
Standard of success
Fajr Reminders - Mahmood Habib Masjid and Islamic Center · Fajr Reminders - Mahmood Habib Masjid and Islamic Center
December 14, 2025
Audio is streamed directly from the publisher (media.blubrry.com) as published in their RSS feed. Play Podcasts does not host this file. Rights-holders can request removal through the copyright & takedown page.
Show Notes
Auto-generated transcript:اللہ رب العالمين اور سلامہ اور سلامہ اور سلامہ اور سلامہ اور سلامہ اور سلامہ اور سلامہ اور سلامہ اور سلامہ اور سلامہ اور سلامہ اور سلامہ اور سلامہ اور سلامہ اور سلامہ اور سلامہ اور سلامہ اور سلامہ اور سلامہ اور سلامہ اور سلامہ اور سلامہ اور سلامہ اور سلامہ اور سلامہ اور سلامہ اور سلامہ اور سلامہ اور سلامہ اور سلامہ اور سلامہ اور سلامہ اور سلامہ اور سلامہ اور سلامہ اور سلامہ اور سلامہ اور سلامہ اور سلامہ اور سلامہ اور سلامہ اور سلامہ اور سلامہ اور سلامہ اور سلامہ اور سلامہ اور سلامہ اور سلامہ اور سلامہ اور سلامہ اور سلامہ اور سلامہ اور سلامہ اور سلامہ اور سلامہ اور سلام یہ مسئلہ یہ ہے جو سکہ ہے جو سکہ کی قربہ ہے یہ ہے یہ سکہ کی قربہ ہے یہ ہے یہ سکہ کی قربہ ہے یہ ہے یہ سکہ کی قربہ ہے یہ سکہ کی قربہ ہے یہ سکہ کی قربہ ہے یہ سکہ کی قربہ ہے یہ سکہ کی قربہ ہے یہ سکہ کی قربہ ہے یہ سکہ کی قربہ ہے یہ سکہ کی قربہ ہے یہ سکہ کی قربہ ہے یہ سکہ کی قربہ ہے یہ سکہ کی قربہ ہے یہ سکہ کی قربہ ہے یہ سکہ کی قربہ ہے یہ سکہ کی قربہ ہے یہ سکہ کی قربہ ہے یہ سکہ کی قربہ ہے یہ سکہ کی قربہ ہے یہ سکہ کی قربہ ہے یہ سکہ کی قربہ ہے یہ سکہ کی کیونکہ دیسرے سندر سے ایک سوشل کرنا چاہتا ہے مثال سے اگر آپ کہتے ہیں کہ میں سرکار کرنا چاہتا ہوں تو کیا سرکار ہے؟ یہ سندر سے ہے، صحبت ہے، صحبت ہے تو آپ کہتے ہیں کہ میں سو ساٹھ فرماتا ہوں اور یہ سندر میں سہ ساٹھ فرماتا ہے یہ سندر ہے لہذا اگر میں سہ ساٹھ فرماتا ہوں اور 20 سیکنڈ میں سہ ساٹھ فرماتا ہوں اور اگر میں سہ ساٹھ فرماتا ہوں اور 14 سیکنڈ میں سہ ساٹھ فرماتا ہوں کیونکہ سہ ساٹھ اور 15 سیکنڈ یہ میرا سندر ہے آپ یہ نہیں کہیں جہاں آپ یہ آپ کیہیں جہاں آپ یہ آپ کیہیں جہاں آپ یہ آپ کیہیں جہاں آپ آپ یہ آپ کیہیں جہاں آپ یہ آپ کیہیں جہاں آپ یہ آپ کیہیں جہاں آپ آپ کو بھی بیٹی نہیں ہوگی میں ایک انسان ہوں بیٹی نہیں ہوں بیٹی اور کٹس بہتر ہیں اور اس کے ساتھ لیکن ہم اس سے نہیں سمجھتے ہیں کیونکہ یہ ایک غیر سمجھتا ہے ہم انسانوں سے سمجھتے ہیں کیا انسان سردار ہے میں آپ کو ایک رانڈم نمبر دے گا کیا انسان سردار ہے آپ کو کہنا ہے ایک اولمپیک گولڈ میڈلسٹ سپرنٹ میں کیا کرتا ہے اسے سردار میں دینا تو میں میں کبھی نہیں دیکھتا ہوں لیکن یہ سردار ہے میں ایک اولمپیک گولڈ میڈلسٹ سے سردار کروں گا سپرنٹ میں ہندو سا میٹر دشت آپ کو سردار کر سکتا ہے ایک سردار تو کیا سردار ہے سردار کی سردار کیا ہے اب جو سردار کی حقیقت ہے وہ جو سردار کی حقیقت ہے تو ہمیں اس سردار کے باوجود ہے اور یہ اللہ سبحانہ وتعالی اور اللہ سبحانہ وتعالی ہمیں سردار دیا گیا ہے بہت سمجھا سردار اور وہ کہا اللہ نے کہا جو سردار کی حقیقت ہے اور جنہ میں دیا گیا ہے یہ شخص یہ فقط یہ شخص اس فیض سکسیسفل قرآن کریم اللہ نے دو لفظ لفظ لفظ مفلحون یہ لوگ ہیں مفلحون یہ لوگ ہیں جو سکسیسفل ہیں دوسرا لفظ فیض فائزون لوگ سکسیسفل ہیں فیض اور فیض دوسرے سکسیسفل مطلب ہے لیکن دوسرا لفظ ہے اس لفظ میں یہ ہے جو ایسی مطلب ہے لیکن یہ کبھی ایسا ہے یہ ہے آپ جانتے ہیں دوسرے لفظ فلا ہے سکس جو مطلب ہے مثال آپ کی بچہ سکتا ہے کہ یہ دوسرے سکس آئے جو سکس ہے وہ اس کے بارے میں سکس ہے درہندو اللہ میرے بچہ سکسیسفل ہے یہ سکسیسفل جہاں نہیں یہ سکسیسفل ہے جہاں جہاں
جو کچھ جہہیں جاتے ہیں یا جو کچھ یہیں جانتے ہیں اور پہلے یہیں جانیں جو یہیں جانیں جو یہیں جہیں جہیں جہیں جہیں یہیں جہیں جہیں جہیں یہیں جہیں جہیں ڈالی سال، ٹیسٹ اوٹر ٹیسٹ اوٹر ٹیسٹ اوٹر ٹیسٹ یہ فلاہ ہے ہمدللہ یہ بہت بہتر ہے کیونکہ کیا ہے فلاہ کا اوپسیٹ؟ یہ فیلنگ ہے تو بہترین طرح فیلنگ نہیں ہے فلاہ فاؤز ایک آخری سکس جس کے بعد کچھ نہیں ہے آخری سکس جس کے بعد یہ سکس جہاں جہاں جہاں یہ سکس جہاں جہاں یہ سکس جہاں جہاں میں کھڑا ہوں اب اس طرح اس دنیا میں اللہ نے کسی کو نہیں دی کیونکہ کسی موقع میں آپ ہیں درستہ ہی ہوتا ہے اور درستہ ہوتا ہے اگر آپ کنگ ہوں ہماری دنیا میں کبھی اس موقع میں نہیں ہوتے ہیں آپ خوف رہے ہیں کسی بھی میرے موقع میں پہنچ سکتا ہے میرے اپنی فرمائی میرے موقع میں پہنچ سکتا ہے میرے موقع میں پہنچ سکتا ہے یا کسی بھی بھی اگر آپ سو کالی بہت مہترین سیٹ آپ کی مددی آپ کی مددی اگر یہ دموقراتی دنیا ہے جو ایلیکشن ہے وہ ہماری پھر آپ کو ایک مسئلہ کیا ہے آپ کی مددی جب کبھی جب آپ کے ایک ایلیکشن ہوں تو یہ اس دنیا میں ہوتا ہے دو سال دو سال کسی نمبر پیس بعد دو سال تین سال آپ صرف ایلیکشن کے پاس محکمہ کریں تو پیس نہیں ہے اس دنیا میں اللہ نے یہ محکمہ نہیں دیا محکمہ محکمہ یہ آخری طرح کیونکہ یہ محکمہ ایک سال ہے جب آپ اس ایکسام پڑھیں الحمدللہ بھی نہیں اللہ سبحانہ وتعالیٰ اس کے لئے پڑھیں اس ایکسام اور اس ایکسام اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے کہا فَمَنْ زُمْزِعَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةِ فَقَدْ فَازِ the one who has been freed from the hell fire and entered into Jannah this is the measure of final success that's why اللہ said فَقَدْ فَازِ اللہ did not use the word فَلَحْ اللہ said فَوْز this person is finally success after that there is no more exam now you are in Jannah enjoy yourself خاص and may Allah have mercy the one who is in Jannah that's it you know taste that that is what you worked for you got it person in Jannah worked for that got Jannah because on the day of judgment people will be given and rewarded and awarded based on their deeds and right based on their deeds then if the deeds and so on are two things which Allah سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى will check one is what did you believe عقیدہ what did you believe was your عقیدہ on لا الٰہ اللہ or was there some adulteration to that the degree of adulteration small big were you completely totally in shirk or some shirk some taste of shirk or was it fully shirk some taste of کفر or was it fully کفر so عقیدہ and the second one is عمال what are the deeds and those deeds are based on intentions so intentions and deeds what did you do and in the deeds most important what was فرض what did اللہ make فرض عن you number one of that is صلاة and for the especially for the men بای جوان so deeds and then of course all the other things which اللہ سبحانہ و تعالی made فرض and then of course the deeds in the context of people so حقوق الابعاد did you fulfill the rights of the people you had a contract with somebody did you fulfill that contract there was an expectation you took something from someone you were supposed to give something in return did you give it or not give it yeah everything is accountable every single thing is accountable اللہ سبحانہ و تعالی said مِذْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرًا مِذْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرًا you will be shown to the extent of an atom of good or bad that you did he asked اللہ to save us from حساب ابی صلی اللہ علیہ و سلیم said to سیدہ عائشہ صدیق عرض اللہ نا he said if اللہ سبحانہ و تعالی takes the حساب of somebody that person will be destroyed only the حساب he is not saying after حساب we will go to جان no just the حساب alone so she said یا رسول اللہ even for you he said even for me even for me and she said how will we escape he said by the رحمہ of اللہ سبحانہ و تعالی we ask اللہ for his رحمہ we ask اللہ for his mercy if اللہ chooses to have mercy on somebody انشاءاللہ اللہ will free them from حساب and then the book of the ایڈیہ اوکی ٹھیک ہے جو لے جاؤ go you don't have to check so question is how do we get there we get there by checking our عقیدہ make sure the عقیدہ is عقیدہ ترحید there is no adaptation in عقیدہ there is no mixing of this and that so !