️ بیع اور سود کا بنیادی فرق اور طاغوتی نظام کی حیلہ سازیاں✔️ طاغوتی نظام کے زیرِ اثر پانچ ناجائز چیزوں کو حلال کر لینے کی نبوی پیشین گوئی ✔️ آج کے مسلمان کی اِنابت (رجوع) الی اللہ اور طاغوتی نظام کے حوالے سے ذمہ داری✔️ جولائی 2024ء میں ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور میں سالانہ دورۂ تفسیر کی ضرورت و اہمیتپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://facebook.com/rahimiainstitute/

Ep 316خُطبہ عید الاضحٰی
خُطبہ عید الاضحٰیحضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 10؍ ذو الحجہ 1445ھ / 17؍ جون 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور پیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

Ep 315امن و سلامتی کا جامع دینی نظام اور مغربی استعمار کا انسانیت دشمن شیطانی کردار | 2024-06-21
امن و سلامتی کا جامع دینی نظام اورمغربی استعمار کا انسانیت دشمن شیطانی کردارخُطبۂ جمعۃ المبارک:حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 14؍ ذو الحجہ 1445ھ / 21؍ جون 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی واحادیثِ نبوی ﷺ:آیاتِ قرآنی:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ كَآفَّةً، وَّ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ، فَاِنْ زَلَلْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْكُمُ الْبَیِّنٰتُ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۔ (2 – البقرۃ: 208-209)ترجمہ: ”اے ایمان والو ! داخل ہوجاؤ اسلام میں پورے، اور مت چلو قدموں پر شیطان کے، بے شک وہ تمہارا صریح دشمن ہے۔ پھر اگر تم پھسلنے لگو بعد اس کے کہ پہنچ چکے تم کو صاف حکم، تو جان رکھو کہ بے شک اللہ زبردست ہے حکمت والا“۔احادیثِ نبوی ﷺ :1۔ ”لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ“۔ (صحیح بخاری، حدیث: 15)ترجمہ: ”تم میں سے کوئی شخص ایمان والا نہ ہو گا جب تک اس کے والد اور اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ اس کے دل میں میری محبت نہ ہو جائے“۔2۔ ”الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ“۔ (صحیح بخاری، حدیث: 6169)ترجمہ: ”انسان اس کے ساتھ ہے جس سے وہ محبت رکھتا ہے“۔۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇✔️ دینِ اسلام کی جامعیت اور انبیائے کرام علیہم السلام کی انقلابی جدوجہد✔️ ’’مسلم‘‘ کی تعریف اور ابراہیمی تحریک کی دعوت اور اس کے لوازمات✔️ امن و سلامتی کے پورے نظام کو قبول کرنا اور اس کے اجتماعی تقاضے✔️ خطبے کی مرکزی آیت کا گزشتہ خطبہ جمعہ کی مرکزی آیات سے ربط اور تعلق✔️ حضرت ادریس علیہ السلام کو انسانیت کی رہنمائی کے لیے پانچ بنیادی علوم دیے گئے✔️ حضرت نوح علیہ السلام کی اپنی قوم کو دعوت اور اس کا تاریخی تسلسل✔️ معاشرے میں امن و سلامتی کے نظام سے انحراف اور فاجر انسان کی نفسیات✔️ قوم کے لیے امن و سلامتی کے نظام کی حفاظت اور قوموں پر عذابِ الٰہی کا ضابطہ✔️ انسانیت کی ضمیر کی آواز اور اس کے عقل و شعور کے ادراکات کی طاقت✔️ اللہ تعالیٰ کی صفاتِ عالیہ کی بنیاد پر اس کا تعارف اور اس کے تصرفات کا ضابطہ✔️ شیطان کا مفہوم، اس کی دو بڑی اقسام اور ان کے کام کا طریقۂ واردات✔️ شیطان کا قومی اور بین الاقوامی روپ اور انبیائے کرام علیہم السلام کی جدوجہد✔️ قیصر و کسریٰ کی حکومتیں شیطانی نظام کی نمائندہ اور ترجمان تھیں✔️ مغربی استعماری نظام‘ عہدِ حاضر کے شیطانی نظاموں کا نمونہ ہیں✔️ ملکوں کی تقسیم میں مغربی استعماری نظام کی قانونی اور آئینی شیطنت کا کردار✔️ مغربی استعماری نظام کی توسیع پسندی اور مسلمانوں کی فتوحات میں بنیادی فرق✔️ برطانوی استعماری نظام کا امن و سلامتی اور معاہدات کے حوالے سے دوہرا معیار✔️ برطانوی استعماری نظام کا عربوں اور فلسطینیوں کے خلاف گھناؤنا کردار✔️ کیپٹل ازم کا بنیادی انسانیت دشمن نظریہ اور تاریخِ عالم میں انسان دشمن کردارپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://facebook.com/rahimiainstitute/

Ep 314مَناسِکِ حج کے حقیقی مقاصد اور اِن سے انحراف کے منافقانہ رویے اور استحصالی ہتھکنڈے | 2024-06-14
مَناسِکِ حج کے حقیقی مقاصداور اِن سے انحراف کے منافقانہ رویے اور استحصالی ہتھکنڈےخُطبۂ جمعۃ المبارک:حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 7؍ ذو الحجہ 1445ھ / 14؍ جون 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی وحدیثِ نبوی ﷺ:آیاتِ قرآنی:1۔ اَلْحَجُّ اَشْهُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌ، فَمَنْ فَرَضَ فِیْهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَ لَا فُسُوْقَ وَ لَا جِدَالَ فِی الْحَجِّ۔ (2 – البقرۃ: 197)ترجمہ: ”حج کے چند مہینے ہیں معلوم، پھر جس نے لازم کرلیا ان میں حج، تو بےحجاب ہونا جائز نہیں عورت سے، اور نہ گناہ کرنا، اور نہ جھگڑا کرنا حج کے زمانے میں“۔2۔ وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّعْجِبُكَ قَوْلُهٗ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ یُشْهِدُ اللّٰهَ عَلٰى مَا فِیْ قَلْبِهٖ وَ هُوَ اَلَدُّ الْخِصَامِ، وَ اِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیْهَا وَ یُهْلِكَ الْحَرْثَ وَ النَّسْلَ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ۔ (2 – البقرۃ: 204-205)ترجمہ: ”اور بعض آدمی وہ ہے کہ پسند آتی ہے تجھ کو اس کی بات دنیا کی زندگانی کے کاموں میں، اور گواہ کرتا ہے اللہ کو اپنے دل کی بات پر، اور وہ سخت جھگڑالو ہے، اور جب پھرے تیرے پاس سے تو دوڑتا پھرے ملک میں تاکہ اس میں خرابی ڈالے، اور تباہ کرے کھیتیاں اور جانیں، اور اللہ ناپسند کرتا ہے فساد کو“۔حدیثِ نبوی ﷺ :”آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ، إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ“۔ (صحیح بخاری، حدیث: 33)وفي روايةٍ : ”وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ“۔ (صحیح بخاری، حدیث: 2459)ترجمہ: ”منافق کی تین علامتیں ہیں: 1۔ جب بات کرے جھوٹ بولے، 2۔ جب وعدہ کرے اس کے خلاف کرے۔ 3۔ اور جب اس کو امین بنایا جائے تو خیانت کرے“۔ اور ایک روایت میں یہ علامت بھی بیان کی گئی ہے کہ: ”اور جب جھگڑے تو بد زبانی پر اتر آئے“۔۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇✔️ دینِ اسلام؛ حقوق اللہ اور حقوق العباد کے اجتماعی نظام کا عَلَم بَردار ہے✔️ عبادات اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں مال خرچ کرنے کا آپسی اہم اور گہرا تعلق✔️ انسانی زندگی میں کیلنڈر اور نظام الاوقات کی عملی اہمیت اور افادیت✔️ اسلامی کیلنڈر کے ہجرتِ مدینہ سے آغاز کرنے کی حکمت اور اسلام کا نظامِ ریاست✔️ خطبے کی مرکزی آیت کا سورت کے سیاق و سباق کے مضامین سے ربط اور تعلق✔️ ایامِ حج کے قوانین و ضابطے اور ہر قسم کے فسق و فجور سے اجتناب کا ضابطہ✔️ فسق کا معنی و مفہوم اور اس سے اجتناب کے قولی اور عملی تقاضے✔️ حج ایک تربیتی پروگرام ہے، جس میں انسان کو قوانین، ضابطے اور ڈسپلن سکھایا جاتا ہے✔️ حج انسانیت کے درمیان خوش گوار تعلقات اور امنِ عامہ کو فروغ دینے کی عبادت ہے✔️ لچھے دار تقریروں اور گمراہ کن بیانات کے حامل چالاک لیڈروں کے خلاف خدائی گواہی✔️ ’’یُہْلِکَ الْحَرْثَ وَ النَّسْلَ‘‘ کے تناظر میں فصلوں اور نسلوں کے قاتل نظام اور لیڈروں کا تجزیہ✔️ طبقاتی بجٹ میں مزدوروں اور کسانوں کے مقابلے میں سرمایہ دار طبقوں کا تحفظ✔️ منافق کی تین نشانیوں (عادتوں) کے اجتماعی سیاسی، سماجی اور معاشرتی اثرات✔️ منافق کی تین علامات کے تناظر میں 76 سالہ پاکستانی تاریخ اور نظام کا تحلیل و تجزیہ✔️ سیرت النبی ﷺ اور عہدِ نبویؐ کے تناظر میں آج کے دور کے نظام اور معاشرے کے تجزیے کا اُصول✔️ تاریخی واقعات کے تناظر میں اپنے دور کے حالات کے تحلیل و تجزیے کا اصول✔️ برعظیم پاک و ہند میں استعماری دور کے مالی معاملات اور بجٹ کے اثرات و نتائج✔️ قرآنی اصطلاح ’’اَلَدُّ الْخِصَام‘‘ کے تناظر میں ہر دور کے جھوٹ، بدعہدی اور لوٹ کھسوٹ کا تجزیہ✔️ ظالم اور بدعہد حکمرانوں کے کردار کے حوالے سے نبوی پیشین گوئی✔️ پاکستان میں حج کے نام پر بیوروکریسی کا کاروبار اور غریب حاجیوں کا استحصال✔️ مسلمان ملکوں میں حج کے نام پر ہوٹلز، فوڈز اور ٹریولز مافیاز کی لوٹ مار✔️ دورانِ حج برانڈز اور سرمایہ دارانہ کمپنی کے زیرِ کنٹرول نظام میں حج کے بنیادی مقاصد اور اہداف سے انحراف✔️ حج کے حقیقی مقاصد و اہداف کو حاصل کرنے کی حکمتِ عملی اور عملی اقداماتپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://facebook.com/rahimiainstitute/

Ep 313تہذیبِ نفس کے تناظر میں حج اور عشرۂ ذی الحجہ کی زمانی اور مکانی اہمیت | 2024-06-07

Ep 312دینی تفقُّہ اور اس کی سماجی اطلاقی بصیرت کی اہمیت قومی تشکیلِ نو کے لیے اجتماعی تربیت کے تناظر میں | 2024-05-31
*دینی تفقُّہ اور اس کی سماجی اطلاقی بصیرت کی اہمیت*قومی تشکیلِ نو کے لیے اجتماعی تربیت کے تناظر میں*خُطبۂ جمعۃ المبارک:*حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری*بتاریخ:* 22؍ ذو قعدہ 1445ھ / 31؍ مئی 2024ء*بمقام:* ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور *خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی وحدیثِ نبوی ﷺ:**آیتِ قرآنی:*وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِیَنْفِرُوْا كَآفَّةًؕ فَلَوْ لَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَآئِفَةٌ لِّیَتَفَقَّهُوْا فِی الدِّیْنِ وَ لِیُنْذِرُوْا قَوْمَهُمْ اِذَا رَجَعُوْۤا اِلَیْهِمْ لَعَلَّهُمْ یَحْذَرُوْنَo (9 – التوبه: 122)*ترجمہ:* ”اور ایسے تو نہیں مسلمان کہ کُوچ کریں سارے، سو کیوں نہ نکلا ہر فرقے میں سے ان کا ایک حصہ، تاکہ سمجھ پیدا کریں دین میں، اور تاکہ خبر پہنچائیں اپنی قوم کو جب کہ لوٹ کر آئیں ان کی طرف، تاکہ وہ بچتے رہیں“۔*حدیثِ نبوی ﷺ :*”مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ، وَإِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ وَاللَّهُ يُعْطِي، وَلَنْ تَزَالَ هَذِهِ الْأُمَّةُ قَائِمَةً عَلَى أَمْرِ اللَّهِ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ۔ (الجامع الصّحیح للبخاری، حدیث: 71)*ترجمہ:* ”جس شخص کے ساتھ اللہ تعالیٰ بھلائی کا ارادہ کرے اسے دین کی سمجھ عنایت فرما دیتا ہے، اور میں تو محض تقسیم کرنے والا ہوں، دینے والا تو اللہ ہی ہے۔ اور یہ امت ہمیشہ اللہ کے حکم پر قائم رہے گی اور جو شخص ان کی مخالفت کرے گا، انہیں نقصان نہیں پہنچا سکے گا، یہاں تک کہ اللہ کا حکم (قیامت) آ جائے (اور یہ عالم فنا ہو جائے)۔*۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔* 0:00 آغاز2:03 سورتِ توبہ کا بنیادی موضوع؛ نظم و ضبط اور ڈسپلن کی پاسداری ہے5:06: غزوۂ تبوک سے پیچھے رہ جانے والے تین صحابہ کرامؓ کا سماجی بائیکاٹ8:47 سماجی تبدیلی کے لیے نظم و ضبط اور ڈسپلن کی ضرورت و اہمیت11:03 قوم کی سیاسی، سماجی اور معاشی تشکیل کے لیے ضروری اُمور12:13 آں حضرت ﷺ کی صحبت اور معیت اختیار کرنے کے ضابطے کے اُصول15:29 قوم سازی کے لیے منتخب افراد کی تربیت کا طریقہ کار اور مراحل22:55 تفقُّہ کے عمل (کسی بھی عمل کے مابعد اثرات و نتائج کا جائزہ) کی ناگزیریت28:46 قرآن و حدیث میں غوروفکر اور اس کے سماجی اطلاق میں تفقُّہ و تدبر کی اہمیت37:09 قومی تعلیم و تربیت میں رسمی علوم اور کتاب سے زیادہ عملی تجربے کی بصیرت کی اہمیت41:30 کسی بھی شعبے میں مخلصانہ کام کے نتیجے میں نورِ بصیرت حاصل ہونے کا راز51:30 قیادت اور اہلِ حل و عقد کے قومی اور دینی ذمہ داریوں کو نہ سمجھنے کے خوف ناک نتائج56:49 فقیہ کی معاشرے کے سیاسی، سماجی اور معاشی حالات پر نظر ہونا اور فقیہ کی جامع تعریف1:02:20 معاشی موضوع پر سب سے پہلی کتاب‘ جس پر ملکی نظام بنایا گیا1:07:44 اُمت میں اہلِ حق کی باشعور جماعت کے ہمیشہ رہنے کی نبوی رہنمائی1:09:08 امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے ہاں ’’جادۂ قویمہ محمدیہ‘‘ کا تصور اور قرآن کی انقلابی تعلیمات1:15:25 نوآبادیاتی نظام کے مابعد مرحلہ کے لیے تفقُّہ کی ضرورت ہے1:17:23 خطے کی تعلیم و تربیت میں اکابرین اہلِ حق کابے لاگ کردار1:22:08 حضرت نانوتویؒ اور حضرت شیخ الہندؒ کا نورِ بصیرت1:31:26 پاکستان میں اداروں کے درمیان تصادُم اور اداروں کی تباہی کا احوالپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute

Ep 311قومی نظام کی تشکیل کے قرآنی بنیادی امور اور پاکستان کے طبقاتی نظام کا جائزہ | 2024-05-24
قومی نظام کی تشکیل کے قرآنی بنیادی امور اور*پاکستان کے طبقاتی نظام کا جائزہ**خُطبۂ جمعۃ المبارک:*حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری*بتاریخ:* 15؍ ذو قعدہ 1445ھ / 24؍ مئی 2024ء*بمقام:* ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور *خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی:*وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ لِمَ تُؤْذُوْنَنِیْ وَ قَدْ تَّعْلَمُوْنَ اَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْؕ فَلَمَّا زَاغُوْۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۔ (61 – الصف: 5)”اور جب کہا موسیٰ نے اپنی قوم کو : اے میری قوم ! کیوں ستاتے ہو مجھ کو اور تم کو معلوم ہے کہ میں اللہ کا بھیجا آیا ہوں تمہارے پاس، پھر جب وہ پھرگئے تو پھیر دیے اللہ نے ان کے دل، اور اللہ راہ نہیں دیتا نافرمان لوگوں کو“۔*۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔* 0:00 آغاز1:27 قرآن حکیم کا نزول‘ اَقوامِ عالَم کے قومی نظاموں اور بین الاقوامی نظام کی تشکیل کے لیے ہوا2:43 حضرت محمد ﷺ کی بعثت‘ ارتفاقِ رابع؛ بین الاقوامی نظام کے لیے تھی6:35 خطبے کی مرکزی آیت کا بنیادی و اُصولی نظریہ اور تفسیری خلاصہ9:27 قوم بننے کا بنیادی اُصول کہ جو کہا جائے اس پر عمل بھی کیا جائے13:00 بات سمجھانے کا قرآن حکیم کا بنیادی اُصول کہ اس کام کی عملی مثال پیش کرتا ہے16:05 نبوت اور سیاست کے حامل دو انبیاء؛ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمد ﷺ20:30 قومی تشکیل کے تین بنیادی امور: |سماجی نظریہ| سیاسی نظریہ | معاشی نظریہ28:18 بنی اسرائیل کو قوم بنانے کی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی جدوجہد اور مشکلات32:50 غزوۂ اُحد میں ڈسپلن قائم نہ رکھ پانے کی وجہ سے مسلمان جماعت کی مشکل37:19 انسانی وجود میں قلب کی مرکزی حیثیت اس پر پورے جسم کے فساد یا اصلاح کا انحصار48:26 خطبے کی مرکزی آیت کے تناظر میں پاکستانی قوم کی اجتماعی تاریخ کا جائزہ53:22 قومی حکومتوں کے دور میں قوموں کا اپنے ممالک اور اقوام کو بنانے کا قومی کارنامہ56:47 مغرب کے سرمایہ دارانہ نظام کی حقیقی بنیاد اور اس بنیاد پر اس کے معاشرتی اثرات57:56 وسائلِ رزق کی عدل کے بجائے طبقاتی تقسیم اور اس کے بُرے اثرات1:00:23 طبقاتی معاشی نظام کے جون کے بجٹ میں عوام کو مزید نچوڑنے کے منصوبے1:06:04 پاکستان میں نظام کے ظلم و استحصال پر عوام کی خاموشی قابلِ غور ہےپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute

Ep 310تعلیم و تربیت کے عصری تقاضے|مفتی عبد المتین نعمانی
تعلیم و تربیت کے عصری تقاضےحضرت مولانا مفتی عبد المتین نعمانیبتاریخ: 11؍ شوال المکرم 1445ھ / 21 اپریل 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہوربرموقع: تقریبِ افتتاح صحیح بخاری شریفمفصل خطبہ ہمارے میڈیا پلیٹ فارمز پر عنقریب ملاحظہ فرمائیںhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute

Ep 310کمزور طبقوں کے حقوق کا دشمن نظام اور اس کے خاتمے کے لیے جدوجہد کی دینی ذمہ داری | 2024-05-17
کمزور طبقوں کے حقوق کا دشمن نظاماور اس کے خاتمے کے لیے جدوجہد کی دینی ذمہ داریخُطبۂ جمعۃ المبارک:حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 8؍ ذو قعدہ 1445ھ / 17؍ مئی 2024ءبمقام: عثمانیہ مسجد، مسلم کالونی، جیکب آباد (سندھ) خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی وحدیثِ نبوی ﷺ:آیاتِ قرآنی:1۔ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَاَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّقُوْدُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ عَلَیْهَا مَلٰٓئِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا یَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ۔ (66- التحریم: 6)ترجمہ: ”اے ایمان والو ! بچاؤ اپنی جان کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے جس کی چھپٹیاں ہیں آدمی اور پتھر، اس پر مقرر ہیں فرشتے تند خود زبردست، نافرمانی نہیں کرتے اللہ کی جو بات فرمائے ان کو، اور وہی کام کرتے ہیں جو ان کو حکم ہو“۔2۔ اِنَّ الَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتٰمٰى ظُلْمًا اِنَّمَا یَاْكُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِهِمْ نَارً۔ (4 – النساء: 10)ترجمہ: ”جو لوگ کہ کھاتے ہیں مال یتیموں کا ناحق، وہ لوگ اپنے پیٹوں میں آگ ہی بھر رہے ہیں“۔حدیثِ نبوی ﷺ:قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: ”أَنَا وَكَافِلُ الْيَتِيمِ كَهَاتَيْنِ فِي الْجَنَّةِ“، وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى، وَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا قَلِيلًا. (مسند احمد، حدیث: 22820)ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں اور یتیم کی پرورش کرنے والا جنت میں ان دو انگلیوں کی طرح ہوں گے“۔ یہ کہہ کر آپ ﷺ نے شہادت والی اور درمیانی انگلی میں کچھ فاصلہ رکھتے ہوئے اشارہ فرمایا۔۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 1:54 دنیا و آخرت کی کامیابی کے لیے انسانیت کے نام نبوی پیغام7:33 اپنے سمیت اپنے اہل و عیال کو دنیا و آخرت کی آگ سے بچانے کا حکم11:03 دین کی علمی و عملی تعلیم اور شعور دینے کے ساتھ ساتھ ادب سکھانے کی اہمیت16:17 یتیم کا معنی و مفہوم، خاندان کے یتیم بچے اور سوسائٹی کے یتیم (بے سہارا) لوگ17:51 دونوں طرح کے یتیموں کا مال کھانے کی قرآن حکیم میں سختی سے ممانعت20:13 سوسائٹی میں یکساں اجتماعی خوش حالی کی اہمیت اور معاشی طبقاتیت کے نقصانات22:08 مالی بد عنوانی کو قرآن حکیم میں پیٹ میں آگ بھرنے سے تشبیہ دی گئی ہے انسان کے لیے اپنی محنت سے اپنا رزق پیدا کرنا باعثِ عزت و تکریم ہے22:39 انبیائے کرام علیہم السلام کے پیشے اور معاشی سرگرمیاں، جو لائقِ تقلید ہیں25:38 کمزور اور محروم طبقات کے حقوق کے لیے جدوجہد کرنا‘ دین کا بنیادی تقاضا ہے30:54 ارکانِ اسلام پر عمل کی طرح یتیم اور کمزور طبقات کے مالی حقوق بھی فرض ہیں33:31 حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے ارشاد کی روشنی میں ادب سکھانے کامفہوم اور طریقہ40:04 پاکستان کے ظالمانہ استحصالی نظام میں کمزور طبقات کے حقوق کی پامالی کے نمونے41:52 پاکستان میں بجلی کا نظام آئی پی پیز سے ظالمانہ معاہدوں کے نرغے میں44:09 بیرونِ ملک سے گندم کی خریداری سے کسانوں کی تباہی کے ذمہ دار عناصر45:39 برعظیم پاک و ہند میں انگریزوں کے سامراجی نظام کے سیاسی و سماجی اثرات48:28 تعلیم اور ادب کی بنیاد پر رسول اللہ ﷺ کی جماعت سازی52:33 حضرت ابوبکر صدیقؓ کا خلیفہ بننے کے بعد کمزوروں کے حقوق کے تحفظ کا اعلان55:35 مولانا عبید اللہ سندھیؒ کے نزدیک مزدوروں کا لیڈر‘ مزدوروں سے منتخب کرنے کا اُصول59:10 ظالم حکمرانوں کے ظلم کی نحوست پورے ملک اور معاشرے پر پڑتی ہے1:08:53 اس خطے میں کمزورطبقوں کے حق میں علمائے ربانیین خصوصاً مولانا عبید سندھیؒ کا کردارپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute

Ep 309تقریبِ افتتاح صحیح بخاری شریف 2024ء | حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
تقریبِ افتتاح صحیح بخاری شریف*درس صحیح بخاری*حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 11؍ شوال المکرم 1445ھ / 21 اپریل 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute

Ep 308تقریبِ تکمیل قرآنِ حکیم | کل انسانیت کی ترقی کے ضامن قرآنی شاہراہِ فکر و عمل کی عصری ضرورت و اہمیت
کل انسانیت کی ترقی کے ضامن*قرآنی شاہراہِ فکر و عمل*کی عصری ضرورت و اہمیت*خطاب برموقع تقریبِ تکمیل قرآنِ حکیم*حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 27؍ رمضان المبارک 1445ھ / 7 اپریل 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور۔ ۔ ۔ ۔ خطاب کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇0:00 آغاز خطاب1:29 رمضان المبارک کی ستائیسویں شب با برکت رات اور فہمِ قرآن حکیم کا مقصد و اہداف3:31 انسانی ہدایت اور منزلِ مقصود تک پہنچنے کا سیدھا راستہ (الجادۃ القویمۃ المحمدیۃ ) دنیا کے عظیم ترین انسان حضرت محمد ﷺ نے متعین کر دیا12:51 قرآنِ حکیم کا سیدھا راستہ اور مؤمنین کے لیے خوش خبری کی بنیاد: پختہ یقین اور قرآنی ہدایات کے مطابق عمل درآمد کرنا20:23 عملِ صالح سے مراد؛ یقینی علم کے مطابق عمل کرنا21:10 قرآن کی متعین کردہ شاہراہِ فکروعمل پر چلنے کے نتائج22:16 مسلمانوں میں دینی نظام سے غفلت و کوتاہی اور مادی نظاموں سے مرعوبیت کی بنیادی وجہ عصری اور دینی تعلیمی اداروں میں دینِ اسلام کا ناقص تعارف30:20 انگریز سامراج کے دور میں ملک و ملت کے غدار مذہبی و سیاسی طبقات32:44 آج کا المیہ: علوم القرآن و النبوۃ پڑھنے پڑھانے پر اسلامی ممالک پر عملاً پابندی عائد36:03 قرآن حکیم کی تعلیمات کا عملی نظام قائم کرنے والوں کا مقام اور رُوگردانی کرنے والوں کا انجام36:57 علمائے دیوبند کی امتیازی خصوصیت: دینِ اسلام کی سیاسی و معاشی تعلیمات پر مکمل عبور42:10 عصرِ حاضر کا تقاضا؛ کل انسانیت کی ترقی کے ضامن قرآن کے سسٹم کو سمجھنا ضروری44:10 ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ کا بنیادی پیغامپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute

Ep 307حزب الشیطان کا انسانیت دشمن سرمایہ دارانہ نظام اور مزاحمت کا رہنما نبویﷺ کردار | 2024-05-10
حزب الشیطان کا انسانیت دشمن سرمایہ دارانہ نظام اور مزاحمت کا رہنما نبوی ﷺ کردار*خُطبۂ جمعۃ المبارک:*حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری*بتاریخ:* یکم؍ ذو قعدہ 1445ھ / 10؍ مئی 2024ء*بمقام:* جامعہ رحمانیہ، مسجد نیوپنڈ، پٹھان کالونی، سکھر (سندھ) *خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی*اِسْتَحْوَذَ عَلَیْهِمُ الشَّیْطٰنُ فَاَنْسٰىهُمْ ذِكْرَ اللّٰهِؕ اُولٰٓئِكَ حِزْبُ الشَّیْطٰنِؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ الشَّیْطٰنِ هُمُ الْخٰسِرُوْنَo اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗۤ اُولٰٓئِكَ فِی الْاَذَلِّیْنَo كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِیْؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌo (58 – المجادلة : 19 تا 21) *ترجمہ:* ”قابو کرلیا ہے اُن پر شیطان نے، پھر بُھلا دی ان کو اللہ کی یاد، وہ لوگ ہیں گروہ شیطان کا، سنتا ہے ! جو گروہ ہے شیطان کا وہی خراب ہوتے ہیںo جو لوگ خلاف کرتے ہیں اللہ کا، اور اس کے رسول کا، وہ لوگ ہیں سب سے بےقدر لوگوں میںo اللہ لکھ چکا کہ میں غالب ہوں گا اور میرے رسول، بے شک اللہ زور آور ہے، زبردستo“۔*۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔* 👇0:00 آغاز خطاب01:38 حزب اللہ اور حزب الشیطان کی کشمکش اور قرآن حکیم کے نزول کا بنیادی مقصد4:17 تعلق مع اللہ اور ایمان بالرسالت کے حوالے سے انسانیت کی ذمہ داری5:32 انسانی وسوسہ وخیال اور شیطانی وسوسہ و خیال میں بنیادی فرق اور ان سے بچاؤ کا طریقہ 12:27 خطبہ جمعہ کی مرکزی آیت کا پسِ منظر اور مختصر تفسیری خلاصہ و عصرِ حاضر میں رہنمائی 13:46 حزب الشیطان کیا ہے؟ اس کی علامات، نشانیاں، اس کے کام و بُرے اثرات و نتائج 18:19 قران حکیم میں متکبر سرمایہ داروں اور مال داروں کے کاموں اور رویوں کی مذمت21:52 انبیائے کرام (حزب اللہ)کی جدوجہد اور اُن کے مقابلے میں حزب الشیاطین کا کردار25:36 بیت المقدس اور بیت الحرام (مسجدِ حرام) دو مقدس مقامات کی خصوصیات و اثرات32:26 قرآن حکیم سرمایہ داروں کے بجائے معاشرے کے کمزور طبقات کو حکمران بناتا ہے37:17 مکہ کی ریاست کے حزب الشیطان کا ظلم اور معاہدۂ حلف الفضول میں رسول اللہ ﷺ کا کردار38:34 یمنی تاجر سے اہلِ مکہ کا مالی فراڈ اور یمنی تاجر کی فریاد پر رسول اللہ کی ابوجہل سے بازیابی44:10 اسلام میں انسانی جان، مال اور عزت کا تحفظ اور اُن کی پامالی پر سزا کا تصور 53:55 قران حکیم میں حزب اللہ کا تعارُف، اس کی خصوصیات اور ان کی جدوجہد کے نتائج 55:44 مسلمانوں کا دورِ عروج اور بلاامتیاز مذہب و نسل وجغرافیہ انسانی حقوق کا تحفظ 1:02:00 اسلام کے نام پر بننے والی ریاست میں انسانی حقوق کی پامالی کا بدترین دور 1:05:39 پاکستان میں گندم کے سکینڈل کا پسِ منظر اور منافع خور تاجروں اور سرمایہ داروں کا کردار 1:06:15 جھوٹ کے اثرات و نتائج اور پاکستان میں جھوٹ کے نظام سے بچنے کی حکمت عملی 1:14:52 توبہ کی اصل حقیقت اور علماء محققین کے نزدیک اس کی شرائط و قیودپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute

Ep 306بِرّ و اِثم کا صالح سماجی نظریہ اور محنت کشوں کے استحصال اور لوٹ کھسوٹ پر مبنی سرمایہ داری نظام کا بھیانک کردار | 2024-05-03
بِرّ و اِثم کا صالح سماجی نظریہ اور محنت کشوں کے استحصال اور لوٹ کھسوٹ پر مبنی سرمایہ داری نظام کا بھیانک کردار*خُطبۂ جمعۃ المبارک:*حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری*بتاریخ:* 24؍ شوال المکرم 1445ھ / 3؍ مئی 2024ء*بمقام:* ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور *خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی وحدیثِ نبوی ﷺ*:*آیتِ قرآنی:* وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَ تُدْلُوْا بِهَاۤ اِلَى الْحُكَّامِ لِتَاْكُلُوْا فَرِیْقًا مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ بِالْاِثْمِ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۠۔ (2 – البقرۃ: 188)ترجمہ: ”اور نہ کھاؤ مال ایک دوسرے کا آپس میں ناحق، اور نہ پہنچاؤ ان کو حاکموں تک کہ کھا جاؤ کوئی حصہ لوگوں کے مال میں سے ظلم کر کے (نا حق) تم کو معلوم ہے“۔*حدیثِ نبوی ﷺ :* الاقتصاد في النّفقة نصف المعیشة۔ (مشکاۃ المصابیح، حدیث: 5067)ترجمہ: ”خرچ کرنے میں میانہ روی، نصف معیشت ہے“۔۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇0:00 آغاز خطاب✔️ نوخیز ی کے رویے پختہ عمر میں بار آور ہوتے ہیں، ایسے ہی دنیاوی واُخروی زندگی کی مثال ہے✔️ معاشرتی و سماجی زندگی کی تربیت اور ترقی میں انبیائے کرام علیہم السلام کا کردار✔️ ہرعہد کے ظالم حکمرانوں کا اپنے دور کے عوام اور مصلحین کے ساتھ متکبرانہ رویہ✔️ حضرت شعیب علیہ السلام کی جدوجہد اور اُن کے ساتھ ان کی قوم کا سرکشی کا رویہ✔️ سورۂ بقرہ میں مالی معاملات میں باطل طریقے سے لین دین سے اجتناب کی تاکید✔️ سب سے پاکیزہ رزق اور آں حضرت ﷺ کی محنت و مزدوری کا انداز✔️ انبیائے کرام علیہم السلام کی معاشی سرگرمیاں اور محنت و مشقت سے رزق کا حصول✔️ محنت کی عظمت اور بھیک مانگنے کی ممانعت از رُوئے سیرت اور نبویؐ طرزِ عمل✔️ معاشرتی ترقی کے لیے ریاستی بندوبست اور نظامِ عدل کی ضرورت و اہمیت ✔️ نظامِ ظلم میں قانون سازی‘ معاشی لوٹ کھسوٹ اور غریبوں کے استحصال پر مبنی ہوتی ہے✔️ قانون کی روح اور اس کا استعمال اہم ہوتا ہے، سرمایہ داری اسی سے ننگی ہوتی ہے✔️ امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ شرائع کے اَسرار و رُموز کو بِرّ و اِثم کے تناظر میں دیکھتے ہیں ✔️ بِرّ و اِثم کا قانونی، سماجی اور معاشرتی اثرات کے تناظر میں حقیقی تصور اور اس کے نتائج ✔️ بِرّ و اِثم کا انفرادی و اجتماعی معاملات کے ساتھ ساتھ نظامِ سیاست میں عمل دخل✔️ رشوت اور کرپشن کی ڈیفینیشن اور اس کے سماجی و معاشرتی اثرات و نتائج ✔️ استحصالی نظام میں رشوت کی شکل اور اس کے ذریعے حق تلفی کی صورتیں اور نتائج ✔️ سماج دشمن عناصر اور ظالم حکمرانوں پر خطبے کی مرکزی آیت میں تنقید ✔️ طاغوتی اور استحصالی نظاموں میں سرکلرز اور نوٹیفکیشنز کے ذریعے استحصالی ہتھکنڈوں کا احوال ✔️ سرمایہ دارانہ نظام میں مالی استحصالی ہتھکنڈے اور اس کے ہاں زر کا استحصالی تصور ✔️ دنیا کے معاشی ڈھانچے میں بینک آف انگلینڈ کا کردار اور ایڈم سمتھ کے معاشی نظریات ✔️ تمام مذاہب میں حرمتِ سود کی بنیاد اور سرمایہ داری نظام کا ملکوں کی معیشت پر قبضے کا منصوبہ ✔️ سرمایہ داری نظام کے غلبے اور فروغ میں طاقت اور رِشوت کا بنیادی کردار✔️ سرمایہ دارانہ نظام کی چھتر چھاؤں کے نیچے اداروں کا عوام دشمن کردار (الاثم کا نظام)✔️ استحصالی طبقاتی نظام میں محنت کش طبقوں کے خلاف نظام کا بھیانک کردار✔️ پاکستان میں گندم کے بحران کا پسِ منظر اور اس میں سرمایہ دارانہ نظام کا کردار✔️ مذہبی طبقوں کے معاشی استحصالی نظاموں میں انفرادی اصلاح کے نظریے کا احوال پیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute

Ep 305انسان دشمن شیطانی خیالات کے انسداد کے لیے رحمانی عقل و شعور کی اہمیت اور سماجی ترقی میں اس کا کردار | 2024-04-26
انسان دشمن شیطانی خیالات کے انسداد کے لیےرحمانی عقل و شعور کی اہمیتاور سماجی ترقی میں اس کا کردارخُطبۂ جمعۃ المبارک:حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 17؍ شوال المکرم 1445ھ / 26؍ اپریل 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورخطبے کی رہنما آیتِ قرآنی: إِنَّ الَّذِينَ اتَّقَوْا إِذَا مَسَّهُمْ طَائِفٌ مِّنَ الشَّيْطَانِ تَذَكَّرُوا فَإِذَا هُم مُّبْصِرُونَ۔ (7 – الاعراف: 201)ترجمہ: ”بے شک جو لوگ خدا سے ڈرتے ہیں، جب انھیں کوئی خطرہ شیطان کی طرف سے آتا ہے تو وہ یاد میں لگ جاتے ہیں، پھر اچانک ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں“۔۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 0:00 آغاز 1:11 انسان کاروباری سرگرمی کا تو حساب رکھتا ہے، لیکن اَخلاقیات کی ترقی اس کے پیشِ نظر نہیں رہتی3:24 انسان جنت میں اپنی دنیاوی کاروباری سرگرمیوں کی خواہش کرے گا9:18 انسانی جماعتوں کے حوالے سے حقیقی ترقی اور ترقیٔ معکوس کا بنیادی فرق11:10 فرشتوں اور حیوانات کے مقابلے میں انسانی عقل و خرد کا مقام اور اس کی ذمہ داریاں13:35 انسانی اعمال کے نتائج جانچنے کی فرشتوں کی استعداد محدود ہے، جیساکہ ’’انا اجزی بہ‘‘ حدیث کی تشریح میں مذکور ہے16:23 انسانی عقل کی پیدائش کا اَحوال، فضائل، ضروریات، لوازمات اور اس کے نتائج24:30 انسانی کامیابی میں درست فیصلوں اور فیصلوں میں درست اور حقیقی اعداد وشمار کی اہمیت26:44 مشکل حالات میں عقل مند اور با شعور اولیاء اللہ کا طرزِ عمل29:00 صوفیاء کا درست ادراک، حقیقی صوفی کی تعریف،احوال و کردار اور اس کے نتائج31:04 وسوسے اور خیال کی حقیقت، اس کی اقسام اور اس کے کرداری نتائج35:27 شیطان کی انسان سے دشمنی کی حقیقت اور واردات کا طریقۂ کار39:07 شیطانی خیال کے جان مال اور عزت کے حوالے سے تین دائرے اور اس کی دیگر جہات48:52 جملہ شیطانی خیالات کے حملوں سے بچنے کی حکمتِ عملی اور طریقہ ہائے کار53:19 ہمارے دینی اور قومی نصابِ تعلیم کی نئی نسل کی تربیت کے حوالے سے تہی دستی54:57 ہمارے معاشرے میں مختلف طبقوں کی حالتِ زار اور ان کے مکروہ ہتھکنڈوں کی جھلک56:11 ہمارے سیاسی شعبے کی پستی کا عالم اور نظامِ ظلم میں ان کا انسان دشمن کردار1:00:14 دین کے نام پر بے شعوری اور بے عقلی کا دور دورہ اور عقل دشمنی کے نمونے1:02:50 انبیائے کرام علیہم السلام، صوفیاء اور اولیاء اللہ کا عقلی مقام و مرتبہ اور اُن کا عقلی معیار1:04:58 دینی شخصیات کا عوامی اور انسانی حقوق اور فلاح کے کاموں میں دلچسپی اور کردار1:09:19 معاشرتی و اَخلاقی زوال سے نکلنے اور درست فیصلوں کے لیے 76 سالہ اپنی تاریخ کا جائزہ لینے کی ضرورتپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute

Ep 304کائنات کے عالمگیر نظام کے تحت رزقِ الٰہی کے انسانیت گیر نظام کے تقاضے اور مُلکی نظام کا استحصالی کردار | 2024-04-19
کائنات کے عالمگیر نظام کے تحت*رزقِ الٰہی کے انسانیت گیر نظام کے تقاضے اور مُلکی نظام کا استحصالی کردار**خُطبۂ جمعۃ المبارک:*حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری*بتاریخ:* 10؍ شوال المکرم 1445ھ / 19؍ اپریل 2024ء*بمقام:* ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور*خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی:*وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزْقُهَا وَ یَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَ مُسْتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ۔ (11 – ھود: 6)ترجمہ: ”اور کوئی نہیں چلنے والا زمین پر مگر اللہ پر ہے اس کی روزی، اور جانتا ہے جہاں وہ ٹھہرتا ہے، اور جہاں سونپا جاتا ہے، سب کچھ موجود ہے کھلی کتاب میں“۔*۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔* 0:00 آغاز خطبہ1:20 نزولِ قرآن حکیم کی حکمت اس کی تاثیر اور نتائج2:28 دنیا میں منصبِ خلافت کی ذمہ داریاں اور اس کے تقاضے4:46 اس کائنات کا پورا نظام‘ قرآن حکیم میں پیش کردیا گیا ہے6:51 کائنات ایک عالمگیر مملکت ہے، جس کا مدبرِ حقیقی‘ اللہ ہے7:39 کائنات کا یہ سارا نظام ایک منظم سسٹم کے تابع ہے13:21 رزق کی معنوی وسعت، اس کا دائرۂ کار اور خدا تعالیٰ کے رازق ہونے کا مفہوم14:46 کائنات کے پورے نظام میں ربط اور انسانی جسم کے نظام سے ہم آہنگی17:58 مستقر اور مستودع کا معنی و مفہوم اور اس کی اہلِ علم کے ہاں تعبیرات21:24 ایک بادشاہ کی شان دار دعوت کے واقعے کے نتائج سے کائنات کے نظام کی تفہیم34:30 مدینہ شریف میں مہمانوں کی آمد اور حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کا ایمان افروز واقعہ38:58 توکل علی اللہ اور یقین کی روشنی میں جدید عہد کے نظریۂ آبادی کا ناقدانہ جائزہ40:20 توکل اور یقین کے ساتھ جدید دور کے سرمایہ داری نظام کے استحصالی کردار کا جائزہ43:12 لوح وقلم پر لکھی تقدیر کا درست مفہوم اوراس سے جڑے عملی تقاضے44:43 دنیا میں نظام کے نام پر جکڑبندی اورحقیقی نظام کا فرق اور اس کے نتائج اور تقاضے50:54 کسی ملک میں آئین ہونے کے ساتھ ساتھ اس پر عمل درآمد ہونا اہم ہے51:48 سابقہ اقوام نے کتابِ مبین کی حامل ہونے کے باوجود اس میں من مانی تشریحات کیں54:38 کتابِ مبین کا درست مفہوم اور اس کی من مانی تشریحات کے خوف ناک نتائج58:33 قرآن حکیم کتابِ مبین ہے، لیکن مسلمانوں کے اہلِ یہود جیسے رویے اور اس کے نتائج59:41 دنیا میں لعنت کے اظہار کی مختلف شکلوں میں سے ایک؛ سیاسی ذلت اور معاشی تباہی ہے1:05:53 پاکستان کا پورا نظام ایکٹ 1935ء کی روح اور ڈھانچے کے مطابق ہے1:11:31 پاکستان میں خلافت اور قومی نظام کے تقاضوں کے مطابق نظام بنانے کی ضرورتپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute

Ep 303عصرِ حاضر میں قومی نظام کی تشکیل عروج و زوال کے قرآنی نظام اور اسوہ حسنہ کے عملی حقائق کی روشنی میں |2024-04-12
*عصرِ حاضر میں قومی نظام کی تشکیل*عروج و زوال کے قرآنی نظام اور اسوہ حسنہ کے عملی حقائق کی روشنی میں*خُطبۂ جمعۃ المبارک:*حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری*بتاریخ:* 3؍ شوال المکرم 1445ھ / 12؍ اپریل 2024ء*بمقام:* ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور *خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی و حدیثِ نبوی ﷺ:**آیتِ قرآنی:* إِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ۔ (13 – الرّعد: 11)ترجمہ: ”بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا، جب تک وہ خود اپنی حالت کو نہ بدلے“۔ *حدیثِ نبوی ﷺ:* ”إِنَّ اللّٰهَ يَرْفَعُ بِهٰذَا الْكِتَابِ أَقْوَامًا، وَيَضَعُ بِهِ آخَرِينَ۔ (صحیح مسلم، حدیث: 1897) ترجمہ: ”اللہ تعالیٰ اس کتاب (قرآن) کے ذریعے بہت سے لوگوں کو اونچا کردیتا ہے اور بہتوں کو اس کے ذریعے سے نیچا گراتا ہے“۔*۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔* 👇0:00 آغاز خطاب1:18 قرآنِ حکیم کا نزول، ترقیٔ اَقوام اوردرست قومی نظام کی تشکیل کی بنیادی رہنمائی 3:32 قومی عروج و ترقی میں قرآنی تعلیمات کا کردار اور نافرمان اَقوام کے اَحوال کا جائزہ 8:32 قوم کی تعریف، قومی نظام کی تشکیل کا پراسیس اور صالح قومی نظام کی خصوصیات13:42 قومی نظام کی تشکیل کا درست طریقۂ کار؛ اُسوۂ نبوی ﷺ کی روشنی میں 17:28 قریش کے نوجوانوں کے لیے نبوی دعوتی حکمتِ عملی اور اس کے نتائج و اثرات 19:50 خلافتِ باطنہ کی ہیئتِ ترکیبی اور مکہ میں قائم خلافتِ باطنہ کے خدو خال اور تنظیمی طاقت 23:44 کسی بھی نظام میں سیاسی و معاشی حقائق کی بنیاد پر پالیسیوں اور منصوبہ بندی کی اہمیت29:01 آں حضرت ﷺ کی قبل از نبوت قومی و دینی نظام کی تشکیل میں دو اَساسی اُصولوں کی پاسداری 32:23 دینی اُصولوں کی بنیاد پر عربوں کے مستحکم سیاسی و معاشی نظام کا خاکہ اور حکمرانی کے پانچ سو سال نیز اسلام کی سیاست و خلافت کا روشن و تابناک چہرہ اور اس سنہری دور کی خصوصیات 33:11 عروج کے بعد مسلمان حکومتوں کے دورِ زوال کا آغاز اور اس کے اَسباب و محرکات35:18 عربوں کے بعد اسلام کے بنیادی اُصولوں کی روشنی میں مسلمان عجمی اقوام کا سنہرا دور38:33 برعظیم میں مسلم دورِ حکومت کے زوال کا سبب؛ امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی نظر میں 43:57 بر عظیم میں غلامی کے ظالمانہ نظام میں برطانوی فوج اور پولیس کا مقامی آبادیوں پرسفاکانہ کردار اور عہدِ حاضر میں وہی معیارات برقرار، نیز غلامی کے اصل محرکات کو سمجھنے کی ضرورت واہمیت49:16 اگست 1948ء میں سانحۂ بابڑہ چارسدہ میں سینکڑوں خدائی خدمت گاروں کا سرکاری کارروائی میں قتلِ عام نیز سیاست کا درست مفہوم اور نام نہاد سیاست دانوں کا گھناؤنا کردار52:52 قوم کی خوئے غلامی اور غلامانہ نظام کے اداروں کا منفی کردار اور زندہ قوم کی پہچان57:41 عصرِ حاضر کا سب سے اہم سوال، دورِ حاضر کی رسمی مذہبیت کا المیہ اور قرآن کی دعوتِ فکرپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute

Ep 302رمضان المبارک کے تناظر میں انسانی زندگی کے مراحل اور ان کے لیے تربیتی منصوبہ بندی کی اہمیت |2024-04-05
رمضان المبارک کے تناظر میںانسانی زندگی کے مراحل اور ان کے لیے تربیتی منصوبہ بندی کی اہمیت[Pre..Rec]خُطبۂ جمعۃ المبارک:حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 25؍ رمضان المبارک 1445ھ / 5؍ اپریل 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute

Ep 301غلبۂ دینِ حق کے لیے شخصی تعمیر و ترقی اور رمضان و قرآن حکیم کی رہنمائی |2024-04-05
غلبۂ دینِ حق کے لیے شخصی تعمیر و ترقی اور رمضان و قرآن حکیم کی رہنمائیخُطبۂ جمعۃ المبارک:حضرت مولانا مفتی محمد مختار حسنبتاریخ: 25؍ رمضان المبارک 1445ھ / 5؍ اپریل 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

Ep 300قرآن حکیم کی تلاوت واستفادہ کی اجتماعی اہمیت |2024-03-29
قرآن حکیم کی تلاوت واستفادہ کی اجتماعی اہمیت[Pre..Rec]خُطبۂ جمعۃ المبارک:حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 18؍ رمضان المبارک 1445ھ / 29؍ مارچ 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

Ep 299انبیاء علیہم السلام کی تعلیمات کے تناظر میں باطل جماعتوں کا سماج مخالف کردار |2024-03-29
انبیاء علیہم السلام کی تعلیمات کے تناظر میںباطل جماعتوں کا سماج مخالف کردارخُطبۂ جمعۃ المبارک:مولانا مفتی عبد المتین نعمانیبتاریخ: 18؍ رمضان المبارک 1445ھ / 29؍ مارچ 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور

Ep 298دین کے نظامِ انصاف کا قیام اور روزے کا تربیتی کردار |2024-03-29
دین کے نظامِ انصاف کا قیام اورروزے کا تربیتی کردارخُطبۂ جمعۃ المبارک:حضرت مولانا مفتی محمد مختار حسنبتاریخ: 18؍ رمضان المبارک 1445ھ / 29؍ مارچ 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور

Ep 297سماجی ترقی میں اسلام کے انسان دوست فکر وعمل کا رہنما کردار |2024-03-22
سماجی ترقی میں اسلام کے انسان دوست فکر وعمل کا رہنما کردار [Pre..Rec]خُطبۂ جمعۃ المبارک:مولانا مفتی عبد المتین نعمانیبتاریخ: 11؍ رمضان المبارک 1445ھ / 22؍ مارچ 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور

Ep 296رمضان المبارک اور صالح نظریہ کے سماجی اثرات و نتائج |2024-03-15
رمضان المبارک اورصالح نظریہ کے سماجی اثرات و نتائج[Pre-Rec] خُطبۂ جمعۃ المبارک:مولانا مفتی عبد المتین نعمانیبتاریخ: 4؍ رمضان المبارک 1445ھ / 15؍ مارچ 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

Ep 295تہذیب نفوس میں روزے کا کردار اور اثرات |2024-03-15
تہذیب نفوس میںروزے کا کردار اور اثرات[Pre_Rec]خُطبۂ جمعۃ المبارک:حضرت مولانا مفتی محمد مختار حسنبتاریخ: 4؍ رمضان المبارک 1445ھ / 15؍ مارچ 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

Ep 294صیامِ رمضان المبارک کے مطلوبہ مقاصد اور جھوٹ و جہالت کا سیاسی اور سماجی نظام |2024-03-22
صیامِ رمضان المبارک کے مطلوبہ مقاصداور جھوٹ و جہالت کا سیاسی اور سماجی نظامخُطبۂ جمعۃ المبارک:حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 11؍ رمضان المبارک 1445ھ / 22؍ مارچ 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورخطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی و احادیثِ نبوی ﷺآیاتِ قرآنی:1۔ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الصِّیَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ۔ (2 – البقرۃ: 183)ترجمہ: ”اے ایمان والو ! فرض کیا گیا تم پر روزہ، جیسے فرض کیا گیا تھا تم سے اگلوں (پہلے لوگوں) پر، تاکہ تم پرہیزگار ہوجاؤ“۔2۔ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْیَصُمْهُؕ۔ (2 – البقرۃ: 185)ترجمہ: ”سو جو کوئی پائے تم میں سے اس مہینے کو تو ضرور روزے رکھے اس کے“۔احادیثِ نبوی ﷺ:1۔ ”مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ“۔ (صحیح بخاری، حدیث: 38)ترجمہ: ”جس نے رمضان کے روزے ایمان اور خالص نیت کے ساتھ رکھے، اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے گئے“۔2۔ ”مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ“۔ (صحیح بخاری، حدیث: 37)ترجمہ: ”جو کوئی رمضان میں (راتوں کو) ایمان رکھ کر اور ثواب کے لیے قیام کرے (عبادت کرے) اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں“۔3۔ ”مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْجَهْلَ وَالْعَمَلَ بِهِ، فَلَا حَاجَةَ لِلّٰهِ فِي أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ“۔ترجمہ: ”جو شخص روزہ میں جھوٹ بولنا، جہالت کی باتیں کرنا، اور ان پر عمل کرنا نہ چھوڑے، تو اللہ کو کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑے“۔ (سنن ابن ماجة، حدیث: 1689)۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ رمضان المبارک کے مطلوب نتائج کے لیے عزم و ہمت اور ارادے کی پختگی کی ضرورت کام کی صلاحیتوں اور نتائج کے حوالے سے انسانوں کے تین درجات ہر عمل کا نتیجہ انسانی روح کے ساتھ چپک جاتا ہے اور اس کا ریکارڈ محفوظ ہو جاتا ہے انسان میں ملکیت اور بہیمیت کی نسبت و تناسب اور فکر و کردار پر اس کے اثرات بُرے عمل پر ایک اور اچھے عمل پر دس گنا اجر کا حدیثِ نبوی کی روشنی میں فلسفہ روزے پر مَلَکیت و بہیمیت کی قوتوں کے تناظر میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجر کا معاملہ جھوٹ بولنے والے بے عمل روزے دار سے متعلق ارشادِ الٰہی جھوٹے انسان کی جھوٹ بولنے کی وجہ اور اس کا نفسیاتی تجزیہ قومی سطح پر رمضان المبارک اور روزوں کے اہداف اور ان کے مقاصد جھوٹ کے معاشرتی اثرات و نتائج کے تناظر میں قومی منظر نامے کا شعوری تجزیہ پاکستان میں قول الزور(جھوٹ) کے فروغ میں میڈیا اور چینلز کا کردار

Ep 293رمضان المبارک کے مطلوبہ مقاصدِ تربیت کے تناظر میں دورِ زوال کے اِنحرافی اعمال سے شعوری اجتناب کی اہمیت |2024-03-15
رمضان المبارک کے مطلوبہ مقاصدِ تربیت کے تناظر میںدورِ زوال کے اِنحرافی اعمال سے شعوری اجتناب کی اہمیتخُطبۂ جمعۃ المبارک:حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 4؍ رمضان المبارک 1445ھ / 15؍ مارچ 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورخطبے کی رہنما آیتِ قرآنی و احادیثِ نبوی ﷺ:آیتِ قرآنی:شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ فِیْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَ الْفُرْقَانِۚ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْیَصُمْهُؕ۔ (2 – البقرۃ: 185)ترجمہ: ”مہینہ رمضان کا ہے، جس میں نازل ہوا قرآن، ہدایت ہے واسطے لوگوں کے، اور دلیلیں روشن راہ پانے کی، اور حق کو باطل سے جدا کرنے کی، سو جو کوئی پائے تم میں سے اس مہینے کو تو ضرور روزے رکھے اس کے“۔احادیثِ نبوی ﷺ:1۔ ”مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ“۔ (صحیح بخاری، حدیث: 38)ترجمہ: ”جس نے رمضان کے روزے ایمان اور خالص نیت کے ساتھ رکھے، اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے گئے“۔2۔ ”مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ“۔ (صحیح بخاری، حدیث: 37)ترجمہ: ”جو کوئی رمضان میں (راتوں کو) ایمان رکھ کر اور ثواب کے لیے قیام کرے (عبادت کرے) اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں“۔۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇0:00 آغاز1:43 رمضان المبارک کے با برکت ایام اور راتوں کی خصوصیات کے اثرات و نتائج3:23 رمضان المبارک میں دینِ حق کے گہرے علم و فہم اور تخلیقی اَفکار و خیالات کے مطالعے کی اہمیت8:25 دینِ اسلام کا نظام ایک مکمل نظام کیسے ہے؟ اس کو شعوری بنیادوں پر کیسے سمجھا جائے؟10:54 معاشرے میں رمضان المبارک کے اثرات و نتائج کے علی الرغم کیفیات لمحہ فکریہ!14:40 رمضان المبارک کی اہمیت کو قرآنی افکار کے تناظر میں سمجھنے کی ضرورت واہمیت15:24 نظامِ کائنات میں کمالاتِ الٰہی کی تکمیل کے لیے تدبیر، تجلیات اور انبیائے کرام کا کردار17:45 امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کا تجدیدی کام؛ دینِ اسلام کے فلسفے اور اَساسی اصولوں کی عقلی نشان دہی18:19 یورپ کی عقلِ حیوانی کی درماندگی اور عصرِ حاضر میں دینِ اسلام کے حکمت و فلسفہ کی اہمیت19:44 نئی ایجادات و تخلیقات کے نام وجود میں آنے کا فلسفہ اور ان کا اسمائے الٰہی سے تعلق20:33 ’’رمضان المبارک‘‘ مہینے کے نام کے تناظر میں اس کے اثرات و خصوصیات کا فلسفہ23:47 روزہ اور تلاوت؛ نفس، قلب اور عقل کی منفیّتوں کو ختم کرکے ان کی خوبیوں کو جلا بخشتے ہیں30:34 قرآن حکیم اپنے اثرات و نتائج کے اعتبار سے انقلاب اور تبدیلی کی کتاب ہے32:26 رمضان المبارک اور قرآن حکیم کا آپسی تعلق اور ان کی کامیابیوں کی ایک جھلک38:13 اچھے اور بُرے اعمال کا اپنے دائروں میں زنجیری تعلق اور رمضان المبارک کا کردار41:34 انگریزوں کے استعماری اعمالِ سیئہ کا زنجیری سلسلہ اور غلامی کے سیاہ سائے48:07 آج کے حالات کے تناظر میں رمضان المبارک کے فیوض وبرکات سے استفادے کی حکمتِ عملی49:11 دورِ زوال کے مذہبی طبقوں، مسجدوں اور بے نتائج اعمال کے زنجیری سلسلے کے نتائج51:33 سعودی عرب میں حضرت عمر فاروقؓ کے معمول بیس تراویح کے خلاف متشدد طرزِ عمل55:02 قانونی شکنجے کے ظلم و طغیان کے دور میں سنتِ ابراہیمی کو زندہ کرنے کی ضرورت1:00:06 رمضان المبارک میں اپنی اصلاح و تربیت اور سماج کو سدھارنے کی حکمتِ عملیپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

Ep 292غلامی اور ظلم کے ماحول میں رمضان المبارک کے تہذیبی اور رُوحانی کردار کی اہمیت|2024-03-08
غلامی اور ظلم کے ماحول میںرمضان المبارک کے تہذیبی اور رُوحانی کردار کی اہمیتخُطبۂ جمعۃ المبارک:حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 26؍ شعبان المعظم 1445ھ / 8؍ مارچ 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورخطبے کی رہنما آیتِ قرآنی و حدیثِ نبوی ﷺ :آیتِ قرآنی:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الصِّیَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ۔ (2 – البقرۃ: 183)ترجمہ: ”اے ایمان والو ! فرض کیا گیا تم پر روزہ، جیسے فرض کیا گیا تھا تم سے اگلوں (پہلے لوگوں) پر، تاکہ تم پرہیزگار ہوجاؤ“۔حدیثِ نبوی ﷺ :”مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ“۔ (صحیح بخاری، حدیث: 38)ترجمہ: ”جس نے رمضان کے روزے ایمان اور خالص نیت کے ساتھ رکھے، اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے گئے“۔۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 0:00 آغاز1:28 تہذیبِ انسانی میں روزے اور رَمضان المبارک کی اہمیت اور کردار4:38 انسان کی حیوانیت سے انسانیت کو درپیش خطرات اور اس کا علاج8:06 غلامی تہذیب کی دشمن ہے، اس لیے غلام قومیں بغیر آزادی کے مہذب نہیں ہوسکتیں14:06 رمضان المبارک کے روزے اور ماحول‘ حق و باطل کی پہچان پیدا کرتے ہیں24:06 تقویٰ انسان میں غلامی، ظلم، بداَمنی اور معاشی بد حالی کے خلاف صلاحیت پیدا کرتا ہے35:17 1947ء میں حقیقی آزادی نہیں ملی، بلکہ غلامی کا انداز بدلا ہے41:50 قرآن حکیم کے تین اعزازات، ان کے فیوض و برکات اور اثرات و نتائج43:58 پاکستان کے انتخابات میں دھاندلی کی تاریخ اور موجوجوہ انتخابات میں دھاندلی کا تسلسل52:23 رمضان المبارک کے مقاصد کے علی الرغم پاکستان میں دھاندلی، رِشوت اور غلامی کا راجپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

Ep 291عدل، امن اور آزادی کی قرآنی تعلیمات اور خطے میں سامراج کا سیاہ دورِ غلامی|2024-02-12
عدل، امن اور آزادی کی قرآنی تعلیمات اورخطے میں سامراج کا سیاہ دورِ غلامیخطابحضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبرموقع سیمیناربتاریخ: یکم؍ شعبان المعظم 1445ھ / 12؍ فروری 2024ءبمقام: زینت مارکی، قاضی والا روڈ، چشتیاں، ضلع بہاولنگر۔ ۔ ۔ ۔ خطاب کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 2:01 آٹھ ارب انسانیت سیاسی و معاشی حقوق سے محروم4:01 سیاسی حکومتیں اور نظام قائم کرنے کے مقاصد7:22 سیاسی حکومت کے رہنما اُصول اور واضح قرآنی ہدایات10:00 قیامِ عدل، رسولوں کی بعثت کا ہدف (سورت الحدید کی آیت کا مفہوم)12:30 سورت النحل میں مثالی سوسائٹی (سیاسی امن اور معاشی اطمینان) کا نقشہ14:41 عدل، امن اور معاشی خوش حالی، ریاست و قوم کی آزادی کے بغیر ممکن نہیں22:17 مکہ میں ابوجہل کا ظالمانہ نظام اور نبی ﷺ کی آزادی کے لیے جدوجہد32:09 عقیدے کی بنیاد پر دو قومی نظریے کا تصور، قرآن و سنت کی صریح تعلیمات کے خلاف40:42 اسلام کی روشن تاریخ اور عادلانہ سیاسی و معاشی نظام42:49 برعظیم پاک و ہند کی معاشی خوش حالی اور انگریز سامراج کی لوٹ کھسوٹ48:12 ہندوستان کو غلام بنانے میں ایسٹ انڈیا کمپنی، قومی غداروں اور بیوروکریسی نظام کا مکروہ کردار51:53 سائفرز کی اساس پر ہندوستان کی دو سو سالہ غلامی کی حکومت 56:44 انڈیا ایکٹ 1935ء کے تحت جعلی الیکشنز کا آغاز اور مجلس احرارِ اسلام سے نا روا سلوک1:04:05 متحدہ پنجاب کی تقسیم، مسلم لیگ اور گورنر پنجاب کی مکروہ سازش کامیاب1:06:50 ملک پر مسلط پارلیمنٹ اور الیکشن کا ماڈل، غلامی کی یادگار1:08:44 برطانیہ کا امریکا سے ہندوستان کی بندر بانٹ کاخفیہ ایگریمنٹ 1:15:13 برطانیہ کا تقسیمِ ہند کا ظالمانہ فیصلہ، امریکا سامراج کا دباؤ اور رُوس کے خلاف اڈے کا مطالبہ1:18:57 76 سالہ غلامی کی سیاہ تاریخ، ظالمانہ نظام کا تحفظ اور امریکا کے من پسند حکمرانوں کا انتخاب1:33:27 آج ظالمانہ نظام کا تسلط الم نشرح، درست سیاسی و معاشی شعور سے مقابلہ کرنے ضرورتپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

Ep 29001-03-2024 | سیاسی مذہب کے استعماری حربے کے تناظر میں قادیانیوں کی جھوٹی نبوت کی حقیقت اور دین میں اِکراہ کی نفی کا درست مفہوم
سیاسی مذہب کے استعماری حربے کے تناظر میںقادیانیوں کی جھوٹی نبوت کی حقیقتاور دین میں اِکراہ کی نفی کا درست مفہومخُطبۂ جمعۃ المبارک:حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 19؍ شعبان المعظم 1445ھ / یکم؍ مارچ 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورخطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی و حدیثِ نبوی ﷺ:آیاتِ قرآنی:لَاۤ اِكْرَاهَ فِی الدِّیْنِ، قَدْ تَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّۚ فَمَنْ یَّكْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰىۗ لَا انْفِصَامَ لَهَاؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ۔ اَللّٰهُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْاۙ یُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَوْلِیٰٓئُهُمُ الطَّاغُوْتُۙ یُخْرِجُوْنَهُمْ مِّنَ النُّوْرِ اِلَى الظُّلُمٰتِؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠۔ (2 – البقرۃ: 256-257)ترجمہ: ”زبردستی نہیں دین کے معاملے میں، بے شک جُدا ہوچکی ہے ہدایت گمراہی سے، اب جو کوئی نہ مانے گمراہ کرنے والوں کو اور یقین لاوے اللہ پر تو اس نے پکڑ لیا حلقہ مضبوط، جو ٹوٹنے والا نہیں، اور اللہ سب کچھ سنتاجانتا ہے۔ اللہ مددگار ہے ایمان والوں کا، نکالتا ہے ان کو اندھیروں سے روشنی کی طرف، اور جو لوگ کافر ہوئے، ان کے رفیق شیطان، نکالتے ہیں ان کو روشنی سے اندھیروں کے طرف، یہی لوگ ہیں دوزخ میں رہنے والے، وہ اسی میں ہمیشہ رہیں گے“۔حدیثِ نبوی ﷺ :”الْجِهَادُ مَاضٍ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ“۔ (المعجم الاوسط للطبراني، حدیث: 4775)ترجمہ: ”جہاد قیامت تک جاری رہے گا“۔۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 1:35 دینِ اسلام کا نظامِ فکر اور عملی نظام انتہائی جامع اور مربوط ہے4:00 استعماری نظام کا ایک حربہ مسلمان ملکوں میں سیاسی مذہب کی ترویج ہے8:36 قادیانیت کے جھوٹے دعویٰ نبوت کے ذریعے استعماری غلامی کا جواز فراہم کیا گیا12:50 قادیانیت کی پولٹیکل نبوت کے ذریعے تحریکِ آزادی کو منسوخ کروانے کی ناکام سعی16:46 آزادی کے خلاف غلامی کی ترویج میں اسماعیلی فرقے کے ذریعے ناکام کوششیں9:32 مرزا قادیانی کو انگریزوں کی طرف سے نبی مقرر کرنے کا تاریخی پسِ منظر21:06 آزادی کے نقیب قرآنِ حکیم سے جہاد منسوخ کرنے کی مرزا قادیانی کی جاہلانہ کوشش23:27 اسلام میں ہر دور کے طاغوت کے خلاف بحقِ انسانیت جنگ ہوتی ہے26:31 قرآن حکیم کی حفاظت کے الٰہی وعدے کی تشریح میں امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کا ارشاد31:55 قادیانی نبوت کے ذریعے انگریزوں نے سیاسی مقاصد حاصل کیے32:44 قادیانیوں کے حسبِ خواہش قرآن حکیم کی اشاعت‘ قرآن اور دین میں تحریف ہے35:02 فلسفۂ ختم نبوت کی تشریح پر امامِ انقلاب مولانا عبیداللہ سندھیؒ کے اِرشادات37:25 ختمِ نبوت پر قصرِ نبوت والی حدیث کی بین الاقوامی نظام کے حوالے سے بصیرت افروز تشریح41:26 جھوٹی قادیانی نبوت میں ظلّی، بروزی کے دھوکے اور سرمایہ داری نظام کے اہداف44:12 ’’لا اکراہ فی الدین‘‘ کی غلط تشریح کے ذریعے باطل سیاسی نظام کو سہارے کی کوشش45:34 جسٹس منیر کی رپورٹ میں ختمِ نبوت اور پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی47:26 میثاقِ مدینہ میں ریاستِ مدینہ کی اتھارٹی اور سیاسی حیثیت کا اظہار49:57 ’’لا اکراہ فی الدین‘‘ والی آیت کا پسِ منظر، شانِ نزول اور مختصر تفسیری خلاصہ59:16 قادیانیوں کا پاکستان میں اسلامی شناخت کو استعمال کرنا آئین شکنی ہے1:00:56 گورداسپور ضلعے کے پاکستان میں شامل نہ کیے جانے میں قادیانی سازش1:04:27 عالمی سامراجی قوتوں کی پاکستان میں مذہبی معاملات میں مداخلت1:10:43 دین میں جبر نہ ہونے کا درست مفہوم اور اس کے عملی تقاضےپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

Ep 28923-02-2024 |اسلام کے نام پر سیاست اور سامراجی مفادات کا کھیل دینِ حق کی جامع فکر کی روشنی میں
اسلام کے نام پر سیاست اور سامراجی مفادات کا کھیلدینِ حق کی جامع فکر کی روشنی میںخُطبۂ جمعۃ المبارک:حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 12؍ شعبان المعظم 1445ھ / 23؍ فروری 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورخطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی و حدیثِ نبوی ﷺ:آیاتِ قرآنی:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ، كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ۔ (61 – الصّف: 2-3)ترجمہ: ”اے ایمان والو ! کیوں کہتے ہو منہ سے جو نہیں کرتے۔ بڑی بیزاری کی بات ہے اللّٰه کے یہاں کہ کہو وہ چیز جو نہ کرو“۔حدیثِ نبوی ﷺ:"مَن هؤلاءِ يا جبريلُ؟" قال: "خُطَباءُ أمتِكَ الذينَ يقولونَ ما لا يفعلونَ ويقرؤونَ كتابَ اللهِ ولا يعملونَ بِه".(أخرجه أحمد (13421)، والبزار (7231)، وأبو يعلى (3992) باختلاف يسير)ترجمہ: (رسول اللّٰه ﷺ نے ــ ایک طویل حدیث میں ــ جبرئیل علیہ السلام سے پوچھا): "اے جبرئیل! یہ کون لوگ ہیں؟" حضرت جبرئیلؑ نے فرمایا: "یہ آپ کی اُمّت کے خطیب ہیں، یہ وہ بات کہتے ہیں، جو خود نہیں کرتے۔ اور اللہ کی کتاب (قرآن) پڑھتے ہیں، لیکن اس پر عمل نہیں کرتے".۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 0:00 آغاز1:22 انبیا علیہم السلام کا بنیادی ہدف اور انسانی ترقی کے تین ضروری لوازمات9:36 عبادات کے طریقے کیوں مطلوب ہیں؟ ان کی علت اور حکمت، تقاضے اور نتائج16:04 رحمانی خیال، مَلَکی خیال اور شیطانی خیالات کا فرق اور اثرات و نتائج22:17 امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے ارشاد کی روشنی میں انسانوں کی دو اقسام24:49 دین کے جامع تصورکا تاریخی تسلسل اور حضرت مجددؒ و امام شاہ ولی اللہؒ کا کردار28:51 دین کے بنیادی شعبوں کے ناقص تصور اور انکار کے منفی اثرات و نتائج30:03 خطبے کی مرکزی آیت کا پسِ منظر وشان نزول اور مختصر تفسیری خلاصہ37:44 حدیث میں چرب زبان خطباء واعظوں اور لیڈروں کے انجام کی نشان دہی44:42 دین کے جامع تصور اور شعبوں سے انحراف کی صورت میں اداروں کا ٹکراؤ پیدا ہوتا ہے47:06 عادل حکمرانوں اور صوفیائے کرام کا علمی و فقہی مقام اور عملی و سیاسی کارنامے51:40 سامراجی سیاسی نظام کے اثراتِ بد اور عوام پر اس کے اثرات و نتائج56:52 سیرۃُ النبیؐ کی روشنی میں سیاست کی بنیادی تعریف، مقاصد، مصلحتیں اور اہداف و نتائج1:03:36 نظامِ ظلم میں سیاسی و مذہبی پارٹیوں کی حیثیت اور ان کا حقیقت پسندانہ تجزیہ1:06:43 موجودہ الیکشن میں جمہوریت اور قانون کے نام پر مخصوص قوتوں کا کھیل1:22:21 گزشتہ تین سو سال سے سامراجی مفادات کے لیے اسلام کے نام کا استعمال1:24:39 طبقاتی سیاسی نظام میں قانون کا مخصوص مفادات کے لیے شاطرانہ استعمال1:29:37 اسلام کے سیاسی غلبے اور نظام میں معروضی حالات کے تقاضوں کی رعایت اور تاریخی حقائقپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

Ep 28816-02-2024 |ملکی سماج میں مزاحمتی شعور کے فقدان کے تباہ کن نقصانات اور ان کے ازالہ کی اجتماعی تدبیر
ملکی سماج میں مزاحمتی شعور کے فقدان کے تباہ کن نقصاناتاور ان کے ازالہ کی اجتماعی تدبیرخُطبۂ جمعۃ المبارک:حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 5؍ شعبان المعظم 1445ھ / 16؍ فروری 2024ءبمقام: جامعہ نعمان بن ثابت المعروف جامعہ خدیجۃُ الکُبریٰ، بورے والاخطبے کی رہنما آیتِ قرآنی و حدیثِ نبوی ﷺ:آیتِ قرآنی:وَ مَا كَانَ رَبُّكَ لِیُهْلِكَ الْقُرٰى بِظُلْمٍ وَّ اَهْلُهَا مُصْلِحُوْنَ۔ (11 – ھود: 117)ترجمہ: ”اور تیرا رب ہرگز ایسا نہیں کہ ہلاک کرے بستیوں کو زبردستی سے، اور لوگ وہاں کے نیک ہوں“۔حدیثِ نبوی ﷺ:"إِنَّ النَّاسَ إِذَا رَأَوْا ظَالِمًا فَلَمْ يَأْخُذُوا عَلَى يَدَيْهِ أَوْشَكَ أَنْ يَعُمَّهُمُ اللَّهُ بِعِقَابٍ مِنْهُ"۔ (الجامع للترمذی، حدیث: 3057)ترجمہ: "جب لوگ ظالم کو (ظلم کرتے ہوئے) دیکھیں، پھر بھی اس کے ہاتھ پکڑ نہ لیں (اسے ظلم کرنے سے روک نہ دیں)، تو قریب ہے کہ ان پر اللہ کی طرف سے عمومی عذاب آ جائے (اور وہ ان سب کو اپنی گرفت میں لے لے)"۔۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇0:00 آغاز 1:21 زوال سے دو چار انسانی معاشرے کے لیے واضح قرآنی تعلیمات3:00 گزشتہ اقوام کے نقائص کے تجزیے کا قرآنی اسلوب4:25 ریاست، مملکت اور بستیوں کی ہلاکت اور بقا کے قرآنی اُصول7:33 اصلاح و فساد بین الناس؛ قرآنی اصطلاحات کی وضاحت9:46 نبویؐ عدالت میں چرب زبانی سے ناجائز حق کی وصولی؛ جہنم کا ٹکڑا لینے کے مترادف10:57 تعاونِ باہمی کے لیے ہر انسان ضروریاتِ زندگی میں دوسرے کا محتاج14:25 فساد مچانے والی بستیاں اور اصلاح پسند معاشروں سے متعلق قرآنی فیصلہ17:54 آیتِ قرآنی میں ریاستیوں کی تباہی و بربادی کے قانون کی نشان دہی21:19 آیت سے انفرادی اصلاح کے استدلال پر حضرت ابوبکر صدیقؓ کی جانب سے درست رہنمائی23:09 از روئے حدیث، ظالم کو ظلم سے نہ روکنا، پوری بستی (ریاست و مملکت) کی تباہی کا پیش خیمہ27:55 اقوام و ممالک کا اصلاح احوال کرنے والی اور فساد مچانے والی ریاستوں سے تعلقات کی نوعیت29:09 برصغیر میں اسلام کے نام پر دھوکہ دہی کا آغاز31:31 آج سیاسی و مذہبی عناصر کے ظالمانہ ہاتھوں کو روکنے والا کوئی نہیں35:20 ملک کا نظام اسلام اور جمہور کے لیے ہے؟ ظلم و جھوٹ پر مبنی الیکشنز کی سیاہ تاریخ38:10 ضیاء الحق کا جھوٹ اور نو ستاروں کے مفادات41:18 اسلام کے نام پر جھوٹے اور جعلی ریفرنڈم43:34 آج عذاب مسلط ہونے کی بنیادی وجہ؛ ظالموں کے ہاتھ نہ روکنا45:29 ظالمانہ ریاستی نظام میں رائج الوقت انتخابی نظام ظالم کے ہاتھ مضبوط کرتا ہے48:47 ظالموں کے خلاف شعور نہ دینے کا مذہبی ہتھکنڈا اور صدیقِ اکبرؓ کا پیغامِ انقلاب59:16 پاکستان‘ جھوٹ، ظلم ، بھوک اور گروہیت کے عذاب میں مبتلا اور مزاحمتی شعور کا فقدان1:08:48 اسلام کے نفاذ کا مذہبی فریضہ ادا نہ کرنے کا عذاب اور اجتماعی توبہ کرنے کی ضرورتپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

Ep 28709-02-2024 |مذہبی، سیاسی اور حکومتی عناصر کا منافقانہ کردار اور مساجد کی بنیادی ذمہ داری
مذہبی، سیاسی اور حکومتی عناصر کا منافقانہ کردار اورمساجد کی بنیادی ذمہ داریخُطبۂ جمعۃ المبارک:حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 28؍ رجب المرجب 1445ھ / 9؍ فروری 2024ءبمقام: رحیمیہ مسجد، ماڈل ایونیو، ہارون آباد، ضلع بہاولنگرخطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی و احادیثِ نبوی ﷺ :آیاتِ قرآنی:1۔ لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَى التَّقْوٰى مِنْ اَوَّلِ یَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِیْهِؕ فِیْهِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ اَنْ یَّتَطَهَّرُوْاؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُطَّهِّرِیْنَ۔ (9 – التوبہ: 108)ترجمہ: ”البتہ وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے دن سے پرہیزگاری پر رکھی گئی ہے، وہ اس قابل ہے کہ تُو اس میں کھڑا ہو۔ اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنے کو پسند کرتے ہیں۔ اور اللہ پاک رہنے والوں کو پسند کرتا ہے“۔2۔ وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنْ یُّذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ وَ سَعٰى فِیْ خَرَابِهَا۔ (2 – البقرہ: 114)ترجمہ: ”اور اس سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا، جس نے اللہ کی مسجدوں میں اس کا نام لینے کی ممانعت کردی، اور ان کے ویران کرنے کی کوشش کی“۔احادیثِ نبوی ﷺ :”آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ: إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ“، و في روایة: ’’وَإِذَا عَاہَدَ غَدَرَ، وإذا خاصَمَ فَجَرَ‘‘۔ (صحیح بخاری، حدیث: 33-34) ترجمہ: ”منافق کی تین نشانیاں ہیں: (1) جب بات کرے تو جھوٹ کہے، (2) اور جب وعدہ کرے تو اسے پورا نہ کرے، (3) اور جب امانت دی جائے تو اس میں خیانت کرے، ۔“ اور ایک دوسری روایت میں ہے: ”اور جب (کسی سے) عہد کرے تو اسے پورا نہ کرے، اور جب (کسی سے) لڑے تو گالیوں پر اتر آئے“۔۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇0:00 آغاز1:43 حضرت ابراہیم علیہ السلام سے قبل عبادات کے تصورات اورآپؑ کا دعوتی اُسلوب7:55 کائنات کا پورا نظام منشائے الٰہی کے تابع ہے11:01 دینِ حنیفی کے انبیاء علیہم السلام کی دعوت اور تعلق مع اللہ کے مراکز15:50 خطبے کی مرکزی آیت کا پسِ منظر اور مساجد بنانے کا اصل مقصد18:30 مسخ شدہ مذہبیت کا کردار اور توہین و تذلیل کی تاریخ کی ایک جھلک 27:38 بیت اللہ پہلی مسجد، بیت المقدس دوسری اور مسجدِ نبویؐ تیسری، نیز مسجدِ حرام بہ طورِ قبلۂ اوّل34:01 مسلمانوں کے سیاسی غلبے کے بعد منافقین کا بہ ظاہر قبولِ اسلام اور کردار37:36 مسجدِ ضرار کا مقصد دینِ اسلام کے غلبے میں رُکاوٹ اور تفریقِ انسانیت41:52 مسجدِ ضرار میں قیام کرنے کی ممانعت اور اسے گرانے کا حکم43:44 حدیث میں منافق کی علامات کے ضمن میں سیاسی و معاشی و سماجی اَقدار میں منافقانہ رویے49:17 حالیہ الیکشن، ظالمانہ نظام، پارٹیاں اور ان کے نمائندوں کا تحلیل و تجزیہ59:59 مسجد؛ غلبۂ دین، امن، عدل، معاشی خوش حالی، آزادی اور سوسائٹی کی ترقی کا استعارہ1:01:01 آج کا بڑا اَلمیہ؛ مسجد کے منبر سچ اور جھوٹ میں فرق کرنے کی صلاحیت سے قاصر1:04:46 برصغیر کی تقسیم سے پہلے اور قیامِ پاکستان کے بعد تمام الیکشن؛ ایک تجزیہ1:08:10 ریاستِ مدینہ بنانے کے چار ضروری اُمور اور مسلط نظام کا جائزہ1:12:41 مسجد پر ریاست کی حکمرانی نہیں (قاضی ابو یوسفؒ اور خلیفہ ہارون الرشیدؒ کا مکالمہ)1:15:15 ظالمانہ ریاست کے اداروں کا ظالمانہ بھیانک کردار اور اس کے نتائج1:20:06 مسجد اور غلبۂ دین کا نظریہ، نتائج اور جہدوجہد کے حقیقی تقاضےپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

Ep 28602-02-2024 |استحصالی نظام میں انتخابات کی حیثیت شعوری رائے دہی کے اجتماعی دینی نظام کی روشنی میں
*استحصالی نظام میں انتخابات کی حیثیت**شعوری رائے دہی کے اجتماعی دینی نظام کی روشنی میں**خُطبۂ جمعۃ المبارک:*حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری*بتاریخ:* 21؍ رجب المرجب 1445ھ / 2؍ فروری 2024ء*بمقام:* ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ)، لاہور*خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی و حدیثِ نبوی ﷺ :**آیتِ قرآنی:*یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۔ (59 – الحشر: 18)ترجمہ: ”اے ایمان والو ! ڈرتے رہو اللہ سے، اور چاہیے کہ دیکھ لے ہر ایک جی (انسان) کیا بھیجتا ہے کل کے واسطے، اور ڈرتے رہو اللہ سے، بے شک اللہ کو خبر ہے جو تم کرتے ہو“۔*حدیثِ نبوی ﷺ :*”مَنْ كَثَّرَ سَوَادَ قَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ، ومَنْ رَضِيَ عَمْلَ قَوْمٍ؛ كان شريكَ مَنْ عَمِلَ بِهٖ“۔(شرح البخاری للقسطلانی، ج: 1، ص: 185)ترجمہ: ”جو کسی قوم کی تعداد و کثرت کو بڑھائے، وہ انہی میں سے ہے، اور جو کسی قوم کے عمل کو قبول کرکے رضا مند ہوا، وہ گویا اس کے عمل میں شریک ہے"*۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔* 0:00 آغاز1:21 دینِ اسلام کی تعلیمات کی جامعیت و وسعت اور عصری تقاضے2:43 انبیا علیہم السلام کی جدوجہد اور کردار کی ہمہ گیریت اور عملی نتائج6:01 معیشت میں ظلم اور استحصال کے نقصانات اور دولت کی منصفانہ تقسیم کے فوائد8:02 مسخ شدہ یہودیت کا اصل چہرہ اور انسانیت دشمن بھیانک کردار11:44 حکومت و ریاست کا حقیقی کردار اور منصفانہ طرزِ حکومت کی ضرورت و اہمیت15:24 علم و فکر اور تقویٰ کا حقیقی تصور، اس کے اثرات اور عملی تقاضے18:57 آج کے یہود اور بنی اسرائیل کا مدینہ سے یہودیوں کے اخراج کے واقعات پر قیاس مع الفارق21:36 اجتماعی سطح پر سیاسی و معاشی منصوبہ بندی کی ضرورت و اہمیت29:19 مسلمان قیادت اور منافقین و یہود کے لیڈروں کے رویوں کا فرق 34:46 خطبے کی مرکزی آیت میں سیاسی نظام کی تشکیل کا بنیادی اُصول بیان ہوا ہے 36:59 مستقبل کی حکومت و اقتدار پر غور وفکر کرنا کوئی غیر شرعی امر نہیں 40:04 مستقبل کی حکومت کے حوالے سے اپنی رائے کا اظہار کرنا درست امر ہے44:04 حضرت عمر فاروقؓ کا اہم خطاب اور حکمرانوں کے انتخاب کے حوالے سے رہنمائی48:03 مشاورت کے بغیر کسی شخص کو حکمران بنانا غیر شرعی اور غیر جمہوری ہے59:46 خلفائے راشدینؓ کے انتخاب میں جمہوریت اور بامعنی مشاورت کا لحاظ رکھا گیا1:01:36 سواد اور سوادِ اعظم کا لغوی اور اصطلاحی معنی و مفہوم اور اس کا عُرفی اِطلاق1:03:51 آمرانہ مزاج اور غیر جمہوری رویوں کی حامل سیاسی جماعتوں کے جلسوں میں شرکت کی حیثیت1:07:35 پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے دورِ اقتدار کا بے لاگ تجزیہ1:12:30 ووٹ دینے سے پہلے غور وفکر اور سمجھنے سوچنے کی ضرورت و اہمیت1:14:11 حقیقی جمہوریت کے منکرین اور مغربی جمہوریت کے داعیوں کا المیہ1:17:18 مشاورت اور جمہوریت کے بغیر تاریخِ اسلام میں حکومت کا کوئی تصور نہیں 1:19:11 جمہوریت کا بنیادی تصور آزادانہ رائے اور با معنی مشاورت سے جڑا ہوا ہے 1:21:26 استحصالی نظام ظلم میں غلام قوموں کے الیکشن کی حیثیت اور حقیقتپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

Ep 28526-01-2024 | دینِ اسلام میں حکمتِ عملی، فراستِ ایمانی اور علمِ اَسرار و مصالح کی حقیقت اور اس کے تقاضے
دینِ اسلام میں حکمتِ عملی، فراستِ ایمانی اورعلمِ اَسرار و مصالح کی حقیقت اور اس کے تقاضےخُطبۂ جمعۃ المبارک:حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 14؍ رجَبُ المُرَجَّب 1445ھ / 26؍ جنوری 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ)، لاہورخطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی و احادیثِ نبوی ﷺ :آیاتِ قرآنی:1۔ إِنَّمَا يَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ۔ (35 – الفاطر: 28)ترجمہ: ”بے شک اللہ سے اس کے بندوں میں سے عالِم ہی ڈرتے ہیں".2۔ أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ۔ (10 – یونس: 62)ترجمہ: ”خبردار ! بے شک جو اللّٰه کے دوست ہیں، نہ اُن پر ڈر ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے“۔احادیثِ نبوی ﷺ :1۔ ”لِكُلّ آيةٍ مِنْھَا ظَهْرٌ و بَطْنٌ“. (الطّبراني في الكبير، حدیث: 10107)ترجمہ: ”(قرآن حکیم کی) ہر آیت کا ایک ظاہر ہوتا ہے اور ایک باطن ہوتا ہے“2۔ ”طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلٰى كُلِّ مُسْلِمٍ“. (سنن ابن ماجة، حدیث: 224)ترجمہ: ”علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے“۔۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 0:00 آغاز1:31 دینِ اسلام کی صحیح اور جامع حقیقت سمجھنا ہر مسلمان کا بنیادی فریضہ ہے3:10 حکمتِ عملی اور حکمتِ نظری کی حقیقت اور ان کا بنیادی فرق5:55 فراستِ ایمانی اور طبعی کی حقیقت و ماہیت اور اس کے عقلی و عملی تقاضے7:17: سیرتُ النبی ﷺ سے ظاہر شریعت کا علم اور علم اسرار الدین دونوں حاصل ہوتے ہیں12:09 اِخْبات الی اللّٰہ سمیت اَخلاقِ اربعہ کے طریقوں کی نبوی رہنمائی اور اس کے تقاضے20:55 علم المصالح و المفاسد اور علم الشرائع و الحدود کی حقیقت، مقاصد اور نتائج22:42 دینِ اسلام کے عملی نظام اور اس کی روح میں قومی و بین الاقوامی تقاضوں کی رعایت24:55 فقہ حنفی میں روحِ اسلام اور اس کی حقیقت و ماہیت کی رعایت رکھی گئی ہے30:48 اسلام کی صورت و معنی کو قائم رکھنے کے لیے فقہا اور محدثین کی جامع کوششیں33:47 دینِ اسلام کے معنی و صورت کے حوالے سے افراط و تفریط کی صورتیں37:42 مجددی ولی اللّٰہی مکتبۂ فکر کی اہم ترین خصوصیت؛ معنی و صورت کا جامع تصور45:40 اسلام کے معنی و صورت کے تناظر میں امام شاہ عبد العزیز دہلویؒ کا سیاسی شعور اور فتویٰ دارالحرب50:41 برعظیم میں مسلمانوں کے نظام کی شکست کے بعد ولی اللّٰہی جماعت کی حکمتِ عملی54:34 برعظیم میں مذہبی لبادے میں استعماری حربوں پر فراستِ ایمانی کی نظر59:43 حضرت اقدس شاہ عبدالقادر رائے پوری اور مولانا عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کا نظریہ افروز مکالمہ1:04:19 آزادی، امن، عدل اور معاشی خوش حالی کے تناظر میں ریاست کے نظام کے جائزے کا اُصول1:07:51 عصرِ حاضر کی تحریکوں اور جماعتوں میں افراط و تفریط کا شعوری تجزیہ1:10:50 اسلام کی ظاہری و باطنی معنویت کے حوالے سے علمائے حق کا کردارپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

Ep 28419-01-2024 | غلبۂ دینِ حق کے لیے حکمتِ عملی کی اَساسی اہمیت سیرتُ النبی ﷺ اور تاریخ کے تناظر میں
غلبۂ دینِ حق کے لیے*حکمتِ عملی کی اَساسی اہمیت*سیرتُ النبی ﷺ اور تاریخ کے تناظر میں*خُطبۂ جمعۃ المبارک:*حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری*بتاریخ:* 7؍ رجَبُ المُرَجَّب 1445ھ / 19؍ جنوری 2024ء*بمقام:* ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ)، لاہور*خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی و احادیثِ نبوی ﷺ :**آیاتِ قرآنی:**1۔* ”ہُوَ الَّذِیۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَہٗ بِالۡہُدٰی وَ دِیۡنِ الۡحَقِّ لِیُظۡہِرَہٗ عَلَی الدِّیۡنِ کُلِّہٖ وَ لَوۡ کَرِہَ الۡمُشۡرِکُوۡنَ“۔ (61 – الصف: 9)ترجمہ: ”وہی تو ہے، جس نے اپنا رسول ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا، تاکہ اس کو سب دینوں پر غالب کرے، اگرچہ مشرک ناپسند کریں“۔*2۔* ” ہُوَ الَّذِیۡ بَعَثَ فِی الۡاُمِّیّٖنَ رَسُوۡلًا مِّنۡہُمۡ یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِہٖ وَ یُزَکِّیۡہِمۡ وَ یُعَلِّمُہُمُ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ“۔ (62 – الجُمُعة: 2)ترجمہ: ”وہی ہے، جس نے ان پڑھوں میں ایک رسول انھیں میں سے مبعوث فرمایا، جو اُن رپ اس کی آیتیں پڑھتا ہے، اور انھیں پاک کرتا ہے، اور انھیں کتاب اور حکمت سکھاتا ہے“.*احادیثِ نبوی ﷺ:*ترجمہ: *1۔* ”خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ“۔ (الجامع الصّحیح للبخاري، حدیث: 5027)(تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن مجید پڑھے اور پڑھائے۔)*2۔* ”الْكَلِمَةُ الْحِكْمَةُ ضَالَّةُ الْمُؤْمِنِ فَحَيْثُ وَجَدَهَا فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا“۔ (سنن ترمذی، حدیث: 2687)ترجمہ: ”حکمت کی بات مومن کی گمشدہ چیز ہے، جہاں کہیں بھی اسے پائے وہ اسے حاصل کر لینے کا زیادہ حق رکھتا ہے“۔*۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔* 👇0:00 آغاز1:55 تمہیدی گفتگو میں سابقہ خطبات کے ساتھ موضوعاتی ربط کی رہنمائی2:47 سماج کی ترقی؛ انسانوں کے تزکیے اور نظام عدل کے قیام سے وابستہ ہے8:13 قومی سطح پر سیاسی و معاشی حکمت کے ادراک کی ضرورت و اہمیت10:53 آں حضرت ﷺ کا اجتماعی اور رِیاستی اُمور میں حکمت کا استعمال23:50 آں حضرت ﷺ کا عدی بنِ حاتم کے ساتھ دانش افروز مکالمہ26:36 اسلام کے نظامِ عدل کے غلبے کی برکات اور اس کے معاشی و سماجی اثرات28:33 آپ ﷺ کی عدی بنِ حاتم سے گفتگو میں دعوتی اُصولوں کی رعایت34:10 سیرۃ النبی ﷺ میں غلبۂ دین کے حوالے سے حکمتِ عملی کی اہمیت کا مطالعہ 38:00 دین میں اس کی حقیقی شکل و صورت قائم رکھنے اور نشرو اشاعت کی ضرورت و اہمیت40:05 غلبۂ دین اور اس کے نظام کے قیام میں حکمتِ عملی کے حوالے سے خلفائے راشدینؓ کا کردار46:51 انسانی تزکیے اور تعلیم و تربیت کے حوالے سے صوفیائے کرام کی حکمتِ عملی54:05 فقہ و قانون کی جمع و ترتیب میں فقہائے کرام کی حکمتِ عملی کی اہمیت1:01:10 مدینہ منورہ میں حضرت عمر فاروقؓ اور مابعد دور میں علمی اَساس کی حکمتِ عملی1:02:57 اٹھارہویں صدی میں نئے چیلنجز میں حضرت الامام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی اجتہادی بصیرت1:05:30 حکمت کی اساس پر امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی تصنیفات کی اہمیت1:08:24 آج کے دور کے نئے چیلنجز اور امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے فلسفے کی اہمیت1:13:15 عصرِ حاضر میں دینِ اسلام کی حکمت کی اساس پر مسائل کے حل کی حکمتِ عملی کی اہمیت

Ep 28312-01-2024 | حکمتِ عملی کی نبوی اَساس پر فہمِ دین؛ ولی اللّٰہی مجددین کا فکری امتیاز اور اس کا عصری اطلاق
حکمتِ عملی کی نبوی اَساس پر فہمِ دین؛ولی اللّٰہی مجددین کا فکری امتیاز اور اس کا عصری اطلاقخُطبۂ جمعۃ المبارک:حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 29؍ جُمادی الثانی 1445ھ / 12؍ جنوری 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ)، لاہورخطبے کی رہنما آیتِ قرآنی و حدیثِ نبوی ﷺ : آیتِ قرآنی:یُّؤْتِی الْحِكْمَةَ مَنْ یَّشَآءُۚ، وَ مَنْ یُّؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ اُوْتِیَ خَیْرًا كَثِیْرًا۔ (2 – البقرہ: 269)ترجمہ: "عنایت کرتا ہے سمجھ جس کسی کو چاہے، اور جس کو سمجھ ملی اس کو بڑی خوبی ملی"۔حدیثِ نبوی ﷺ :”الْكَلِمَةُ الْحِكْمَةُ ضَالَّةُ الْمُؤْمِنِ فَحَيْثُ وَجَدَهَا فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا“۔ (سنن ترمذی، حدیث: 2687)ترجمہ: ”حکمت کی بات مومن کی گمشدہ چیز ہے، جہاں کہیں بھی اسے پائے وہ اسے حاصل کر لینے کا زیادہ حق رکھتا ہے“۔۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇✔️ شریعت کا فہم، حکمتِ قرآنیہ پر موقوف اور اس کا انکار بڑا مکر و فریب✔️ خانوادۂ ولی اللّٰہی کا حکمتِ قرآن کے اِحیاء اور فہمِ دین کی تجدید کی وسیع شاہراہ کا تعین✔️ گزشتہ خطباتِ جمعہ میں حکمت کے مختلف پہلوؤں کا خلاصہ✔️ ولی اللّٰہی مفکرین و مجددین کی بڑی خصوصیت؛ حکمتِ عملی کی اَساس پر دین کا فہم و شعور✔️ سلسلۂ ولی اللّٰہی کے اس فیض سے پوری دنیا مستفید ہوئی✔️ دینی حکمتِ علمی کی بنیاد پر ولی اللّٰہی فکرکی تفہیم‘ آج کے دورکی بڑی ضرورت✔️ شرائع کی عملی مثالوں سے حکمتِ عملی کی وضاحت (شاہ صاحبؒ کے فکر کا کمال)✔️ ہر دور کے حالات کی مناسب حکمتِ عملی کے تحت ضمنی قانون سازی کا عمل، نیز فقہ حنفی کا امتیازی پہلو✔️ دور کے مخصوص تقاضوں کے تحت ضمنی قانون سازی کو اصل شریعت قرار دینا‘ دورِ زوال کا بڑا دجل اور حکمتِ عملی نہ سمجھنے کا نتیجہ✔️ ولی اللّٰہی جماعت نے حکمتِ عملی کی اَساس پر قرآنِ حکیم سیکھا اور سکھایا✔️ شاہ صاحبؒ کا قرآنی حکمتِ عملی ’’الجادّۃ القویمۃ‘‘ (واضح اور درست شاہراہ کے عملی نظام) کی وضاحت✔️ شاہ صاحبؒ کا حکمتِ عملی کے تناظر میں مغلیہ سلطنتِ اسلامیہ کی فرسودگی کا جائزہ اور نئے نظام کا قیام✔️ ’’التّفہیماتُ الإلٰہیّۃ‘‘ میں شاہ صاحبؒ کا حکمتِ عملی کے پیشِ نظر دور کے تمام فرسودہ طبقات کی نشان دہی✔️ شاہ عبدالعزیزؒ، خواجہ امین ولی اللّٰہیؒ اور شاہ محمد عاشق پھلتیؒ کا جادۂ قویمہ کے فروغ میں کردار✔️ شاہ عبدالعزیزؒ کا حکمتِ عملی اور سیاسی شعور کی اَساس پر فتویٰ دار الحرب؛ مولانا سندھیؒ کا اہم قانونی نکتہ✔️ شاہ عبدالعزیزؒ کاحکومتی نظم و نسق کے لیے متبادل قیادت کی تیاری، جدوجہد اور جماعت کا عملی کردار✔️ انگریز سامراج کے مقابلے پر آزادی کی جدوجہد کے خلاف عدمِ خروج کے فقہی جُزئیے سے استدلال، حکمتِ عملی کی اساس پر قابلِ ردّ✔️ مولانا محمدقاسم نانوتویؒ کا حکمتِ عملی کے پیشِ نظر فکرِ ولی اللّٰہی کو اُردو میں منتقل کرنا؛ حضرت سندھیؒ کا عمدہ تجزیہ✔️ انگریز سامراج کا شریعت کے نام پر دجل و فریب، پروپیگنڈا اور حکمتِ عملی سے عاری مذہبی طبقات پیدا کرنا✔️ حضرت شیخ الہندؒ کے ہاں شاہ صاحبؒ آخری اتھارٹی✔️ حضرت شاہ عبدالرحیم رائے پوریؒ کی افکارِ شاہ ولی اللہؒ سے والہانہ محبت✔️ حضرت شیخ الہندؒ کے محقق شاگردوں کے ہاں بھی جادۂ قویمہ کو بنیادی حیثیت حاصل✔️ مفتی کفایت اللہ دہلویؒ کا سیاسی شعور کی اساس پر علمائے اسلام کے عنوان سے جمعیت کے خلاف فتویٰ✔️ حکمتِ عملی کے اُصول پر حضرت شاہ عبد القادر رائے پوریؒ کی طرف سے حضرت مدنیؒ کی تائید✔️ حضرت شاہ عبدالعزیز رائے پوریؒ اور حضرت شاہ سعید احمد رائے پوریؒ کا حکمتِ عملی کی بنیاد پر فکرِ ولی اللّٰہی کے فروغ میں اہم کردار✔️ مجدد العصر شاہ سعید احمد رائے پوریؒ کا پاکستان میں حکمتِ عملی کی اساس پرنام نہاد افغان جہاد کے خلاف کردار✔️ جاہل، لالچی اور مفاد پرست افراد کا مکر و فریب اور دھوکہ دہی✔️ شاہ سعید احمد رائے پوریؒ نے ولی اللّٰہی فکر کی تعلیم شاہ عبدالعزیز رائے پوریؒ سے حاصل کی✔️ حکمتِ عملی کی بنیاد پر شیعہ سنی فساد کے خلاف شاہ سعید احمد رائے پوریؒ کا شعوری کردار✔️ علمائے حق کے خلاف زبان درازی کرنے والوں کا اللہ سے اعلانِ جنگ اورانجامپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

Ep 282سماجی تبدیلی کے لیے صالح اجتماعیت کی ناگُزیریّت اور اس کے اِدارتی اُصولوں کا تعارُف |2023 -12-29
*سماجی تبدیلی کے لیے صالح اجتماعیت کی ناگُزیریّت**اور اس کے اِدارتی اُصولوں کا تعارُف**خُطبۂ جمعۃ المبارک:*حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری*بتاریخ:* 15؍ جُمادی الثانی 1445ھ / 29؍ دسمبر 2023ء*بمقام:* ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ)، لاہور*خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی و حدیثِ نبوی ﷺ:**آیاتِ قرآنی:**1۔* وَ لِكُلٍّ وِّجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّیْهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِ، اَیْنَ مَا تَكُوْنُوْا یَاْتِ بِكُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا۔ (2 – البقرہ: 148)ترجمہ: "اور ہر کسی کے واسطے ایک جانب ہے، یعنی قبلہ ، کہ وہ منہ کرتا ہے اس طرف، سو تم سبقت کرو نیکیوں میں، جہاں کہیں تم ہو گے اللہ تم کو اکٹھا کر لائے گا"۔*2۔* لَا خَیْرَ فِیْ كَثِیْرٍ مِّنْ نَّجْوٰىهُمْ اِلَّا مَنْ اَمَرَ بِصَدَقَةٍ اَوْ مَعْرُوْفٍ اَوْ اِصْلَاحٍۭ بَیْنَ النَّاسِؕ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ فَسَوْفَ نُؤْتِیْهِ اَجْرًا عَظِیْمًا۔ (4 – النساء: 114)ترجمہ: "کچھ اچھے نہیں ان کے اکثر مشورے مگر جو کوئی کہ کہے صدقہ کرنے کو، یا نیک کام کو، یا صلح کرانے کو لوگوں میں، اور جو کوئی یہ کام کرے اللہ کی خوشی کے لئے، تو ہم اس کو دیں گے بڑا ثواب"۔*حدیثِ نبوی ﷺ:*"كُلُّ كَلَامِ ابْنِ آدَمَ عَلَيْهِ لَا لَهُ، إِلَّا أَمْرٌ بِمَعْرُوفٍ، أَوْ نَهْيٌ عَنْ مُنْكَرٍ، أَوْ ذِكْرُ اللّٰهِ"۔ (جامع ترمذی، حدیث: 2412)ترجمہ: ”انسان کی ساری باتیں اس کے لیے وبال ہیں، ان میں سے اسے امربالمعروف، نہی عن المنکر اور ذکر الٰہی کے سوا کسی اَور کا ثواب نہیں ملے گا“۔*۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔* 👇✔️ خطبہ جمعۃ المبارک کی تمہیدی گفتگو✔️ دورِ زوال کا فکری اِضمحلال اور اس دور میں حکمت وشعور کی اہمیت✔️ دورِ زوال میں مسلمانوں پر مسلط کی گئی مصنوعی فکر کے نمائندے✔️ دورِ زوال میں قرآنی حکمت و بصیرت کے فروغ میں حضرت شیخ الہندؒ کا کردار✔️ قرانی حکمت سے انکار کے دینی و معاشرتی نقصانات اور نتائج✔️ ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ لاہور میں دورۂ تفسیر قرآن حکیم کے بنیادی مقاصد✔️ بیت المقدس کو قبلہ بنانے میں رسول اکرم ﷺ کی طرف سے حکمت کی رعایت✔️ ملتِ حنیفیہ ابراہیمیہ کا پہلا مرکز بیت اللہ اور مسجد حرام رہی ہے✔️ ملتِ حنیفیہ ابراہیمیہ کا مکمل پروگرام خیر اور انسانیت کی بھلائی ہے✔️ انسانیت کی رہنمائی کے حوالے سے بیت اللہ الحرام کی حیثیت اور مرکزیت✔️ خیر کے حوالے سے قرآن حکیم کے تصورات اور خیرِ کثیر کی وضاحت✔️ حکمت کا بنیادی اور اَساسی اُصول؛ جماعت کا قیام اور استحکام ہے✔️ خطبہ جمعۃ المبارک کی مرکزی آیت کا مختصر تفسیری خلاصہ✔️ آج کے استعماری نظاموں میں استعماری دور کی خفیہ مشاورت کا تسلسل✔️ معروفات اور منکرات‘ دنیا کے تمام مذاہب میں مسلمہ اور تسلیم شدہ ہیں✔️ قرآن حکیم کی روشنی میں ملتِ حنیفیہ ابراہیمیہ کے اُصولوں کا دستوری خاکہ✔️ دورِ زوال میں زوال سے نکلنے کی قرآنی اور نبوی حکمتِ عملی✔️ سماجی تبدیلی کے لیے آں حضرت ﷺ کی جماعتی حکمتِ عملی✔️ پاکستانی معاشرے میں موجود گروہیّتوں اور طبقوں کا تحلیل و تجزیہ✔️ مسلمان معاشروں میں موجود جماعتوں اور طبقوں کے حوالے سے امام عبیداللہ سندھیؒ کا تجزیہ✔️ پاکستان میں موجود قدیم و جدید دونوں نظامِ تعلیم میں نظامِ ظلم کے کَل پُرزے تیار کیے جاتے ہیں

Ep 281امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے متعین کردہ اصولِ تفسیر (علومِ پنجگانہ) کی روشنی میں فہمِ قرآن ضرورت و اہمیت |2023 -12-22
امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے متعین کردہ اصولِ تفسیر (علومِ پنجگانہ) کی روشنی میں*فہمِ قرآن ضرورت و اہمیت**خُطبۂ جمعۃ المبارک:*حضرت مولانا مفتی محمد مختار حسن*بتاریخ:* 8؍ جمادی الثانی 1445ھ / 22؍ دسمبر 2023ء*بمقام:* ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ)، لاہور

Ep 280فاسِد نظام سے نجات کے لیے دینی شُعور و بصیرت اور رَبّانی تربیّت کی ضرورت و اہمیت |2023 -12-22
فاسِد نظام سے نجات کے لیےدینی شُعور و بصیرت اور رَبّانی تربیّت کی ضرورت و اہمیتخُطبۂ جمعۃ المبارک:حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 8؍ جمادی الثانی 1445ھ / 22؍ دسمبر 2023ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ)، لاہورخطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی و حدیثِ نبوی ﷺ:آیاتِ قرآنی:1۔ اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْؕ مَا هُمْ مِّنْكُمْ وَ لَا مِنْهُمْۙ وَ یَحْلِفُوْنَ عَلَى الْكَذِبِ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ۔ (58 – المجادلہ: 14)ترجمہ: "کیا تُو نے نہ دیکھا اُن لوگوں کو جو دوست ہوئے ہیں اس قوم کے جن پر غصہ ہوا ہے اللہ، نہ وہ تم میں ہیں اور نہ اُن میں ہیں، اور قسمیں کھاتے ہیں جھوٹ بات پر اور ان کو خبر ہے“۔2۔ اِسْتَحْوَذَ عَلَیْهِمُ الشَّیْطٰنُ فَاَنْسٰىهُمْ ذِكْرَ اللّٰهِؕ اُولٰٓئِكَ حِزْبُ الشَّیْطٰنِؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ الشَّیْطٰنِ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ، اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗۤ اُولٰٓئِكَ فِی الْاَذَلِّیْنَ، كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِیْ۔ (58 – المجادلہ: 19 تا 21)ترجمہ: ”قابو کرلیا ہے ان پر شیطان نے، پھر بُھلا دی ان کو اللہ کی یاد، وہ لوگ ہیں گروہ شیطان کا، سنتا ہے! جو گروہ ہے شیطان کا وہی خراب ہوتے ہیں۔ جو لوگ خلاف کرتے ہیں اللہ کا، اور اس کے رسول کا، وہ لوگ ہیں سب سے بےقدر لوگوں میں۔ اللہ لکھ چکا کہ میں غالب ہوں گا اور میرے رسول“۔حدیثِ نبوی ﷺ:”مَا مِنْ ثَلَاثَةٍ فِي قَرْيَةٍ وَلَا بَدْوٍ لَا تُقَامُ فِيهِمُ الصَّلَاةُ إِلَّا قَدِ اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَانُ، فَعَلَيْكَ بِالْجَمَاعَةِ، فَإِنَّمَا يَأْكُلُ الذِّئْبُ الْقَاصِيَةَ“۔ (سنن ابو داود، حدیث: 547)ترجمہ: ”تین آدمی کسی بستی یا جنگل میں ہوں اور وہ جماعت سے نماز نہ پڑھیں تو ان پر شیطان مسلط ہو جاتا ہے، لہٰذا تم جماعت کو لازم پکڑو، اس لیے کہ بھیڑیا اسی بکری کو کھاتا ہے جو ریوڑ سے الگ ہوتی ہے“۔۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇✔️ دینِ اسلام کی تعلیمات میں حکمت و بصیرت کی ضرورت و اہمیت✔️ علومِ نبوت اور حکمت کا آپسی گہرا اور مربوط تعلق اور رشتہ✔️ دورِ زوال میں دینی شعور اور حکمت سے بے اعتنائی کے اثرات و نتائج✔️ کتاب اللہ کے ساتھ ساتھ رجال اللہ کی صحبت کی ناگزیریت✔️ فرعونی سیاست کا سچ اور جھوٹ کے حوالے سے خود ساختہ معیار✔️ سرمایہ دارانہ نظام کا پروسیجر اور اس کی خرابی کی نوعیت و نتائج✔️ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عبداللہ بن اُبیٔ رئیس المنافقین کا رویہ✔️ سماج دشمن فاسد اور ظالم طبقے کی دوستی کے بارے قرآن حکیم کی رہنمائی✔️ اہلِ یہود کے مذہبی طبقے پر لعنت کا سبب؛ ان پر سرمایہ داروں کے اثرات تھے✔️ مسلمانوں میں جماعت قائم کرنے کی قرآنی لازمی تاکید اور اس کی ضرورت✔️ انگریزوں کا برعظیم پر حکومت کرنے کا طریقۂ کار اور اس کے نتائج✔️ آپریشن سائیکلون کو ’’جہاد‘‘ کا نام دینے کی اندرونی تاریخ اور پسِ منظر✔️ قرآن حکیم اور احادیثِ مبارکہ پر عمل کے لیے فقیہانہ شعور و بصیرت کی ضرورت✔️ تاریخ میں خوارج کا دین کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا رویہ✔️ اہلِ غزہ کی تکلیف دہ صورتِ حال اور اسرائیلی امریکی گٹھ جوڑ✔️ دینی تربیت کے ذریعے نوجوان نسل کو سامراجی استعمال سے بچانے کی حکمتِ عملی

Ep 278معاشرتی ابتری اور اعلیٰ تعلیم کے ادارے |2023 -11-28
*معاشرتی ابتری اور اعلیٰ تعلیم کے ادارے**خطاب:*حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری*بتاریخ:* 28؍ نومبر 2023ء*بر موقع:* قومی کانفرنس*بمقام:* ادارۂ تعلیم و تحقیق، پنجاب یونیورسٹی، لاہورپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

Ep 279قرآن حکیم کے نظامِ حکمت کی جامعیت اور اس کے اثرات و نتائج |2023 -12-15
قرآن حکیم کے نظامِ حکمت کی جامعیتاور اس کے اثرات و نتائجخُطبۂ جمعۃ المبارک:حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: یکم؍ جمادی الثانی 1445ھ / 15؍ دسمبر 2023ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ)، لاہورخطبے کی رہنما آیتِ قرآنی و حدیثِ نبوی ﷺ:آیتِ قرآنی:یُّؤْتِی الْحِكْمَةَ مَنْ یَّشَآءُۚ وَ مَنْ یُّؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ اُوْتِیَ خَیْرًا كَثِیْرًاؕ، وَ مَا یَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ۔ (2 – البقرۃ: 269)ترجمہ: ”عنایت کرتا ہے سمجھ جس کسی کو چاہے، اور جس کو سمجھ ملی اس کو بڑی خوبی ملی۔ اور نصیحت وہی قبول کرتے ہیں جو عقل والے ہیں“۔حدیثِ نبوی ﷺ:خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ۔ (صحیح بخاری، حدیث: 5027)ترجمہ: ”تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن مجید پڑھے اور پڑھائے“۔۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇✔️ قرآن حکیم کی حقانیت سے مسلمانوں کا رشتہ اور تاریخی معمول✔️ قرآن حکیم کے احکام و شرائع کے ساتھ ساتھ حکمتِ قرآن کو جاننے کی اہمیت✔️ نظریہ و فکر کے منہج کو ایک مربوط علمی نظام کی بنیاد پر سمجھنے کی اہمیت✔️ قرآنی حکمت کی تعریف و حکمت اور عقل کا باہمی تعلق اور اس کے لوازمات✔️ احکامِ شرع اور عبادات کے حکم میں حکمت کے لحاظ کا اہتمام✔️ اقترابات کے ساتھ ساتھ ارتفاقات میں بھی حکمت کا اہتمام اور لحاظ✔️ قومی اور بین الاقوامی نظام میں مصالح اور مفاسد پر غور و فکر کی اہمیت✔️ امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے فکر کی نادر خصوصیت✔️ علم المصالح و المفاسدکے سلسلے میں انبیاؑ اور حکما کی خدمات✔️ علم المصالح و المفاسدکے حوالے سے ماہرین کی رائے کی اہمیت✔️ حکمت سے عاری مذہبی طبقوں کے فیصلوں کے نتائج✔️ تحریکاتِ آزادی کے خلاف کردار ادا کرنے والے مذہبی اور سیاسی طبقے✔️ امسال ادارہ رحیمیہ علومِ قرانیہ لاہور میں دورۂ تفسیرِ قرآن کا اہتمام

Ep 277جہاد و قتال کا دینی تصور مقاصد و اہداف اور نجی جنگ جوئی کی حیثیت |2023 -12-08
جہاد و قتال کا دینی تصورمقاصد و اہداف اور نجی جنگ جوئی کی حیثیتخُطبۂ جمعۃ المبارک:حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 23؍ جمادی الاولیٰ 1445ھ / 8؍ دسمبر 2023ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ)، لاہورخطبے کی رہنما آیتِ قرآنی و حدیثِ نبوی ﷺ:آیتِ قرآنی:وَ اَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ وَّ مِنْ رِّبَاطِ الْخَیْلِ تُرْهِبُوْنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَ عَدُوَّكُمْ۔ (8 – الانفال: 60)ترجمہ: ”اور تیار کرو ان کی لڑائی کے واسطے جو کچھ جمع کرسکو قوت سے اور پلے ہوئے گھوڑوں سے، کہ اس سے دھاک پڑے اللہ کے دشمنوں پر اور تمہارے دشمنوں پر“۔حدیثِ نبوی ﷺ:"الْجِهَادُ مَاضٍ مُنْذُ بَعَثَنِيَ اللّٰهُ إِلَى أَنْ يُقَاتِلَ آخِرُ أُمَّتِيْ الدَّجَّالَ" الحدیث۔ (السنن لابی داود، حدیث: 2532)ترجمہ: " جس دن سے اللہ نے مجھے نبی بنا کر بھیجا ہے تب سے جہاد جاری رہے گا، یہاں تک کہ میری امت کا آخری شخص دجال سے لڑے گا"۔۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇1:12 دینِ اسلام کی تعلیمات و احکامات اور ہدایات‘ اجتماعی اور مربوط ہیں3:51 دینِ اسلام کے کامل اور جامع نظریۂ فکروعمل کو نہ اپنانے کے نتائج اورنقصانات5:06 مسخ شدہ مذہبیت کے نمائندہ طبقوں کی قرآن حکیم میں نشان دہی6:08 اُمتِ وسط (معتدل اُمت) مسلمان جماعت کا تعارف اور اس کی ذمہ داریاں9:50 جہاد کے حکم کی حقیقت، اس کا فلسفہ اور اس کے اجتماعی مقاصد12:08 ریاست کے اجتماعی فیصلوں کا حق‘ نظمِ سیاست چلانے والی اتھارٹی کو ہوتا ہے14:24 پرائیویٹ قتال کی ممانعت کی حکمت و فلسفہ اور نتائج و اثرات17:01 دشمن کی تعیین، قتال کی تیاری اور سامانِ جنگ جمع کرنے کے اُصول و ضابطے32:44 انگریزوں سے تمام جنگیں ریاست کے اجتماعی حکم کے تحت تھیں42:10 حضرت شیخ الہندؒ کی تحریکِ ریشمی رومال غالب پاشا اور خلافتِ عثمانیہ سے روابط48:55 جدید جمہوری اور قومی دور میں ’’مِنْ قُوَّۃٍ‘‘ کے تناظر میں نیشنل اِزم کی طاقت59:56 اسرائیلی ریاست کے قیام کا پسِ منظر اور اس کے توسیع پسندانہ عزائم1:05:48 امریکا اور پاکستان کے بعض علماء جنگی بندی کے خلاف ایک پیج پر1:07:42 مذہبی طبقے کا حضرت شیخ الہندؒ کے خلاف اور مذہبی جنونیت کے فروغ میں کردار

Ep 276تذکیراتِ ثلاثہ کے تناظر میں پاکستان کی انتخابی سیاست کا اجمالی جائزہ |2023 -12-01
تذکیراتِ ثلاثہ کے تناظر میںپاکستان کی انتخابی سیاست کا اجمالی جائزہخُطبۂ جمعۃ المبارک:حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 16؍ جُمادی الاولیٰ 1445ھ / یکم؍ دسمبر 2023ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورخطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی و حدیثِ نبوی ﷺ:آیاتِ قرآنی1۔ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَىۙ، الَّذِیْ خَلَقَ فَسَوّٰى۪ۙ، وَ الَّذِیْ قَدَّرَ فَهَدٰى۪ۙ۔ (87 – الاعلیٰ: 1 تا 3)ترجمہ: "پاکی بیان کر اپنے رب کے نام کی جو سب سے اوپر (ہے)، جس نے بنایا پھر ٹھیک کیا، اور جس نے ٹھہرا دیا، پھر راہ بتلائی“۔2۔ وَذَكِّرْهُمْ بِأَيَّامِ اللّٰهِ۔ (14 – ابراہیم: 5)ترجمہ: "اور یاد دلا ان کو دن اللہ کے"3۔ وَ هَدَیْنٰهُ النَّجْدَیْنِۚ، فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ٘ۖ، وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْعَقَبَةُؕ۔ (90 – البلد: 10 تا 12)ترجمہ: "اور دکھلادِیں اس کو دو گھاٹیاں، سو نہ دھمک سکا گھاٹی پر، اور تو کیا سمجھا کیا ہے وہ گھاٹی"۔حدیثِ نبوی ﷺ :"أَكْثِرُوا ذِكْرَ هَاذِمِ اللَّذَّاتِ" يعني : الْمَوْتَ۔ (الجامع للترمذی، حدیث: 2307)(لذتوں کو توڑنے والی (یعنی موت) کو کثرت سے یاد کیا کرو)۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇 آغاز 0:001:44 انسان میں بھلے بُرے کی تمیز اور انتخاب کی صلاحیت و استعداد5:40 عزم و ارادوں کے فیصلوں پر عمل درآمد کے لیے قوائے جسمانیہ کی اہمیت15:03 مستقبل کے فیصلوں کے لیے ’’تذکیراتِ ثلاثہ‘‘ کو پیشِ نظر رکھنے کی ضرورت18:15 قرآن حکیم میں ماضی کے واقعات اور تاریخ سے سیکھنے کی رہنمائی39:13 رشتے کے انتخاب میں رسول اللہ ﷺ کا ایک صحابیہؓ کو مشورہ42:34 ریاست اور سیاست کا بنیادی اُصول؛ جمہور کا مفاد اور رائے49:38 1935ء سے آج تک اس خطے میں ہونے والے الیکشنز کی حقیقت54:08 1937ء اور 1946ء کے الیکشن میں ووٹر کے ووٹ ڈالنے کی شرائط اور اہلیت58:50 انگزیزوں کے دور میں حلقہ بندیوں کا طریقۂ کار اور طے شدہ مقاصد1:02:39 1973ء کے آئین کا تقدس اور با اختیار طبقوں کی طرف سے اس کی پامالی1:04:28 پاکستان کی تاریخ میں عدلیہ کے سیاسی کردار پر ایک طائرانہ نظر1:05:46 الیکشن کے فوائد، عوامی مفادات یا الیکشن مافیاز کے مفادات کا تحفظ1:09:22 ہمارے ملک کی جمہوریت اور شاہی ملکوں کی بادشاہت دونوں ایک جیسی ہیں

Ep 275ملتِ ابراہیمی کے اجتماعی شعور کا تاریخی تسلسل اور سیاسی بے شعوری کے نقصانات |2023 -11-24
ملتِ ابراہیمی کے اجتماعی شعور کا تاریخی تسلسل اورسیاسی بے شعوری کے نقصاناتخُطبۂ جمعۃ المبارک:حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 9؍ جُمادی الاولیٰ 1445ھ / 24؍ نومبر 2023ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ، پشاور کیمپسخطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی و حدیثِ نبوی ﷺ:آیاتِ قرآنی:1۔ "تَحْسَبُهُمْ جَمِیْعًا وَّ قُلُوْبُهُمْ شَتّٰىؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْقِلُوْنَ"۔ (59 – الحشر: 14)ترجمہ: ”تُو سمجھے وہ اکٹھے ہیں، اور ان کے دل جدا جدا ہو رہے ہیں، یہ اس لیے کہ وہ لوگ عقل نہیں رکھتے“۔2۔ "اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ"۔ (16 – النحل: 12)ترجمہ: "اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کو جو سمجھ رکھتے ہیں"۔حدیثِ نبوی ﷺ :"أوّلُ َما َخلَقَ اللّٰهُ تعالٰى العَقْلَ، وقال له: "أقبِلْ: فأقْبَلَ، و قال: "أدْبِرْ" فأدْبَرَ، فقال: "بِكَ أؤاخِذُ"۔(رواه الطّبراني في الاوسط، قال العِراقي في تخريج الاحياء، حُجّة اللّٰه البالغة)ترجمہ: "اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے عقل کو پیدا کیا، اور اس سے کہا: "سامنے آ"، تو وہ سامنے آ گئی، اور فرمایا: "پیچھے جا"، تو وہ پیچھے چلی گئی۔ اور اللّٰه تعالیٰ نے فرمایا: "تیری وجہ سے میں لوگوں کو سزا دوں گا"۔۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ ✔️ رسولِ اکرم ﷺ کے مقاصدِ بعثت میں سے ایک اہم مقصد✔️ دنیا اور آخرت کے حوالے سے مسلمان اور کافر کی سوچ میں بنیادی فرق✔️ سوچ، تکلم اور عمل کی صلاحیت سے انسان کو بہرہ ور کیا گیا ہے✔️ انسانوں میں جوہرِ انسانیت‘ عقل کا مادہ اور اس کی صلاحیت ہے✔️ دینِ اسلام کی تعلیمات کے دو اہداف: تہذیبِ نفس انسانی اور سیاستِ ملیہ✔️ دنیا میں تین ملتیں ہیں: 1۔ ملت نجامین، 2۔ ملت طبعیین اور 3۔ ملت ابراہیمیہ حنیفیہ✔️ ملتِ ابراہیمیہ حنیفیہ میں تحریفات کرنے والے طبقات اور تحریف کی نوعیت✔️ میثاقِ مدینہ کی روشنی میں مسلمانوں کو سیاستِ ملیہ بارے رہنمائی✔️ قبلۂ اوّل کی بحث میں ایک نادر نکتہ اور بیت المقدس کو قبلہ بنانے کی وجہ✔️ مکہ اور مدینہ میں موجود سیاسی طاقتیں اور ان سے نمٹنے کی نبوی حکمتِ عملی✔️ یہود کے قبائل بنونضیر اور بنوقریضہ کے خلاف اقدامات دراصل اُن کی سیاسی سزا کے نتیجے میں تھے ✔️ سیاسی طاقت کا ارتقا اور ملّی یکجہتی کی نبوی حکمتِ عملی✔️ مسلمان ملتِ حنیفیہ کا آج کا المیہ اور مسخ شدہ ملتِ ابراہیمیہ کی اتباع✔️ مسلمانوں میں نااتفاقی اور خانہ جنگیوں کے تباہ کن اثرات و نتائج✔️ سیاسی بے شعوری اور جہالت کے اجتماعی قومی اور ملّی نقصانات✔️ مسلمانوں کو خود فریبی سے نکلنے کی ضرورت اور اس کا درست لائحۂ عملپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

Ep 274نا اہل اور مفاد پرست قیادت کے افعال و کرداراور ان کے سماجی فیصلوں کی تباہ کاریاں |2023 -11-17
*نا اہل اور مفاد پرست قیادت کے افعال و کردار**اور ان کے سماجی فیصلوں کی تباہ کاریاں**خُطبۂ جمعۃ المبارک:*حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری*بتاریخ:* 2؍ جُمادی الاولیٰ 1445ھ / 17؍ نومبر 2023ء*بمقام:* ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ)، لاہور*خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی و احادیثِ نبوی ﷺ:**آیتِ قرآنی:*اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرٌ وَّ لِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ۠۔ (13 – الرعد: 7)ترجمہ: ” تیرا کام تو ڈر سُنا دینا ہے، اور ہر قوم کے لیے ہوا ہے راہ بتانے والا“۔*احادیثِ نبوی ﷺ:**1۔* ”إِذَا وُسِّدَ الْأَمْرُ إِلىٰ غَيْرِ أَهْلِهِ فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ“۔ (الجامع الصّحیح للبُخاري، حدیث: 59)ترجمہ: ”جب حکومت کے اُمور نالائق لوگوں کو سونپ دئیے جائیں تو قیامت کا انتظار کر“۔*2۔* "ائْتَمِرُوا بِالْمَعْرُوفِ، وَ تَنَاهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ، حَتّٰى إِذَا رَأَيْتَ شُحًّا مُطَاعًا، وَ هَوًى مُتَّبَعًا، وَ دُنْيًا مُؤْثَرَةً، وَ إِعْجَابَ كُلِّ ذِي رَأْيٍ بِرَأْيِهِ فَعَلَيْكَ بِخَاصَّةِ نَفْسِكَ، وَ دَعِ الْعَوَامَّ"۔ ــ او کمال قال علیه الصّلوٰۃ و السّلام ــ (الجامع للتّرمذي، حدیث: 3058)ترجمہ: ”تم اچھی باتوں کا حکم کرتے رہو، اور بُری باتوں سے روکتے رہو، یہاں تک کہ جب تم دیکھو کہ لوگ بخالت (کنجوسی) کے راستے پر چل پڑے ہیں، خواہشاتِ نفس کے پیرو ہو گئے ہیں، دنیا کو آخرت پر ترجیح دی جا رہی ہے اور ہر عقل و رائے والا بس اپنی ہی عقل و رائے پر مست اور مگن ہے، تو تم خود اپنی ذمہ داریوں پر خاص طور پر توجہ دو، ان کو ادا کرو اور (اپنے حال میں بد مست) عوام (کے حوالے سے مایوسی اور اضطراب) کو رہنے دو“۔*۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔* 👇✔️ دینِ اسلام کی سچی تعلیمات کی اثر آفرینی اور نتائج و اثرات✔️ ہر قوم کے لیے ہادی اور سچے رہنما کی ضرورت اور امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کا ارشاد✔️ مُنذِر کی تعریف اور مفہوم امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے نقطۂ نظر سے✔️ امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی نظر میں نبوت کی حقیقت و ماہیت✔️ لیڈرشپ کی غلطیوں کی سزا پوری قوم کو بھگتنا پڑتی ہے✔️ قومی ترقی و تنزل میں لیڈرشپ کے فیصلوں کا کردار اور اہمیت✔️ اجتماع اور سوسائٹی میں تمام خرابیوں کی جڑ دو بنیادی شرّ✔️ قوموں پر شریر اور بخیل لوگوں کے تسلط کے بھیانک نتائج✔️ حضرت عمرؓ بن خطاب کا ڈسپلن اور حضرت خالدؓ بن ولید کی معزولی✔️ لیڈرشپ کی سب سے اہم ذمہ داری انسانیتِ عامہ کو قتل سے بچانا ہے✔️ نا اہل قیادت کے فیصلوں کے نتیجے میں قوم پر اجتماعی قیامت ٹوٹ جاتی ہے✔️ معروفات اور منکرات کی وضاحت اور ان کے حوالے سے اجتماعی تقاضے✔️ حالات کی ہمہ گیر خرابی کے عہد میں مایوسی کے بجائے نبوی ہدایت✔️ برعظیم ہند میں مسلمانوں کی نام نہاد قیادت کی غلطیوں کے خوف ناک نتائج✔️ او آئی سی کی منافقت اورمسلم ممالک کے حکمرانوں کی غیرت کا جنازہپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

Ep 273مسئلۂ فلسطین صہیونیت کا انسانیت دشمن کردار اور تاریخی حقائق|2023-11-10
*مسئلۂ فلسطین**صہیونیت کا انسانیت دشمن کردار اور تاریخی حقائق**خُطبۂ جمعۃ المبارک:*حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری*بتاریخ:* 25؍ ربیع الثانی 1445ھ / 10؍ نومبر 2023ء*بمقام:* ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ)، لاہور*خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی و حدیثِ نبوی ﷺ:**آیتِ قرآنی:*وَ قَضَیْنَاۤ اِلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ فِی الْكِتٰبِ لَتُفْسِدُنَّ فِی الْاَرْضِ مَرَّتَیْنِ وَ لَتَعْلُنَّ عُلُوًّا كَبِیْرًا۔ (17 - بنی اسرائیل: 4)ترجمہ: ”اور صاف کہہ سنایا ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب میں کہ: تم خرابی کرو گے مُلک میں دو بار، اور سرکشی کرو گے بڑی سرکشی“۔*حدیثِ نبوی ﷺ:*”لَتَتْبَعُنَّ سَنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ شِبْرًا شِبْرًا“ الحدیث۔ (الجامع الصّحیح للبخاری، حدیث: 7320)ترجمہ: ”تم اپنے سے پہلی امتوں کی ایک ایک بالشت میں اتباع کرو گے“۔*۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔* 👇 آغاز 0:001:12 قرآن حکیم کلی، اُصولی اور جامع رہنمائی کی ابدی کتاب ہے5:50 مسئلۂ فلسطین پرعالَمِ اسلام کا اضطراب اور مسئلے کی حقیقی نوعیت9:34 مسئلۂ فلسطین سے متعلق ’’سورت بنی اسرائیل‘‘ کی آیات میں اُصولی رہنمائی13:37 قرآن حکیم کا بنیادی قانون اسرائیل کا زمین میں دو مرتبہ فساد مچانا17:35 یہود کا عہد و پیمان کا اقرار و گواہی کے باوجود عہد شکنی اور اللہ کی طرف سے سخت سزا22:21 فساد مچانے کی وجہ اور اس کا تاریخی پسِ منظر26:23 سیاسی گروہ بندی اور لیڈرشپ کی طاقت کے حصول کے لیے قتل و غارت گری29:56 درست سیاسی نظام میں حقِ حکمرانی کے دو بنیادی انسانی اُصول33:58 عرب قبائل اور فلسطینی سرداروں کی خلافتِ عثمانیہ سے غداری اور جرائم کا ارتکاب37:15 شریفِ مکہ کو برطانوی سامراج نے خلافتِ عثمانیہ کے خلاف استعمال کیا39:00 مفتیٔ اعظم مکہ و مفتیٔ اعظم فلسطین کا خلافتِ عثمانیہ کے خلاف ناحق فتویٰ41:57 قومی آزادی کی تحریکوں کے خلاف عرب کے فرقہ پرستوں کا کردار43:34 یہودیت کے صہیونی طبقے کا انسانیت دشمن کردار44:57 سات اکتوبر 2023ء کو حماس کے اسرائیل پر حملے کی قرار واقعی حیثیت47:13 مذہبِ یہودیت پر ذِلت و رُسوائی اور مسکنت کا عذاب ایک قرآنی پیشین گوئی48:46 فلسطین میں لڑائی اسلام اور یہودیت کی مذہبی لڑائی نہیں، بلکہ یہودیت کا صہیونی کردار ہے50:53 فلسطینی اتھارٹی کے مقابلے میں غزہ میں عسکریت پسندوں کا غلبہ ایک سوالیہ نشان ہے53:28 ہندوستان میں انگریز کا قبضہ کرانے والی غدار مسلمان نام نہاد لیڈر شپ56:13 مسلمان ممالک میں مسئلۂ فلسطین کے نام پر چندے کا مکروہ دھندہ59:02 مسئلۂ فلسطین کے حل کے لیے مطلوبہ ویژن! اور حالات واقعات کے درست ادراک کی ضرورت و اہمیتپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/