PLAY PODCASTS
خطبات

خطبات

538 episodes — Page 5 of 11

Ep 335قومی وطن سے تعلق و محبت اور اس کی آزادی وترقی کے ایمانی تقاضے| 2024-08-23

قوم کی آزادی کے لئے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شعوری و تنظیمی جدوجہد کے تناظر میں*قومی وطن سے تعلق و محبت اور اس کی آزادی وترقی کے ایمانی تقاضے**خُطبۂ جمعۃ المبارک:*حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری*بتاریخ:* 17؍ صفر المظفر 1446ھ / 23؍ اگست 2024ء*بمقام:* ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور *خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی:*‌”وَنُرِيدُ ‌أَنْ ‌نَمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الْأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ“۔ (28 – القصص: 5)*ترجمہ:* ”اور ہم چاہتے تھے کہ ان پر احسان کریں جو ملک میں کمزور کیے گئے تھے اور انہیں سردار بنا دیں اور انہیں وارث کریں“۔*۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔* 👇✔️ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور آں حضرت ﷺ کی سیرت میں آج کے حالات میں رہنمائی✔️ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی جدوجہد تاریخ انسانی کے لیے اہم سنگِ میل✔️ آزادی کے نام پر سامراج کا انسانیت کی آنکھوں میں دُھول جھونکنے کا قبیح عمل✔️ موسوی سیرت اور جدوجہد کے طریقۂ کار کی اہمیت اور عصری ناگزیریت✔️ انسانی سماجی ارتقاء میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی جدوجہد کا مقام✔️ خطبے کی مرکزی ’’سورت قصص‘‘ کی آیت کا گزشتہ خطبے کی مرکزی ’’سورت شعراء‘‘ کی آیت میں ربط✔️ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمد ﷺ کی جدوجہد میں مماثلت✔️ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دو بنیادی خصوصیات؛ حقائق کی بنیاد پر علم اور حکمت کی اَساس پر حکم✔️ انسانی اجتماعیت کے لیے ڈیٹا کی بنیاد پر درست تجزیے کی اہمیت اور ناگزیریت✔️ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تحریکِ آزادی میں آباؤ اجداد کے وطن اورقومیت کی اہمیت✔️ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی جدوجہد کے تناظر میں بنی اسرائیل سے خدائی وعدہ✔️ مؤثر سیاسی کردار کے لیے نسلوں کا اپنی دھرتی اور وطن ، قومیت سے تعلق کی اہمیت✔️ آں حضرت ﷺ کا اپنے وطن مکہ کے ساتھ محبت کا والہانہ اظہار✔️ انسانیت کو اپنے گھروں سے بے دخل کرنے کو قرآن نے جرم قرار دیا ہے✔️ وطن سے تعلق اور محبت کا اظہار‘ ایمانی جذبات کے منافی نہیں ہے✔️ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی جدوجہد کی حکمتِ عملی کے دو اہم گوشے✔️ استعمار کے دورِ غلامی میں مقامی قوموں کو اپنے حق میں استعمال کرنے کی دو جہتی حکمتِ عملی✔️ 1857ء میں اس خطے (پاکستان) میں استعماری ظلم و بربریت کے انسانیت سوز نمونے✔️ بنی اسرائیل کے تین گروہوں کے کردار و رویوں کا تحلیل و تجزیہ اور قرآنی موعظت✔️ قوم کی سیاسی تنظیم کے لیے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اپنی قوم کے بارہ قبیلوں کے لیے اقدامات✔️ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اپنے وطن میں دفن ہونے کی خواہش‘ وطن سے محبت کی علامت!✔️ آں حضرت ﷺ کے خطبہ تبوک میں بیان شدہ سیاسی و تنظیمی اُمور کی اہمیت✔️ ملک پاکستان سے محبت اور اس میں انسانی آزادیوں اور حقوق کے لیے جدوجہد کی ضرورت و اہمیتبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute*منجانب: رحیمیہ میڈیا*

Aug 26, 20241h 24m

Ep 334حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اُلوہی رہنمائی کے تناظر میں پُراَمن منظّم اجتماعی جِدّوجُہد کے لائحۂ عمل کی رہنمائی| 2024-08-16

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اُلوہی رہنمائی کے تناظر میںپُراَمن منظّم اجتماعی جِدّوجُہد کے لائحۂ عمل کی رہنمائیخُطبۂ جمعۃ المبارک:حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 10؍ صفر المظفر 1446ھ / 16؍ اگست 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی وحدیثِ نبوی ﷺآیاتِ قرآنی”وَإِذْ نَادَى رَبُّكَ مُوسَى ‌أَنِ ‌ائْتِ الْقَوْمَ الظَّالِمِينَo قَوْمَ فِرْعَوْنَ أَلَا يَتَّقُونَo قَالَ رَبِّ إِنِّي أَخَافُ أَنْ يُكَذِّبُونِo وَيَضِيقُ صَدْرِي وَلَا يَنْطَلِقُ لِسَانِي فَأَرْسِلْ إِلَى هَارُونَo وَلَهُمْ عَلَيَّ ذَنْبٌ فَأَخَافُ أَنْ يَقْتُلُونِo قَالَ کَلَّا“۔ (26 – الشّعراء: 10 تا 14)ترجمہ: ”اور جب تیرے رب نے موسیٰ کو پکارا کہ اس ظالم قوم کے پاس جا، فرعون کی قوم کے پاس، کیا وہ ڈرتے نہیں؟ عرض کی: اے میرے رب! میں ڈرتا ہوں کہ مجھے جُھٹلا دیں، اور میرا سینہ تنگ ہو جائے، اور میری زبان نہ چلے، پس ہارون کو پیغام دے، اور میرے ذمہ ان کا ایک گناہ بھی ہے، سو میں ڈرتا ہوں کہ مجھے مار نہ ڈالیں، فرمایا ہر گز نہیں“۔حدیثِ نبوی ﷺ :”هٰذَا كَانَ ‌فِرْعَوْنَ ‌هَذِهِ ‌الْأُمَّةِ“۔ (مسنَد أحمد، حدیث: 3824)ترجمہ: (غزوہ بدر میں جب ابوجہل مارا گیا اور آپ ﷺ کو اس کی خبر دی گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا:)”یہ (ابوجہل) اس امت کا فرعون تھا“۔۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇✔️ سوسائٹی کے اصلاحِ احوال کے لیے قرآنی قصص سے رہنمائی کے بنیادی اُصول✔️ خطبے کی مرکزی آیتِ قرآنی کا پس منظر اور خلاصہ مضامین کا مختصر تذکرہ✔️ سورت شعراء کے حروف مقطعات کا مطلب و مفہوم اور اَسرار و رموز✔️ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعے میں سیکھنے کے اہم ترین اسباق✔️ حقیقی طور پر قوم بننے کے بنیادی، لازمی، ضروری اور ناگزیر اقدامات✔️ فرعون کے ظلم کا طریقۂ کار اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی جدوجہدِ آزادی✔️ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اللہ تعالیٰ سے شرح صدر اور فصاحتِ لِسانی کی دعا✔️ شرح صدر اور ضیق الصدر کی تعریفات کے حوالے سے ایک سابقہ خطاب کا حوالہ✔️ شرح صدر اور نورِالٰہی کے حوالے سے حضرت مولانا عبید اللہ سندھی کی تشریح✔️ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اللہ تعالیٰ سے حضرت ہارون علیہ السلام کو ساتھ لے جانے کی درخواست✔️ نظریے کی دعوت اور ابلاغ کے لیے صلاحیت اظہار ما فی الضمیر کی اہمیت✔️ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہما السلام کی فرعون کی دربار میں مدلل گفتگو✔️ جماعتی نظم و ضبط کے ساتھ نظریے پر یقین اور عصری تقاضوں کی اہمیت✔️ برصغیر میں مخلص قومی سیاسی پارٹیوں و شخصیات اور مفاد پرست طبقوں کی جدوجہد میں فرق✔️ برعظیم میں امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی نظریاتی ابلاغ اور جماعت سازی کی عظیم جدوجہد✔️ ولی اللّٰہی فکر کے ابلاغ میں ولی اللّٰہی خاندان اور مابعد کے علمائے حق کا حکمت افروز کردار✔️ عصرِ حاضر میں جدوجہد کا لائحۂ عمل اور اس میں شعور و حکمت اور عصری تقاضوں کے لحاظ کی اہمیتبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

Aug 19, 20241h 30m

Ep 333انسانی تاریخ سے عبرت کے قرآنی اُصول کی روشنی میں ماہِ اگست کے اہم واقعات میں سامراجی قوتوں کے سفّاکانہ کردار کے شعوری تجزیہ کی دعوت| 2024-08-09

انسانی تاریخ سے عبرت کے قرآنی اُصول کی روشنی میں ماہِ اگست کے اہم واقعات میںسامراجی قوتوں کے سفّاکانہ کردار کے شعوری تجزیہ کی دعوتخُطبۂ جمعۃ المبارک:حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 3؍ صفر المظفر 1446ھ / 9؍ اگست 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی:‌أَفَلَمْ ‌يَسِيرُوا ‌فِي ‌الْأَرْضِ فَتَكُونَ لَهُمْ قُلُوبٌ يَعْقِلُونَ بِهَا أَوْ آذَانٌ يَسْمَعُونَ بِهَا فَإِنَّهَا لَا تَعْمَى الْأَبْصَارُ وَلَكِنْ تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِo (22 – الحج: 46)ترجمہ: ”کیا انھوں نے ملک میں سیر نہیں کی پھر ان کے ایسے دل ہو جاتے جن سے سمجھتے یا ایسے کان ہو جاتے جن سے سنتے پس تحقیق بات یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ دل جو سینوں میں ہیں اندھے ہو جاتے ہیں“۔۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇✔️ انسانی معاشروں میں گرد و پیش کے حالات و واقعات کے شعوری تجزیے کے قرآنی اُصول✔️ خطبے کی مرکزی آیت کا سیاق و سباق اور مختصر مگر جامع تفسیری خلاصہ✔️ دینِ اسلام میں جنگ اور جہاد کی اجازت کا سبب اور اس کے مقاصدوتقاضے✔️ دنیا میں جہاد اور لڑائی کے ذریعے امن و امان قائم رکھنے کی قرآنی حکمت✔️ گزشتہ اقوام کی تاریخ سے واقفیت اور اس سے عبرت حاصل کرنے کا اصول✔️ شعوری مشاہدہ یعنی دل کی آنکھوں سے دیکھنے اور اس کے ذریعے عبرت حاصل کرنے کا اُصول✔️ گردو پیش کے واقعات کو دل کے کانوں سے سننے اور اس سے عبرت حاصل کرنے کا اُصول✔️ شیطانی وساوس اور خیالات سے پیدا ہونے والی تین خطر ناک انسانی حالتیں✔️ تین حالتیں: ظلمت (دل کا اندھا پن)، قساوت (دل کی سختی)، غفلت (گردوپیش سے بے خبری)✔️ 6/9 ؍ اگست 1945ء کو جاپان پر ایٹمی حملے میں عبرت اور سیکھنے کے مواقع✔️ اگست کے مہینے میں سامراجی قوتوں کے انسانی تاریخ کے بھیانک عبرت ناک فیصلے✔️ ایٹم بنانے کے لیے یورینیم اِکٹھا کرنے کے سامراجی معاہدے اور اس کامنفی استعمال✔️ سفاک لوگوں کے دل بھیڑیوں کے دلوں کی مانند ہوتے ہیں✔️ برطانیہ اور امریکا کی رُولنگ کلاس کی سفاکانہ تاریخ اور ظالمانہ کردار✔️ بنگلہ دیش میں حکومت بدلنے کا پسِ منظر اور عالمی سامراجی قوتوں کا کردار✔️ بنگلہ دیش کے نئے صدر (یونس) کا اصل کارنامہ اور اس کا حقیقی تعارف✔️ برطانوی وزیر اعظم کا تقسیمِ ہند کو قبول کروانے کے لیے مقامی قیادت پر دباؤ✔️ اگست 1945ء میں جاپان پر ایٹمی حملے کے ذمہ دار تین یورپین ملک امریکا، برطانیہ اور کینیڈا ہیں✔️ آج مسلمان ممالک ظلمت اور غفلت کی حالت میں ہیں، اگست؛ انسانی تاریخ پر غوروفکر کا مہینہ ہے، اس سے نکلنے کی حکمت عملیمکمل خطبہ سننے کے لیے درجِ ذیل لِنکس پر کلک کیجیے 👇یوٹیوبفیس بُکبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

Aug 14, 20241h 7m

Ep 330تدبُّرِ قرآن حکیم ضرورت و اہمیت| 2024-07-28

تدبُّرِ قرآن حکیم ضرورت و اہمیتتقریب تقسیم اسناد شرکت دورہ تفسیر قرآن حکیم 2024ءخطاب: حضرت مولانا مفتی عبد المتین نعمانیبتاریخ: 21؍ محرم الحرام 1446ھ / 28؍ جولائی 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور مکمل خطاب سننے کے لیے درجِ ذیل لِنکس پر کلک کیجیے یوٹیوبفیس بکبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل ( ) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

Aug 14, 202448 min

Ep 329دورہ تفسیر اور ہماری اجتماعی ذمہ داریاں| 2024-07-28

دورہ تفسیر اور ہماری اجتماعی ذمہ داریاںتقریب تقسیم اسناد شرکت دورہ تفسیر قرآن حکیم 2024ءخطاب: حضرت ڈاکٹر مفتی سعید الرحمنبتاریخ: 21؍ محرم الحرام 1446ھ / 28؍ جولائی 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور مکمل خطبہ سننے کے لیے درجِ ذیل لِنکس پر کلک کیجیے یوٹیوبفیس بکبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل ( ) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

Aug 14, 202445 min

Ep 332سامراجی قوتوں کے سفّاکانہ کردار کے شعوری تجزیہ کی دعوت| 2024-08-09

انسانی تاریخ سے عبرت کے قرآنی اُصول کی روشنی میں ماہِ اگست کے اہم واقعات میںسامراجی قوتوں کے سفّاکانہ کردار کے شعوری تجزیہ کی دعوتخُطبۂ جمعۃ المبارک:حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 3؍ صفر المظفر 1446ھ / 9؍ اگست 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی:‌أَفَلَمْ ‌يَسِيرُوا ‌فِي ‌الْأَرْضِ فَتَكُونَ لَهُمْ قُلُوبٌ يَعْقِلُونَ بِهَا أَوْ آذَانٌ يَسْمَعُونَ بِهَا فَإِنَّهَا لَا تَعْمَى الْأَبْصَارُ وَلَكِنْ تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِo (22 – الحج: 46)ترجمہ: ”کیا انھوں نے ملک میں سیر نہیں کی پھر ان کے ایسے دل ہو جاتے جن سے سمجھتے یا ایسے کان ہو جاتے جن سے سنتے پس تحقیق بات یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ دل جو سینوں میں ہیں اندھے ہو جاتے ہیں“۔۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇✔️ انسانی معاشروں میں گرد و پیش کے حالات و واقعات کے شعوری تجزیے کے قرآنی اُصول✔️ خطبے کی مرکزی آیت کا سیاق و سباق اور مختصر مگر جامع تفسیری خلاصہ✔️ دینِ اسلام میں جنگ اور جہاد کی اجازت کا سبب اور اس کے مقاصدوتقاضے✔️ دنیا میں جہاد اور لڑائی کے ذریعے امن و امان قائم رکھنے کی قرآنی حکمت✔️ گزشتہ اقوام کی تاریخ سے واقفیت اور اس سے عبرت حاصل کرنے کا اصول✔️ شعوری مشاہدہ یعنی دل کی آنکھوں سے دیکھنے اور اس کے ذریعے عبرت حاصل کرنے کا اُصول✔️ گردو پیش کے واقعات کو دل کے کانوں سے سننے اور اس سے عبرت حاصل کرنے کا اُصول✔️ شیطانی وساوس اور خیالات سے پیدا ہونے والی تین خطر ناک انسانی حالتیں✔️ تین حالتیں: ظلمت (دل کا اندھا پن)، قساوت (دل کی سختی)، غفلت (گردوپیش سے بے خبری)✔️ 6/9 ؍ اگست 1945ء کو جاپان پر ایٹمی حملے میں عبرت اور سیکھنے کے مواقع✔️ اگست کے مہینے میں سامراجی قوتوں کے انسانی تاریخ کے بھیانک عبرت ناک فیصلے✔️ ایٹم بنانے کے لیے یورینیم اِکٹھا کرنے کے سامراجی معاہدے اور اس کامنفی استعمال✔️ سفاک لوگوں کے دل بھیڑیوں کے دلوں کی مانند ہوتے ہیں✔️ برطانیہ اور امریکا کی رُولنگ کلاس کی سفاکانہ تاریخ اور ظالمانہ کردار✔️ بنگلہ دیش میں حکومت بدلنے کا پسِ منظر اور عالمی سامراجی قوتوں کا کردار✔️ بنگلہ دیش کے نئے صدر (یونس) کا اصل کارنامہ اور اس کا حقیقی تعارف✔️ برطانوی وزیر اعظم کا تقسیمِ ہند کو قبول کروانے کے لیے مقامی قیادت پر دباؤ✔️ اگست 1945ء میں جاپان پر ایٹمی حملے کے ذمہ دار تین یورپین ملک امریکا، برطانیہ اور کینیڈا ہیں✔️ آج مسلمان ممالک ظلمت اور غفلت کی حالت میں ہیں، اگست؛ انسانی تاریخ پر غوروفکر کا مہینہ ہے، اس سے نکلنے کی حکمت عملیبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

Aug 12, 20241h 7m

Ep 331اندھے فرعونی نظام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بصیرت افروز جدوجہدِ آزادی کے تناظر میں استعماری طاقتوں کے کردار کے تجزیہ کی ضرورت| 2024-08-02

اندھے فرعونی نظام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بصیرت افروز جدوجہدِ آزادی کے تناظر میںاستعماری طاقتوں کے کردار کے تجزیہ کی ضرورتخُطبۂ جمعۃ المبارک:حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 26؍ محرم الحرام 1446ھ / 2؍ اگست 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی:”‌وَمَا ‌يَسْتَوِي الْأَعْمَى وَالْبَصِيرُ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَلَا الْمُسِيءُ قَلِيلًا مَا تَتَذَكَّرُونَ“۔ (40 – المؤمن: 58)ترجمہ: ”اور اندھا اور دیکھنے والا برابر نہیں، اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے وہ، اور بدکار، برابر نہیں۔ تم بہت ہی کم سمجھتے ہو“۔۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ درست فیصلوں کے پیچھے عقل و شعور اور سماجی بصیرت کی ضرورت و اہمیت حقائق کو سامنے رکھ کر فیصلے ہی حقیقی فیصلے کیے جاسکتے ہیں چیزوں کو سمجھنے کے لیے متضاد اشیا اپنی مخالف چیزوں کو سمجھنے میں معاون ہوتی ہیں اندھے اور بینا شخص کے دیکھنے کی صلاحیت میں فرق کی قرآنی تمثیل حضور اکرم ﷺ کی بصیرتِ نبوت، قلبی نورانیت اور سچے خواب ایمان کا تعلق انسان کے قلب اور عقل سے ہے اور اعمال کا تعلق نفس (اعضا) سے ہے عقل و قلب کے مسخ ہونے سے عمل کی صلاحیت بھی مفقود ہو جاتی ہے اس سورت میں حضرت موسیٰ کی جدوجہد اور فرعون کی سرکشی کے ذکر سے تذکیر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف سے فرعون سے بنی اسرائیل کی آزادی کا مطالبہ اور نظام میں کھلبلی قومِ فرعون کے ایک رجل مؤمن کی طرف سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی حمایت فرعون کے دور میں طبیعاتی اور فلکیاتی امور کے ماہر جادو گرہی دانش ور سمجھے جاتے تھے علم بذاتِ خود کوئی بھی غلط نہیں ہوتا بلکہ اس کا غلط یا صحیح استعمال ہی اصل ہے مصر کی تہذیب و معاشرت کی ترقی میں حضرت یوسف علیہ السلام کا ترقی پسندانہ کردار

Aug 7, 20241h 25m

Ep 328تعمیری رویوں اور معاشرے کی تشکیل میں قرآن حکیم کی تلاوت،اس کے نظامِ حکمت اور صفتِ احسان کا اَساسی کردار| 2024-07-28

تعمیری رویوں اور معاشرے کی تشکیل میں قرآن حکیم کی تلاوت،اس کےنظامِ حکمت اور صفتِ احسان کا اَساسی کردارتکمیلی نشست دورہ تفسیر قرآن حکیمخطاب: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 21؍ محرم الحرام 1446ھ / 28؍ جولائی 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور خطاب کی رہنما آیاتِ قرآنی وحدیث نبوی ص:آیاتِ قرآنی1۔ ‌هُوَ ‌الَّذِي ‌أَرْسَلَ ‌رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ۔ (9 – التوبہ: 33)ترجمہ: ”اس (اللہ تعالیٰ) نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا ہے، تاکہ اسے سب دینوں پر غالب کرے اور اگر چہ مشرک نا پسند کریں“۔2۔ ‌وَكُونُوا ‌مَعَ ‌الصَّادِقِينَ۔ (9 – التوبہ: 119)ترجمہ: "اور ہو جاؤ سچوں کے ساتھ"۔حدیثِ نبوی ﷺ:”خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ“۔ (الجامع الصحیح للبخاری، حدیث: 5027)ترجمہ: ”تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن مجید پڑھے اور پڑھائے“۔۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ تمہیدی گفتگو قرآن حکیم کے حوالے سے ہماری روز مرہ حکمتِ عملی اور ترجیحات کیا ہونی چاہئیں تلاوتِ قرآن حکیم کے حوالے سے غلط فہمی کا ازالہ اور تلاوتِ قرآن کی اہمیت تلاوتِ قرآن حکیم کے حوالے سے عقلی ترغیبات اور امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے ارشادات صوفیائے کرام کے اقوال اور مجالس کے لیے مریدین اور معتقدین کا اہتمام قرآن حکیم کی تلاوت اور تفہیم کے لیے امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کا خصوصی ارشاد روزانہ قرآن حکیم کی تلاوت کے معمول کا شخصیت سازی میں اہم ترین کردار قرآن حکیم دین کے مکمل نظامِ فکر و عمل کی دعوتِ فکر و عمل دیتا ہے قرآن حکیم عبادات سمیت انسانیت کے مسلمہ اقدار کو قائم کرنے کی دعوت دیتا ہے قرآن حکیم ابدی سچائیوں کے عملی نظام کو قائم کرنے کا ایک لائحۂ عمل دیتا ہے محض لفاظی اور گفتگو کے بجائے قرآنی تعلیمات کے مطابق اپنی تربیت پیش نظر رہے تربیت اور رویوں کی تبدیلی اور تعمیر میں صفتِ احسان کا بنیادی کردار قرآن حکیم کے چار بنیادی اُمورِ تربیت: تلاوتِ قرآن، تعلیمِ کتاب،...

Aug 4, 202452 min

Ep 327غلبہ دین کی جدوجہد کے لیے دینی فکر کی ضرورت اور عصری تقاضے| 2024-07-19

غلبہ دین کی جدوجہد کے لیےدینی فکر کی ضرورت اور عصری تقاضےخُطبۂ جمعۃ المبارک:حضرت مولانا مفتی عبدالمتین نعمانی بتاریخ: 12؍ محرم الحرام 1446ھ / 19؍ جولائی 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور مکمل خطبہ سننے کے لیے درجِ ذیل لِنکس پر کلک کیجیے یوٹیوبفیس بکبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل () آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute

Aug 4, 202446 min

Ep 326صالح نظام کے قیام میں مجتہدین (اہل علم و دانش) کا کردار| 2024-07-26

*صالح نظام کے قیام میں**مجتہدین (اہل علم و دانش) کا کردار**خُطبۂ جمعۃ المبارک:*حضرت مولانا مفتی عبد المتین نعمانی*بتاریخ:* 19؍ محرم الحرام 1446ھ / 26؍ جولائی 2024ء*بمقام:* ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورمکمل خطبہ سننے کے لیے درجِ ذیل لِنکس پر کلک کیجیے یوٹیوبفیس بکبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل () آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute*منجانب: رحیمیہ میڈیا*

Aug 4, 202443 min

Ep 325اہلِ ایمان اور نمازیوں کی صفات اور سوسائٹی میں ان کا کردار| 2024-07-26

*اہلِ ایمان اور نمازیوں کی صفات**اور سوسائٹی میں ان کا کردار**خُطبۂ جمعۃ المبارک:*حضرت مولانا مفتی مختار حسن*بتاریخ:* 19؍ محرم الحرام 1446ھ / 26؍ جولائی 2024ء*بمقام:* ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورمکمل خطبہ سننے کے لیے درجِ ذیل لِنکس پر کلک کیجیے یوٹیوبفیس بکبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل () آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute*منجانب: رحیمیہ میڈیا*

Aug 4, 202444 min

Ep 324عصرِ حاضر میں اعلیٰ تعلیمی اداروں میں اَساتذہ کی ذمہ داریاں اور فرائض (اعلیٰ تعلیم کے انسان دوست تقاضے اور موجود نظامِ تعلیم کا غلامانہ ڈھانچہ)| 2024-07-01

عصرِ حاضر میں اعلیٰ تعلیمی اداروں میںاَساتذہ کی ذمہ داریاں اور فرائض(اعلیٰ تعلیم کے انسان دوست تقاضے اور موجود نظامِ تعلیم کا غلامانہ ڈھانچہ)خِطاب:حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبرموقع سیمیناربتاریخ: یکم؍ جولائی 2024ءبمقام: یونیورسٹی آف لاہور (سرگودھا کیمپس)خطاب کے چند مرکزی نکات علم کے فروغ اور ترقی و کامیابی کے لیے علمی مکالمے اور تعلیمی مراکز کا کردار استاذ ہونا بہت بڑا شرف اور معلم کے دو بنیادی وصف قرآنی آیات کی روشنی میں ریاستی اُمور کی انجام دہی کے لیے معاہدات کی پاسداری اور اعلیٰ تعلیم (ہائر ایجوکیشن) کی ضرورت و اہمیت ایمان سے متعلق حدیثِ نبویؐ سے امن و سلامتی، عدل و انصاف اور معاشی مساوات کی وضاحت اور معلم کی بنیادی ذمہ داریاں ہمارا غلامانہ تعلیمی ڈھانچہ اور پالیسیاں‘ آزاد ذہنیت پیدا کرنے سے کوسوں دور دینِ اسلام کی تعلیمات کے تناظر میں ریاست کا مفید شہری بننے کی ناگزیریت انسان دوست رویوں کا فروغ‘ اعلیٰ تعلیمی اداروں کے اساتذہ کا بنیادی ہدف ترقی یافتہ سوسائٹی اور مفید شہری بنانے کے لیے اساتذہ کی ذمہ داریاں پرو ریکٹر کے کلمات تشکرمکمل خطاب سننے کے لیے درجِ ذیل لِنک پر کلک کیجیے بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل () آئیکون کو دبادیں۔منجانب: رحیمیہ میڈیا

Aug 4, 202443 min

Ep 323سچ اور جھوٹ کے نظاموں کے بارے میں قرآن حکیم کی تقابلی رہنمائی اور بُرائی کے دائرے میں محصور پاکستانی معاشرہ| 2024-07-26

سچ اور جھوٹ کے نظاموں کے بارے میں قرآن حکیم کی تقابلی رہنمائی اوربُرائی کے دائرے میں محصور پاکستانی معاشرہخُطبۂ جمعۃ المبارک:حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 19؍ محرم الحرام 1446ھ / 26؍ جولائی 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی وحدیثِ نبوی ﷺ:آیاتِ قرآنی:فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَبَ عَلَى اللَّهِ ‌وَكَذَّبَ ‌بِالصِّدْقِ إِذْ جَاءَهُ أَلَيْسَ فِي جَهَنَّمَ مَثْوًى لِلْكَافِرِينَo وَالَّذِي جَاءَ بِالصِّدْقِ وَصَدَّقَ بِهِ أُولَئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَo (39 – الزمر: 32-33)ترجمہ: ”پھر اس سے کون زیادہ ظالم ہے جس نے اللہ پر جھوٹ بولا اور سچی بات کو جھٹلایا، جب اس کے پاس آئی، کیا دوزخ میں کافروں کا ٹھکانا نہیں ہے! اور جو سچی بات لایا اور جس نے اس کی تصدیق کی، وہی پرہیزگار ہیں“۔حدیثِ نبوی ﷺ:”إِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَصْدُقُ حَتَّى يَكُونَ صِدِّيقًا، وَإِنَّ الْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ وَإِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَكْذِبُ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ كَذَّابًا۔ (الجامع الصّحیح للبخاری، حدیث: 6094)ترجمہ: ”بلاشبہ سچ آدمی کو نیکی کی طرف بلاتا ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے، اور ایک شخص سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ ”صدیق“ کا لقب اور مرتبہ حاصل کر لیتا ہے۔ اور بلاشبہ جھوٹ برائی کی طرف لے جاتا ہے اور برائی جہنم کی طرف، اور ایک شخص جھوٹ بولتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ کے یہاں ”بہت جھوٹا“ لکھ دیا جاتا ہے۔“۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ جھوٹ ایک معاشرتی خرابی، جس سے معاشرہ جہنم کا نمونہ بن جاتا ہے سورت زمرکی آیات میں دو جماعتوں کے رویوں کا تذکرہ کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنے اور بہتان باندھنے والے لوگوں کی حقیقت خبر اور واقعات کو نقل کرتے ہوئے حقیقتِ حال کے مطابق بات کرنا سچ ہوتا ہے انسانی کیفیت اور جذبات کو مادی چیزوں کی طرح نہیں ناپا جاسکتا جھوٹ اور سچ کا بنیادی فلسفہ اور دونوں کے سماجی اور اُخروی نتائج تمام شرائع اور جملہ اجتماعی ضابطوں کا مرکزی محور بر واثم (نیکی اور گناہ) ہوتا ہے امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے نزدیک بر و اِثم یعنی نیکی اور گناہ کا اجتماعی دائرہ نیکی اور صدق کا باہمی تعلق، اس کے اجتماعی نتائج اور اس کا جنت کی طرف لے جانے کا مفہوم عزم، ارادہ اور نیت کی حقیقت اور اس کے عملی نتائج کے اثرات و ثمرات بدی اور جھوٹ کا باہمی تعلق، ان کے اجتماعی نتائج اور اس کے جہنم کی طرف لے جانے کا مفہوم جھوٹی ا...

Aug 4, 20241h 19m

Ep 322عادلانہ سوسائٹی کے قیام میں معاہدات کا کردار | 2024-07-19

عادلانہ سوسائٹی کے قیام میںمعاہدات کا کردارخُطبۂ جمعۃ المبارک:حضرت مولانا مفتی مختار حسنبتاریخ: 12؍ محرم الحرام 1446ھ / 19؍ جولائی 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور پیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

Jul 22, 202441 min

Ep 321قرآن حکیم کے اسلوبِ تمثیل کے تناظر میں کثیر القومی کمپنیوں کے شکنجے میں پھنسے وطن کی بدحالی کا جائزہ| 2024-07-19

*قرآن حکیم کے اسلوبِ تمثیل کے تناظر میں**کثیر القومی کمپنیوں کے شکنجے میں پھنسے وطن کی بدحالی کا جائزہ**خُطبۂ جمعۃ المبارک:*حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری*بتاریخ:* 12؍ محرم الحرام 1446ھ / 19؍ جولائی 2024ء*بمقام:* ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور *خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی وحدیثِ نبوی ﷺ:**آیاتِ قرآنی:*‌وَلَقَدْ ‌ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِي هَذَا الْقُرْآنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ o قُرْآنًا عَرَبِيًّا غَيْرَ ذِي عِوَجٍ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ o ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا رَجُلًا فِيهِ شُرَكَاءُ مُتَشَاكِسُونَ وَرَجُلًا سَلَمًا لِرَجُلٍ هَلْ يَسْتَوِيَانِ مَثَلًا الْحَمْدُ لِلَّهِ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ o إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ o ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْتَخْتَصِمُونَ o (39 – الزُّمر: 27 تا 31)*ترجمہ:* ”اور ہم نے لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر قسم کی مثال بیان کر دی ہے تاکہ وہ نصیحت پکڑیں o وہ عربی زبان کا بے عیب قرآن ہے تاکہ یہ لوگ ڈریں o اللہ نے ایک مثال بیان کی ہے ایک غلام ہے جس میں کئی ضدی شریک ہیں اور ایک غلام سالم ایک ہی شخص کا ہے، کیا دونوں کی حالت برابر ہے؟ سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، مگر ان میں سے اکثر نہیں سمجھتے o بے شک آپ کو بھی مرنا ہے اور ان کو بھی مرنا ہے o پھر بے شک تم قیامت کے دن اپنے رب کے ہاں آپس میں جھگڑو گےo“۔*حدیثِ نبوی ﷺ:*‌”يُجَاءُ ‌بِالْإِمَامِ ‌الْخَائِنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَتُخَاصِمُهُ الرَّعِيَّةُ فَيَفْلُجُونَ عَلَيْهِ، فَيُقَالُ لَهُ: سُدَّ رُكْنًا مِنْ أَرْكَانِ جَهَنَّمَ“۔ (مسند البزار، حديث: 1644)*ترجمہ:* ”قیامت کے دن ظالم اور خیانت کرنے والے بادشاہ کو لایا جائے گا، تو اس سے اس کی رعایا جھگڑا کرے گی اور وہ اس پر غالب آجائے گی۔ پھر الله تعالیٰ کی طرف سے فرمان جاری ہوگا کہ ”جاؤ ! اسے جہنم کا ایک رُکن بنا دو“۔*۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔* 👇✔️ فہمِ قرآن حکیم کی اہمیت اور سورت زمر کے گزشتہ مضامین سے آج کی گفتگو کا ربط✔️ گفتگو میں تمثیل کی اہمیت اور دعوت و تذکیر کا قرآنی اسلوب✔️ امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے افکار میں عالم مثال کی تعریف و تشریح✔️ قرآن حکیم کے عربی میں نزول کی حکمت اور اس کی تعلیمات کا اعجاز✔️ قرآن حکیم کے نظریہ و فکر کو کسی بھی قوم کی مادری زبان میں پیش کرنے کی ضرورت و اہمیت✔️ برعظیم میں انگریز وں سے پہلے مادری اور مقامی زبانوں میں تعلیم و تربیت کی روایت✔️ قرآن حکیم کی مختلف قرائتوں کی حکمت اور عہدِ نبویؐ میں فہمِ قرآن کی مقامی روایت✔️ انگریزی استعمار کا مقامی زبانوں میں مداخلت اور انھیں فنا کرنے میں کردار✔️ عہدِ نبویؐ میں عربی زبان سے دوسری زبانوں میں ترجمانی کی روایت✔️ قرآن حکیم کی ایک فرد کے ایک مالک کے مقابلے میں بہت سے آقاؤں کی حکمت بھری تمثیل✔️ آج کے دور میں کسی ریاست پر استحصالی قوتوں کی غلامی کے اجتماعی اثرات و نتائج✔️ ایک آقا کے مقابلے میں کئی آقاؤں کی قرآنی تمثیل اور ضرب المثل سے اہم سبق اور نتائج✔️ ہندوستان پر استعماری قوتوں کی یلغار، ان کی آپسی جنگ اور ہندوستانی نظام کی تباہی✔️ ہندوستان میں استعماری کمپنیوں کا سامراجی ارتقاء اور مقامی وسائل کی لوٹ مار✔️ پاکستان میں کمپنیوں کا جال، ایسٹ انڈیا کمپنی کا تسلسل اور ان کی استعماری تندخوئی کے نتائج✔️ پاکستانی نظام پر استعماری کمپنیوں کی گرفت، سیاسی بداَمنی اور معاشی تباہی کا ذریعہ✔️ پاکستانی حکمرانوں کا قرض کے نام بھیک مانگنے کا بین الاقوامی ایجنڈا✔️ سورت زمر کی روشنی میں بیان کیے گئے حقائق کی روشنی میں پاکستانی قوم کے لیے لمحہ فکریہ!✔️ ادارہ رحیمیہ لاہور میں سترہ روزہ دورہ تفسیر کا فہم قرآن میں کردار اور ہماری ذمہ داریاں!بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute*منجانب: رحیمیہ میڈیا*

Jul 22, 20241h 27m

Ep 320قرآن حکیم بطور احسن الحدیث جامعیت، خطابی اُسلوب اور اثرات| 2024-07-12

*قرآن حکیم بطور احسن الحدیث ؛* *جامعیت، خطابی اُسلوب اور اثرات**خُطبۂ جمعۃ المبارک:*حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری*بتاریخ:* 5؍ محرم الحرام 1446ھ / 12؍ جولائی 2024ء*بمقام:* ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور خطبہ جمعہ کی آیاتِ قرآنی وحدیثِ نبوی ﷺ: *خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی وحدیثِ نبوی ﷺ:* *آیتِ قرآنی:* ‌اللهُ ‌نَزَّلَ ‌أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَابًا مُتَشَابِهًا مَثَانِيَ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ثُمَّ تَلِينُ جُلُودُهُمْ وَقُلُوبُهُمْ إِلَى ذِكْرِ اللّٰهِ ذَلِكَ هُدَى اللّٰهِ يَهْدِي بِهِ مَنْ يَشَاءُ وَمَنْ يُضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ۔ (39 – الزُّمر: 23)*ترجمہ:* ”اللہ ہی نے بہترین کلام نازل کیا ہے، یعنی کتاب باہم ملتی جلتی ہے، (اس کی آیات) دہرائی جاتی ہیں جس سے خدا ترس لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں، پھر ان کی کھالیں نرم ہو جاتی ہیں، اور دل یاد الٰہی کی طرف راغب ہوتے ہیں، یہی اللہ کی ہدایت ہے، اس کے ذریعے سے جسے چاہے راہ پر لے آتا ہے، اور جسے اللہ گمراہ کر دے، اسے راہ پر لانے والا کوئی نہیں“۔ *حدیثِ نبوی ﷺ:* عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، فِي قَوْلِ اللَّهِ عز وجل {نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ} [يوسف: 3] الْآيَةُ. قَالَ: ”نَزَلَ الْقُرْآنُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَتَلَا عَلَيْهِمْ زَمَانًا فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ قَصَصْتَ عَلَيْنَا. فَأَنْزَلَ اللَّهُ عز وجل {الر تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْمُبِينِ} [يوسف: 1] تَلَا إِلَى قَوْلِهِ {نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ} [يوسف: 3] الْآيَةُ. فَتَلَا عَلَيْهِمْ زَمَانًا فَقَالُوا: ‌يَا ‌رَسُولَ ‌اللَّهِ، ‌لَوْ ‌حَدَّثْتَنَا. فَأَنْزَلَ اللَّهُ عز وجل {اللَّهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَابًا مُتَشَابِهًا} [الزمر: 23] الْآيَةُ كُلُّ ذَلِكَ يُؤْمَرُ بِالْقُرْآنِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» (المستدرك علی الصّحیحَین، حدیث: 3319)*ترجمہ:* حضرت سعد بن ابی وقاص رضي اللہ عنه نے اللہ تعالیٰ کے ارشاد:{نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ} [يوسف: 3] (ہم تمہیں سب سے اچھا بیان سناتے ہیں) کے متعلق فرماتے ہیں کہ: رسول اکرم ﷺ پر قرآن پاک نازل ہوا تو آپ ایک عرصہ تک لوگوں کو اس کی تلاوت سناتے رہے۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ ! آپ ہمیں کوئی قصہ سنائیے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:{الر تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْمُبِينِ} [يوسف: 1] (الر، یہ روشن کتاب کی آیتیں ہیں)آپ ﷺ نے ”نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ“ والی آیت کے آخر تک تلاوت کی۔ پھر آپ ایک عرصے تک ان کو یہ قصہ سناتے رہے۔ پھر لوگوں نے فرمائش کی۔ آپ ہم سے باتیں کریں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:اللهُ ‌نَزَّلَ ‌أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَابًا مُتَشَابِهًا۔ (39 – الزُّمر: 23)ترجمہ: ”اللہ ہی نے بہترین کلام نازل کیا ہے، یعنی کتاب باہم ملتی جلتی ہے“۔*۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔* 👇✔️ ’’سورت زُمر‘‘ کا خاص موضوع؛ دینِ اسلام کا خالص نظام ✔️ ’’سورت زُمر‘‘ میں دینِ حق اور دینِ باطل کی روشنی میں دو جماعتوں کا ذکر ہے✔️ گفتگو اور مکالمے کے حقیقی احوال اور قرآن حکیم کا احسن الحدیث ہونا✔️ صحابہ کرامؓ کا باتوں اور قصص سے متعلق حضور اکرمؐ سے مکالمہ اور آپؐ کا بصیرت افروز جواب✔️ فصاحت و بلاغت کی تعریف اور مؤثر گفتگو کا سلیقہ اور بنیادی اُصول ✔️ ’’مفہومِ کلی‘‘ کی تعریف اور قرآن حکیم کی آیاتِ مبارکہ کا مفاہیمِ کلیہ کا حامل ہونا✔️ ’’جَوَامِعِ کَلِمْ‘‘ کا مفہوم اور آں حضرت ﷺ کی احادیثِ مبارکہ ✔️ بقول امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ: قرآن حکیم کی آیات کے کئی کئی بطن ہیں ✔️ حضرت عبداللہ ابن عباسؓ کے واقعے کے تناظر میں نوجوانوں کی اہمیت ✔️ تفسیر بالرائے اور تفسیر بالرائے حکیم میں فرق اور قرآن حکیم میں غوروفکر کی اہمیت ✔️ قرآن حکیم کی آیاتِ متشابہات کا درست معنی و مفہوم اور منشاءِ الٰہی ✔️ گفتگو اور کلام کے مختلف انداز و اسلوب اور قرآن حکیم کا خطابی اُسلوب ✔️ جسم پر لرزہ طاری ہونے اور رونگٹے کھڑنے ہونے کے عمل کی حکمت ✔️ کلام کے معنی و مفہوم کی تہہ تک پہنچنے کے لیے رِقتِ قلبی کی ضرورت و اہمیت ✔️ مزدوروں کے احوال دیکھ کر حضرت سندھی رحمۃ اللہ علیہ کا ایمان افروز واقعہپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

Jul 22, 20241h 14m

Ep 319ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ لاہور کے زیر اہتمام دورہ تفسیر کی غرض و غایت اور مقاصد واہداف | 2024-07-12

ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ لاہور کے زیر اہتمامدورہ تفسیر کی غرض و غایت اور مقاصد واہدافخُطبۂ جمعۃ المبارک:حضرت مولانا مفتی محمد مختار حسنبتاریخ: 5؍ محرم الحرام 1446ھ / 12؍ جولائی 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور

Jul 22, 20241h 6m

Ep 318قرآنی فکر کے لیے قلبی بصیرت اور اس کی حامل قیادت کی تشکیل کی سماجی ضرورت | 2024-07-05

قرآنی فکرو نظر کے لیے قلبی بصیرتاور اس کی حامل سماجی قیادت کی ضرورتخُطبۂ جمعۃ المبارک:حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 28؍ ذو الحجہ 1445ھ / 5؍ جولائی 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور خطبہ جمعہ کی آیاتِ قرآنی وحدیثِ نبوی ﷺ:خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی وحدیثِ نبوی ﷺ :آیتِ قرآنی:”‌أَفَمَنْ ‌شَرَحَ اللَّهُ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ فَهُوَ عَلَى نُورٍ مِنْ رَبِّهِ فَوَيْلٌ لِلْقَاسِيَةِ قُلُوبُهُمْ مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ أُولَئِكَ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ“۔ (39 – الزمر: 22)ترجمہ: ”بھلا جس کا سینہ اللہ نے دین اسلام کے لئے کھول دیا ہے، سو وہ اپنے رب کی طرف سے روشنی میں ہے۔ سو جِن لوگوں کے دل اللہ کے ذکر سے متاثر نہیں ہوتے، ان کے لیے بڑی خرابی ہے۔ یہ لوگ کھلی گمراہی میں ہیں“۔حدیثِ نبوی ﷺ:رسول اللہ ﷺ نے انسان کے دل میں نور ہونے کی علامت بیان فرمائی کہ:”الإِنابة إلى دار الخلود، والتجافي عن دار الغرور، والاستعداد للموت قبل النّزول“۔ (أخرج ابن المبارك في الزهد وغیرہم)ترجمہ: ”لافانی کے گھر کی طرف لوٹنا، فریب کے گھر سے بچنا، اور موت کے نزول سے پہلے اس کی تیاری کرنا۔“۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ دینِ اسلام کی حقانیت اور قرآن حکیم کی جامعیت انسانیت کی ترقی کے ضامن آج کے خطبے کے موضوع اور گزشتہ جمعہ کے موضوع کے درمیان ربط اور تعلق آج کے خطبے کی مرکزی آیت کا مفہوم اور مختصر جامع تفسیری خلاصہ انسانی دماغ کے تخیل اور خیالات کے ناقص اور کامل نظام کے درمیان فرق دنیا اور قبر و حشر میں قلب و نفس کی درجات و مراتب کی حیثیت و اثرات و نتائج انسانی جسم میں قلب کی مرکزی حیثیت اور مختلف اعضا پر اس کی فوقیت انسانی سوچ وفکر میں انشراحِ قلب اور نورِ قلبی کی اہمیت اور کردار روشن خیالی اور روشن قلبی کے درمیان بنیادی فرق اور روشن قلبی کے درست محرکات روشن خیالی کی محدودیت اور قلب کے روشن ہونے کی ضرورت و اہمیت شرح صدر اور قلب میں نورِ ربانی داخل ہونے کی تین علامتیں حدیثِ نبویؐ کے مطابق قلبی بصیرت کے نور سے متصف افراد کے فکر وعمل اور رویوں کا تجزیہ شرح صدر کے بارے میں امامِ انقلاب مولانا عبید اللہ سندھیؒ کا بصیرت افروز ارشاد شرح صدر اور ہمت کا خلاصہ انسان کے دل و دماغ کی تمام قوتوں کا ایک پیج پر آجانا ہے ویل (ہلاکت) کا معنی و مفہوم اور اس کی قلبی، عملی و نفسی کیفیات اور محسوسات انسانی ہمت کی تعبیر میں امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کا روشن فکر قول روشن فکر اور قلبی بصیرت کی حامل قیادت کی تلاش اور ان کی ضرورت و اہمیت بھیڑیا صفت سخت دل سیاسی و مذہبی قیادت سے بچنے کی نبوی ہدایت نبوی فرمودات کی روشنی میں عصرِ حاضر کی سیاسی و مذہبی قیادت کے تحلیل و تجزیہ کی ضرورت پاکستان کے موجودہ انسانیت سوز حالات پر اہل علم و دانش کی حیرت انگیز خاموشی

Jul 8, 20241h 13m

Ep 317تعلق مع اللہ کے لیے طاغوت سے قطع تعلق کی ناگزیریت اور جبر و استحصال کا عالمی نظام | 2024-06-28

*تعلق مع اللہ کے لیے طاغوت سے قطع تعلق کی ناگزیریت اور* *جبر و استحصال کا عالمی نظام**خُطبۂ جمعۃ المبارک:*حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری*بتاریخ:* 21؍ ذو الحجہ 1445ھ / 28؍ جون 2024ء*بمقام:* ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور *خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی:* ”‌وَالَّذِينَ ‌اجْتَنَبُوا ‌الطَّاغُوتَ أَنْ يَعْبُدُوهَا وَأَنَابُوا إِلَى اللّٰه لَهُمُ الْبُشْرَى۔ (39 – الزمر: 17)*ترجمہ:* ”اور جو لوگ شیطانوں کو پوجنے سے بچتے رہے اور اللہ کی طرف رجوع ہوئے، ان کے لیے خوشخبری ہے“۔*۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔* 👇✔️ انسان کے تعلق مع اللہ اور حقوق اللہ کے حوالے سے عبودیت کے تقاضے✔️ کائنات کے نظم و نسق پر اللہ تعالیٰ کا کنٹرول اور توحیدِ حقیقی کے تقاضے✔️ ذاتِ باری تعالیٰ کے مقابلے میں کسی بھی طاقت کے نظام کو ماننا شرک ہے✔️ خطبے کی مرکزی آیت کا تفسیری خلاصہ دو جماعتوں کے کردار کا موازنہ ✔️ تقویٰ کا بنیادی مقصد اور دین کا بنیادی مفہوم اور اس کے عملی تقاضے✔️ انسان کی مکمل ترقی اور فلاح کا نظام‘ اللہ تعالیٰ نے انبیاؑ کے ذریعے دے دیا ہے ✔️ سورۂ زمر کے مضامین میں علم اور نظریے کے حوالے سے دو بنیادی مقاصد ✔️ تقویٰ کے نتائج کہ حق و باطل اور عدل وظلم کی پہچان اور شعور پیدا ہو جائے ✔️ ایک متقی کا وصف یہ ہے کہ حق کی پہچان کے بعد اس کا نظام قائم کرے ✔️ مزید برآں متقی دنیاوی مفاد کے بجائے صرف اللہ کی رضا کے لیے کام کرے✔️ طاغوتی نظام کے خلاف جدوجہد اور اس کی غلامی سے اجتناب کرنا✔️ اِنابت (رجوع) الی اللہ کی بنیادی شرط‘ طاغوتی نظام کا انکار اور برأت ہے✔️ رجوع الی اللہ اور اجتنابِ طاغوت‘ انبیائے کرام علیہم السلام کا بنیادی مقصد رہا ہے ✔️ نظریے پر علم و عمل کی بات توجہ سے سننے کے نتیجہ خیز اثرات و نتائج ✔️ اجتنابِ طاغوت کے تناظر میں پاکستان میں حکمرانوں اور آئی ایم ایف کے کردار کا جائزہ ✔️ تاریخِ اسلام کے صدرِ اوّل کو تاریخی بد فہمی کے تناظر میں دیکھنے کے نتائج ✔️ تاریخِ اسلام کے اجتماعی نظام کے جائزے کا بنیادی اُصول؛ انسانیتِ عامہ کا مفاد ✔️ طاغوتی نظام کے تناظر میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے کردار کا تحلیل و تجزیہ ✔️ مسلمان ملکوں اور معاشروں پر آج کے عالمی طاغوتی نظام کا کنٹرول ✔️ آج کے طاغوتی نظاموں کے اَحبار و رُہبان‘ سسٹم کو کنٹرول کرنے والی طاقتیں ہیں ✔️ طاغوتی نظام کے بجٹ میں غیر حقیقی اور ظالمانہ ٹیکسز کا تحلیل و تجزیہ ✔️ پاکستان کے امریکی قرضوں میں جکڑے جانے کا تاریخی پسِ منظر اور نتائج ✔️ بیع اور سود کا بنیادی فرق اور طاغوتی نظام کی حیلہ سازیاں✔️ طاغوتی نظام کے زیرِ اثر پانچ ناجائز چیزوں کو حلال کر لینے کی نبوی پیشین گوئی ✔️ آج کے مسلمان کی اِنابت (رجوع) الی اللہ اور طاغوتی نظام کے حوالے سے ذمہ داری✔️ جولائی 2024ء میں ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور میں سالانہ دورۂ تفسیر کی ضرورت و اہمیتپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://facebook.com/rahimiainstitute/

Jul 1, 20241h 12m

Ep 316خُطبہ عید الاضحٰی

خُطبہ عید الاضحٰیحضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 10؍ ذو الحجہ 1445ھ / 17؍ جون 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور پیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

Jun 29, 20241h 7m

Ep 315امن و سلامتی کا جامع دینی نظام اور مغربی استعمار کا انسانیت دشمن شیطانی کردار | 2024-06-21

امن و سلامتی کا جامع دینی نظام اورمغربی استعمار کا انسانیت دشمن شیطانی کردارخُطبۂ جمعۃ المبارک:حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 14؍ ذو الحجہ 1445ھ / 21؍ جون 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی واحادیثِ نبوی ﷺ:آیاتِ قرآنی:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ كَآفَّةً، وَّ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ، فَاِنْ زَلَلْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْكُمُ الْبَیِّنٰتُ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۔ (2 – البقرۃ: 208-209)ترجمہ: ”اے ایمان والو ! داخل ہوجاؤ اسلام میں پورے، اور مت چلو قدموں پر شیطان کے، بے شک وہ تمہارا صریح دشمن ہے۔ پھر اگر تم پھسلنے لگو بعد اس کے کہ پہنچ چکے تم کو صاف حکم، تو جان رکھو کہ بے شک اللہ زبردست ہے حکمت والا“۔احادیثِ نبوی ﷺ :1۔ ”لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ“۔ (صحیح بخاری، حدیث: 15)ترجمہ: ”تم میں سے کوئی شخص ایمان والا نہ ہو گا جب تک اس کے والد اور اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ اس کے دل میں میری محبت نہ ہو جائے“۔2۔ ”الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ“۔ (صحیح بخاری، حدیث: 6169)ترجمہ: ”انسان اس کے ساتھ ہے جس سے وہ محبت رکھتا ہے“۔۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇✔️ دینِ اسلام کی جامعیت اور انبیائے کرام علیہم السلام کی انقلابی جدوجہد✔️ ’’مسلم‘‘ کی تعریف اور ابراہیمی تحریک کی دعوت اور اس کے لوازمات✔️ امن و سلامتی کے پورے نظام کو قبول کرنا اور اس کے اجتماعی تقاضے✔️ خطبے کی مرکزی آیت کا گزشتہ خطبہ جمعہ کی مرکزی آیات سے ربط اور تعلق✔️ حضرت ادریس علیہ السلام کو انسانیت کی رہنمائی کے لیے پانچ بنیادی علوم دیے گئے✔️ حضرت نوح علیہ السلام کی اپنی قوم کو دعوت اور اس کا تاریخی تسلسل✔️ معاشرے میں امن و سلامتی کے نظام سے انحراف اور فاجر انسان کی نفسیات✔️ قوم کے لیے امن و سلامتی کے نظام کی حفاظت اور قوموں پر عذابِ الٰہی کا ضابطہ✔️ انسانیت کی ضمیر کی آواز اور اس کے عقل و شعور کے ادراکات کی طاقت✔️ اللہ تعالیٰ کی صفاتِ عالیہ کی بنیاد پر اس کا تعارف اور اس کے تصرفات کا ضابطہ✔️ شیطان کا مفہوم، اس کی دو بڑی اقسام اور ان کے کام کا طریقۂ واردات✔️ شیطان کا قومی اور بین الاقوامی روپ اور انبیائے کرام علیہم السلام کی جدوجہد✔️ قیصر و کسریٰ کی حکومتیں شیطانی نظام کی نمائندہ اور ترجمان تھیں✔️ مغربی استعماری نظام‘ عہدِ حاضر کے شیطانی نظاموں کا نمونہ ہیں✔️ ملکوں کی تقسیم میں مغربی استعماری نظام کی قانونی اور آئینی شیطنت کا کردار✔️ مغربی استعماری نظام کی توسیع پسندی اور مسلمانوں کی فتوحات میں بنیادی فرق✔️ برطانوی استعماری نظام کا امن و سلامتی اور معاہدات کے حوالے سے دوہرا معیار✔️ برطانوی استعماری نظام کا عربوں اور فلسطینیوں کے خلاف گھناؤنا کردار✔️ کیپٹل ازم کا بنیادی انسانیت دشمن نظریہ اور تاریخِ عالم میں انسان دشمن کردارپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://facebook.com/rahimiainstitute/

Jun 23, 20241h 32m

Ep 314مَناسِکِ حج کے حقیقی مقاصد اور اِن سے انحراف کے منافقانہ رویے اور استحصالی ہتھکنڈے | 2024-06-14

مَناسِکِ حج کے حقیقی مقاصداور اِن سے انحراف کے منافقانہ رویے اور استحصالی ہتھکنڈےخُطبۂ جمعۃ المبارک:حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 7؍ ذو الحجہ 1445ھ / 14؍ جون 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی وحدیثِ نبوی ﷺ:آیاتِ قرآنی:1۔ اَلْحَجُّ اَشْهُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌ، فَمَنْ فَرَضَ فِیْهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَ لَا فُسُوْقَ وَ لَا جِدَالَ فِی الْحَجِّ۔ (2 – البقرۃ: 197)ترجمہ: ”حج کے چند مہینے ہیں معلوم، پھر جس نے لازم کرلیا ان میں حج، تو بےحجاب ہونا جائز نہیں عورت سے، اور نہ گناہ کرنا، اور نہ جھگڑا کرنا حج کے زمانے میں“۔2۔ وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّعْجِبُكَ قَوْلُهٗ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ یُشْهِدُ اللّٰهَ عَلٰى مَا فِیْ قَلْبِهٖ وَ هُوَ اَلَدُّ الْخِصَامِ، وَ اِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیْهَا وَ یُهْلِكَ الْحَرْثَ وَ النَّسْلَ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ۔ (2 – البقرۃ: 204-205)ترجمہ: ”اور بعض آدمی وہ ہے کہ پسند آتی ہے تجھ کو اس کی بات دنیا کی زندگانی کے کاموں میں، اور گواہ کرتا ہے اللہ کو اپنے دل کی بات پر، اور وہ سخت جھگڑالو ہے، اور جب پھرے تیرے پاس سے تو دوڑتا پھرے ملک میں تاکہ اس میں خرابی ڈالے، اور تباہ کرے کھیتیاں اور جانیں، اور اللہ ناپسند کرتا ہے فساد کو“۔حدیثِ نبوی ﷺ :”آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ، إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ“۔ (صحیح بخاری، حدیث: 33)وفي روايةٍ : ”وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ“۔ (صحیح بخاری، حدیث: 2459)ترجمہ: ”منافق کی تین علامتیں ہیں: 1۔ جب بات کرے جھوٹ بولے، 2۔ جب وعدہ کرے اس کے خلاف کرے۔ 3۔ اور جب اس کو امین بنایا جائے تو خیانت کرے“۔ اور ایک روایت میں یہ علامت بھی بیان کی گئی ہے کہ: ”اور جب جھگڑے تو بد زبانی پر اتر آئے“۔۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇✔️ دینِ اسلام؛ حقوق اللہ اور حقوق العباد کے اجتماعی نظام کا عَلَم بَردار ہے✔️ عبادات اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں مال خرچ کرنے کا آپسی اہم اور گہرا تعلق✔️ انسانی زندگی میں کیلنڈر اور نظام الاوقات کی عملی اہمیت اور افادیت✔️ اسلامی کیلنڈر کے ہجرتِ مدینہ سے آغاز کرنے کی حکمت اور اسلام کا نظامِ ریاست✔️ خطبے کی مرکزی آیت کا سورت کے سیاق و سباق کے مضامین سے ربط اور تعلق✔️ ایامِ حج کے قوانین و ضابطے اور ہر قسم کے فسق و فجور سے اجتناب کا ضابطہ✔️ فسق کا معنی و مفہوم اور اس سے اجتناب کے قولی اور عملی تقاضے✔️ حج ایک تربیتی پروگرام ہے، جس میں انسان کو قوانین، ضابطے اور ڈسپلن سکھایا جاتا ہے✔️ حج انسانیت کے درمیان خوش گوار تعلقات اور امنِ عامہ کو فروغ دینے کی عبادت ہے✔️ لچھے دار تقریروں اور گمراہ کن بیانات کے حامل چالاک لیڈروں کے خلاف خدائی گواہی✔️ ’’یُہْلِکَ الْحَرْثَ وَ النَّسْلَ‘‘ کے تناظر میں فصلوں اور نسلوں کے قاتل نظام اور لیڈروں کا تجزیہ✔️ طبقاتی بجٹ میں مزدوروں اور کسانوں کے مقابلے میں سرمایہ دار طبقوں کا تحفظ✔️ منافق کی تین نشانیوں (عادتوں) کے اجتماعی سیاسی، سماجی اور معاشرتی اثرات✔️ منافق کی تین علامات کے تناظر میں 76 سالہ پاکستانی تاریخ اور نظام کا تحلیل و تجزیہ✔️ سیرت النبی ﷺ اور عہدِ نبویؐ کے تناظر میں آج کے دور کے نظام اور معاشرے کے تجزیے کا اُصول✔️ تاریخی واقعات کے تناظر میں اپنے دور کے حالات کے تحلیل و تجزیے کا اصول✔️ برعظیم پاک و ہند میں استعماری دور کے مالی معاملات اور بجٹ کے اثرات و نتائج✔️ قرآنی اصطلاح ’’اَلَدُّ الْخِصَام‘‘ کے تناظر میں ہر دور کے جھوٹ، بدعہدی اور لوٹ کھسوٹ کا تجزیہ✔️ ظالم اور بدعہد حکمرانوں کے کردار کے حوالے سے نبوی پیشین گوئی✔️ پاکستان میں حج کے نام پر بیوروکریسی کا کاروبار اور غریب حاجیوں کا استحصال✔️ مسلمان ملکوں میں حج کے نام پر ہوٹلز، فوڈز اور ٹریولز مافیاز کی لوٹ مار✔️ دورانِ حج برانڈز اور سرمایہ دارانہ کمپنی کے زیرِ کنٹرول نظام میں حج کے بنیادی مقاصد اور اہداف سے انحراف✔️ حج کے حقیقی مقاصد و اہداف کو حاصل کرنے کی حکمتِ عملی اور عملی اقداماتپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://facebook.com/rahimiainstitute/

Jun 23, 20241h 9m

Ep 313تہذیبِ نفس کے تناظر میں حج اور عشرۂ ذی الحجہ کی زمانی اور مکانی اہمیت | 2024-06-07

Jun 12, 20241h 20m

Ep 312دینی تفقُّہ اور اس کی سماجی اطلاقی بصیرت کی اہمیت قومی تشکیلِ نو کے لیے اجتماعی تربیت کے تناظر میں | 2024-05-31

*دینی تفقُّہ اور اس کی سماجی اطلاقی بصیرت کی اہمیت*قومی تشکیلِ نو کے لیے اجتماعی تربیت کے تناظر میں*خُطبۂ جمعۃ المبارک:*حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری*بتاریخ:* 22؍ ذو قعدہ 1445ھ / 31؍ مئی 2024ء*بمقام:* ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور *خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی وحدیثِ نبوی ﷺ:**آیتِ قرآنی:*وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِیَنْفِرُوْا كَآفَّةًؕ فَلَوْ لَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَآئِفَةٌ لِّیَتَفَقَّهُوْا فِی الدِّیْنِ وَ لِیُنْذِرُوْا قَوْمَهُمْ اِذَا رَجَعُوْۤا اِلَیْهِمْ لَعَلَّهُمْ یَحْذَرُوْنَo (9 – التوبه: 122)*ترجمہ:* ”اور ایسے تو نہیں مسلمان کہ کُوچ کریں سارے، سو کیوں نہ نکلا ہر فرقے میں سے ان کا ایک حصہ، تاکہ سمجھ پیدا کریں دین میں، اور تاکہ خبر پہنچائیں اپنی قوم کو جب کہ لوٹ کر آئیں ان کی طرف، تاکہ وہ بچتے رہیں“۔*حدیثِ نبوی ﷺ :*”مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ، وَإِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ وَاللَّهُ يُعْطِي، وَلَنْ تَزَالَ هَذِهِ الْأُمَّةُ قَائِمَةً عَلَى أَمْرِ اللَّهِ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ۔ (الجامع الصّحیح للبخاری، حدیث: 71)*ترجمہ:* ”جس شخص کے ساتھ اللہ تعالیٰ بھلائی کا ارادہ کرے اسے دین کی سمجھ عنایت فرما دیتا ہے، اور میں تو محض تقسیم کرنے والا ہوں، دینے والا تو اللہ ہی ہے۔ اور یہ امت ہمیشہ اللہ کے حکم پر قائم رہے گی اور جو شخص ان کی مخالفت کرے گا، انہیں نقصان نہیں پہنچا سکے گا، یہاں تک کہ اللہ کا حکم (قیامت) آ جائے (اور یہ عالم فنا ہو جائے)۔*۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔* 0:00 آغاز2:03 سورتِ توبہ کا بنیادی موضوع؛ نظم و ضبط اور ڈسپلن کی پاسداری ہے5:06: غزوۂ تبوک سے پیچھے رہ جانے والے تین صحابہ کرامؓ کا سماجی بائیکاٹ8:47 سماجی تبدیلی کے لیے نظم و ضبط اور ڈسپلن کی ضرورت و اہمیت11:03 قوم کی سیاسی، سماجی اور معاشی تشکیل کے لیے ضروری اُمور12:13 آں حضرت ﷺ کی صحبت اور معیت اختیار کرنے کے ضابطے کے اُصول15:29 قوم سازی کے لیے منتخب افراد کی تربیت کا طریقہ کار اور مراحل22:55 تفقُّہ کے عمل (کسی بھی عمل کے مابعد اثرات و نتائج کا جائزہ) کی ناگزیریت28:46 قرآن و حدیث میں غوروفکر اور اس کے سماجی اطلاق میں تفقُّہ و تدبر کی اہمیت37:09 قومی تعلیم و تربیت میں رسمی علوم اور کتاب سے زیادہ عملی تجربے کی بصیرت کی اہمیت41:30 کسی بھی شعبے میں مخلصانہ کام کے نتیجے میں نورِ بصیرت حاصل ہونے کا راز51:30 قیادت اور اہلِ حل و عقد کے قومی اور دینی ذمہ داریوں کو نہ سمجھنے کے خوف ناک نتائج56:49 فقیہ کی معاشرے کے سیاسی، سماجی اور معاشی حالات پر نظر ہونا اور فقیہ کی جامع تعریف1:02:20 معاشی موضوع پر سب سے پہلی کتاب‘ جس پر ملکی نظام بنایا گیا1:07:44 اُمت میں اہلِ حق کی باشعور جماعت کے ہمیشہ رہنے کی نبوی رہنمائی1:09:08 امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے ہاں ’’جادۂ قویمہ محمدیہ‘‘ کا تصور اور قرآن کی انقلابی تعلیمات1:15:25 نوآبادیاتی نظام کے مابعد مرحلہ کے لیے تفقُّہ کی ضرورت ہے1:17:23 خطے کی تعلیم و تربیت میں اکابرین اہلِ حق کابے لاگ کردار1:22:08 حضرت نانوتویؒ اور حضرت شیخ الہندؒ کا نورِ بصیرت1:31:26 پاکستان میں اداروں کے درمیان تصادُم اور اداروں کی تباہی کا احوالپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute

Jun 5, 20241h 35m

Ep 311قومی نظام کی تشکیل کے قرآنی بنیادی امور اور پاکستان کے طبقاتی نظام کا جائزہ | 2024-05-24

قومی نظام کی تشکیل کے قرآنی بنیادی امور اور*پاکستان کے طبقاتی نظام کا جائزہ**خُطبۂ جمعۃ المبارک:*حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری*بتاریخ:* 15؍ ذو قعدہ 1445ھ / 24؍ مئی 2024ء*بمقام:* ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور *خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی:*وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ لِمَ تُؤْذُوْنَنِیْ وَ قَدْ تَّعْلَمُوْنَ اَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْؕ فَلَمَّا زَاغُوْۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۔ (61 – الصف: 5)”اور جب کہا موسیٰ نے اپنی قوم کو : اے میری قوم ! کیوں ستاتے ہو مجھ کو اور تم کو معلوم ہے کہ میں اللہ کا بھیجا آیا ہوں تمہارے پاس، پھر جب وہ پھرگئے تو پھیر دیے اللہ نے ان کے دل، اور اللہ راہ نہیں دیتا نافرمان لوگوں کو“۔*۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔* 0:00 آغاز1:27 قرآن حکیم کا نزول‘ اَقوامِ عالَم کے قومی نظاموں اور بین الاقوامی نظام کی تشکیل کے لیے ہوا2:43 حضرت محمد ﷺ کی بعثت‘ ارتفاقِ رابع؛ بین الاقوامی نظام کے لیے تھی6:35 خطبے کی مرکزی آیت کا بنیادی و اُصولی نظریہ اور تفسیری خلاصہ9:27 قوم بننے کا بنیادی اُصول کہ جو کہا جائے اس پر عمل بھی کیا جائے13:00 بات سمجھانے کا قرآن حکیم کا بنیادی اُصول کہ اس کام کی عملی مثال پیش کرتا ہے16:05 نبوت اور سیاست کے حامل دو انبیاء؛ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمد ﷺ20:30 قومی تشکیل کے تین بنیادی امور: |سماجی نظریہ| سیاسی نظریہ | معاشی نظریہ28:18 بنی اسرائیل کو قوم بنانے کی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی جدوجہد اور مشکلات32:50 غزوۂ اُحد میں ڈسپلن قائم نہ رکھ پانے کی وجہ سے مسلمان جماعت کی مشکل37:19 انسانی وجود میں قلب کی مرکزی حیثیت اس پر پورے جسم کے فساد یا اصلاح کا انحصار48:26 خطبے کی مرکزی آیت کے تناظر میں پاکستانی قوم کی اجتماعی تاریخ کا جائزہ53:22 قومی حکومتوں کے دور میں قوموں کا اپنے ممالک اور اقوام کو بنانے کا قومی کارنامہ56:47 مغرب کے سرمایہ دارانہ نظام کی حقیقی بنیاد اور اس بنیاد پر اس کے معاشرتی اثرات57:56 وسائلِ رزق کی عدل کے بجائے طبقاتی تقسیم اور اس کے بُرے اثرات1:00:23 طبقاتی معاشی نظام کے جون کے بجٹ میں عوام کو مزید نچوڑنے کے منصوبے1:06:04 پاکستان میں نظام کے ظلم و استحصال پر عوام کی خاموشی قابلِ غور ہےپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute

Jun 5, 20241h 14m

Ep 310تعلیم و تربیت کے عصری تقاضے|مفتی عبد المتین نعمانی

تعلیم و تربیت کے عصری تقاضےحضرت مولانا مفتی عبد المتین نعمانیبتاریخ: 11؍ شوال المکرم 1445ھ / 21 اپریل 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہوربرموقع: تقریبِ افتتاح صحیح بخاری شریفمفصل خطبہ ہمارے میڈیا پلیٹ فارمز پر عنقریب ملاحظہ فرمائیںhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute

May 23, 202443 min

Ep 310کمزور طبقوں کے حقوق کا دشمن نظام اور اس کے خاتمے کے لیے جدوجہد کی دینی ذمہ داری | 2024-05-17

کمزور طبقوں کے حقوق کا دشمن نظاماور اس کے خاتمے کے لیے جدوجہد کی دینی ذمہ داریخُطبۂ جمعۃ المبارک:حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 8؍ ذو قعدہ 1445ھ / 17؍ مئی 2024ءبمقام: عثمانیہ مسجد، مسلم کالونی، جیکب آباد (سندھ) خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی وحدیثِ نبوی ﷺ:آیاتِ قرآنی:1۔ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَاَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّقُوْدُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ عَلَیْهَا مَلٰٓئِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا یَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ۔ (66- التحریم: 6)ترجمہ: ”اے ایمان والو ! بچاؤ اپنی جان کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے جس کی چھپٹیاں ہیں آدمی اور پتھر، اس پر مقرر ہیں فرشتے تند خود زبردست، نافرمانی نہیں کرتے اللہ کی جو بات فرمائے ان کو، اور وہی کام کرتے ہیں جو ان کو حکم ہو“۔2۔ اِنَّ الَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتٰمٰى ظُلْمًا اِنَّمَا یَاْكُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِهِمْ نَارً۔ (4 – النساء: 10)ترجمہ: ”جو لوگ کہ کھاتے ہیں مال یتیموں کا ناحق، وہ لوگ اپنے پیٹوں میں آگ ہی بھر رہے ہیں“۔حدیثِ نبوی ﷺ:قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: ”أَنَا وَكَافِلُ الْيَتِيمِ كَهَاتَيْنِ فِي الْجَنَّةِ“، وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى، وَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا قَلِيلًا. (مسند احمد، حدیث: 22820)ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں اور یتیم کی پرورش کرنے والا جنت میں ان دو انگلیوں کی طرح ہوں گے“۔ یہ کہہ کر آپ ﷺ نے شہادت والی اور درمیانی انگلی میں کچھ فاصلہ رکھتے ہوئے اشارہ فرمایا۔۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 1:54 دنیا و آخرت کی کامیابی کے لیے انسانیت کے نام نبوی پیغام7:33 اپنے سمیت اپنے اہل و عیال کو دنیا و آخرت کی آگ سے بچانے کا حکم11:03 دین کی علمی و عملی تعلیم اور شعور دینے کے ساتھ ساتھ ادب سکھانے کی اہمیت16:17 یتیم کا معنی و مفہوم، خاندان کے یتیم بچے اور سوسائٹی کے یتیم (بے سہارا) لوگ17:51 دونوں طرح کے یتیموں کا مال کھانے کی قرآن حکیم میں سختی سے ممانعت20:13 سوسائٹی میں یکساں اجتماعی خوش حالی کی اہمیت اور معاشی طبقاتیت کے نقصانات22:08 مالی بد عنوانی کو قرآن حکیم میں پیٹ میں آگ بھرنے سے تشبیہ دی گئی ہے انسان کے لیے اپنی محنت سے اپنا رزق پیدا کرنا باعثِ عزت و تکریم ہے22:39 انبیائے کرام علیہم السلام کے پیشے اور معاشی سرگرمیاں، جو لائقِ تقلید ہیں25:38 کمزور اور محروم طبقات کے حقوق کے لیے جدوجہد کرنا‘ دین کا بنیادی تقاضا ہے30:54 ارکانِ اسلام پر عمل کی طرح یتیم اور کمزور طبقات کے مالی حقوق بھی فرض ہیں33:31 حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے ارشاد کی روشنی میں ادب سکھانے کامفہوم اور طریقہ40:04 پاکستان کے ظالمانہ استحصالی نظام میں کمزور طبقات کے حقوق کی پامالی کے نمونے41:52 پاکستان میں بجلی کا نظام آئی پی پیز سے ظالمانہ معاہدوں کے نرغے میں44:09 بیرونِ ملک سے گندم کی خریداری سے کسانوں کی تباہی کے ذمہ دار عناصر45:39 برعظیم پاک و ہند میں انگریزوں کے سامراجی نظام کے سیاسی و سماجی اثرات48:28 تعلیم اور ادب کی بنیاد پر رسول اللہ ﷺ کی جماعت سازی52:33 حضرت ابوبکر صدیقؓ کا خلیفہ بننے کے بعد کمزوروں کے حقوق کے تحفظ کا اعلان55:35 مولانا عبید اللہ سندھیؒ کے نزدیک مزدوروں کا لیڈر‘ مزدوروں سے منتخب کرنے کا اُصول59:10 ظالم حکمرانوں کے ظلم کی نحوست پورے ملک اور معاشرے پر پڑتی ہے1:08:53 اس خطے میں کمزورطبقوں کے حق میں علمائے ربانیین خصوصاً مولانا عبید سندھیؒ کا کردارپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute

May 23, 20241h 14m

Ep 309تقریبِ افتتاح صحیح بخاری شریف 2024ء | حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری

تقریبِ افتتاح صحیح بخاری شریف*درس صحیح بخاری*حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 11؍ شوال المکرم 1445ھ / 21 اپریل 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute

May 16, 20241h 3m

Ep 308تقریبِ تکمیل قرآنِ حکیم | کل انسانیت کی ترقی کے ضامن قرآنی شاہراہِ فکر و عمل کی عصری ضرورت و اہمیت

کل انسانیت کی ترقی کے ضامن*قرآنی شاہراہِ فکر و عمل*کی عصری ضرورت و اہمیت*خطاب برموقع تقریبِ تکمیل قرآنِ حکیم*حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 27؍ رمضان المبارک 1445ھ / 7 اپریل 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور۔ ۔ ۔ ۔ خطاب کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇0:00 آغاز خطاب1:29 رمضان المبارک کی ستائیسویں شب با برکت رات اور فہمِ قرآن حکیم کا مقصد و اہداف3:31 انسانی ہدایت اور منزلِ مقصود تک پہنچنے کا سیدھا راستہ (الجادۃ القویمۃ المحمدیۃ ) دنیا کے عظیم ترین انسان حضرت محمد ﷺ نے متعین کر دیا12:51 قرآنِ حکیم کا سیدھا راستہ اور مؤمنین کے لیے خوش خبری کی بنیاد: پختہ یقین اور قرآنی ہدایات کے مطابق عمل درآمد کرنا20:23 عملِ صالح سے مراد؛ یقینی علم کے مطابق عمل کرنا21:10 قرآن کی متعین کردہ شاہراہِ فکروعمل پر چلنے کے نتائج22:16 مسلمانوں میں دینی نظام سے غفلت و کوتاہی اور مادی نظاموں سے مرعوبیت کی بنیادی وجہ عصری اور دینی تعلیمی اداروں میں دینِ اسلام کا ناقص تعارف30:20 انگریز سامراج کے دور میں ملک و ملت کے غدار مذہبی و سیاسی طبقات32:44 آج کا المیہ: علوم القرآن و النبوۃ پڑھنے پڑھانے پر اسلامی ممالک پر عملاً پابندی عائد36:03 قرآن حکیم کی تعلیمات کا عملی نظام قائم کرنے والوں کا مقام اور رُوگردانی کرنے والوں کا انجام36:57 علمائے دیوبند کی امتیازی خصوصیت: دینِ اسلام کی سیاسی و معاشی تعلیمات پر مکمل عبور42:10 عصرِ حاضر کا تقاضا؛ کل انسانیت کی ترقی کے ضامن قرآن کے سسٹم کو سمجھنا ضروری44:10 ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ کا بنیادی پیغامپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute

May 16, 202458 min

Ep 307حزب الشیطان کا انسانیت دشمن سرمایہ دارانہ نظام اور مزاحمت کا رہنما نبویﷺ کردار | 2024-05-10

حزب الشیطان کا انسانیت دشمن سرمایہ دارانہ نظام اور مزاحمت کا رہنما نبوی ﷺ کردار*خُطبۂ جمعۃ المبارک:*حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری*بتاریخ:* یکم؍ ذو قعدہ 1445ھ / 10؍ مئی 2024ء*بمقام:* جامعہ رحمانیہ، مسجد نیوپنڈ، پٹھان کالونی، سکھر (سندھ) *خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی*اِسْتَحْوَذَ عَلَیْهِمُ الشَّیْطٰنُ فَاَنْسٰىهُمْ ذِكْرَ اللّٰهِؕ اُولٰٓئِكَ حِزْبُ الشَّیْطٰنِؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ الشَّیْطٰنِ هُمُ الْخٰسِرُوْنَo اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗۤ اُولٰٓئِكَ فِی الْاَذَلِّیْنَo كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِیْؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌo (58 – المجادلة : 19 تا 21) *ترجمہ:* ”قابو کرلیا ہے اُن پر شیطان نے، پھر بُھلا دی ان کو اللہ کی یاد، وہ لوگ ہیں گروہ شیطان کا، سنتا ہے ! جو گروہ ہے شیطان کا وہی خراب ہوتے ہیںo جو لوگ خلاف کرتے ہیں اللہ کا، اور اس کے رسول کا، وہ لوگ ہیں سب سے بےقدر لوگوں میںo اللہ لکھ چکا کہ میں غالب ہوں گا اور میرے رسول، بے شک اللہ زور آور ہے، زبردستo“۔*۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔* 👇0:00 آغاز خطاب01:38 حزب اللہ اور حزب الشیطان کی کشمکش اور قرآن حکیم کے نزول کا بنیادی مقصد4:17 تعلق مع اللہ اور ایمان بالرسالت کے حوالے سے انسانیت کی ذمہ داری5:32 انسانی وسوسہ وخیال اور شیطانی وسوسہ و خیال میں بنیادی فرق اور ان سے بچاؤ کا طریقہ 12:27 خطبہ جمعہ کی مرکزی آیت کا پسِ منظر اور مختصر تفسیری خلاصہ و عصرِ حاضر میں رہنمائی 13:46 حزب الشیطان کیا ہے؟ اس کی علامات، نشانیاں، اس کے کام و بُرے اثرات و نتائج 18:19 قران حکیم میں متکبر سرمایہ داروں اور مال داروں کے کاموں اور رویوں کی مذمت21:52 انبیائے کرام (حزب اللہ)کی جدوجہد اور اُن کے مقابلے میں حزب الشیاطین کا کردار25:36 بیت المقدس اور بیت الحرام (مسجدِ حرام) دو مقدس مقامات کی خصوصیات و اثرات32:26 قرآن حکیم سرمایہ داروں کے بجائے معاشرے کے کمزور طبقات کو حکمران بناتا ہے37:17 مکہ کی ریاست کے حزب الشیطان کا ظلم اور معاہدۂ حلف الفضول میں رسول اللہ ﷺ کا کردار38:34 یمنی تاجر سے اہلِ مکہ کا مالی فراڈ اور یمنی تاجر کی فریاد پر رسول اللہ کی ابوجہل سے بازیابی44:10 اسلام میں انسانی جان، مال اور عزت کا تحفظ اور اُن کی پامالی پر سزا کا تصور 53:55 قران حکیم میں حزب اللہ کا تعارُف، اس کی خصوصیات اور ان کی جدوجہد کے نتائج 55:44 مسلمانوں کا دورِ عروج اور بلاامتیاز مذہب و نسل وجغرافیہ انسانی حقوق کا تحفظ 1:02:00 اسلام کے نام پر بننے والی ریاست میں انسانی حقوق کی پامالی کا بدترین دور 1:05:39 پاکستان میں گندم کے سکینڈل کا پسِ منظر اور منافع خور تاجروں اور سرمایہ داروں کا کردار 1:06:15 جھوٹ کے اثرات و نتائج اور پاکستان میں جھوٹ کے نظام سے بچنے کی حکمت عملی 1:14:52 توبہ کی اصل حقیقت اور علماء محققین کے نزدیک اس کی شرائط و قیودپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute

May 14, 20241h 21m

Ep 306بِرّ و اِثم کا صالح سماجی نظریہ اور محنت کشوں کے استحصال اور لوٹ کھسوٹ پر مبنی سرمایہ داری نظام کا بھیانک کردار | 2024-05-03

بِرّ و اِثم کا صالح سماجی نظریہ اور محنت کشوں کے استحصال اور لوٹ کھسوٹ پر مبنی سرمایہ داری نظام کا بھیانک کردار*خُطبۂ جمعۃ المبارک:*حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری*بتاریخ:* 24؍ شوال المکرم 1445ھ / 3؍ مئی 2024ء*بمقام:* ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور *خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی وحدیثِ نبوی ﷺ*:*آیتِ قرآنی:* وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَ تُدْلُوْا بِهَاۤ اِلَى الْحُكَّامِ لِتَاْكُلُوْا فَرِیْقًا مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ بِالْاِثْمِ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۠۔ (2 – البقرۃ: 188)ترجمہ: ”اور نہ کھاؤ مال ایک دوسرے کا آپس میں ناحق، اور نہ پہنچاؤ ان کو حاکموں تک کہ کھا جاؤ کوئی حصہ لوگوں کے مال میں سے ظلم کر کے (نا حق) تم کو معلوم ہے“۔*حدیثِ نبوی ﷺ :* الاقتصاد في النّفقة نصف المعیشة۔ (مشکاۃ المصابیح، حدیث: 5067)ترجمہ: ”خرچ کرنے میں میانہ روی، نصف معیشت ہے“۔۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇0:00 آغاز خطاب✔️ نوخیز ی کے رویے پختہ عمر میں بار آور ہوتے ہیں، ایسے ہی دنیاوی واُخروی زندگی کی مثال ہے✔️ معاشرتی و سماجی زندگی کی تربیت اور ترقی میں انبیائے کرام علیہم السلام کا کردار✔️ ہرعہد کے ظالم حکمرانوں کا اپنے دور کے عوام اور مصلحین کے ساتھ متکبرانہ رویہ✔️ حضرت شعیب علیہ السلام کی جدوجہد اور اُن کے ساتھ ان کی قوم کا سرکشی کا رویہ✔️ سورۂ بقرہ میں مالی معاملات میں باطل طریقے سے لین دین سے اجتناب کی تاکید✔️ سب سے پاکیزہ رزق اور آں حضرت ﷺ کی محنت و مزدوری کا انداز✔️ انبیائے کرام علیہم السلام کی معاشی سرگرمیاں اور محنت و مشقت سے رزق کا حصول✔️ محنت کی عظمت اور بھیک مانگنے کی ممانعت از رُوئے سیرت اور نبویؐ طرزِ عمل✔️ معاشرتی ترقی کے لیے ریاستی بندوبست اور نظامِ عدل کی ضرورت و اہمیت ✔️ نظامِ ظلم میں قانون سازی‘ معاشی لوٹ کھسوٹ اور غریبوں کے استحصال پر مبنی ہوتی ہے✔️ قانون کی روح اور اس کا استعمال اہم ہوتا ہے، سرمایہ داری اسی سے ننگی ہوتی ہے✔️ امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ شرائع کے اَسرار و رُموز کو بِرّ و اِثم کے تناظر میں دیکھتے ہیں ✔️ بِرّ و اِثم کا قانونی، سماجی اور معاشرتی اثرات کے تناظر میں حقیقی تصور اور اس کے نتائج ✔️ بِرّ و اِثم کا انفرادی و اجتماعی معاملات کے ساتھ ساتھ نظامِ سیاست میں عمل دخل✔️ رشوت اور کرپشن کی ڈیفینیشن اور اس کے سماجی و معاشرتی اثرات و نتائج ✔️ استحصالی نظام میں رشوت کی شکل اور اس کے ذریعے حق تلفی کی صورتیں اور نتائج ✔️ سماج دشمن عناصر اور ظالم حکمرانوں پر خطبے کی مرکزی آیت میں تنقید ✔️ طاغوتی اور استحصالی نظاموں میں سرکلرز اور نوٹیفکیشنز کے ذریعے استحصالی ہتھکنڈوں کا احوال ✔️ سرمایہ دارانہ نظام میں مالی استحصالی ہتھکنڈے اور اس کے ہاں زر کا استحصالی تصور ✔️ دنیا کے معاشی ڈھانچے میں بینک آف انگلینڈ کا کردار اور ایڈم سمتھ کے معاشی نظریات ✔️ تمام مذاہب میں حرمتِ سود کی بنیاد اور سرمایہ داری نظام کا ملکوں کی معیشت پر قبضے کا منصوبہ ✔️ سرمایہ داری نظام کے غلبے اور فروغ میں طاقت اور رِشوت کا بنیادی کردار✔️ سرمایہ دارانہ نظام کی چھتر چھاؤں کے نیچے اداروں کا عوام دشمن کردار (الاثم کا نظام)✔️ استحصالی طبقاتی نظام میں محنت کش طبقوں کے خلاف نظام کا بھیانک کردار✔️ پاکستان میں گندم کے بحران کا پسِ منظر اور اس میں سرمایہ دارانہ نظام کا کردار✔️ مذہبی طبقوں کے معاشی استحصالی نظاموں میں انفرادی اصلاح کے نظریے کا احوال پیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute

May 7, 20241h 25m

Ep 305انسان دشمن شیطانی خیالات کے انسداد کے لیے رحمانی عقل و شعور کی اہمیت اور سماجی ترقی میں اس کا کردار | 2024-04-26

انسان دشمن شیطانی خیالات کے انسداد کے لیےرحمانی عقل و شعور کی اہمیتاور سماجی ترقی میں اس کا کردارخُطبۂ جمعۃ المبارک:حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 17؍ شوال المکرم 1445ھ / 26؍ اپریل 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورخطبے کی رہنما آیتِ قرآنی: إِنَّ الَّذِينَ اتَّقَوْا إِذَا مَسَّهُمْ طَائِفٌ مِّنَ الشَّيْطَانِ تَذَكَّرُوا فَإِذَا هُم مُّبْصِرُونَ۔ (7 – الاعراف: 201)ترجمہ: ”بے شک جو لوگ خدا سے ڈرتے ہیں، جب انھیں کوئی خطرہ شیطان کی طرف سے آتا ہے تو وہ یاد میں لگ جاتے ہیں، پھر اچانک ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں“۔۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 0:00 آغاز 1:11 انسان کاروباری سرگرمی کا تو حساب رکھتا ہے، لیکن اَخلاقیات کی ترقی اس کے پیشِ نظر نہیں رہتی3:24 انسان جنت میں اپنی دنیاوی کاروباری سرگرمیوں کی خواہش کرے گا9:18 انسانی جماعتوں کے حوالے سے حقیقی ترقی اور ترقیٔ معکوس کا بنیادی فرق11:10 فرشتوں اور حیوانات کے مقابلے میں انسانی عقل و خرد کا مقام اور اس کی ذمہ داریاں13:35 انسانی اعمال کے نتائج جانچنے کی فرشتوں کی استعداد محدود ہے، جیساکہ ’’انا اجزی بہ‘‘ حدیث کی تشریح میں مذکور ہے16:23 انسانی عقل کی پیدائش کا اَحوال، فضائل، ضروریات، لوازمات اور اس کے نتائج24:30 انسانی کامیابی میں درست فیصلوں اور فیصلوں میں درست اور حقیقی اعداد وشمار کی اہمیت26:44 مشکل حالات میں عقل مند اور با شعور اولیاء اللہ کا طرزِ عمل29:00 صوفیاء کا درست ادراک، حقیقی صوفی کی تعریف،احوال و کردار اور اس کے نتائج31:04 وسوسے اور خیال کی حقیقت، اس کی اقسام اور اس کے کرداری نتائج35:27 شیطان کی انسان سے دشمنی کی حقیقت اور واردات کا طریقۂ کار39:07 شیطانی خیال کے جان مال اور عزت کے حوالے سے تین دائرے اور اس کی دیگر جہات48:52 جملہ شیطانی خیالات کے حملوں سے بچنے کی حکمتِ عملی اور طریقہ ہائے کار53:19 ہمارے دینی اور قومی نصابِ تعلیم کی نئی نسل کی تربیت کے حوالے سے تہی دستی54:57 ہمارے معاشرے میں مختلف طبقوں کی حالتِ زار اور ان کے مکروہ ہتھکنڈوں کی جھلک56:11 ہمارے سیاسی شعبے کی پستی کا عالم اور نظامِ ظلم میں ان کا انسان دشمن کردار1:00:14 دین کے نام پر بے شعوری اور بے عقلی کا دور دورہ اور عقل دشمنی کے نمونے1:02:50 انبیائے کرام علیہم السلام، صوفیاء اور اولیاء اللہ کا عقلی مقام و مرتبہ اور اُن کا عقلی معیار1:04:58 دینی شخصیات کا عوامی اور انسانی حقوق اور فلاح کے کاموں میں دلچسپی اور کردار1:09:19 معاشرتی و اَخلاقی زوال سے نکلنے اور درست فیصلوں کے لیے 76 سالہ اپنی تاریخ کا جائزہ لینے کی ضرورتپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute

Apr 30, 20241h 11m

Ep 304کائنات کے عالمگیر نظام کے تحت رزقِ الٰہی کے انسانیت گیر نظام کے تقاضے اور مُلکی نظام کا استحصالی کردار | 2024-04-19

کائنات کے عالمگیر نظام کے تحت*رزقِ الٰہی کے انسانیت گیر نظام کے تقاضے اور مُلکی نظام کا استحصالی کردار**خُطبۂ جمعۃ المبارک:*حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری*بتاریخ:* 10؍ شوال المکرم 1445ھ / 19؍ اپریل 2024ء*بمقام:* ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور*خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی:*وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزْقُهَا وَ یَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَ مُسْتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ۔ (11 – ھود: 6)ترجمہ: ”اور کوئی نہیں چلنے والا زمین پر مگر اللہ پر ہے اس کی روزی، اور جانتا ہے جہاں وہ ٹھہرتا ہے، اور جہاں سونپا جاتا ہے، سب کچھ موجود ہے کھلی کتاب میں“۔*۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔* 0:00 آغاز خطبہ1:20 نزولِ قرآن حکیم کی حکمت اس کی تاثیر اور نتائج2:28 دنیا میں منصبِ خلافت کی ذمہ داریاں اور اس کے تقاضے4:46 اس کائنات کا پورا نظام‘ قرآن حکیم میں پیش کردیا گیا ہے6:51 کائنات ایک عالمگیر مملکت ہے، جس کا مدبرِ حقیقی‘ اللہ ہے7:39 کائنات کا یہ سارا نظام ایک منظم سسٹم کے تابع ہے13:21 رزق کی معنوی وسعت، اس کا دائرۂ کار اور خدا تعالیٰ کے رازق ہونے کا مفہوم14:46 کائنات کے پورے نظام میں ربط اور انسانی جسم کے نظام سے ہم آہنگی17:58 مستقر اور مستودع کا معنی و مفہوم اور اس کی اہلِ علم کے ہاں تعبیرات21:24 ایک بادشاہ کی شان دار دعوت کے واقعے کے نتائج سے کائنات کے نظام کی تفہیم34:30 مدینہ شریف میں مہمانوں کی آمد اور حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کا ایمان افروز واقعہ38:58 توکل علی اللہ اور یقین کی روشنی میں جدید عہد کے نظریۂ آبادی کا ناقدانہ جائزہ40:20 توکل اور یقین کے ساتھ جدید دور کے سرمایہ داری نظام کے استحصالی کردار کا جائزہ43:12 لوح وقلم پر لکھی تقدیر کا درست مفہوم اوراس سے جڑے عملی تقاضے44:43 دنیا میں نظام کے نام پر جکڑبندی اورحقیقی نظام کا فرق اور اس کے نتائج اور تقاضے50:54 کسی ملک میں آئین ہونے کے ساتھ ساتھ اس پر عمل درآمد ہونا اہم ہے51:48 سابقہ اقوام نے کتابِ مبین کی حامل ہونے کے باوجود اس میں من مانی تشریحات کیں54:38 کتابِ مبین کا درست مفہوم اور اس کی من مانی تشریحات کے خوف ناک نتائج58:33 قرآن حکیم کتابِ مبین ہے، لیکن مسلمانوں کے اہلِ یہود جیسے رویے اور اس کے نتائج59:41 دنیا میں لعنت کے اظہار کی مختلف شکلوں میں سے ایک؛ سیاسی ذلت اور معاشی تباہی ہے1:05:53 پاکستان کا پورا نظام ایکٹ 1935ء کی روح اور ڈھانچے کے مطابق ہے1:11:31 پاکستان میں خلافت اور قومی نظام کے تقاضوں کے مطابق نظام بنانے کی ضرورتپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute

Apr 30, 20241h 15m

Ep 303عصرِ حاضر میں قومی نظام کی تشکیل عروج و زوال کے قرآنی نظام اور اسوہ حسنہ کے عملی حقائق کی روشنی میں |2024-04-12

*عصرِ حاضر میں قومی نظام کی تشکیل*عروج و زوال کے قرآنی نظام اور اسوہ حسنہ کے عملی حقائق کی روشنی میں*خُطبۂ جمعۃ المبارک:*حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری*بتاریخ:* 3؍ شوال المکرم 1445ھ / 12؍ اپریل 2024ء*بمقام:* ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور *خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی و حدیثِ نبوی ﷺ:**آیتِ قرآنی:* ‌إِنَّ ‌اللّٰهَ ‌لَا ‌يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ۔ (13 – الرّعد: 11)ترجمہ: ”بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا، جب تک وہ خود اپنی حالت کو نہ بدلے“۔ *حدیثِ نبوی ﷺ:* ”إِنَّ اللّٰهَ يَرْفَعُ بِهٰذَا الْكِتَابِ أَقْوَامًا، وَيَضَعُ بِهِ آخَرِينَ۔ (صحیح مسلم، حدیث: 1897) ترجمہ: ”اللہ تعالیٰ اس کتاب (قرآن) کے ذریعے بہت سے لوگوں کو اونچا کردیتا ہے اور بہتوں کو اس کے ذریعے سے نیچا گراتا ہے“۔*۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔* 👇0:00 آغاز خطاب1:18 قرآنِ حکیم کا نزول، ترقیٔ اَقوام اوردرست قومی نظام کی تشکیل کی بنیادی رہنمائی 3:32 قومی عروج و ترقی میں قرآنی تعلیمات کا کردار اور نافرمان اَقوام کے اَحوال کا جائزہ 8:32 قوم کی تعریف، قومی نظام کی تشکیل کا پراسیس اور صالح قومی نظام کی خصوصیات13:42 قومی نظام کی تشکیل کا درست طریقۂ کار؛ اُسوۂ نبوی ﷺ کی روشنی میں 17:28 قریش کے نوجوانوں کے لیے نبوی دعوتی حکمتِ عملی اور اس کے نتائج و اثرات 19:50 خلافتِ باطنہ کی ہیئتِ ترکیبی اور مکہ میں قائم خلافتِ باطنہ کے خدو خال اور تنظیمی طاقت 23:44 کسی بھی نظام میں سیاسی و معاشی حقائق کی بنیاد پر پالیسیوں اور منصوبہ بندی کی اہمیت29:01 آں حضرت ﷺ کی قبل از نبوت قومی و دینی نظام کی تشکیل میں دو اَساسی اُصولوں کی پاسداری 32:23 دینی اُصولوں کی بنیاد پر عربوں کے مستحکم سیاسی و معاشی نظام کا خاکہ اور حکمرانی کے پانچ سو سال نیز اسلام کی سیاست و خلافت کا روشن و تابناک چہرہ اور اس سنہری دور کی خصوصیات 33:11 عروج کے بعد مسلمان حکومتوں کے دورِ زوال کا آغاز اور اس کے اَسباب و محرکات35:18 عربوں کے بعد اسلام کے بنیادی اُصولوں کی روشنی میں مسلمان عجمی اقوام کا سنہرا دور38:33 برعظیم میں مسلم دورِ حکومت کے زوال کا سبب؛ امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی نظر میں 43:57 بر عظیم میں غلامی کے ظالمانہ نظام میں برطانوی فوج اور پولیس کا مقامی آبادیوں پرسفاکانہ کردار اور عہدِ حاضر میں وہی معیارات برقرار، نیز غلامی کے اصل محرکات کو سمجھنے کی ضرورت واہمیت49:16 اگست 1948ء میں سانحۂ بابڑہ چارسدہ میں سینکڑوں خدائی خدمت گاروں کا سرکاری کارروائی میں قتلِ عام نیز سیاست کا درست مفہوم اور نام نہاد سیاست دانوں کا گھناؤنا کردار52:52 قوم کی خوئے غلامی اور غلامانہ نظام کے اداروں کا منفی کردار اور زندہ قوم کی پہچان57:41 عصرِ حاضر کا سب سے اہم سوال، دورِ حاضر کی رسمی مذہبیت کا المیہ اور قرآن کی دعوتِ فکرپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute

Apr 15, 20241h 13m

Ep 302رمضان المبارک کے تناظر میں انسانی زندگی کے مراحل اور ان کے لیے تربیتی منصوبہ بندی کی اہمیت |2024-04-05

رمضان المبارک کے تناظر میںانسانی زندگی کے مراحل اور ان کے لیے تربیتی منصوبہ بندی کی اہمیت[Pre..Rec]خُطبۂ جمعۃ المبارک:حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 25؍ رمضان المبارک 1445ھ / 5؍ اپریل 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute

Apr 14, 20241h 7m

Ep 301غلبۂ دینِ حق کے لیے شخصی تعمیر و ترقی اور رمضان و قرآن حکیم کی رہنمائی |2024-04-05

غلبۂ دینِ حق کے لیے شخصی تعمیر و ترقی اور رمضان و قرآن حکیم کی رہنمائیخُطبۂ جمعۃ المبارک:حضرت مولانا مفتی محمد مختار حسنبتاریخ: 25؍ رمضان المبارک 1445ھ / 5؍ اپریل 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

Apr 14, 202447 min

Ep 300قرآن حکیم کی تلاوت واستفادہ کی اجتماعی اہمیت |2024-03-29

قرآن حکیم کی تلاوت واستفادہ کی اجتماعی اہمیت[Pre..Rec]خُطبۂ جمعۃ المبارک:حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 18؍ رمضان المبارک 1445ھ / 29؍ مارچ 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

Apr 14, 20241h 11m

Ep 299انبیاء علیہم السلام کی تعلیمات کے تناظر میں باطل جماعتوں کا سماج مخالف کردار |2024-03-29

انبیاء علیہم السلام کی تعلیمات کے تناظر میںباطل جماعتوں کا سماج مخالف کردارخُطبۂ جمعۃ المبارک:مولانا مفتی عبد المتین نعمانیبتاریخ: 18؍ رمضان المبارک 1445ھ / 29؍ مارچ 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور

Apr 14, 202440 min

Ep 298دین کے نظامِ انصاف کا قیام اور روزے کا تربیتی کردار |2024-03-29

دین کے نظامِ انصاف کا قیام اورروزے کا تربیتی کردارخُطبۂ جمعۃ المبارک:حضرت مولانا مفتی محمد مختار حسنبتاریخ: 18؍ رمضان المبارک 1445ھ / 29؍ مارچ 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور

Apr 14, 202442 min

Ep 297سماجی ترقی میں اسلام کے انسان دوست فکر وعمل کا رہنما کردار |2024-03-22

سماجی ترقی میں اسلام کے انسان دوست فکر وعمل کا رہنما کردار [Pre..Rec]خُطبۂ جمعۃ المبارک:مولانا مفتی عبد المتین نعمانیبتاریخ: 11؍ رمضان المبارک 1445ھ / 22؍ مارچ 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور

Apr 14, 202446 min

Ep 296رمضان المبارک اور صالح نظریہ کے سماجی اثرات و نتائج |2024-03-15

رمضان المبارک اورصالح نظریہ کے سماجی اثرات و نتائج[Pre-Rec] خُطبۂ جمعۃ المبارک:مولانا مفتی عبد المتین نعمانیبتاریخ: 4؍ رمضان المبارک 1445ھ / 15؍ مارچ 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

Apr 14, 202435 min

Ep 295تہذیب نفوس میں روزے کا کردار اور اثرات |2024-03-15

تہذیب نفوس میںروزے کا کردار اور اثرات[Pre_Rec]خُطبۂ جمعۃ المبارک:حضرت مولانا مفتی محمد مختار حسنبتاریخ: 4؍ رمضان المبارک 1445ھ / 15؍ مارچ 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

Apr 14, 202435 min

Ep 294صیامِ رمضان المبارک کے مطلوبہ مقاصد اور جھوٹ و جہالت کا سیاسی اور سماجی نظام |2024-03-22

صیامِ رمضان المبارک کے مطلوبہ مقاصداور جھوٹ و جہالت کا سیاسی اور سماجی نظامخُطبۂ جمعۃ المبارک:حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 11؍ رمضان المبارک 1445ھ / 22؍ مارچ 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورخطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی و احادیثِ نبوی ﷺآیاتِ قرآنی:1۔ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الصِّیَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ۔ (2 – البقرۃ: 183)ترجمہ: ”اے ایمان والو ! فرض کیا گیا تم پر روزہ، جیسے فرض کیا گیا تھا تم سے اگلوں (پہلے لوگوں) پر، تاکہ تم پرہیزگار ہوجاؤ“۔2۔ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْیَصُمْهُؕ۔ (2 – البقرۃ: 185)ترجمہ: ”سو جو کوئی پائے تم میں سے اس مہینے کو تو ضرور روزے رکھے اس کے“۔احادیثِ نبوی ﷺ:1۔ ”مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ“۔ (صحیح بخاری، حدیث: 38)ترجمہ: ”جس نے رمضان کے روزے ایمان اور خالص نیت کے ساتھ رکھے، اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے گئے“۔2۔ ”مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ“۔ (صحیح بخاری، حدیث: 37)ترجمہ: ”جو کوئی رمضان میں (راتوں کو) ایمان رکھ کر اور ثواب کے لیے قیام کرے (عبادت کرے) اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں“۔3۔ ”مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْجَهْلَ وَالْعَمَلَ بِهِ، فَلَا حَاجَةَ لِلّٰهِ فِي أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ“۔ترجمہ: ”جو شخص روزہ میں جھوٹ بولنا، جہالت کی باتیں کرنا، اور ان پر عمل کرنا نہ چھوڑے، تو اللہ کو کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑے“۔ (سنن ابن ماجة، حدیث: 1689)۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ رمضان المبارک کے مطلوب نتائج کے لیے عزم و ہمت اور ارادے کی پختگی کی ضرورت کام کی صلاحیتوں اور نتائج کے حوالے سے انسانوں کے تین درجات ہر عمل کا نتیجہ انسانی روح کے ساتھ چپک جاتا ہے اور اس کا ریکارڈ محفوظ ہو جاتا ہے انسان میں ملکیت اور بہیمیت کی نسبت و تناسب اور فکر و کردار پر اس کے اثرات بُرے عمل پر ایک اور اچھے عمل پر دس گنا اجر کا حدیثِ نبوی کی روشنی میں فلسفہ روزے پر مَلَکیت و بہیمیت کی قوتوں کے تناظر میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجر کا معاملہ جھوٹ بولنے والے بے عمل روزے دار سے متعلق ارشادِ الٰہی جھوٹے انسان کی جھوٹ بولنے کی وجہ اور اس کا نفسیاتی تجزیہ قومی سطح پر رمضان المبارک اور روزوں کے اہداف اور ان کے مقاصد جھوٹ کے معاشرتی اثرات و نتائج کے تناظر میں قومی منظر نامے کا شعوری تجزیہ پاکستان میں قول الزور(جھوٹ) کے فروغ میں میڈیا اور چینلز کا کردار

Mar 26, 20241h 8m

Ep 293رمضان المبارک کے مطلوبہ مقاصدِ تربیت کے تناظر میں دورِ زوال کے اِنحرافی اعمال سے شعوری اجتناب کی اہمیت |2024-03-15

رمضان المبارک کے مطلوبہ مقاصدِ تربیت کے تناظر میںدورِ زوال کے اِنحرافی اعمال سے شعوری اجتناب کی اہمیتخُطبۂ جمعۃ المبارک:حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 4؍ رمضان المبارک 1445ھ / 15؍ مارچ 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورخطبے کی رہنما آیتِ قرآنی و احادیثِ نبوی ﷺ:آیتِ قرآنی:شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ فِیْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَ الْفُرْقَانِۚ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْیَصُمْهُؕ۔ (2 – البقرۃ: 185)ترجمہ: ”مہینہ رمضان کا ہے، جس میں نازل ہوا قرآن، ہدایت ہے واسطے لوگوں کے، اور دلیلیں روشن راہ پانے کی، اور حق کو باطل سے جدا کرنے کی، سو جو کوئی پائے تم میں سے اس مہینے کو تو ضرور روزے رکھے اس کے“۔احادیثِ نبوی ﷺ:1۔ ”مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ“۔ (صحیح بخاری، حدیث: 38)ترجمہ: ”جس نے رمضان کے روزے ایمان اور خالص نیت کے ساتھ رکھے، اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے گئے“۔2۔ ”مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ“۔ (صحیح بخاری، حدیث: 37)ترجمہ: ”جو کوئی رمضان میں (راتوں کو) ایمان رکھ کر اور ثواب کے لیے قیام کرے (عبادت کرے) اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں“۔۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇0:00 آغاز1:43 رمضان المبارک کے با برکت ایام اور راتوں کی خصوصیات کے اثرات و نتائج3:23 رمضان المبارک میں دینِ حق کے گہرے علم و فہم اور تخلیقی اَفکار و خیالات کے مطالعے کی اہمیت8:25 دینِ اسلام کا نظام ایک مکمل نظام کیسے ہے؟ اس کو شعوری بنیادوں پر کیسے سمجھا جائے؟10:54 معاشرے میں رمضان المبارک کے اثرات و نتائج کے علی الرغم کیفیات لمحہ فکریہ!14:40 رمضان المبارک کی اہمیت کو قرآنی افکار کے تناظر میں سمجھنے کی ضرورت واہمیت15:24 نظامِ کائنات میں کمالاتِ الٰہی کی تکمیل کے لیے تدبیر، تجلیات اور انبیائے کرام کا کردار17:45 امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کا تجدیدی کام؛ دینِ اسلام کے فلسفے اور اَساسی اصولوں کی عقلی نشان دہی18:19 یورپ کی عقلِ حیوانی کی درماندگی اور عصرِ حاضر میں دینِ اسلام کے حکمت و فلسفہ کی اہمیت19:44 نئی ایجادات و تخلیقات کے نام وجود میں آنے کا فلسفہ اور ان کا اسمائے الٰہی سے تعلق20:33 ’’رمضان المبارک‘‘ مہینے کے نام کے تناظر میں اس کے اثرات و خصوصیات کا فلسفہ23:47 روزہ اور تلاوت؛ نفس، قلب اور عقل کی منفیّتوں کو ختم کرکے ان کی خوبیوں کو جلا بخشتے ہیں30:34 قرآن حکیم اپنے اثرات و نتائج کے اعتبار سے انقلاب اور تبدیلی کی کتاب ہے32:26 رمضان المبارک اور قرآن حکیم کا آپسی تعلق اور ان کی کامیابیوں کی ایک جھلک38:13 اچھے اور بُرے اعمال کا اپنے دائروں میں زنجیری تعلق اور رمضان المبارک کا کردار41:34 انگریزوں کے استعماری اعمالِ سیئہ کا زنجیری سلسلہ اور غلامی کے سیاہ سائے48:07 آج کے حالات کے تناظر میں رمضان المبارک کے فیوض وبرکات سے استفادے کی حکمتِ عملی49:11 دورِ زوال کے مذہبی طبقوں، مسجدوں اور بے نتائج اعمال کے زنجیری سلسلے کے نتائج51:33 سعودی عرب میں حضرت عمر فاروقؓ کے معمول بیس تراویح کے خلاف متشدد طرزِ عمل55:02 قانونی شکنجے کے ظلم و طغیان کے دور میں سنتِ ابراہیمی کو زندہ کرنے کی ضرورت1:00:06 رمضان المبارک میں اپنی اصلاح و تربیت اور سماج کو سدھارنے کی حکمتِ عملیپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

Mar 26, 20241h 3m

Ep 292غلامی اور ظلم کے ماحول میں رمضان المبارک کے تہذیبی اور رُوحانی کردار کی اہمیت|2024-03-08

غلامی اور ظلم کے ماحول میںرمضان المبارک کے تہذیبی اور رُوحانی کردار کی اہمیتخُطبۂ جمعۃ المبارک:حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 26؍ شعبان المعظم 1445ھ / 8؍ مارچ 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورخطبے کی رہنما آیتِ قرآنی و حدیثِ نبوی ﷺ :آیتِ قرآنی:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الصِّیَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ۔ (2 – البقرۃ: 183)ترجمہ: ”اے ایمان والو ! فرض کیا گیا تم پر روزہ، جیسے فرض کیا گیا تھا تم سے اگلوں (پہلے لوگوں) پر، تاکہ تم پرہیزگار ہوجاؤ“۔حدیثِ نبوی ﷺ :”مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ“۔ (صحیح بخاری، حدیث: 38)ترجمہ: ”جس نے رمضان کے روزے ایمان اور خالص نیت کے ساتھ رکھے، اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے گئے“۔۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 0:00 آغاز1:28 تہذیبِ انسانی میں روزے اور رَمضان المبارک کی اہمیت اور کردار4:38 انسان کی حیوانیت سے انسانیت کو درپیش خطرات اور اس کا علاج8:06 غلامی تہذیب کی دشمن ہے، اس لیے غلام قومیں بغیر آزادی کے مہذب نہیں ہوسکتیں14:06 رمضان المبارک کے روزے اور ماحول‘ حق و باطل کی پہچان پیدا کرتے ہیں24:06 تقویٰ انسان میں غلامی، ظلم، بداَمنی اور معاشی بد حالی کے خلاف صلاحیت پیدا کرتا ہے35:17 1947ء میں حقیقی آزادی نہیں ملی، بلکہ غلامی کا انداز بدلا ہے41:50 قرآن حکیم کے تین اعزازات، ان کے فیوض و برکات اور اثرات و نتائج43:58 پاکستان کے انتخابات میں دھاندلی کی تاریخ اور موجوجوہ انتخابات میں دھاندلی کا تسلسل52:23 رمضان المبارک کے مقاصد کے علی الرغم پاکستان میں دھاندلی، رِشوت اور غلامی کا راجپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

Mar 14, 202455 min

Ep 291عدل، امن اور آزادی کی قرآنی تعلیمات اور خطے میں سامراج کا سیاہ دورِ غلامی|2024-02-12

عدل، امن اور آزادی کی قرآنی تعلیمات اورخطے میں سامراج کا سیاہ دورِ غلامیخطابحضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبرموقع سیمیناربتاریخ: یکم؍ شعبان المعظم 1445ھ / 12؍ فروری 2024ءبمقام: زینت مارکی، قاضی والا روڈ، چشتیاں، ضلع بہاولنگر۔ ۔ ۔ ۔ خطاب کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 2:01 آٹھ ارب انسانیت سیاسی و معاشی حقوق سے محروم4:01 سیاسی حکومتیں اور نظام قائم کرنے کے مقاصد7:22 سیاسی حکومت کے رہنما اُصول اور واضح قرآنی ہدایات10:00 قیامِ عدل، رسولوں کی بعثت کا ہدف (سورت الحدید کی آیت کا مفہوم)12:30 سورت النحل میں مثالی سوسائٹی (سیاسی امن اور معاشی اطمینان) کا نقشہ14:41 عدل، امن اور معاشی خوش حالی، ریاست و قوم کی آزادی کے بغیر ممکن نہیں22:17 مکہ میں ابوجہل کا ظالمانہ نظام اور نبی ﷺ کی آزادی کے لیے جدوجہد32:09 عقیدے کی بنیاد پر دو قومی نظریے کا تصور، قرآن و سنت کی صریح تعلیمات کے خلاف40:42 اسلام کی روشن تاریخ اور عادلانہ سیاسی و معاشی نظام42:49 برعظیم پاک و ہند کی معاشی خوش حالی اور انگریز سامراج کی لوٹ کھسوٹ48:12 ہندوستان کو غلام بنانے میں ایسٹ انڈیا کمپنی، قومی غداروں اور بیوروکریسی نظام کا مکروہ کردار51:53 سائفرز کی اساس پر ہندوستان کی دو سو سالہ غلامی کی حکومت 56:44 انڈیا ایکٹ 1935ء کے تحت جعلی الیکشنز کا آغاز اور مجلس احرارِ اسلام سے نا روا سلوک1:04:05 متحدہ پنجاب کی تقسیم، مسلم لیگ اور گورنر پنجاب کی مکروہ سازش کامیاب1:06:50 ملک پر مسلط پارلیمنٹ اور الیکشن کا ماڈل، غلامی کی یادگار1:08:44 برطانیہ کا امریکا سے ہندوستان کی بندر بانٹ کاخفیہ ایگریمنٹ 1:15:13 برطانیہ کا تقسیمِ ہند کا ظالمانہ فیصلہ، امریکا سامراج کا دباؤ اور رُوس کے خلاف اڈے کا مطالبہ1:18:57 76 سالہ غلامی کی سیاہ تاریخ، ظالمانہ نظام کا تحفظ اور امریکا کے من پسند حکمرانوں کا انتخاب1:33:27 آج ظالمانہ نظام کا تسلط الم نشرح، درست سیاسی و معاشی شعور سے مقابلہ کرنے ضرورتپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

Mar 4, 20241h 43m

Ep 29001-03-2024 | سیاسی مذہب کے استعماری حربے کے تناظر میں قادیانیوں کی جھوٹی نبوت کی حقیقت اور دین میں اِکراہ کی نفی کا درست مفہوم

سیاسی مذہب کے استعماری حربے کے تناظر میںقادیانیوں کی جھوٹی نبوت کی حقیقتاور دین میں اِکراہ کی نفی کا درست مفہومخُطبۂ جمعۃ المبارک:حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 19؍ شعبان المعظم 1445ھ / یکم؍ مارچ 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورخطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی و حدیثِ نبوی ﷺ:آیاتِ قرآنی:لَاۤ اِكْرَاهَ فِی الدِّیْنِ، قَدْ تَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّۚ فَمَنْ یَّكْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰىۗ لَا انْفِصَامَ لَهَاؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ۔ اَللّٰهُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْاۙ یُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَوْلِیٰٓئُهُمُ الطَّاغُوْتُۙ یُخْرِجُوْنَهُمْ مِّنَ النُّوْرِ اِلَى الظُّلُمٰتِؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠۔ (2 – البقرۃ: 256-257)ترجمہ: ”زبردستی نہیں دین کے معاملے میں، بے شک جُدا ہوچکی ہے ہدایت گمراہی سے، اب جو کوئی نہ مانے گمراہ کرنے والوں کو اور یقین لاوے اللہ پر تو اس نے پکڑ لیا حلقہ مضبوط، جو ٹوٹنے والا نہیں، اور اللہ سب کچھ سنتاجانتا ہے۔ اللہ مددگار ہے ایمان والوں کا، نکالتا ہے ان کو اندھیروں سے روشنی کی طرف، اور جو لوگ کافر ہوئے، ان کے رفیق شیطان، نکالتے ہیں ان کو روشنی سے اندھیروں کے طرف، یہی لوگ ہیں دوزخ میں رہنے والے، وہ اسی میں ہمیشہ رہیں گے“۔حدیثِ نبوی ﷺ :‌”الْجِهَادُ ‌مَاضٍ ‌إِلَى ‌يَوْمِ ‌الْقِيَامَةِ“۔ (المعجم الاوسط للطبراني، حدیث: 4775)ترجمہ: ”جہاد قیامت تک جاری رہے گا“۔۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 1:35 دینِ اسلام کا نظامِ فکر اور عملی نظام انتہائی جامع اور مربوط ہے4:00 استعماری نظام کا ایک حربہ مسلمان ملکوں میں سیاسی مذہب کی ترویج ہے8:36 قادیانیت کے جھوٹے دعویٰ نبوت کے ذریعے استعماری غلامی کا جواز فراہم کیا گیا12:50 قادیانیت کی پولٹیکل نبوت کے ذریعے تحریکِ آزادی کو منسوخ کروانے کی ناکام سعی16:46 آزادی کے خلاف غلامی کی ترویج میں اسماعیلی فرقے کے ذریعے ناکام کوششیں9:32 مرزا قادیانی کو انگریزوں کی طرف سے نبی مقرر کرنے کا تاریخی پسِ منظر21:06 آزادی کے نقیب قرآنِ حکیم سے جہاد منسوخ کرنے کی مرزا قادیانی کی جاہلانہ کوشش23:27 اسلام میں ہر دور کے طاغوت کے خلاف بحقِ انسانیت جنگ ہوتی ہے26:31 قرآن حکیم کی حفاظت کے الٰہی وعدے کی تشریح میں امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کا ارشاد31:55 قادیانی نبوت کے ذریعے انگریزوں نے سیاسی مقاصد حاصل کیے32:44 قادیانیوں کے حسبِ خواہش قرآن حکیم کی اشاعت‘ قرآن اور دین میں تحریف ہے35:02 فلسفۂ ختم نبوت کی تشریح پر امامِ انقلاب مولانا عبیداللہ سندھیؒ کے اِرشادات37:25 ختمِ نبوت پر قصرِ نبوت والی حدیث کی بین الاقوامی نظام کے حوالے سے بصیرت افروز تشریح41:26 جھوٹی قادیانی نبوت میں ظلّی، بروزی کے دھوکے اور سرمایہ داری نظام کے اہداف44:12 ’’لا اکراہ فی الدین‘‘ کی غلط تشریح کے ذریعے باطل سیاسی نظام کو سہارے کی کوشش45:34 جسٹس منیر کی رپورٹ میں ختمِ نبوت اور پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی47:26 میثاقِ مدینہ میں ریاستِ مدینہ کی اتھارٹی اور سیاسی حیثیت کا اظہار49:57 ’’لا اکراہ فی الدین‘‘ والی آیت کا پسِ منظر، شانِ نزول اور مختصر تفسیری خلاصہ59:16 قادیانیوں کا پاکستان میں اسلامی شناخت کو استعمال کرنا آئین شکنی ہے1:00:56 گورداسپور ضلعے کے پاکستان میں شامل نہ کیے جانے میں قادیانی سازش1:04:27 عالمی سامراجی قوتوں کی پاکستان میں مذہبی معاملات میں مداخلت1:10:43 دین میں جبر نہ ہونے کا درست مفہوم اور اس کے عملی تقاضےپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

Mar 4, 20241h 18m

Ep 28923-02-2024 |اسلام کے نام پر سیاست اور سامراجی مفادات کا کھیل دینِ حق کی جامع فکر کی روشنی میں

اسلام کے نام پر سیاست اور سامراجی مفادات کا کھیلدینِ حق کی جامع فکر کی روشنی میںخُطبۂ جمعۃ المبارک:حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 12؍ شعبان المعظم 1445ھ / 23؍ فروری 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورخطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی و حدیثِ نبوی ﷺ:آیاتِ قرآنی:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ، كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ۔ (61 – الصّف: 2-3)ترجمہ: ”اے ایمان والو ! کیوں کہتے ہو منہ سے جو نہیں کرتے۔ بڑی بیزاری کی بات ہے اللّٰه کے یہاں کہ کہو وہ چیز جو نہ کرو“۔حدیثِ نبوی ﷺ:"مَن هؤلاءِ يا جبريلُ؟" قال: "خُطَباءُ أمتِكَ الذينَ يقولونَ ما لا يفعلونَ ويقرؤونَ كتابَ اللهِ ولا يعملونَ بِه".(أخرجه أحمد (13421)، والبزار (7231)، وأبو يعلى (3992) باختلاف يسير)ترجمہ: (رسول اللّٰه ﷺ نے ــ ایک طویل حدیث میں ــ جبرئیل علیہ السلام سے پوچھا): "اے جبرئیل! یہ کون لوگ ہیں؟" حضرت جبرئیلؑ نے فرمایا: "یہ آپ کی اُمّت کے خطیب ہیں، یہ وہ بات کہتے ہیں، جو خود نہیں کرتے۔ اور اللہ کی کتاب (قرآن) پڑھتے ہیں، لیکن اس پر عمل نہیں کرتے".۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 0:00 آغاز1:22 انبیا علیہم السلام کا بنیادی ہدف اور انسانی ترقی کے تین ضروری لوازمات9:36 عبادات کے طریقے کیوں مطلوب ہیں؟ ان کی علت اور حکمت، تقاضے اور نتائج16:04 رحمانی خیال، مَلَکی خیال اور شیطانی خیالات کا فرق اور اثرات و نتائج22:17 امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے ارشاد کی روشنی میں انسانوں کی دو اقسام24:49 دین کے جامع تصورکا تاریخی تسلسل اور حضرت مجددؒ و امام شاہ ولی اللہؒ کا کردار28:51 دین کے بنیادی شعبوں کے ناقص تصور اور انکار کے منفی اثرات و نتائج30:03 خطبے کی مرکزی آیت کا پسِ منظر وشان نزول اور مختصر تفسیری خلاصہ37:44 حدیث میں چرب زبان خطباء واعظوں اور لیڈروں کے انجام کی نشان دہی44:42 دین کے جامع تصور اور شعبوں سے انحراف کی صورت میں اداروں کا ٹکراؤ پیدا ہوتا ہے47:06 عادل حکمرانوں اور صوفیائے کرام کا علمی و فقہی مقام اور عملی و سیاسی کارنامے51:40 سامراجی سیاسی نظام کے اثراتِ بد اور عوام پر اس کے اثرات و نتائج56:52 سیرۃُ النبیؐ کی روشنی میں سیاست کی بنیادی تعریف، مقاصد، مصلحتیں اور اہداف و نتائج1:03:36 نظامِ ظلم میں سیاسی و مذہبی پارٹیوں کی حیثیت اور ان کا حقیقت پسندانہ تجزیہ1:06:43 موجودہ الیکشن میں جمہوریت اور قانون کے نام پر مخصوص قوتوں کا کھیل1:22:21 گزشتہ تین سو سال سے سامراجی مفادات کے لیے اسلام کے نام کا استعمال1:24:39 طبقاتی سیاسی نظام میں قانون کا مخصوص مفادات کے لیے شاطرانہ استعمال1:29:37 اسلام کے سیاسی غلبے اور نظام میں معروضی حالات کے تقاضوں کی رعایت اور تاریخی حقائقپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

Feb 26, 20241h 31m

Ep 28816-02-2024 |ملکی سماج میں مزاحمتی شعور کے فقدان کے تباہ کن نقصانات اور ان کے ازالہ کی اجتماعی تدبیر

ملکی سماج میں مزاحمتی شعور کے فقدان کے تباہ کن نقصاناتاور ان کے ازالہ کی اجتماعی تدبیرخُطبۂ جمعۃ المبارک:حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 5؍ شعبان المعظم 1445ھ / 16؍ فروری 2024ءبمقام: جامعہ نعمان بن ثابت المعروف جامعہ خدیجۃُ الکُبریٰ، بورے والاخطبے کی رہنما آیتِ قرآنی و حدیثِ نبوی ﷺ:آیتِ قرآنی:وَ مَا كَانَ رَبُّكَ لِیُهْلِكَ الْقُرٰى بِظُلْمٍ وَّ اَهْلُهَا مُصْلِحُوْنَ۔ (11 – ھود: 117)ترجمہ: ”اور تیرا رب ہرگز ایسا نہیں کہ ہلاک کرے بستیوں کو زبردستی سے، اور لوگ وہاں کے نیک ہوں“۔حدیثِ نبوی ﷺ:"إِنَّ النَّاسَ إِذَا رَأَوْا ظَالِمًا فَلَمْ يَأْخُذُوا عَلَى يَدَيْهِ أَوْشَكَ أَنْ يَعُمَّهُمُ اللَّهُ بِعِقَابٍ مِنْهُ"۔ (الجامع للترمذی، حدیث: 3057)ترجمہ: "جب لوگ ظالم کو (ظلم کرتے ہوئے) دیکھیں، پھر بھی اس کے ہاتھ پکڑ نہ لیں (اسے ظلم کرنے سے روک نہ دیں)، تو قریب ہے کہ ان پر اللہ کی طرف سے عمومی عذاب آ جائے (اور وہ ان سب کو اپنی گرفت میں لے لے)"۔۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇0:00 آغاز 1:21 زوال سے دو چار انسانی معاشرے کے لیے واضح قرآنی تعلیمات3:00 گزشتہ اقوام کے نقائص کے تجزیے کا قرآنی اسلوب4:25 ریاست، مملکت اور بستیوں کی ہلاکت اور بقا کے قرآنی اُصول7:33 اصلاح و فساد بین الناس؛ قرآنی اصطلاحات کی وضاحت9:46 نبویؐ عدالت میں چرب زبانی سے ناجائز حق کی وصولی؛ جہنم کا ٹکڑا لینے کے مترادف10:57 تعاونِ باہمی کے لیے ہر انسان ضروریاتِ زندگی میں دوسرے کا محتاج14:25 فساد مچانے والی بستیاں اور اصلاح پسند معاشروں سے متعلق قرآنی فیصلہ17:54 آیتِ قرآنی میں ریاستیوں کی تباہی و بربادی کے قانون کی نشان دہی21:19 آیت سے انفرادی اصلاح کے استدلال پر حضرت ابوبکر صدیقؓ کی جانب سے درست رہنمائی23:09 از روئے حدیث، ظالم کو ظلم سے نہ روکنا، پوری بستی (ریاست و مملکت) کی تباہی کا پیش خیمہ27:55 اقوام و ممالک کا اصلاح احوال کرنے والی اور فساد مچانے والی ریاستوں سے تعلقات کی نوعیت29:09 برصغیر میں اسلام کے نام پر دھوکہ دہی کا آغاز31:31 آج سیاسی و مذہبی عناصر کے ظالمانہ ہاتھوں کو روکنے والا کوئی نہیں35:20 ملک کا نظام اسلام اور جمہور کے لیے ہے؟ ظلم و جھوٹ پر مبنی الیکشنز کی سیاہ تاریخ38:10 ضیاء الحق کا جھوٹ اور نو ستاروں کے مفادات41:18 اسلام کے نام پر جھوٹے اور جعلی ریفرنڈم43:34 آج عذاب مسلط ہونے کی بنیادی وجہ؛ ظالموں کے ہاتھ نہ روکنا45:29 ظالمانہ ریاستی نظام میں رائج الوقت انتخابی نظام ظالم کے ہاتھ مضبوط کرتا ہے48:47 ظالموں کے خلاف شعور نہ دینے کا مذہبی ہتھکنڈا اور صدیقِ اکبرؓ کا پیغامِ انقلاب59:16 پاکستان‘ جھوٹ، ظلم ، بھوک اور گروہیت کے عذاب میں مبتلا اور مزاحمتی شعور کا فقدان1:08:48 اسلام کے نفاذ کا مذہبی فریضہ ادا نہ کرنے کا عذاب اور اجتماعی توبہ کرنے کی ضرورتپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

Feb 21, 20241h 14m

Ep 28709-02-2024 |مذہبی، سیاسی اور حکومتی عناصر کا منافقانہ کردار اور مساجد کی بنیادی ذمہ داری

مذہبی، سیاسی اور حکومتی عناصر کا منافقانہ کردار اورمساجد کی بنیادی ذمہ داریخُطبۂ جمعۃ المبارک:حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 28؍ رجب المرجب 1445ھ / 9؍ فروری 2024ءبمقام: رحیمیہ مسجد، ماڈل ایونیو، ہارون آباد، ضلع بہاولنگرخطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی و احادیثِ نبوی ﷺ :آیاتِ قرآنی:1۔ لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَى التَّقْوٰى مِنْ اَوَّلِ یَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِیْهِؕ فِیْهِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ اَنْ یَّتَطَهَّرُوْاؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُطَّهِّرِیْنَ۔ (9 – التوبہ: 108)ترجمہ: ”البتہ وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے دن سے پرہیزگاری پر رکھی گئی ہے، وہ اس قابل ہے کہ تُو اس میں کھڑا ہو۔ اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنے کو پسند کرتے ہیں۔ اور اللہ پاک رہنے والوں کو پسند کرتا ہے“۔2۔ وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنْ یُّذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ وَ سَعٰى فِیْ خَرَابِهَا۔ (2 – البقرہ: 114)ترجمہ: ”اور اس سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا، جس نے اللہ کی مسجدوں میں اس کا نام لینے کی ممانعت کردی، اور ان کے ویران کرنے کی کوشش کی“۔احادیثِ نبوی ﷺ :”آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ: إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ“، و في روایة: ’’وَإِذَا عَاہَدَ غَدَرَ، وإذا خاصَمَ فَجَرَ‘‘۔ (صحیح بخاری، حدیث: 33-34) ترجمہ: ”منافق کی تین نشانیاں ہیں: (1) جب بات کرے تو جھوٹ کہے، (2) اور جب وعدہ کرے تو اسے پورا نہ کرے، (3) اور جب امانت دی جائے تو اس میں خیانت کرے، ۔“ اور ایک دوسری روایت میں ہے: ”اور جب (کسی سے) عہد کرے تو اسے پورا نہ کرے، اور جب (کسی سے) لڑے تو گالیوں پر اتر آئے“۔۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇0:00 آغاز1:43 حضرت ابراہیم علیہ السلام سے قبل عبادات کے تصورات اورآپؑ کا دعوتی اُسلوب7:55 کائنات کا پورا نظام منشائے الٰہی کے تابع ہے11:01 دینِ حنیفی کے انبیاء علیہم السلام کی دعوت اور تعلق مع اللہ کے مراکز15:50 خطبے کی مرکزی آیت کا پسِ منظر اور مساجد بنانے کا اصل مقصد18:30 مسخ شدہ مذہبیت کا کردار اور توہین و تذلیل کی تاریخ کی ایک جھلک 27:38 بیت اللہ پہلی مسجد، بیت المقدس دوسری اور مسجدِ نبویؐ تیسری، نیز مسجدِ حرام بہ طورِ قبلۂ اوّل34:01 مسلمانوں کے سیاسی غلبے کے بعد منافقین کا بہ ظاہر قبولِ اسلام اور کردار37:36 مسجدِ ضرار کا مقصد دینِ اسلام کے غلبے میں رُکاوٹ اور تفریقِ انسانیت41:52 مسجدِ ضرار میں قیام کرنے کی ممانعت اور اسے گرانے کا حکم43:44 حدیث میں منافق کی علامات کے ضمن میں سیاسی و معاشی و سماجی اَقدار میں منافقانہ رویے49:17 حالیہ الیکشن، ظالمانہ نظام، پارٹیاں اور ان کے نمائندوں کا تحلیل و تجزیہ59:59 مسجد؛ غلبۂ دین، امن، عدل، معاشی خوش حالی، آزادی اور سوسائٹی کی ترقی کا استعارہ1:01:01 آج کا بڑا اَلمیہ؛ مسجد کے منبر سچ اور جھوٹ میں فرق کرنے کی صلاحیت سے قاصر1:04:46 برصغیر کی تقسیم سے پہلے اور قیامِ پاکستان کے بعد تمام الیکشن؛ ایک تجزیہ1:08:10 ریاستِ مدینہ بنانے کے چار ضروری اُمور اور مسلط نظام کا جائزہ1:12:41 مسجد پر ریاست کی حکمرانی نہیں (قاضی ابو یوسفؒ اور خلیفہ ہارون الرشیدؒ کا مکالمہ)1:15:15 ظالمانہ ریاست کے اداروں کا ظالمانہ بھیانک کردار اور اس کے نتائج1:20:06 مسجد اور غلبۂ دین کا نظریہ، نتائج اور جہدوجہد کے حقیقی تقاضےپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

Feb 12, 20241h 25m