
28-04-2023 |آئین و دستور اور اداروں کی تشکیل میں دینی فکر کی رہنمائی کی اہمیت اور اس کے تقاضے
خطبات · Rahimia Institute of Quranic Sciences
Audio is streamed directly from the publisher (media.transistor.fm) as published in their RSS feed. Play Podcasts does not host this file. Rights-holders can request removal through the copyright & takedown page.
Show Notes
میں دینی فکر کی رہنمائی کی اہمیت اور اس کے تقاضے
خُطبۂ جمعۃ المبارک:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ: 7؍ شوال المکرّم 1444ھ / 28؍ اپریل 2023ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی:
1۔ الٓمّٓۚ ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَیْبَۖ فِیْهِۚ هُدًى لِّلْمُتَّقِیْنَۙ۔ (2 – البقرۃ: 1-2)
ترجمہ: ”الۤمّ ۔ اس کتاب میں کچھ شک نہیں، راہ بتلاتی ہے ڈرنے والوں کو“۔
2۔ ثُمَّ جَعَلْنٰكَ عَلٰى شَرِیْعَةٍ مِّنَ الْاَمْرِ فَاتَّبِعْهَا وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ۔ (45 – الجاثیہ: 18)
ترجمہ: ”پھر تجھ کو رکھا ہم نے ایک راستہ پر دین کے کام کے، سو تُو اسی پر چل اور مت چل خواہشوں پر نادانوں کی۔
۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔
قرآن کی تعلیمات سے غفلت کے سبب غضبِ الٰہی
یہودیوں پر غضبِ الٰہی، مولانا سندھیؒ کی تشریح کے تناظر میں
قرآنِ حکیم سابقہ انبیاؑ پر نازل ہونے والی دستوری تعلیمات کی وسعت اور جامعیت پر مشتمل مَلَکوتی دستور
حضور ﷺ کو شریعت و دستور کے اِتباع کا حکمِ الٰہی
قارون کا ناقص علم اور آئین شکنی
تمام شرائع کے احکامات‘ انسانیت کے مجموعی مطالعے کا نتیجہ ہیں
دستور و کتاب کی پابندی سے ماوراء معاشروں کی حالت
آئین و قانون کی پابندی اور عدالتی نظام کے حوالے سے حضرت عمر فاروق اور حضرت علی رضی اللہ عنہما کی سیرت سے مثالیں
نظامِ عدالت کی ذمہ داری ہے کہ وہ انسانیت کے آئین اور دستور العمل کی حفاظت اور نگرانی کرے
خواہشات و مفادات کی وجہ سے دستور شکن اہلِ کتاب (یہود و نصاریٰ) عذاب کے مستحق
بغیر کسی انحراف و تحریف کے دستور و شریعت کو تسلیم کرنا‘ ہر ایک کے لیے لازمی ہے
پیش آمدہ مسائل کے حل کے لیے خلفائے راشدینؓ، فقہا و محدثین اور عادل حکمرانوں کی کاوِشیں
عدلیہ؛ آئین کی روح کو برقرار رکھنے کے لیے آزاد ادارے کی حیثیت رکھتی ہے
پارلیمان؛ آئین کے تحت قانون سازی میں آزاد، لیکن عدلیہ کی تشریح کی پابند تصور ہوتی ہے
آج کا المیہ میڈیا میں عدلیہ، مقننہ اور انتظامیہ کے خود ساختہ ماہرین کی بھرمار
مروّجہ عالمی دساتیر، دینی فکر کے انکار پر استوار ہوئے
اسلام کا مَلَکوتی خصوصیات کا حامل آئین اور مسلمانوں کی نااہلی
آئین اس لیے بالاتر تصور ہوتا ہے کہ اس کے قاعدے و ضابطے انسانی تجربات کا نچوڑ ہوتے ہیں
پاکستان میں آئین سازی کا عمل اور اس کا نفاذ
بنیادی آئینی ڈھانچے سے انحراف کے بغیر قانون ساز مرکزی ادارہ آئینی ترمیم کا مجاز ہوتا ہے
نافذ العمل آئین (چاہے ناقص و محدود ہی ہو) کی تشریح کی مجاز عدلیہ تصور ہوتی ہے
ریاستِ پاکستان میں آئین قطع و بُرید کا شکار، جب کہ ممبرانِ پارلیمنٹ کٹھ پتلیوں کی حیثیت رکھتے ہیں
سماج میں ملکوتی دستور و آئین کے قیام کے لیے مسلمانوں پر عائد فریضہ
مہذب نظام سے عاری اور آئین کی دھجیاں بکھیرنے کی تاریخ اور آج ہماری ذمہ داریاں
مکمل خطبہ سننے کے لیے درجِ ذیل لنک پر کلک کیجیے
بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ چینل کو سبسکرائب کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (
) آئیکون کو دبادیں۔
منجانب: رحیمیہ میڈیا